إِذۡ جَآءَتۡهُمُ ٱلرُّسُلُ مِنۢ بَيۡنِ أَيۡدِيهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّا ٱللَّهَۖ قَالُواْ لَوۡ شَآءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَـٰٓئِكَةٗ فَإِنَّا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ
When the apostles came to them, before them and in their own time, saying, ‘Worship no one except Allah!’ They said, ‘Had our Lord wished, He would have sent down angels [to us]. We indeed disbelieve in what you have been sent with.’
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 41:9-18
A tradition refers to creation of Earth on Sunday and Monday and mountains on Tuesday and vegetation and trees on Wednesday, the heavens on Thursday, the sun and the moon and the stars, angels, and lastly man on Friday. The origin of creation having started with a green element, liquefied under Divine Glory, and boiled and shaken to foam and gas, from which land and clouds were formed. These were commanded to function as per Divine Will and energized. Four periods referred to in Couplet 10 above are four seasons – spring, summer, autumn and winter, winter necessary for flowering, fructifying and growing of crops. The Mighty Creator, by effecting difference in latitude and tilting the earth’s axis to its plane of orbit, with variation of land and sea, and contours on the ground, causing variation of heat, at different places, in different times, to regulate food production for its inhabitants from the Poles to the Equator (is praiseworthy).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:13-16
عاد وثمود کی طرح صا عقہ سے ڈرو
اسی سورہ کی تیرھویں آیت کی روسے قوم عاد اور قوم ثمود دونوں ” صاعقہ “ کے ذریعے نیست ونابود ہوئیں ، جب کہ زیرتفسیر آیات کہتی ہیں کہ ”صر صر “ یعنی تیزوتند ہواکے ذ ریعے تباہ وبرباد ہوئیں ، توکیاان دونوں کاباہم تضاد ہے ؟ جو اباً گزارش ہے کہ ارباب لغت اور مفسرین نے ” صاعقہ “ کے دومعانی بتائے ہیں ایک عام اور دوسراخاص ۔ عام معنی کے لحاظ سے صاعقہ ہراس چیزکوکہتے ہیں جوانسان کوہلاک کردیتی ہے اور بقول صاحب مجمع البیان ” المھلکة “ من کل شی ء “ اور خاص معنی کے لحاظ سے آگ کے اس عظیم انکار سے کوکہتے ہیں جوآسمان سے گرتاہے اورجوکچھ بھی اس کی زد میں آجاتا ہے جل کرراکھ ہوجاتاہے .اس کی تشریح انہی آیات کی تفسیر میںہم کرچکے ہیں ( یہ عظیم چنگاری بادل اورزمین کی الیکڑیسٹی کے باہمی تبادلے سے پیدا ہوتی ہے )۔ اسی لیے اگر ” صاعقہ “ کاپہلا معنی مراد لیاجائے توتیز ہوا کے معنی کے ساتھ اس کاتضاد نہیں ہوگا ۔ راغب ، مفردات میں کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے نزدیک ”صاعقہ “ تین قسم کی ہیں . ایک موت کے معنی میں ،دوسری عذاب کے معنی ہیں اور تیسری آگ کے معنی میں .خاص کر ” اٴَنْذَرْتُکُمْ صاعِقَةً مِثْلَ صاعِقَةِ عادٍ وَ ثَمُود“ والی آیت میں عذاب کے معنی میں ہے۔ وہ آگے چل کرکہتے ہیں یہ سب ایک معنی میں جمع ہوجاتے ہیں ” صاعقہ“ ایک زبردست مہیب آواز ہوتی ہے جوفضا میں اٹھتی ہے اورکبھی تواس میں آگ ہوتی ہے ، کبھی موت اورکبھی کوئی دوسراعذاب ،غرض ”صاعقہ “ ایک چیز ہوتی ہے اور یہ اس کے اثرت ( 1)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ قوم عاد دگنے عذاب میں مبتلاہوئی ہو پہلے توان کے شہروں پرایک عرصے تک تیز وتند ہواکے جھکڑچلتے رہے ہوں ، پھرحکم خداکے مطابق تباہ کن آتشین بجلی ا ن پر گری ہو کہ جس نے انہیں جلاکر بھسم کردیاہو۔ لیکن قوم عاد کی سزا کے سلسلے میں قرآن مجید کی دوسری آیات کو مد نظر رکھتے ہوئے پہلا جواب زیادہ مناسب نظر آتاہے ( 2)۔ 1۔ ” مفردات راغب “ ” مادہ صعقہ “ ۔ 2۔ سورہ” ذرایات “ کی آیت ۴۱ ، سورہ ٴ حاقہ کی آیت ۶ سورہ ٴ قمر کی آیات ۱۸ تا ۱۹ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:13-16
سوره فصلت/ آیه 13- 16
