وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ
And they said, ‘Why was not this Quran sent down to some great man from the two cities?’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 43:31
[Pooya/Ali Commentary 43:31] The pagans judged by their own low standards. As the Holy Prophet was not a man of the world, amassing worldly possessions, they thought that he should not have been richly endowed with wisdom and authority, for which there were many deserving men of wealth and resources in Makka or Taif. Intellectual and spiritual excellence had no value at all for them Aqa Mahdi Puya says: The men of the world, in all ages, give exclusive importance to wealth and worldly position. In their ignorance, they are unable to ascertain and appreciate the intellectual and spiritual standards of the descendants of Ibrahim selected by Allah to represent Him on the earth.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 43:31-32
دو اہم سوالوں کا جواب
اس موقع پر کئی سوال مندرجہ بالا آیات کے مطا لعہ کر تے وقت پیش آ تے ہیں اور دشمنانِ السلام کی طرف سے بھی انہیں دستا ویزی کے طورپر اسلام کے آ فاقی نظر یئے پر حملہ کے لیے استعما ل کیا جاتاہے ۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ قرآن مجید نے کیونکر انسان کے ذریعے انسان کی خدمت اور تسخیر کوجائز قرار دیاہے ؟کیااس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام نے اقتصادی اعتبارسے ایسے طبقاتی نظام کی تائید کی ہے جس میں ایک طبقہ خدمت لینے والا ہو اور دوسرا خد مت کرنے والا ؟ پھر یہ کہ اگر روزی اور معیشت خدا کی طرف تقسیم ہوچکی ہے اور یہ اقتصاد ی اور نچ نیچ اسی کی جانب سے ہے توپھر رزق کی تلاش ہمار ے لیے کس حد تک مفید اورثمر آ ورثابت ہوسکتی ہے ؟ آ یااس طرح سے زندگی کے لیے کوشش اورجدّ وجہد کی نفی نہیں کی گئی ؟ اگر آ یت مجیدہ کے متن میں غور کیاجائے توان سوالوں کا جواب بخوبی واضح ہوجاتاہے جو لوگ اس طرح کے اعتراضات کرتے ہیں ان کاتصور یہ ہوتاہے کہ آیت کامفہوم اس طرح ہے کہ انسانوں کاایک خاص طبقہ دوسرے لوگوںکو مسخر اور تابع فرمان بنا لے اور تسخیر بھی انسان سے ظا لمانہ استحصال کے معنی میں ۔ حالانکہ ایسی بات نہیں ہے بلکہ اس سے مراد لوگوں کی عمومی طورپر ایک دوسر ے سے خدمت طلبی ہے . یعنی ہرطبقہ کے اپنے مخصوص وسائل اوراستعدا د ہوتے ہیں جس کے پیش نظر وہ زندگی کے کچھ مسائل میں سر گرمی دکھاتاہے اور طبقی طورپر ان مسائل کے بار ے میں اسی کی خدمات دوسروں کے کام آ تی ہیں. اسی طرح دوسر ے طبقوںکی دوسر ے مسائل ہیں . تو گو یا ان کی خد مت طلبی برابر کی سطح پر ہوتی ہے اور طر فین کے درمیان پائی جا تی ہے . بالفاظ دیگر اصل مقصد اورزندگی میں ایک دوسر ے سے تعاون ہوتاہے نہ کہ کوئی دوسر ی بات ۔ از خود واضح ہے کہ اگر تمام لوگ ہوش وحواس اور روحانی وجسمانی لیاقتوںکے لحاظ سے برابر ہوتے تواجتما عی لحاظ سے سے کبھی نظم وجود میں نہ آسکتا . جس طرح کہ اگر انسانی بدن کے تمام خلیے ساخت ، دفاعی قوت کے لحاظ سے ایک جیسے ہوتے تو انسانی جسم کانظام بگڑ جاتاپاؤںکی ایڑ ی کی ہڈی کے مضبُوط اورطاقت ور خلیے کجااور آنکھ کی جھلی کے لطیف وناز ک خلیے کجا؟ان دونوں میں سے ہر ایک اپنی طرز ساخت کے مطابق اپنااپنا کام انجام دینے کے لیے بنائے گئے ہیں ۔ اس کے لیے زندہ مثال انسانی جسم کے مختلف اعضا کی ایک دوسر ے کی خدمت کے حوالے سے دی جاسکتی ہے جوسانس لینے ، خُون کی گردش کرنے ، غذا کھانے اوردوسری جسمانی فعالیت کی صُورت میں جود ہے اور یہ ” لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضاً سُخْرِیًّا“کاروشن مصداق ہے ( البتہ جسم کی اندرونی فعا لیّت کی حد تک ) تو کیا اس قسم کی تسخیرپر کسی قسم کا اعتراض وارد ہو سکتاہے ؟۔ اگریہ کہاجائے کہ ” “ کاجُملہ عدالت اجتماعی کے خلاف نظریہ پیش کرتاہے توہم کہیں گے کہ یہ اس سُورت میں ہوسکتا ہے جب ” عدالت “ کامعنی ” مسادات “ کیاجائے ، جبکہ حقیقی عدالت یہ ہے کہ جو چیزجس کا م کے لیے ہے وہیں پر قرار پائے . تو کیا کسِی فوجی ادارے با مُلکی کو چلانے کے لئے مراتب یامناصب کاوجُود اس کے ظالم ہونے پردلالت کرتا ہے ؟ ممکن ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوں ، جونعرہ کی صُورت میں ” مسادات “ کے کلمہ کواس کے حقیقی مفہوم سے بے توجہ ہو کراسے ہرجگہ استعمال کریں ، لیکن یہ صرف نعرے کی صُورت میں ہوگا . عملی زندگی میں باہمی فرق کے بغیروجُود میں آسکتاہے ہی نہیں.لیکن یہ باہمی فرق ایک انسان کے ہاتھوں دوسر ے انسان کے استحصال کاذ ریعہ بھی نہیں بنتا چاہیئے . سب لوگوں کوآزاد ہو ناچاہیئے تاکہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوںکو بروئے کار لائیں ،اپنی استعد اد کوجلا بخشیں اوراپنی سرگرمیوںکے نتائج کما حقّہ، فائدہ اُٹھا ئیں اور جہاں ان کی دسترس نہیں ہے ،ان لوگوںکوجو طاقت رکھتے ہیں، اُن کا ہاتھ بٹا نا چاہیئے ۔ اب رہا دوسرا سوال کہ یہ بات کیونکہ ممکن ہے کہ جب ہرشخص کارزق مقرر ہوچکاہے پھر کوشش اور جدّو جہد کوجاری رکھّا جائے ؟ لیکن انہیں یہ غلط فہمی اس لیے ہوئی ہے کہ وہ سمجھتے ہیںکہ خدا وند عالم نے انسان کی سعی وکوشش کواہمیّت نہیں دی اور نہ ہی اسے سعی وکوشش کا حکم دیاہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ خدا وند ِ عالم نے مختلف سر گر میوں کے لیے انسان کے اندر صلاحیتیں بھی مختلف و دیعت فرمائی ہیں اوریہ بات بھی صحیح ہے کہ انسان زندگی میں اس کے اپنے ارادے سے ہٹ کر کُچھ بیرونی عوامل بھی بڑی حد تک اثر انداز ہیں لیکن س کے باوجُود ان عوامل میں سے ایک اہم اور بنیادی عامل سعی و کوشش کوبھی قرار دیاگیاہے اور ” ان لیس للا نسان الّا ماسعیٰ “ (نجم . ۳۰)کے اصُول کے پیشِ نظر اس نکتے کی بھی ہے ۔ بہرحال ایک نہایت ہی باریک اور دقیق نکتہ یہ بھی ہے نبی نوع ِ انسان ایک طرح کابرتن نہیں ہیں جو ایک کارخانے میں ایک ہی مشکل وصورت ،ایک ہی قالب اور پیما نے سے اورایک ہی طرح کا فائدہ پہنچانے کے لیے بنائے جاتے ہیں . اگر یہی کیفیت ہوتی تووہ ایک دن بھی باہر مِل جُل کرزندگی بسر نہ کرسکتے ۔ اور نہ ہی انسان کسی مشنری کے نٹ بولٹ کی طرح تخلیق کیے گئے ہیں کہ جس کے بنانے والے اورانجنیئر نے اسے کَس دیاہے اور وہ مجبوراً اپنے کام کو جاری رکھے ہُوئے ہے . بلکہ اس کے بالکل برعکس تمام بنی نوع انسان ارادی طورپر آزاد بھی ہیں اور ساتھ ہی ذمہ داری اور فرائض کی ادائیگی کے لیے پابند بھی ہیں .اس کے باوجود ان کی صلا حیتیں اورلیاقتیں بھی مختلف ہیں اورایسے خالص مرکب اورمجموعے کانام انسان ہے . چنانچہ اگراس بارے میں کوئی اعتراض کیاجاتاہے تواس کی وجہ یہی ہے کہ اعتراض کرنے والے انسان کی معرفت سے بے بہرہ ہوتے ہیں ۔ قِصّہ مختصر ، خدا وند عالم نے تمام پہلوؤں کے لحاظ سے کسِی انسان کی دوسر ے انسان پرفوقیّت اور بر تر ی عطانہیں کی . بلکہ جُملہ ”رَفَعْ بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجات “ کے پیشِ نظر تمام لوگوں میں مختلف امتیازات پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے انہیں ایک دوسر ے پر فو قیّت حاصل ہے اورہرطبقے کی دوسر ے طبقے سے حصُولِ خد مت اور تسخیر بھی انہیں امتیازات کے پیشِ نظر ہوتی ہے (۱) ۔ ۱۔ اس سلسلے میں مز ید تفصیل تفسیرنمونہ جلد سوم ،سُورہ ٴ نساء کی ۳۲ ویں آ یت اور جلد ششم میں سورہٴ انعام کی ۱۶۵ ویں آ یت کے ذیل میں بیان ہوچکی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 43:31-32
