آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَأَنفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ
Have faith in Allah and His Apostle, and spend out of that of which He has made you heirs. There is a great reward for those of you who have faith and spend [in Allah’s way].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 57:7
[Pooya/Ali Commentary 57:7] Refer to the commentary of Baqarah: 3; 177, 195, 215, 245, 254, 261 to 268, 270 to 273; Ali Imran: 92, 134; Ma-idah: 55; Bara-at: 34, 44 for spending in the cause of Allah. Those who inherit wealth must remember that what came into their hands should have been spent in the cause of Allah by their ancestors, who by hoarding it have already earned the displeasure of Allah and now they must not follow into their fathers' footsteps. Imam Ali said: "Allah told the Holy Prophet: "Wealth is Mine. The possessor of it is a trustee. The poor and the have-nots of this world are My family. Woe unto those possessors of wealth who do not discharge their duty concerning My trust." Aqa Mahdi Puya says: The gifts from Allah are both physical and intellectual. Close-fistedness in either field is punishable.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:7-11
ایمان و انفاق نجات وخوش بختی کے لیے ہے دوعظیم سرمائے ہیں
عالم ِ ہستی میں خدا کی عظمت کے کچھ دلائل ، اوراس کے ایسے اوصافِ جلال وجمال جورجوع الی اللہ کاسبب بنتے ہیں ،ان کے بیان کے بعد، ان آیات میں، نتیجہ اخذ کرتے ہوئے سب کوایمان وعمل کی دعوت دیتاہے ۔ پہلے فرماتاہے :خدا اوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )پرایمان لے آؤ (آمِنُوا بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ ) ۔ یہ دعوت ِ فکرایک عام دعوت ِفکرہے جس میں تمام انسان شامل ہیں۔ مومنین کوزیادہ کامل الایمان اورراسخ الایمان ہونے کی طرف اورغیر مومنین کواصل ایمان کی طرف متوجہ کرتی ہے ۔یہ ایسی دعوت ِ فکر ہے جومدلّل ہے اوراس کے ثبوت ِتوحید کے بیان پرمشتمل گزشتہ آ یات میں گزرچکے ہیں ۔اس کے بعدایمان کے ایک اہم اثریعنی انفاق فی سبیل اللہ کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے فرمایاہے: جس میں خدا نے تمہیں دوسروں کاجانشین قرار دیاہے اس میں انفا ق کرو (وَ أَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُسْتَخْلَفینَ فیہِ) ۔ یہ دعوت ِفکر قربانی وفداکار ی کاتقاضا کرتی ہے اوران نعمتوں کے مارے میں جوانسان کے اختیار میں ہیں ایک ایسے رویّہ کوانگیخت دیتی ہے جوسخاوت پرمبنی ہواوراس دعوت ِفکر کواس نکتہ پرمرکوز کرتاہے کہ یہ نہ بھولو کہ اصل میں ہرشے کامالک خداہے اور یہ دولت اور یہ سر مایہ جوتمہیں عطاکیاگیاہے ،یہ امانت کے طورپر ہے اور چند روز ہ کیونکہ یہ اس سے پہلے دوسر ی قوموں کے اختیار میں تھا ،حقیقت ِ واقعہ یہی ہے ۔ گزشتہ آیتوں میں ہم نے پڑھاہے کہ سارے جہان کامالک حقیقی خدا ہے ۔اس حقیقت پرایمان رکھنااس امر کو ظاہرکرتاہے کہ ہم اس کے امانت دار ہیں ،کِس طرح ممکن ہے کہ ایک امانت دار امانت رکھوانے والے کے حکم کی پرواہ نہ کرے ۔اِس حقیقت کاشعور انسان کوسخاوت وایثار کی رُوح عطاکرتاہے اوراس کے دل اورہاتھ کوانفاق فی سبیل اللہ کے عزم سے نوازتاہے مستخلفین ( جانشین ) کی تعبیر ہوسکتاہے اس طرف اشارہ ہو کہ انسان زمین پر اس کی نعمتوں کے تصرف کے سلسلہ میں خداکی نمائندگی کرتاہے ، یااس سے گزشتہ اقوام کی جانشینی مُراد ہو یادونوں مراد ہوں ۔