وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍ
Certainly We created the heavens and the earth, and whatever is between them, in six days, and any fatigue did not touch Us.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 50:38
[Pooya/Ali Commentary 50:38] Refer to the commentary of Araf: 54; Yunus: 3; Hud: 7; Furqan: 59 and Ha Mim: 9 to 12 for the creation of the universe. Refer to the commentary of Fatir: 35 for "nor any weariness affects Us therein."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 50:38-40
آسمانوں اور زمین کاپیدا کرنے والا مردوں کوزندہ کرنے پرقادر ہے
گذشتہ آ یات کو بیان کرنے اور مختلف دلائل کے بعد جوقیامت کے بارے میںان میں ہو ئی ہیں، ان آ یات میںامکان معاد کے دلائل میں سے ایک دلیل کی طرف اشارہ کرتاہے اوراس کے بعد پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوصبر و شکیبائی اورپر وردگار کی تسبیح وحمد کاحکم دیتاہے، تاکہ مخالفین کی کار شکنیوں کواس طریقہ سے انہیں برداشت کرتے ہوئے بے کار کردے ۔ پہلے فرماتاہے: ہم نے آسمانوں اور زمین اور جوکچھ ان دونوں کے درمیان ہے ، ان کوچھ دن (چھ دوروں)میں پیدا کیاہے ، اوران کے پیداکرنے میںہمیں کسی قسم کی تھکان اورکمز وری نہیں ہوئی (وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ وَ ما بَیْنَہُما فی سِتَّةِ أَیَّامٍ وَ ما مَسَّنا مِنْ لُغُوبٍ) ۔ لغوب تعب اور خستگی کے معنی میں ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ جس کی قدرت محدُودہو اگر وہ کسِی ایسے کام کوا نجام دینا چاہے، جواس کی توانائی سے زیادہ ہو تووہ تھک کر چُور ہوجائے گا،لیکن اس ہستی کے بارے میں جس کی قدرت غیر محدُود اوراس کی توانائی غیر متناہی ہویہ امور کوئی مفہوم نہیںرکھتے ،اس بناپروہ ذات جو قادر ہے کہ کسی قسم کے تعب و رنج کے بغیر ان باعظمت آسمانوں اور زمین کواوران سب ستاروں، سیاروں کرّوںاور کہکشاؤ ں کو ایجاد کرے ، وہ اس بات کی بھی قدرت رکھتاہے، کہ انسان کومرنے کے بعد دوبارہ زندہ کردے ،اور زندگی کالباس اس کے بدن پر پہنادے ۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی ایک شان نزُول نقل کی ہے کہ : یہودی یہ خیال کرتے تھے ،کہ خدانے آسمانوں اور زمین کو چھ دن (ہفتہ کے چھ دن )میں پیدا کیاہے ،اس کے بعد ہفتہ کے دن اس نے آرام کیا، اوراپنا ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھا، اوراسی بناء پر وہ اس طرح سے بیٹھنے کوغیر مطلوب شمار کرتے ہیں، اوراُسے خدا کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں، تو اوپر والی آیت نازل ہوئی (١)اوراس قسم کی ہنسانے والی خرافات کوختم کردیا ۔ لیکن یہ شانِ نزول اس بات سے مانع نہیں ہے ، کہ آیت امکان معاد کے مسئلہ کاتعاقب کرے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پروردگارکی توحید علم اور قدرت پر بھی ایک دلیل ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کوان تمام عجائبات اور غر ائب کے ساتھ اور لاکھوں کروڑوں زندہ موجودات ، اور عجیب وغریب اسرار اوراس کے مخصوص نظاموں کوپیدا کیاہے،کہ جن کے ایک ہی گوشہ میں غور وفکر کرنا، اس تواناپیدا کرنے والے کی طرف جس کے دست قدرت نے اس عظیم گردش کرنے والے کوحرکت دی ہے ، اور ہرجگہ نورحیات وزندگی کو پھیلایاہے،ہماری رہنمائی کرسکتاہے ۔ آسمانوں اور زمین کی چھ دن میں خلقت کاموضوع بارہا آیات قرآنی میں آیاہے ( ٢) ۔ کلمہ یومجیساکہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں، عربی زبان میں اس کامتبادل روز فارسی زبان میں ، یا باقی زبانوںمیں بہت سے مواقع پرد وران کے معنی میں استعمال ہوتاہے، نہ کہ چوبیس گھنٹوں کے معنی میںیا بارہ گھنٹوں کے معنی میں، مثلاً ہم کہتے ہیں: ایک دن لوگ پیغمبرالسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سایہ میں زندگی بسرکرتے تھے ، اور دوسر ے دن بنی اُمیّہ اور بنی عباس کے جبار ربادشاہ ان پر مُسلط ہوگئے ۔ واضح رہے کہ روز ان تعبیروں میں دور کے معنی میں ہے ، چاہے وہ ایک سال ہو یاسوسال، یا ہزاروں لاکھوں سال مثلاً ہم کہتے ہیںایک دن کُرّہ زمین آگ کاایک ٹکڑاتھا، دوسرے دن وہ سرد ہوئی ، اور زندگی کے لیے آمادہ ، تو یہ تمام تعبیریںادوار کی طرف اشارہ ہیں ۔ اس بناء پر اوپروالی آیت سے معلوم ہوتاہے کہ خدانے آسمانوں اوران دونوں کی تمام موجودات کوچھ ادوار میں پیدا کیا ۔ اس گفتگو کی تفصیل وتشریح ہم جلد ٤ص ١٢٩ سورئہ اعرا ف کی آ یہ ٥٤ کے ذیل میں کرچکے ہیں ۔ اس بناء پر اس سوال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ سُورج ور کُرّہ زمین کی خلقت سے پہلے توشب وروز تھے ہی نہیں تاکہ خدانے عالم کوچھ دن میںپیداکیاہو ۔ معاد کے مختلف دلائل اورقیامت کے مختلف مناظر کی تصویرکشی کرنے کے بعد ، چونکہ ایک گروہ حق کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرتا اور باطل پراڑے ہوئے ہٹ دھرمی کرتارہتاہے لہٰذا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کومخاطب کرتے ہُوئے ارشاد ہوا ہے:جوکچھ وہ کہتے ہیں .اس پرصبر کرو اور شکیبائی سے کام لو (فَاصْبِرْ عَلی ما یَقُولُون ) ۔ کیونکہ صرف صبر و شکیبائی کی قوّت سے ہی ان مشکلات پر کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ، اور دشمن کی سازشوں کودرہم و برہم کیاجاسکتاہے، اور حق کی راہ میں ان کی نا روانسبتوں کوبرداشت کیاجاسکتاہے ۔ چونکہ صبرو استقامت مدد ونصرت کی محتاج ہے ، اور بہتر ین مدد ونصرت،خداکی یاد اور جہاں کوپیدا کرنے والے کے علم وقدرت کے مبداسے ارتباط پیداکرتا ہے ، اس حکم کے بعد مزید کہتاہے: اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اوراس کے غروب سے پہلے اپنے پروردگارکی تسبیح وحمد بجا لا (وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوب) ۔ اسی طرح رات کے ایک حصّہ میں اس کی تسبیح کر اورسجدوں کے بعد بھی (وَ مِنَ اللَّیْلِ فَسَبِّحْہُ وَ أَدْبارَ السُّجُودِ ) ۔ یہ دوادمی یا اور مسلسل تسبیح ،بارش دکے حیات بخش قطروں کی طرح تیرے دل وجان کی سرزمین پڑ پڑنی چاہیئے یہ اُسے سیراب کرتی ہے، تجھے ہمیشہ نشاط وحیات بخشتی ہے اور ہٹ دھرم دشمنوں کے مقابلہ میں استقامت کی دعوت دیتی ہے ۔ اس بار ے میں کہ خدا کی ان چار مواقع پر(طلوع آفتاب سے پہلے، اس کے غروب سے پہلے ،رات کے وقت اور سجدوں کے بعد)تسبیح کرنے سے کیامراد ہے؟مفسرین کے درمیان بہت زیادہ اختلاف ہے ۔ بعض کانظر یہ تویہ ہے کہ یہ تعبیریں روزانہ کی پنچگانہ نمازوں کی طرف اشارہ ہے اور بعض کے نزدیک پُر فضیلت نوافل کی طرف اشارہ ہے اس طرح سے کہ قبل طلوع الشمس نماز صبح کی طرف اشار ہے ،کیونکہ اس کاآخری وقت طلوعِ آفتاب ہے ۔ اور قبل الغروب(غروب آفتاب سے پہلے )نمازظہروعصر کی طرف اشارہ ہے ،کیونکہ ان دونوں کاآخری وقت غروبِ آفتاب ہے ۔ و من اللیل(رات میں سے )نماز مغرب وعشاء کوبیان کرتاہے واد بارا لسجود(سجدوں کے بعد)مغرب کے نوافل کی طرف اشارہ ہے ،جومغرب کے بعدبجا لائے جاتے ہیں ۔ ابن عباسنے اس تفسیر کو قبول کیاہے،اس قید کے ساتھ کہ ادبار السجود کوتمام نوافل نمازوں کی طرف اشارہ سمجھاہے، جوفرائض کے بعد انجام دیئے جاتے ہیں، لیکن چونکہ روزانہ کی نوافلم میں ہمارے نظر یہ کے مطابق صرف مغرب وعشاء کے نوافل ہیں جوان نمازوں کے بعد انجام پاتے ہیں،لہٰذا یہ تعمیم صحیح نہیں ہے ۔ بعض دوسروں نے قبل طلوع الشمس کونماز صبح کی طرف اورقبل الغروبکونمازِ عصر کی طرف اور من اللیل فسجہ کو مغرب وعشاء کی طرف اشارہ سمجھا ہے اوراس طرح سے بغیر کسی واضح وجہ کے نمازِظہر کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی ۔ یہ چیز اس تفسیر سے ضعف کی دلیل ہے ۔ ایک روایت میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جب آپ علیہ السلام سے آ یہ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوبِ کے بارے میں لوگوں نے سوال کیا ، توآپ علیہ السلام نے فرمایا: تقول حین تصبح وحین تمسی عشرمرات لاالہٰ الاّ اللہ وحدہ لا شریک لہ ،لہ الملک،ولہ الحمد، یحیی ویمیت،وھو علی کُل شی ء قدیر: ہرصبح وشام دس مرتبہ یہ ذکرکہے لاالہٰ الاّ اللہ...( ٣) ۔ یہ تفسیرپہلی تفسیر کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتی ، اور ممکن ہے کہ یہ دونوں ہی آیت کے معنی میں جمع ہوں ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس معنی کی نظیر تھوڑے سے فرق کے ساتھ سورئہ طٰہٰ کی آیت ١٣٠ میں بھی آ ئی ہے،جہاں فرماتاہے:وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوبِہا وَ مِنْ آناء ِ اللَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ أَطْرافَ النَّہارِ لَعَلَّکَ تَرْضی ۔ طلوع آفتاب سے پہلے اوراس کے غروب سے پہلے ، اوراسی طرح رات کے دوران میں، اوران کے اطراف میں پروردگارکی تسبیح کر، تاکہ توراضی وخوش ہوجائے ۔ لعلک ترضیٰ کاجُملہ اس بات کی نشاندہی کرتاہے،کہ یہ عبادات اور تسبیحات فکر ونظر کے سکون اور دل کی مسرت میںاہم اثر رکھتی ہیںاور اس کوسخت قسم کے حوادثات کے مقابلہ میں قوت وتوانائی بخشتی ہیں ۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ سورئہ طور کی آ یہ ٤٩ میں اس طرح آ یاہے وَ مِنَ اللَّیْلِ فَسَبِّحْہُ وَ ِدْبارَ النُّجُومِ رات کے کچھ حصّہ میں خدا کی تسبیح کراور ستاروں کے پشت پھیرنے کے وقت ( ٤) ۔ ایک حدیث میں آ یاہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا : ادبارالجسودوہ دورکعت نافلہ ہے جوتم مغرب کے بعد پڑ ھتے ہو ( توجہ رہے کہ مغرب کہ نافلہ چار رکعت ہیں،جن میں سے یہاں دورکعت کی طرف اشارہ ہواہے)اور ادبارالنّجومدو رکعت نافلہ صبح ہیں،جونماز صبح سے پہلے اور ستاروں کے غروب ہونے کے وقت بجالاتے ہیں( ٥) ۔ ایک روایت میں یہ بھی آ یاہے کہ ادبا رالسجودسے وہی نماز وترہے جوآخرِ شب میں انجام دی جاتی ہے( ٦) ۔ بہرحال پہلی تفسیر سب سے مناسب نظر آ تی ہے، اگرچہ مفہوم تسبیح کی وسعت اور کشاد گی میں بہت سی دوسری تفسیریںجن کی طرف روایات میں اشارہ ہوا ہے ،شامل ہوجاتی ہیں ۔ ١۔ تفسیر "" درالمنثور "" جلد ٦،صفحہ ١١٠۔ ٢۔مثلاً سورۂ اعراف ، ٥٤ سورئہ یونس ٣سورئہ ہود٧ سورئہ سجدہ ٤، سورئہ حدید ٤،سورئہ فرقان ٥٩۔ ٣۔"" مجمع البیان "" زیربحث آیت کے ذیل میں ۔ ٤۔"" توجہ کرنا چاہیئے کہ یہاں "" ادبار""(بروزن اقبال)پشت کرنے کے معنی میں ہے، اور زیربحث آ یات میں "" ادبار"" بروزن (ابزار )"" دبر""کی جمع ہے جوپشت کے معنی میںہے ،اس بناء پر"" ادبار السجود"" کامعنی سجدوں کے بعد ہے اور "" ادبارالنجوم"" کامعنی ستاروں کاپشت پھرینے کاوقت ہے ۔ ٥۔مجمع البیان زیربحث آ یات کے ذیل میں ۔ ٦۔گذشتہ مدرک ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 50:38-40
سوره «ق»/ آیه 38- 40
٤٠۔ وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ وَ ما بَیْنَہُما فی سِتَّةِ أَیَّامٍ وَ ما مَسَّنا مِنْ لُغُوبٍ ۔ ٣٩۔فَاصْبِرْ عَلی ما یَقُولُونَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوبِ ۔ ٣٨۔وَ مِنَ اللَّیْلِ فَسَبِّحْہُ وَ أَدْبارَ السُّجُودِ ۔ ترجمہ ٣٨۔ہم نے آسمانوں ، زمین اور جوکچھ ان دونوں کے درمیان ہے کوچھ دن ( چھ دو روں)میں پیدا کیاہے ، اوران کے پیدا کرنے میںہمیں کسی قسم کی تکان اورکمزوری نہیں ہوئی ۔ ٣٩۔جوکچھ وہ کہتے ہیںاس پر صبر وشکیبائی اختیار کر، اورطلوعِ آفتاب سے پہلے ، اوراس کے غر وب ہونے سے پہلے اپنے پر وردگار کی تسبیح وحمد بجالا ۔ ٤٠۔اور رات کے ایک حصّہ میں اس کی تسبیح کر اور سجدوں کے بعد ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 50:38-40
صبرو شکیبائی ہر کامیابی کاراز ہے
یہ پہلاموقع نہیں ہے، جہاں قرآن مجید مشکلات اور ہٹ دھرم اوردشمن افرد کے مقابلہ میںصبرو شکیبائی کی تلقین کرتاہے قرآن مجید عظیم پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اور عام مومنین کوبھی بار بار یہ اہم مسئلہ دل نشین کراتاہے،اور بکثرت تجر بات بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ غلبہ و کامیابی اُنہی افراد کے لیے ہے،جوصبرو استقامت کابہت زیادہ خیال رکھتے ہیں ۔ ایک حدیث میں آ یاہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے دوستوں میں سے ایک سے ( جو شاید اس زمانہ کے سخت حالات میں بے تاب ہوجاتاتھا) فرمایا:علیک بالصبرفی جمیع المورک: تجھ پرالازم ہے کہ تمام کاموں میں صبر وشکیبائی رکھے ۔ اس کے بعد مزید فرمایا کہ خداوند تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کومبعوث فرمایا اوران کوصبروتحمل اور مدارات کاحکم دیا، او ر انہوں نے صبر کیایہاں تک کہ لوگوں نے ان کی طرف بہت سی نار وانسبتیںبھی دیں ،اور جب آپ کاسینہ تنگ ہوگیا توخدانے ان پر یہ آیت نازل کی : وَ لَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّکَ یَضیقُ صَدْرُکَ بِما یَقُولُونَ،فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَ کُنْ مِنَ السَّاجِدینَ ہم جانتے ہیں کہ توان کی باتوں سے بے چین ہوجاتاہے،اور تیرا سینہ تنگ ہوجاتاہے ،پس تواپنے پروردگار کی تسبیح اورحمد بجالا اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجا (حجر۔٩٧۔ ٩٨) ۔ پھر بھی انہوں نے آپ کی تکذیب ہی کی اورہر طرف سے تہمت کے تیرآپ کی طرف پھینکے، اوراس بناء پرآپ محزُون ومغموم ہُوئے، خدانے ان کی دل داری اور تسلّی کے لیے یہ آیت نازل ہوئی قَدْ نَعْلَمُ ِنَّہُ لَیَحْزُنُکَ الَّذی یَقُولُونَ فَِنَّہُمْ لا یُکَذِّبُونَکَ وَ لکِنَّ الظَّالِمینَ بِآیاتِ اللَّہِ یَجْحَدُونَ،وَ لَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُل مِنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوا عَلی ما کُذِّبُوا وَ أُوذُوا حَتَّی أَتاہُمْ نَصْرُنا ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتیں تجھے اندو ہگین کرتی ہیں ۔ لیکن یہ لوگ(صرف)تیری تکذیب نہیں کرتے بلکہ یہ ستمگرآ یات خداکی تکذیب کرتے ہیں ،انہوں نے تجھ سے پہلے بھی خداکے رسُولوں کے تگذیب کی تھی ، اور انہوں نے تکذیبوںاور آ زادوں کے مقابلہ میں صبر کیا، یہاں تک کہ ہماری نصرت ان کی مدد کے لیے آن پہنچی ( انعام ۔ ٣٣۔٣٤) ۔ اس کے بعد امام علیہ السلام مزیدفرماتے ہیں: پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے آپ کوصبر وشکیبائی کے لیے آمادہ تیار کرلیا، لیکن اس موقع پران لوگوں نے معاملہ کوحد سے زیادہ کردیا، اورانہوں نے خدا کانام لے کر اس کی ساحت قدس کی نسبت تکذیب کی ، توپیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فر مایا میں نے اپنے لیے اوراپنے گھروالوں اوراپنی حیثیت کے لیے ناملائم باتوںپرتوصبر کرلیا،لیکن میں اپنے پروردگار کوبُرابھلاکہنے پر صبرنہیں کرسکتا، اس موقع پر خداوند عزو جل نے اس زیربحث آیت کونازل فرمایا: (وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ وَ ما بَیْنَہُما ...)ہم نے آسمان وزمین کو اور جوکچُھ ان کے درمیان ہے ۔ چھ دوروںمیں پیدا کیاہے (اورعالم کی خلقت میں ہم نے جلدی اور عجلت سے کام نہیںلیا، اورہمیں کوئی دُکھ اور رنج نہیں پہنچا ، اس بناء پر تم بھی عجلت دنہ کرواوران کی باتوں کے سامنے صبرکرو، یہ وہ مقام تھاکہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے صبر شکیبائی کو تمام حالات میں پیش نظر رکھّا ،( یہاں تک کہ دشمنوںپر کامیاب ہُوئے ) ( ١) ۔ ١۔""اصول کافی""ّبمطابق ،نورالثقلین ،جلد٥ ،صفحہ ١١٧) ۔