فَإِنْ أَعْرَضُوا فَقُلْ أَنذَرْتُكُمْ صَاعِقَةً مِّثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ
But if they turn away, say, ‘I warn you of a thunderbolt, like the thunderbolt of ‘Ad and Thamud.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 41:13
[Pooya/Ali Commentary 41:13] Aqa Mahdi Puya says: Sa-iqa refers to any agency that causes instant destruction like thunder, lightning or meteor etcetera.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:13-16
عاد وثمود کی طرح صا عقہ سے ڈرو
اسی سورہ کی تیرھویں آیت کی روسے قوم عاد اور قوم ثمود دونوں ” صاعقہ “ کے ذریعے نیست ونابود ہوئیں ، جب کہ زیرتفسیر آیات کہتی ہیں کہ ”صر صر “ یعنی تیزوتند ہواکے ذ ریعے تباہ وبرباد ہوئیں ، توکیاان دونوں کاباہم تضاد ہے ؟ جو اباً گزارش ہے کہ ارباب لغت اور مفسرین نے ” صاعقہ “ کے دومعانی بتائے ہیں ایک عام اور دوسراخاص ۔ عام معنی کے لحاظ سے صاعقہ ہراس چیزکوکہتے ہیں جوانسان کوہلاک کردیتی ہے اور بقول صاحب مجمع البیان ” المھلکة “ من کل شی ء “ اور خاص معنی کے لحاظ سے آگ کے اس عظیم انکار سے کوکہتے ہیں جوآسمان سے گرتاہے اورجوکچھ بھی اس کی زد میں آجاتا ہے جل کرراکھ ہوجاتاہے .اس کی تشریح انہی آیات کی تفسیر میںہم کرچکے ہیں ( یہ عظیم چنگاری بادل اورزمین کی الیکڑیسٹی کے باہمی تبادلے سے پیدا ہوتی ہے )۔ اسی لیے اگر ” صاعقہ “ کاپہلا معنی مراد لیاجائے توتیز ہوا کے معنی کے ساتھ اس کاتضاد نہیں ہوگا ۔ راغب ، مفردات میں کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے نزدیک ”صاعقہ “ تین قسم کی ہیں . ایک موت کے معنی میں ،دوسری عذاب کے معنی ہیں اور تیسری آگ کے معنی میں .خاص کر ” اٴَنْذَرْتُکُمْ صاعِقَةً مِثْلَ صاعِقَةِ عادٍ وَ ثَمُود“ والی آیت میں عذاب کے معنی میں ہے۔ وہ آگے چل کرکہتے ہیں یہ سب ایک معنی میں جمع ہوجاتے ہیں ” صاعقہ“ ایک زبردست مہیب آواز ہوتی ہے جوفضا میں اٹھتی ہے اورکبھی تواس میں آگ ہوتی ہے ، کبھی موت اورکبھی کوئی دوسراعذاب ،غرض ”صاعقہ “ ایک چیز ہوتی ہے اور یہ اس کے اثرت ( 1)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ قوم عاد دگنے عذاب میں مبتلاہوئی ہو پہلے توان کے شہروں پرایک عرصے تک تیز وتند ہواکے جھکڑچلتے رہے ہوں ، پھرحکم خداکے مطابق تباہ کن آتشین بجلی ا ن پر گری ہو کہ جس نے انہیں جلاکر بھسم کردیاہو۔ لیکن قوم عاد کی سزا کے سلسلے میں قرآن مجید کی دوسری آیات کو مد نظر رکھتے ہوئے پہلا جواب زیادہ مناسب نظر آتاہے ( 2)۔ 1۔ ” مفردات راغب “ ” مادہ صعقہ “ ۔ 2۔ سورہ” ذرایات “ کی آیت ۴۱ ، سورہ ٴ حاقہ کی آیت ۶ سورہ ٴ قمر کی آیات ۱۸ تا ۱۹ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:13-16
سوره فصلت/ آیه 13- 16
۱۳۔فَإِنْ اٴَعْرَضُوا فَقُلْ اٴَنْذَرْتُکُمْ صاعِقَةً مِثْلَ صاعِقَةِ عادٍ وَ ثَمُودَ . ۱۴۔إِذْ جاء َتْہُمُ الرُّسُلُ مِنْ بَیْنِ اٴَیْدیہِمْ وَ مِنْ خَلْفِہِمْ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ اللَّہَ قالُوا لَوْ شاء َ رَبُّنا لَاٴَنْزَلَ مَلائِکَةً فَإِنَّا بِما اٴُرْسِلْتُمْ بِہِ کافِرُونَ . ۱۵۔فَاٴَمَّا عادٌ فَاسْتَکْبَرُوا فِی الْاٴَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قالُوا مَنْ اٴَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً اٴَ وَ لَمْ یَرَوْا اٴَنَّ اللَّہَ الَّذی خَلَقَہُمْ ہُوَ اٴَشَدُّ مِنْہُمْ قُوَّةً وَ کانُوا بِآیاتِنا یَجْحَدُونَ . ۱۶۔ فَاٴَرْسَلْنا عَلَیْہِمْ ریحاً صَرْصَراً فی اٴَیَّامٍ نَحِساتٍ لِنُذیقَہُمْ عَذابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ لَعَذابُ الْآخِرَةِ اٴَخْزی وَ ہُمْ لا یُنْصَرُونَ. ترجمہ ۱۳۔ اگروہ منہ پھیرلیں توپھر کہہ دے کہ تمہیں ویسی بجلی سے ڈراتاہوں جیسی عاد وثمود پرگری۔ ۱۴۔ جس وقت کہ ان کے رسول ان کے آگے ، پیچھے ( اور ہرطرف ) سے ان کے پاس آئے اورانھیں خدا ئے یگانہ کی پرستش کی دعوت دی تو انہوںنے کہا: اگر ہمارا خدا چاہتاتوفرشتوں کونازل کر دیتالہذا جوکچھ تم لے کر آئے ہو ہم اس کے منکر ہیں۔ ۱۵۔ قوم عاد نے زمیں ناحق تکبر کیا اور کہا : ہم سے بڑھ کرکون طاقتور ہے ؟کیاوہ نہیں جانتے تھے کہ انہیں پیداکرنے والا خدا ان سے زیادہ قوی ہے وہ ( اپنے اس گمان کی وجہ سے ) ہمیشہ ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔ ۱۶۔ آخر کار ہم نے ان پرزبردست ، ہولناک ،سرداور سخت ہواؤں کے جھکڑ بھیجتے تاکہ انہیں دنیاوی زندگی میںہی ذلیل وخوار کرنے والا عذاب چکھائیں. اورآخرت کاعذاب تواس سے بھی زیادہ رسوا کُن ہوگا اور ( کہیں سے بھی ) ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:13-16
۱ ۔ قوم عاد کس طرح تباہ ہوئی ؟
کچھ لوگوں کانظر یہ ہے کہ سال کے ایام کی دو قسمیں ہیں ایک نحس او ر دوسرے نیک اور سعد انہوںنے مندرجہ با لاآیا ت سے استدلال کرتے ہوئے کہاہے کہ راتوں اوردنوں کے اندرکچھ پراسرار اور ناشناختہ تاثیر ہوتی ہے جس کے آثا ر ہمیں دکھائی دیتے ہیں . لیکن اس کے اسباب و علل ہمارے لیے مبہم ہیں۔ جب کہ بعض دوسرے مفسرین نے ان زیربحث آیات میں ” ایام نحسات “ سے گردو غبار سے بھر پور ایام مراد لیے ہیں۔ قوم عاد اس قدر تیزو تند ہوا کاشکار ہوگئی تھی کہ ہاتھ کوہاتھ سمجھائی نہیں دیتاتھا اورلوگ ایک دوسرے کو آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے تھے . جیساکہ سورہ احقا ف کی آیت ۲۴ سے بھی استفادہ ہوتاہے۔ ارشاد ہوتاہے : ” جب تیز ہواؤں نے ان کارخ کیاتووہ اس قدر تاریک اورغبار سے اٹی ہوئی تھیں کہ انہوںنے گمان کہ بارش بھرے بادل ان کی طرف آرہے ہیں لیکن ان سے کہاگیاکہ یہ وہی عذاب ہے تم جس کی جلدی میں تھے . یہ توہوا کے تیز جھونکے اور جھکڑ ہیں جن میں درد ناک عذاب چھپا ہواہے “ ۔ انشاء اللہ العزیز ” سعدونحس ایام “ کے بار ے میں مفصل گفتگو سورہ ٴ قمر کی انیسویں آیت کے ذیل میں آئے گی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:13-16
۲۔ قوم عاد کے نحس ایام
کچھ لوگوں کانظر یہ ہے کہ سال کے ایام کی دو قسمیں ہیں ایک نحس او ر دوسرے نیک اور سعد انہوںنے مندرجہ با لاآیا ت سے استدلال کرتے ہوئے کہاہے کہ راتوں اوردنوں کے اندرکچھ پراسرار اور ناشناختہ تاثیر ہوتی ہے جس کے آثا ر ہمیں دکھائی دیتے ہیں . لیکن اس کے اسباب و علل ہمارے لیے مبہم ہیں۔ جب کہ بعض دوسرے مفسرین نے ان زیربحث آیات میں ” ایام نحسات “ سے گردو غبار سے بھر پور ایام مراد لیے ہیں۔ قوم عاد اس قدر تیزو تند ہوا کاشکار ہوگئی تھی کہ ہاتھ کوہاتھ سمجھائی نہیں دیتاتھا اورلوگ ایک دوسرے کو آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے تھے . جیساکہ سورہ احقا ف کی آیت ۲۴ سے بھی استفادہ ہوتاہے۔ ارشاد ہوتاہے : ” جب تیز ہواؤں نے ان کارخ کیاتووہ اس قدر تاریک اورغبار سے اٹی ہوئی تھیں کہ انہوںنے گمان کہ بارش بھرے بادل ان کی طرف آرہے ہیں لیکن ان سے کہاگیاکہ یہ وہی عذاب ہے تم جس کی جلدی میں تھے . یہ توہوا کے تیز جھونکے اور جھکڑ ہیں جن میں درد ناک عذاب چھپا ہواہے “ ۔ انشاء اللہ العزیز ” سعدونحس ایام “ کے بار ے میں مفصل گفتگو سورہ ٴ قمر کی انیسویں آیت کے ذیل میں آئے گی۔