اور مما (ان چیزوں میں سے جو)کی تعبیر ایک عام تعبیر ہے اورمحض مال ودولت ہی نہیں بلک اس میں خداکی عطاکی ہوئی تمام نعمتیںشامل ہیں، جیساکہ پہلے بھی ہم نے کہاہے کہ انفاق کاایک وسیع مفہوم ہے جوصرف مال ودولت تک محدُود نہیں ہے اس میں عالم اور ہدایت بھی شامل ہے اوروہ عزّت بھی جوکسی کومعاشرہ میں حاصل ہو۔ اس کے علاوہ دیگر مادّی ومعنوی سرمائے بھی اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔اس کے بعد مزید تشویق کے لیے فر ماتاہے: وہ لوگ جوتم میں سے ایمان لے آئیں اورانفاق کریں ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے ( فَالَّذینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَ أَنْفَقُوا لَہُمْ أَجْر کَبیر) ۔ اجر کے ساتھ جولفظ کبیراستعمال ہواہے وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں کی عظمت اوران کی بے عیب ابدیت کی طرف اشارہ ہے ۔ نہ صرف آخرت میں بلکہ اس دُنیا میں بھی اجرِ کبیر کاایک حصّہ انہیں ملے گا،ایمان وانفاق کے حکم کے بعدان دونوں میں سے ہرایک کے بارے میں ایک تشریح پیش کرتاہے جواستد لال کی حیثیّت رکھتی ہے ۔سب سے پہلے ایک ایسے استفہام کے انداز میں جوتنبیہ کاپہلو لیے ہوئے ہے ایمان باللہ کے عنوان پرپیغمبرکی طرف سے دی ہوئی دعوت ِ اسلام کوقبول نہ کرنے کاسبب تلاش کرتے ہوئے فر ماتاہے : کیاسبب ہواکہ تم خداپرایمان نہیں لائے حالانکہ اس کارسول تمہیں تمہارے پروردگار پرایمان لانے کی دعوت دیتاہے اورجب کہ اس نے تم سے عہد لیاہے اگرتم ایمان کے لیے آمادہ ہو (وَ ما لَکُمْ لا تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَ الرَّسُولُ یَدْعُوکُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّکُمْ وَ قَدْ أَخَذَ میثاقَکُمْ ِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنین)یعنی واقعی اگرتم قبول ِ حق کے لیے آ مادہ ہوتے تو اس کے دلائل ،فطرت وعقل کے تقاضوں کے مطابق بھی اور دلیل نقلی کے اعتبار سے بھی بالکل واضح اورروشن ہیں، ایک توخداکاپیغمبرواضح دلیلیں اورروشن آیات اورکُھلے معجزے لے کرتمہارے پاس آ یاہے ۔دوسرے خُدانے عالم ِ ہستی میں اورخُود تمہارے وجود کے اندر اپنے آثار دکھاکرایک قسم کاعہد تکوینی تم سے لے لیاہے کہ خدا پرایمان لے آؤ ۔لیکن تم نہ اپنی فطرت وعقل کی پرواہ کرتے ہواور نہ وحی الہٰی کی طرف تمہاری وجہ ہوتی ہے ۔تم ایمان لانے کے لیے بالکل آمادہ نہیں ہو۔ اورتمہاری فکرپرجہالت وتعصّب غالب ہے اورتم اندھی تقلید کاشکارہو۔ جوکچھ ہم نے کہا اس سے واضح ہواکہ ِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنین کے جملہ سے یہ مُراد ہے کہ اگرتم کسی چیز پرایمان لانے اور کسِی دلیل کوقبول کرنے کے لیے آمادہ ہوتویہ ایساہی موقع ہے ۔کیونکہ اُس کے دلائل ہرلحاظ سے واضح ہیں، قابل ِ توجہ بات یہ ہے کہ وہ خُود پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کودیکھتے تھے اورآپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی دعوت ِ اسلام کوبغیر کسی واسطے اوروسیلہ کے سنتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے معجزات کامشاہدہ کرتے تھے ،اَب کونسا عُذرتھاجوایمان لانے میں مانع ہو۔اس سلسلہ میںہمیں ایک حدیث ملتی ہے کہ ایک روز رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اپنے اصحاب سے فرمایا: (ای المؤ منین اعجب الیکم ایماناً قالوا:الملائکة ! قال ومالھم لا یؤ منون وھم عند ربھم ؟قالو : فالا نبیاء ! قا ل فمالھم لا یؤ منون والوحی ینزل علیھم؟قالوا!فنحن قال :ومالکملاتؤ منون وانابین اظھرکم ! ولکن اعجب المؤ منین ،ایماناقوم یجیؤن بعد کم یجدون صحفاً یؤ منون بما فیھا) ۔ مومنین میں سے کسی کا ایمان لانا تمہارے نزدیک تعجب انگیز ہے ۔انہوں نے کہا فرشتےفرمایا کونسی تعجب کی بات ہے کہ وہ ایمان لے آئیں وہ توجوارِ خدامیں ہیں۔ انہوں نے عرض کیا انبیاء فرمایا: اس صورت میں کہ وحی ان پرنازل ہوتی ہے وہ کِس طرح ایمان نہ لائیں۔انہوں نے عرض کیااس سے خُود ہم مُراد ہیں فرمایا:کونسی تعجب کی بات ہے کہ تم ایمان لے آئے جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔( یہ وہ مقام تھاکہ جہاں سب خاموش ہوگئے )پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: سب سے زیادہ تعجب اس قوم پر ہے جوتمہارے بعد آ ئے گی وہ صرف اوراق اپنے سامنے دیکھے گی اورجوکچھ ان میں تحریر ہے اس پرایمان لے آ ئے گی (١) ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ لوگ جورحلت ِ پیغمبرکے سالہاسال بعددنیامیں آئیں گے اورصِرف کتابوں میں پیغمبر کے آثار دیکھیں گے اورآپ کے دین کی حقانیت کی تہہ تک پہنچ جائیںگے، و ہ دوسروں کے مقابلہ میں امتیاز ِخاص کے مالک ہیں۔ میثاق ( وہ عہد جس میں تاکید کاعنصر شامل ہو) کی تعبیر ہوسکتاہے کہ فطرت توحیدی کی طرف اشارہ ہویااُن دلائل عقلی کی طرف جومشاہدہ فطرت سے انسان پرآشکار ہوتے ہیں اور بربکم (تمہارا پروردگار )کی تعبیر مذکور ہ حقیقت پرشاہد ہے ۔بعض مفسرین میثاق کویہاں عالم ِ ذر کے عہدوپیمان کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں لیکن یہ معنی بعید از فہم نظرآتے ہیں سوائے اس تفسیر کے جوعالمِ ذر کے لیے ہم نے پہلے بیان کی ( ٢) ۔ بعد والی آ یت اِنہی معانی کی توضیح کے سلسلے میں کہتی ہے : وہی ہے جس نے واضح آ یات اپنے بندہ پرنازل کی تاکہ وہ تمہیںشِرک وجہالت اورنادانی کی تاریکیوں سے نکال کرایمان ، توحیداورعلم کی روشنی کی طرف لے آئے اورخدا تم پررؤف ومہربان ہے (ہُوَ الَّذی یُنَزِّلُ عَلی عَبْدِہِ آیاتٍ بَیِّناتٍ لِیُخْرِجَکُمْ مِنَ الظُّلُماتِ ِلَی النُّورِ وَ ِنَّ اللَّہَ بِکُمْ لَرَؤُف رَحیم ) ۔ایک گروہ نے یہاں آ یات ِ بیّنات کامفہوم معجزات بتایاہے اوردوسرے گروہ نے قرآن جوظلمت وکفر اورضلالت ونادانی کے پردے چاک کرتاہے اورجس کی وجہ سے اِنسان کے باطن میں آفتاب ِ ایمان وآگہی طلوع ہوتاہے ۔رَؤُف رَحیم کے الفاظ اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہیں کہ خداکی طرف سے یہ دعوت ِ ایمان وانفاق ،جوتم سب کے سامنے پیش کی گئی ہے ،رحمت ِ الہٰیہ کے مظاہر میں سے ایک مظہرہے ، اس دعوت ِ ایمان کی تمام برکتیں اس دنیا میںبھی اوراُس دنیامیں بھی تمہیں کوحاصل ہوں گی ۔ اِس بات کے بارے میں رئوف اوررحیم کے درمیان کوئی فرق ہے یانہیں،اوراگرہے توکِس قسم کافرق ہے ،مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے ۔مناسب ترین رُخ کلام یہی ہے کہ رؤف جومحبت کاپہلو ہے اس سے خدا کی وہ محبت مراد ہے جواُسے اپنے اطاعت گزاروں سے ہے اوررحیم میں جورحمت کاپہلو ہے اس سے مراد وہ رحمت ہے جو نافرمان افراد کے شاملِ حال ہے ۔ بعض مفسّرین نے یہ بھی کہاہے کہ رافت کالفظ اس کے ظہور سے پہلے بھی بولاجاتاہے لیکن رحمت اسی وقت بولاجاتاہے جب وہ ظہور میں آچکی ہو۔اس کے بعد انفاق کے مسئلہ کوپیش کرتے ہوئے فرماتاہے: تم راہ ِ خدامیں انفاق کیوں نہ کرو حالانکہ زمین اورآسمانوں کی میراث اسی کے لیے ہے (وَ ما لَکُمْ أَلاَّ تُنْفِقُوا فی سَبیلِ اللَّہِ وَ لِلَّہِ میراثُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ) ۔ یعنی آخر کار تم اس جہان اوراس کی نعمتوں سے محروم ہوجاؤ گے اور سب کچھ چھوڑ کرچلے جاؤ گے ۔لہٰذااَب جب کہ تمہارے اختیار میں ہے ، تواپناحصّہ کیوں نہیں حاصل کرتے ۔ میراث اصل میں جیساکہ راغب مفردات میں کہتاہے ،اس مال کے معنی میں ہے جوبغیر کسِی معاہدہ کے انسان کے ہاتھ لگتاہے اورجوکچھ میّت کی طرف سے پس ماندگان کوملتاہے وہ اس کاایک مصداق ہے ۔ کثرت ِ استعمال کی وجہ سے اس لفظ کے بیان کے وقت یہی معنی سُننے والے کے ذہن میں اتے ہیں:(لِلَّہِ میراثُ السَّماواتِ وَ الْأَرْض)کی تعبیر اس لحاظ سے ہے کہ نہ صرف اموال اور رُوئے زمین کی دیگر ثروتیں بلکہ جوکچھ آسمانوں اور زمین میں موجود ہے ،اسی کی ذات ِ پاک کی طرف لوٹتاہے ،تمام مخلوق فناہوجائے گی اورخداان سب کاوارث ہوگا۔ چونکہ انفاق فی سبیل اللہ مختلف حالات کے اعتبار سے مختلف قدروقیمت کاحامل ہوتاہے اس لیے بعدوالے جملے میں مزید فرماتاہے:جنہوں نے فتح کے بعد انفاق کیاہے وہ ان کے برابر نہیں ہیں، جنہوں نے فتح سے پہلے انفاق کیاتھااور جنگ کی ہے ( لا یَسْتَوی مِنْکُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قاتَلَ)(٣) ۔ اِس فتح سے مراد کون سی فتح ہے اس کے بارے میں مفسّرین میں اختلاف ہے بعض اس سے فتح مکّہ مراد لیتے ہیں جوہجرت کے آٹھویں سال واقع ہوئی اور بعض اس سے فتح حدیبیہ مراد لیتے ہیں جو چھٹے سال ہجری میں ہوئی ۔البتہ اس بات کے پیشِ نظر کہ لفظ فتح سورہ ( انّافتحنا لک فتحاً مبینا)کی تفسیر فتح حدیبیہ سے کی گئی ہے لہٰذا مناسب یہ ہے کہ یہاں بھی فتح حدیبیہ کی طرف اشارہ ہو۔ لیکن قاتل جنگ کرنے کی تعبیر فتح مکّہ سے مناسبت رکھتی ہے کیونکہ حدیبیہ میں توجنگ ہوئی ہی نہیں ہاں البتہ فتح مکّہ کے سلسلہ میں مختصر سی تیزجنگ ہوئی تھی جوطول نہ پکڑسکی ، یہ احتمال بھی ہے کہ اس آ یت میں الفتح سے مراد خود جنس فتح اوراِسلامی جنگوں میں سے ہرجنگ میں مسلمانوں کی فتح مراد ہو ۔ یعنی وہ لوگ جوبحران کے مواقع پرجان ومال کے خرچ کرنے سے گریز کرتے تھے ، ان افراد سے جو طوفانوں اورآندھیوں کے رُکنے کے بعدآگے بڑھے ہیں، افضل وبرتر ہیں ۔اسی لیے تاکید مزید کے لیے فرماتاہے: اس گروہ کا مقام برترہے ان لوگوں سے جنہوں نے فتح کے بعد انفاق وجہاد کیاہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ مفسّرین کی ایک جماعت جوآ یت کوفتح مکّہ یافتح حدیبیہ سے منسُوب کرتی ہے اس نے آ یت میں انفاق کرنے والے کامصداق حضرت ابوبکر صدیق کوسمجھا ہے حالانکہ اس میں شک نہیں کہ زمانہ ٔ ہجرت سے لے کراس وقت تک ، جوچھ یاآٹھ سال کاطویل عرصہ ہے، اس میں بہت سی جنگیں ہوئیں اورہزاروں افرادنے راہِ خدامیں انفاق بھی کیا اورجہاد بھی کیا کیونکہ فتح مکّہ میں تاریخ کے مطابق دس ہزارافراد نے شرک کی اوریقینااِس گروہ میں سے کافی افراد نے جنگ سے متعلق اخراجات کے لیے مالی امداد بھی کی ہوگی اورانفاق فی سبیل اللہ بھی کیاہوگا اور یہ طے شدہ ہے کہ قبل کی تعبیر کے معنی اس فتح کے موقع سے متعلق ہیں نہ کہ آغازِاسلام جواکیس سال پہلے کی بات ہے ۔ اس نکتہ کابیان کرنابھی ضروری ہے کہ بعض مفسّرین اس پر اصرار کرتے ہیں کہ انفاق جہاد سے افضل ہے تاکہ ان کے پہلے کیے ہوئے فیضان کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اور شاید اُوپر والی آ یت میں جہاد سے پہلے انفاق کے ذکر کواسی مفہوم کاگواہ سمجھتے ہوں۔حالانکہ واضح ہے کہ انفاق مالی کومقدم اس بناپر ہے کہ جنگ کے وسائل ، اس کے متعلقات ،ساز وسامان اورآلاتِ حرب وغیرہ اس انفاق کے ذ ریعے ہی فراہم ہوتے ہیں ورنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جان دینااورشہادت کے لیے آمادہ ہونا انفاقِ مال سے کہیں بہتر وبرترہے ۔بہرحال چونکہ دونوںگروہ درجات کے فرق کے ساتھ عنایت ِ پروردگار کے مستحق ہیں اس لیے آ یت کے آخر میں فرماتاہے: خدانے دونوں گروہوں سے اچھا وعدہ کیاہے ( وَ کُلاًّ وَعَدَ اللَّہُ الْحُسْنی )یہ ان تمام لوگوں کی ایک طرح کی قدردانی ہے جنہوں نے اس راہ میں قدم اُٹھایاہےحسنیٰ کایہاں ایک وسیع مفہوم ہے جس سے مراد دُنیا وآخرت کی بھلائیاں ہیں ۔