قراٰن کسی دولت مند پر نازل کیوں نہیں ہوا ؟
گزشتہ آ یات میں انبیاء کی دعوت کے ردّ عمل میں مشر کین کی حیلہ سازیوں اور بہا نہ جوئیوں کاتذ کرہ تھا . کبھی تووہ اس دعوت کو جادُو کہتے اور کبھی اپنے آباؤ اجداد کی تقلید کابہانہ پیش کرتے ہُو ئے فرامین الہٰی پیٹھ پھیرلیتے . لیکن زیر تفسیرآ یات میں خدا وند عالم ان کے ایک اور بے بنیاد اور کھوکھلے بہانے کی طرف اشارہ کرتے ہُو ئے فرماتاہے : انہوں نے کیایہ قرآن ان دوشہر وں ( مکّہ اور طائف )کے کسی بڑے ( مالدار اورمشہور )آ دمی پر نازل کیوں نہیںہوا ( وَ قالُوا لَوْ لا نُزِّلَ ہذَا الْقُرْآنُ عَلی رَجُلٍ مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظیمٍ ) ۔ ایک لحاظ سے انہیں حق پہنچتاتھاکہ اس قسم کے حیلوں بہانوں سے کام لیں کیونکہ ان کے نکتہ نظر ے انسانی اقدار کو معیار مال و دولت ،ظاہر ی آن بان شہر ت اور شان وشوکت تھی . یہ سرپھرے یہ سمجھتے تھے کہ ان کے دولت مند اور ظالم قبائلی سر دار ہی کو خدا کی بار گاہ میں سب لوگوں سے زیادہ تقرب حاصل ہے . لہذا وہ تعجب کرتے تھے کہ نبوّت اور رحمت جیسی یہ عظیم نعمت اس قسم کے لوگوں پرنازل کیوں نہیںہوئی ؟بلکہ اس کے بر عکس اس یتیم ، غریب اورنادار انسان یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )بن عبداللہ پرنازل ہوگئی !یہ تو باورکرنے کی بات ہی نہیں ہے ۔ جی ہاں ایسے غلط اقدار پر مبنی نظام سے ایسا ہی نتیجہ نکالا جاسکتاہے . عظیم انسانی معاشروں کی سب سے بڑی مصیبت اوران کے انکار کی کجی کااصل سبب یہی غلط اقدا ر پر مبنی نظام ہیں جو بسا اوقات حقائق کو مکمل طورپر الٹ کررکھ دیتے ہیں ۔ جب کہ اس دعوتِ الہٰی کاحامل ایساشخص ہونا چاہیئے جس کے تمام وجود کوتقویٰ کی رُوح نے معمُور کررکھا ہو ، باخبر اور با بصیرت ہو ، عزمِ صمیم کا حامل ہو ،شجاع اور عادل ہو اور محروم و مظلوم لوگوں کے دور سے آ شنا ہو . یہ ہیں وہ شرائط اوراقدار جو اس آ سمانی رسالت کے حامل شخص میں پائی جاناضروری ہیں ، نہ کہ خوبصُورت لباس ، گراںقیمت اور انچے محلات اورظاہری آ ن بان . خدا کے انبیاء تو خاص طورپر ایسی چیزوں سے محروم تھے تاکہ کہیں ایسانہ ہوکہ اصل اقتدار جھوٹی قدرتوں کے ساتھ گڈ بڈنہ ہوجائیں ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ مکّہ اور طائف کے وہ کون لوگ تھے جواِن بہانہ سازو ں کے پیشِ نظر تھے ؟ اس بار ے میں مفسرین کی مختلف آ راء ہیں . البتہ اکثر مفسرین طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی اور مکّہ سے ولید بن مغیرہ مراد لیتے ہیں .لیکن بعض مفسرین نے مکّہ سے عتبہ بن ربیعہ کا اور طائفہ سے حبیب بن عمر ثقفی کانام لیاہے ۔ لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتاہے کہ ان کی گفتگو کسی خاص شخص کے بار ے میں نہیں تھی ، بلکہ ان کا مقصود کوئی بھی مالدار ، مشہور اورقوم و قبیلہ کاسر دار شخص تھا ۔ قرآن مجید ایسی غلط اورخر افاتی خر افاتی طرزِ فکر کو سر کوب کرنے کے لیے داندن شکن جواب دیتاہے اور اسلامی وخدائی نکتئہ نظر کو مکمل طورپر مجسم کرتے ہُو ئے پہلےفرماتاہے : آ یا یہ لوگ تمہارے رب کی رحمت کوتقسیم کرتے ہیں (اٴَ ہُمْ یَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّکَ ) ۔ تاکہ جسے چاہیں نبوّت عطا کردیں ، جس پر چاہیں آسمانی کتاب نازل کردیں اور جس کے متعلق نہ چاہیں اس کے ساتھ ایسانہ کریں وہ غلط سمجھتے ہیں. تمہار ے رب کی رحمت کوخود وہی تقسیم کرتاہے اور سب سے بہتر جانتاہے کہ کون شخص ا س عظیم مرتبے کے لائق ہے ؟جیسا کہ سُورہ ٴ انعام کی ۱۲۴ویں آ یت میں بھی ذکرہوا ہے ۔ اللَّہُ اٴَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسالَتَہُ ” خدا بہتر جانتاہے کہ اپنی رسالت کہاں قرار دے “ ۔ اس سے بھی قطع نظر اگرلوگوں کی زندگی میں کوئی فرق اور اختلاف پایاجاتاہے تویہ ان کے معنوی اور روحانی مقامات ومراتب میں فرق کی دلیل ہرگز نہیں بن سکتی . بلکہ ” ہم نے ان کے درمیان ان کی معیشت کو دنیا وی زندگی میں تقسیم کردیاہے اور بعض لوگوںکودوسر ے بعض لوگوں پر فو قیت دی ہے ، تاکہ وہ ایک دوسر ے کی خدمت کریں اور آپس میں تعاون کریں (نَحْنُ قَسَمْنا بَیْنَہُمْ مَعیشَتَہُمْ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ رَفَعْنا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضاً سُخْرِیًّا وَ رَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ ) ۔ انہوں نے اس بات کوفراموش کردیا ہے کہ انسانی زندگی ایک اجتماعی زندگی ہے اوراس کوایک دوسر ے کے ساتھ تعاون اور آپس کی خدمت کے بغیر نہیں چلا جاسکتاہے .اگرتمام لوگ زندگی اوراستعداد کے لحاظ سے ایک ہی سطح پرہوں اورمعاشر ے میں ان سب کاایک جیسا مقام ہوتو تعاون اورایک دوسرے کی خدمت اورایک دوسر ے سے بہرہ مندی کااصول متزلزل ہو جائے گا ۔ اسی لیے انہیں اس قسم کی تفریق دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ ہی وہ اسے انسانی اقدار کامعیار سمجھ بیٹھیں۔ بلکہ تمہار ے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے جوکُچھ یہ لوگ اکٹھا کرتے ہیں خواہ وہ جاہ و مقام ہو یامال و دولت (وَ رَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُون) ۔ بلکہ یہ تمام دنیاوی عہدے ، منصب ، مال اوردولت پروردگار کی رحمت اوراس کے قربت کے مقابلے میں مکھی کے پَر کے برابر بھی قدرو قیمت نہیں رکھتے ۔ اس آ یت میں ’ ’ ربّک “ دو مرتبہ آ یاہے ، جو پروردگار عالم کے خاص لطف و کرم کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے جواس نے اپنے پیغمبر خاتم ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پرفر مایا ہے کہ ان کی قامت رسا کو نبوّت وخاتمیت کی خلقت زیبا سے مزین فر مایا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 43:31-32
سوره زخرف/ آیه 31- 32
۳۱۔وَ قالُوا لَوْ لا نُزِّلَ ہذَا الْقُرْآنُ عَلی رَجُلٍ مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظیمٍ ۔ ۳۲۔ اٴَ ہُمْ یَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّکَ نَحْنُ قَسَمْنا بَیْنَہُمْ مَعیشَتَہُمْ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ رَفَعْنا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجاتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضاً سُخْرِیًّا وَ رَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِمَّا یَجْمَعُونَ ۔ ترجمہ ۳۱۔ اورانہوں نے کہا : یہ قرآن ان دوشہر وں ( مکّہ اور طائف )کے کسی بڑ ے ( مالدار )آدمی پرنازل کیوں نہیں کیاگیا ؟ ۳۲۔کیایہ لوگ تمہار ے پروردگار کی رحمت کوتقسیم کرتے ہیں ؟ ہم نے ان کے درمیان ان کی معیشت کو دنیاوی زندگی میں تقسیم کردیاہے ،اور بعض لوگوں کوبعض دوسر ے لوگوں پر فوقیّت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسر ے کی خدمت کریں اورآپس میں تعاون کریں اور جوکچھ یہ لوگ جمع کرتے ہیں ، تمہارے پروردگار کی رحمت اس سے کہیں بہتر ہے ۔