۱۳۔فَإِنْ اٴَعْرَضُوا فَقُلْ اٴَنْذَرْتُکُمْ صاعِقَةً مِثْلَ صاعِقَةِ عادٍ وَ ثَمُودَ . ۱۴۔إِذْ جاء َتْہُمُ الرُّسُلُ مِنْ بَیْنِ اٴَیْدیہِمْ وَ مِنْ خَلْفِہِمْ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ اللَّہَ قالُوا لَوْ شاء َ رَبُّنا لَاٴَنْزَلَ مَلائِکَةً فَإِنَّا بِما اٴُرْسِلْتُمْ بِہِ کافِرُونَ . ۱۵۔فَاٴَمَّا عادٌ فَاسْتَکْبَرُوا فِی الْاٴَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قالُوا مَنْ اٴَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً اٴَ وَ لَمْ یَرَوْا اٴَنَّ اللَّہَ الَّذی خَلَقَہُمْ ہُوَ اٴَشَدُّ مِنْہُمْ قُوَّةً وَ کانُوا بِآیاتِنا یَجْحَدُونَ . ۱۶۔ فَاٴَرْسَلْنا عَلَیْہِمْ ریحاً صَرْصَراً فی اٴَیَّامٍ نَحِساتٍ لِنُذیقَہُمْ عَذابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ لَعَذابُ الْآخِرَةِ اٴَخْزی وَ ہُمْ لا یُنْصَرُونَ. ترجمہ ۱۳۔ اگروہ منہ پھیرلیں توپھر کہہ دے کہ تمہیں ویسی بجلی سے ڈراتاہوں جیسی عاد وثمود پرگری۔ ۱۴۔ جس وقت کہ ان کے رسول ان کے آگے ، پیچھے ( اور ہرطرف ) سے ان کے پاس آئے اورانھیں خدا ئے یگانہ کی پرستش کی دعوت دی تو انہوںنے کہا: اگر ہمارا خدا چاہتاتوفرشتوں کونازل کر دیتالہذا جوکچھ تم لے کر آئے ہو ہم اس کے منکر ہیں۔ ۱۵۔ قوم عاد نے زمیں ناحق تکبر کیا اور کہا : ہم سے بڑھ کرکون طاقتور ہے ؟کیاوہ نہیں جانتے تھے کہ انہیں پیداکرنے والا خدا ان سے زیادہ قوی ہے وہ ( اپنے اس گمان کی وجہ سے ) ہمیشہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔ ۱۶۔ آخر کار ہم نے ان پرزبردست ، ہولناک ،سرداور سخت ہواؤں کے جھکڑ بھیجتے تاکہ انہیں دنیاوی زندگی میںہی ذلیل وخوار کرنے والا عذاب چکھائیں. اورآخرت کاعذاب تواس سے بھی زیادہ رسوا کُن ہوگا اور ( کہیں سے بھی ) ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:13-16
۱ ۔ قوم عاد کس طرح تباہ ہوئی ؟
کچھ لوگوں کانظر یہ ہے کہ سال کے ایام کی دو قسمیں ہیں ایک نحس او ر دوسرے نیک اور سعد انہوںنے مندرجہ با لاآیا ت سے استدلال کرتے ہوئے کہاہے کہ راتوں اوردنوں کے اندرکچھ پراسرار اور ناشناختہ تاثیر ہوتی ہے جس کے آثا ر ہمیں دکھائی دیتے ہیں . لیکن اس کے اسباب و علل ہمارے لیے مبہم ہیں۔ جب کہ بعض دوسرے مفسرین نے ان زیربحث آیات میں ” ایام نحسات “ سے گردو غبار سے بھر پور ایام مراد لیے ہیں۔ قوم عاد اس قدر تیزو تند ہوا کاشکار ہوگئی تھی کہ ہاتھ کوہاتھ سمجھائی نہیں دیتاتھا اورلوگ ایک دوسرے کو آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے تھے . جیساکہ سورہ احقا ف کی آیت ۲۴ سے بھی استفادہ ہوتاہے۔ ارشاد ہوتاہے : ” جب تیز ہواؤں نے ان کارخ کیاتووہ اس قدر تاریک اورغبار سے اٹی ہوئی تھیں کہ انہوںنے گمان کہ بارش بھرے بادل ان کی طرف آرہے ہیں لیکن ان سے کہاگیاکہ یہ وہی عذاب ہے تم جس کی جلدی میں تھے . یہ توہوا کے تیز جھونکے اور جھکڑ ہیں جن میں درد ناک عذاب چھپا ہواہے “ ۔ انشاء اللہ العزیز ” سعدونحس ایام “ کے بار ے میں مفصل گفتگو سورہ ٴ قمر کی انیسویں آیت کے ذیل میں آئے گی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:13-16
۲۔ قوم عاد کے نحس ایام
کچھ لوگوں کانظر یہ ہے کہ سال کے ایام کی دو قسمیں ہیں ایک نحس او ر دوسرے نیک اور سعد انہوںنے مندرجہ با لاآیا ت سے استدلال کرتے ہوئے کہاہے کہ راتوں اوردنوں کے اندرکچھ پراسرار اور ناشناختہ تاثیر ہوتی ہے جس کے آثا ر ہمیں دکھائی دیتے ہیں . لیکن اس کے اسباب و علل ہمارے لیے مبہم ہیں۔ جب کہ بعض دوسرے مفسرین نے ان زیربحث آیات میں ” ایام نحسات “ سے گردو غبار سے بھر پور ایام مراد لیے ہیں۔ قوم عاد اس قدر تیزو تند ہوا کاشکار ہوگئی تھی کہ ہاتھ کوہاتھ سمجھائی نہیں دیتاتھا اورلوگ ایک دوسرے کو آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے تھے . جیساکہ سورہ احقا ف کی آیت ۲۴ سے بھی استفادہ ہوتاہے۔ ارشاد ہوتاہے : ” جب تیز ہواؤں نے ان کارخ کیاتووہ اس قدر تاریک اورغبار سے اٹی ہوئی تھیں کہ انہوںنے گمان کہ بارش بھرے بادل ان کی طرف آرہے ہیں لیکن ان سے کہاگیاکہ یہ وہی عذاب ہے تم جس کی جلدی میں تھے . یہ توہوا کے تیز جھونکے اور جھکڑ ہیں جن میں درد ناک عذاب چھپا ہواہے “ ۔ انشاء اللہ العزیز ” سعدونحس ایام “ کے بار ے میں مفصل گفتگو سورہ ٴ قمر کی انیسویں آیت کے ذیل میں آئے گی۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 41:14
[Pooya/Ali Commentary 41:14] They were warned by the prophets from every point of view. Refer to Hijr: 6 to 9 and Furqan: 21.