چونکہ عمل کی قدر وقیمت خلوص پرمبنی ہوتی ہے لہٰذا آ یت کے آخر میںفرماتاہے: خدااُس سے جسے تم انجام دیتے ہو آگاہ ہے (وَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ خَبیر) ۔خدا تمہارے اعمال کی کمیت وکیفیّت سے باخبرہے اورتمہاری نیّتوں اورمعیار خلوص سے بھی آگاہ ہے ۔آخری زیربحث آ یت میں انفاق فی سبیل اللہ کے سلسلہ میں شوق دلانے کے لیے پھرایک جاذب ِنظر اورعُمدہ تعبیر کے ذ ریعے فرماتاہے:کون ہے جوخدا کواچھاقرض دے اوران اموال میں سے جواس نے اُسے بخشے ہیں انفاق کرے تاکہ خدا اس کے لیے اس میں بہت سااضافہ کردے اوربہت سااَجر قرار دے(مَنْ ذَا الَّذی یُقْرِضُ اللَّہَ قَرْضاً حَسَناً فَیُضاعِفَہُ لَہُ وَ لَہُ أَجْر کَریم) ۔حقیقتاًیہ تعبیر عجیب ہے کہ وہ خدا جوتمام نعمتوں کابخشنے والاہے اورہمارے وجود کے تمام اجزا جس کے فیض بے پایاں کے سمندرسے بہرہ مند ہوتے ہیں ،اوروُہ ان سب لامالک ہے ، وہ خود ہمیں صاحب ِمال شمار کرکے ہم سے قرض کاخواہاںہے اورپھر ،عام قرضوں کے خلاف جن میں اتنا ہی مال واپس کیاجاتاہے جنتا قرض دیاجائے ،بہت زیادہ اضافہ کردے گا کبھی سینکڑوں کی تعداد میں کبھی ہزاروں کی تعداد میں ۔اجرِ عظیم کاوعدہ اس کے علاوہ کیاہے جوایک عظیم صلہ ہے جسے خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ ١۔صحیح بخاری مطابق نقل "" مراغی "" ""تفسیرفی ظلال القرآن "" زیربحث آ یت کے ذیل میں ۔ ٢۔تفسیرنمونہ ،جلد ٤ ،صفحہ درذیل آ یت ١٧٢ ازسورہ صفحہ ٣٣١ سے رجوع فرمائیں۔ ٣۔اس آ یت میں کچھ محذوف ہے جس کامذ کور سے استفادہ ہوتاہے اورتقدیرعبارت اس طرح ہے ( لا یَسْتَوی مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قاتَلَ والّذین انفقوابعد الفتح وقاتلوا) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:7-11
سوره حدید/ آیه 7- 11
٧۔ آمِنُوا بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ وَ أَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُسْتَخْلَفینَ فیہِ فَالَّذینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَ أَنْفَقُوا لَہُمْ أَجْر کَبیر۔ ٨۔ وَ ما لَکُمْ لا تُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَ الرَّسُولُ یَدْعُوکُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّکُمْ وَ قَدْ أَخَذَ میثاقَکُمْ ِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنینَ ۔ ٩۔ ہُوَ الَّذی یُنَزِّلُ عَلی عَبْدِہِ آیاتٍ بَیِّناتٍ لِیُخْرِجَکُمْ مِنَ الظُّلُماتِ ِلَی النُّورِ وَ ِنَّ اللَّہَ بِکُمْ لَرَؤُف رَحیم ۔ ١٠۔وَ ما لَکُمْ أَلاَّ تُنْفِقُوا فی سَبیلِ اللَّہِ وَ لِلَّہِ میراثُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ لا یَسْتَوی مِنْکُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قاتَلَ أُولئِکَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذینَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَ قاتَلُوا وَ کُلاًّ وَعَدَ اللَّہُ الْحُسْنی وَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ خَبیر۔ ١١۔ مَنْ ذَا الَّذی یُقْرِضُ اللَّہَ قَرْضاً حَسَناً فَیُضاعِفَہُ لَہُ وَ لَہُ أَجْر کَریم۔ ترجمہ ٧۔خُدا اوراس کے رسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرایمان لے آؤ اوراس چیزمیں سے جس میں اس نے تمہیں اپنانمائندہ قرار دیاہے انفاق کرو( کیونکہ )وہ لوگ جوتم میں سے ایمان لے آ ئے ہیں اورانہوں نے انفاق کیاہے ان کے لیے اَجرِعظیم ہے ۔ ٨۔ تمہیں کیا ہوگیاہے کہ تم اللہ پرایمان نہیں لاتے ہو حالانکہ رسول تمہیں پُکارتاہے کہ اپنے پروردگار پرایمان لے آؤ اورتم سے اس نے عہدوپیمان لیاہے ( فطرت و عقل کے مطابق پیمان) اگرپیمان کے لیے آمادہ ہو ۔ ٩۔وہی ہے جواپنے بندہ (محمد)(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پرآیات ِ بیّنات نازل کرتاہے تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کرایمان کی طرف لے جائے اورخداتم پرمہربان ورحیم ہے ۔ ١٠۔راہ ِ خدا میں انفاق کیوں نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث سب خُدا کے لیے ہے (اور کوئی شخص کوئی چیز اپنے ساتھ نہیں لے جائے گا )وہ لوگ جنہوں نے کامیابی اورفتح سے پہلے انفاق کیاہے اورجنگ کی ہے ( ان لوگوں سے جنہوں نے کامیابی کے بعد انفاق کیاہے )بہترہیں وہ ان سے بلند مقام رکھتے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد انفاق کیاہے اور جہاد کیا ہے اورخدانے دونوں سے نیکی کاوعدہ کیاہے اورخُدا اُس سے جوکام تم انجام دیتے ہو آگاہ ہے ۔ ١١۔کون ہے جو خدُاکوقرضِ حسنہ دے (جواموال اُسے دیے ہیں ان میں سے انفاق کرے)تاکہ خُدااس میں اس کے لیے اضافہ کردے اوراس کے لیے اجرِ فر اواں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:7-11
٣۔ایمان،جہاد اورانفاق میں پیش قدمی کرنے والے
اِس میں شک نہیں کہ جوایمان اوراعمال ِخیر میں دوسروں سے مقدم ہوتے ہیں ان میں شجاعت بھی ہوتی ہے اورانہیں زیادہ آگاہی بھی حاصل ہے اور ان میں جذبۂ ایثار وقربانی بھی زیادہ ہوتاہے ۔اس بناپر وہ سب درگاہِ خدامیں برابر نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مذ کورہ بالاآ یات میں اس مسئلہ پرانحصار کیاگیاتھا کہ وہ لوگ جنہوں نے (فتح مکّہ یافتح حدیبیہ )سے پہلے یامطلق فتوحاتِ اِسلام میں انفاق کیاہے اورجہاد کیاہے ،بارگا ہِ خدامیںدوسرے ان کے برابرنہیں ہیں۔ ایک حدیث میں ابوسعید خدری سے منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال ( چھ ہجری )ہم رسول ِ خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ،جس وقت ہم عسفان (مکّے کے قریب ایک جگہ ہے )پہنچے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: ہوسکتاہے کہ عنقریب ایسی قوم آئے جو اپنے اعمال کاتمہارے اعمال سے موازنہ کرتے ہوئے تمہیں چھوٹا تصوّر کرے ۔ ہم نے کہا وہ کون ہیں؟اے خدا کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! کیا اس سے مراد قریش ہیں؟ فرمایا: نہیں ،وہ اہل یمن ہیں جن کے دل تم سے زیادہ رقیق اورنرم ہیں( اوران کے اعمال تم سے زیادہ ہیں) ۔ ہم نے عرض کیاکہ کیا وہ ہم سے بہترہیں ۔فرمایا: اگران میں سے کسی ایک کے پاس سونے پہاڑ ہواوروہ اس کاراہِ خدامیں انفاق کرے توایک مدّ(1) یااس سے نصف جوتم خرچ کرتے ہووہ اس کے برابر بھی نہیںہے ۔ جان لوکہ یہ فرق ہے ہمارے اور دوسرے لوگوں کے درمیان اورخدا کایہ ارشاد اس کاشاہد ہے کہ (لایستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قاتل ...(2) ۔ یہ نکتہ بھی قابل ِ توجہ ہے کہ پروردگار ِ کوقرض دینے سے مراد اس کی راہ میں ہرقسم کاانفاق ہے جس کاایک اہم مصداق پیغمبراِسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اورامام المسلمین کی مدد کرنا ہے تاکہ وہ حکومت ِاسلامی کے قیام وانصرافی کے سلسلہ میں اسے ضروری مصارف میں خرچ کرے ۔اسی لیے کافی کی ایک حدیث میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : (ان اللہ لم یسئل خلقہ ممافی ایدیھم قرضاً من حاجة بہ الیٰ ذالک و ماکان للہ من حق فانما ھو لولیہ ) ۔ خدانے اپنے بندوں سے کسِی احتیاج کی بناپرقرض کامطالبہ نہیں کیا،جو خداکے حقوق ہیںوہ اس کے ولی اورنمائندہ کے لیے ہیں (۳) ۔ ایک اورحدیث میں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے : (من ذاالذی یقرض اللہ ... ) کے ذیل میں مروی ہے کہ ( نزلت فی صلة الامام ) یہ آ یت امام کو ہدیہ دینے کے بارے میں نازل ہوئی ہے (۴) ۔ ۱۔ظاہر ا مراد ایک مد طعام ہے جوکلو سے بہت کم ہے ۔ ۲۔درالمنثور ،جلد ٦،صفحہ ١٧٢۔ ۳۔تفسیر صافی ،صفحہ ٥٢٢۔ ۴۔تفسیر صافی ،صفحہ ٥٢٢۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:7-11
٢۔ راہ ِ خُدا میں انفاق کے شرائط
مندرجہ بالا آ یت میں قرضاً حسناًکی تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قرض دینے کی بھی اقسام ہیں جن میں سے بعض کو قرض ِحسنہ(اچھاقرض)شمار کیاجاتاہے اوربعض کوایساقرض جس کی کوئی اخلاقی قدروقیمت نہ ہو ، قرآن مجید نے اس قرض کوحسنہ کی شرائط بعض آیات میں بیان کی ہیں جوخدا کودیاجائے اوربالفاظ دیگر جو ایسا انفاق ہے جس کی قدر کی جانی چاہیئے ۔ ١۔مال کے بہترین حصّہ میں سے اس کاانتخاب ہونہ کہ کم حیثیت مال میں (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَیِّباتِ ما کَسَبْتُمْ وَ مِمَّا أَخْرَجْنا لَکُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَ لا تَیَمَّمُوا الْخَبیثَ مِنْہُ تُنْفِقُونَ وَ لَسْتُمْ بِآخِذیہِ ِلاَّ أَنْ تُغْمِضُوا فیہِ وَ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ غَنِیّ حَمید) اے ایمان لانے والو!پاکیزہ اموال میں سے ، جو تمہارے ہاتھ آ یاہے یاجسے ہم نیزمین میں سے تمہارے لیے نکالا ہے ، خرچ کرو اور ناپاک حصّوں کوخرچ کرنے کی طرف دھیان نہ دو جب کہ تم خود تیار نہیں ہو کہ انہیں قبول کرو مگر چشم پوشی کے طورپر اورجان لوکہ خدا بے نیاز ہے اورلائق ِ حمد وستائش ہے (بقرہ ۔ ٢٦٧) ۔ ٢۔ ایسے اموال میں سے ہو جس کی انسان کوضرورت ہوجیساکہ فرماتاہے:(وَ یُؤْثِرُونَ عَلی أَنْفُسِہِمْ وَ لَوْ کانَ بِہِمْ خَصاصَة) وہ دوسروں کوخُود پرترجیح دیتے ہیں جب کہ وہ خُود شدّت کے ساتھ اس کے حاجت مند ہوں ( حشر۔ ٩) ۔ ٣۔ایسے لوگوں پر انفاق کروجنہیں شدید ضرورت لاحق ہواوراولویت کو نظر میں رکھو(لِلْفُقَراء ِ الَّذینَ أُحْصِرُوا فی سَبیلِ اللَّہِ) تمہارا انفاق ایسے ضرورت مندوں کے ساتھ مخصوص ہوجوراہ ِ خدا میں محصور ہوگئے ہوں ( بقرہ ۔ ٢٧٣) ۔ ٤۔انفاق اگرپوشیدہ طورپر ہوتوبہتر ہے ۔(وَ ِنْ تُخْفُوہا وَ تُؤْتُوہَا الْفُقَراء َ فَہُوَ خَیْر لَکُمْ ) اگر ضرورت مندوں کودو اور چھُپا کردو تو بہترہے ( بقرہ ۔ ٢٧١) ۔ ٥۔کسِی طرح کا احسان جتانا اورآزارپہنچانا اس کے ساتھ نہ ہو ( یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تُبْطِلُوا صَدَقاتِکُمْ بِالْمَنِّ وَ الْأَذی) اے ایمان لانے والو صدقات کواحسان جتانے اورتکلیف پہنچانے سے باطل نہ کرو(بقرہ ۔٢٦٤) ۔ ٦۔انفاق اخلاص اورحسن نیّت کے ساتھ کیاجائے ۔(یُنْفِقُونَ أَمْوالَہُمُ ابْتِغاء َ مَرْضاتِ اللَّہِ ) وہ لوگ جواپنا مال خوشنودی ٔ خدا کے لیے صرف کرتے ہیں (بقرہ ۔ ٢٦٥) ۔ ٧۔ جوکچھ انفاق کرواسے چھوٹا اورکم اہم شمارکیا جائے خواہ وہ بظا ہربہت بڑا ہو (ولا تمنن تستکثر)(مدثر ۔ ٦ ) (1) ۔ ٨۔ انفاق ایسے مال میں سے ہوجس سے اُسے دلی لگاؤ ، اور عشق ہو (لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ) نیکی کی حقیقت کواس وقت تک نہیں یاسکو گے جب تک اس مال میں سے انفاق نہ کرو جسے عزیزرکھتے ہو ( آل عمران ۔ ٩٢) ۔ ٩۔آدمی کوچاہیئے کہ اپنے کوکبھی مالک ِ حقیقی تصوّر نہ کرے بلکہ اپنے آپ کوخالق ومخلوق کے درمیان واسط سمجھے ۔(وَ أَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُسْتَخْلَفینَ فیہِ )اس مال سے انفاق کرو جس میں خدانے تمہیں اپنانمائندہ قرار دیاہے (حدید۔ ٧) ۔ ١٠۔اورہر چیز سے پہلے انفاق مال حلال میں سے ہونا چاہیئے کیونکہ خداصرف ایسے ہی انفاق کوپسند کرتاہے(لِنَّما یَتَقَبَّلُ اللَّہُ مِنَ الْمُتَّقین)(مائدہ ۔ ٢٧) ۔ ایک حدیث میں آ یاہے کہ پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)فرمایا: ( لا یقبل اللہ صدقة من غلول ) خدا اس انفاق کوکبھی قبول نہیں کرتاجس میں خیانت کادخل ہو (2) ۔ شرائط انفاق کے سلسلہ میں جوکچھ عرض کیاگیاہے وہ اس موضوع کانہایت اہم حصّہ ہے لیکن ان شرائط کویہیں تک محدود نہیں سمجھناچاہیئے ۔اگر آیاتِ کلام مجیداورروایات ِ اسلامی پرزیادہ تفکّر کیاجائے تواور بھی شرائط دستیاب ہوسکتے ہیں ۔ جوکچھ عرض کیاگیاہے ان میں سے بعض شرائط انفاق واجب شمار ہوتے ہیں (مثلاً احسان نہ جتانا،تکلیف نہ پہنچانا، ریاکاری سے اجتناب کرنا)بعض شرائط ِ کمال میں مثلاً خُود ضرورت مند ہونے کے باوجود دوسروں کواپنے اُوپرترجیح دینا، اس شرط کانہ ہونا انفاق کی قیمت کوکم نہیں کرتااگرچہ اس کواعلیٰ سطح پربھی قرار نہیں دیتا۔ جوکچھ کہاگیاہے اگرچہ انفاق کے موضوع پرتھالیکن ان میں سے بہت سی شرطیں عام قرضوں پربھی صادق آتی ہیں اوراصطلاکے مطابق قرضِ حسنہ کی شرائط لازم یاشرائط کمال میں سے ہیں، راہِ خدا میں انفاق کی اہمیّت کے بارے میں مبسوط تشریح سورہ بقر ہ کی آ یت ٢٦١سے لے کر ٢٦٧ تک کے ذیل میں ہم عرض کرچکے ہیں ۔(تفسیر نمونہ جلد ١) ۔ 1۔اس آ یت کی کئی تفسیریں ہیں جن میں سے ایک وہی ہے جوہم نے اُوپر بیان کی ،مزید تشریح اِنشاء اللہ آپ سُورہ مدثر کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں لے ۔ 2۔ان دس اوصاف کومرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں اورفخرازی نے تفسیر کبیر میں اور آلوسی نے رُوح المعانی میں نقل کیاہے اور ہم نے مختصر سے تغیر اورتکمیل کے کے ساتھ اس کااُوپر ذکرکیاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:7-11
١۔انفاق کے اسباب
قابلِ توجہ بات یہ کہ گزشتہ آ یتوں میں انفاق کی تشویق کے لیے ، عام اس سے کہ جہاد کے سلسلہ میں مدد کی جائے یاحاجت مندوں کی ، ددسرے موضوعات کی تعبیر یں بھی نظر آتی ہیں جن میں سے ہرایک اس مقصد کے حصول کی طرف بڑھنے کاسبب بن سکتاہے ،ساتویں ا یت میں لوگوں کے ایک دوسرے کے جانشین بننے کے مسئلہ کی طرف اشارہ ہے یااُن ثروتوں کے سلسلہ میں خداکے جانشین ہونے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔حقیقی مالکیت کوخداسے مخصوص کیاگیاہے اورتمام لوگوں کوامول کے سلسلہ میں خدا کا نمائندہ تصوّر کیاگیاہے ۔ یہ اندازِ فکر ممکن ہے کہ انسان کے ہاتھ اوردل کوانفاق کے معاملہ میں کُشادہ رکھے اوراس کام پر آمادہ ہونے کا سبب بنے دسویں ا یت میں ایک اورتعبیر آ ئی ہے جوسرمائے کی ناپائیداری اور تمام اِنسانوں کے فنا ہوجانے کے بعداس کی طرف اشارہ کرتی ہے اوروہ تعبیر میراث ہے ، پروردگار ِ عالم فرماتاہے :آسمانوں اورزمین کی میراث خداکے لیے ہے گیارہویں آ یت میں جوتعبیر ہے وہ سب سے زیادہ حسّاس اس میں خدا کوقرض لینے والا شمارکیا گیاہے اووہ ایساقرض ہے کہ جس میں سُود کادخل نہیں ہے اوریہ قرض کئی ہزارگنا کرکے واپس کیاجائے گا۔ وہ عظیم اجراس کے علاوہ ہے جس کاتصوّر بھی محال ہے ۔ یہ سب کچھ اس بناپرہے کہ حسنِ عمل سے انحراف رکھنے والے افکار ، حرص وحسد، خود خواہی یااورطویل خواہشات کواُبھارنے والے ان جذبوں کوختم کرے جوانفاق کی راہ میں حائل ہوتے ہیں اورایک ایسے معاشرہ کوتشکیل دے جن میں اجتماعی رُوح کافر ماہو، محبت پرمبنی رشتوں کااحساس ہو اور جس میں بہت زیادہ تعاون کی بنیاد موجود ہو۔