وَقَالَ ٱلَّذِيٓ ءَامَنَ يَٰقَوۡمِ إِنِّيٓ أَخَافُ عَلَيۡكُم مِّثۡلَ يَوۡمِ ٱلۡأَحۡزَابِ
He who had faith said, ‘O my people! Indeed I fear for you [a day] like the day of the [heathen] factions;
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 40:27-37
Reserving one’s tenet of faith, without divulging it when dealing with the tyrant, when there is a danger of life of self and others, is a Divine tact to guiding human kind on the right path, since God has made this world a trial and given chances to every creature to choose for themselves their final destination. It is imperative to appeal to their sense of reasoning in the most amiable manner without directly attacking them for their perverted actions thus guarding, thereby the faith, i.e. life of those who follow Divine path. Its application in various circumstances has already been referred to under Note 28 (c), page 68, Set 1. If he still persists under presumption, self-conceitedness and obstinacy, thus setting aside reason, a Divine gift, a mysterious prophet inviting him to paradise, God seals his heart and leaves him to his misguidance leading to hell. Note in the same degree, we over rate ourselves, we under rate others, for injustice allowed at home is not likely to be corrected abroad, unless under self-examination, by calling oneself to account every night: (1) What infirmity have I mastered today? (2) What passions (i.e. enemy to Divine reason) have I opposed? (3) What temptation have resisted? (4) What virtues have I acquired? “Our vices will abate of themselves if they be daily brought to the shrift.” Examine how wise abstinent, obliging and just one has been while reasoning on laws expounded by the authorized and their application in matters of principle and policy, transaction to give and take, or mediating between the ruler and the ruled. Be eager to take lessons from others by advice and criticisms for well-wishers and avoid evil society and men of discursive trend of mind, by entertaining Divine awe and keeping in view of your object of creation and ultimate reversion to the Master as Whose slave you have been sent to this world, to discharge a contracted obligation, avoiding prejudice and condemnation to anyone in mind, as it affects his mind through the misgivings of a devil, common enemy to man, thanking God for His bounties, of keeping you away from these evils, and wishing well of people at large, dutiful to God, living creatures and the dead, disregard of which shall lead to infidelity, ending in Divine displeasure. Be moderate in eating, talking, and sleeping and fast as it develops tact, purifies the soul, undermines passion, enables to relish soliloquy. Tiding is for him who remembers Judgment Day, acts for it, remains content on little he gets, and is pleased with Divine decree. As with death, worldly trials end, so with dearth of property (material wealth) accounting reduces. there shall be none on Judgment Day, but shall desire would he had been bestowed by God just what was needed to meet his bare wants.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 40:30
[Pooya/Ali Commentary 40:30] (see commentary for verse 23)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:30-33
میں تمہیں خبر دار کرتاہوں
اس دور میں مصر کے لوگ ایک حدتک متمدناور پڑھے لکھے تھے . انہوں نے قوم نوح ،عاد اور ثمود جیسی گزشتہ اقوام کے بار ے میں موٴ رخین کی باتیں بھی سن رکھی تھیں . اتفاق سے ان اقوام کے علاقوں کااس علاقے سے زیادہ فاصلہ بھی نہیں تھا یہ لوگ ان کے درد ناک انجام سے بھی کم وبیش واقفیت رکھتے تھے ۔ لہذا موٴ من آل فرعون نے موسٰی علیہ السلام کے قتل کے منصوبے کی مخالفت کی . اس نے دیکھا کہ فرعون کو زبردست اصرار ہے کہ وہ موسٰی علیہ السلام کے قتل سے باز نہیں آئے گا . اس مرد موٴ من نے پھر بھی ہمت نہ ہاری اورنہ ہی ہارنی چاہیے تھی . لہذا ا کہ اس نے یہ تد بیر سوچی کہ اس سر کش قوم کوگزشتہ اقوام کی تاریخ اورانجام کی طرف متوجہ کرے کہ شاید اس طرح سے یہ لوگ بیدار ہوں اوراپنے فیصلے پرنظر ثانی کریں . قرآن کے مطابق اس نے اپنی بات یوں شروع کی . اس باایمان شخص نے کہا: اے میری قوم ! مجھے تمہارے بار ے میں گزشتہ اقوام کے (عذاب کے ) دن کی طرح کاخوف ہے (وَ قالَ الَّذی آمَنَ یا قَوْمِ إِنِّی اٴَخافُ عَلَیْکُمْ مِثْلَ یَوْمِ الْاٴَحْزابِ )۔ پھر اس بات کی تشریح کرتے ہوئے کہا: میں قوم نوح ، عاد ، ثمود اوران کے بعد آنے والوں کی سی بُری عادت سے ڈرتاہوں (مِثْلَ دَاٴْبِ قَوْمِ نُوحٍ وَ عادٍ وَ ثَمُودَ وَ الَّذینَ مِنْ بَعْدِہِمْ) (۱)۔ ان قوموں کی عادت شرک ، کفر اور طغیان پر اصرار کی وجہ سے تم بھی مذکورہ عظیم بلاؤں میں سے کسی ایک کاشکار ہوسکتے ہو ؟لہٰذا مجھے کہنے دو کہ مجھے تمہارے بار ے میں بھی اس قسم کے خطرناک مستقبل کااندیشہ ہے ۔ آیا تمہارے پاس اس بات کا کو ئی ثبوت ہے کہ تمہارے کردار افعال ان سے مختلف ہیں ؟آخران لوگوں کاکیا قصور تھا کہ وہ اس طرح کے بھیانک مستقبل سے دوچار ہو ئے کیا اس کے سواکچھ اور تھا کہ انھوں نے خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کو دعوت کے خلاف قیام کیا، ان کی تکذیب کی بلکہ انہیں قتل کرڈالا ۔ لیکن یادر کھو جومصیبت بھی تم پرنازل ہوگی خود تمہارے کئے کی سزا ہوگی کیونکہ ” خدااپنے بندوں پرظلم نہیں کر نا چاہتا (وَ مَا اللَّہُ یُریدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ )۔ خدا نے اپنے بندوں کوا پنے فضل و کرم کے ساتھ پیداکیا، انہیں بے شمار نعمتیں عطاکیں اوران کے لیے اپنے پیغمبربھیجے ، یہ تو ان بندوں کی مخالفت اور سرکشی ہے جو ان کے دردناک عذاب کاسبب بنتی ہے ۔ پھر کہتاہے : اے میری قوم ! میں تمہارے لیے اس دن سے ڈرتا ہوں جس دن لوگ ایک دوسرے کوپکاریں گے (وَ یا قَوْمِ إِنِّی اٴَخافُ عَلَیْکُمْ یَوْمَ التَّنادِ )۔ ” التناد“ ” نداء “ کے مادہ سے ہے جس کامعنی ” پکارنا“ ہے . (یہ لفظ اصل میں ” التنادی “ تھایاء کوحذف کردیاگیا اور دال کاکسرہ اسی پردلالت کرتاہے )۔ مفسرین کے درمیان مشہور اورمعروف یہی ہے کہ ” یوم التناد “ قیامت کاایک نام ہے اورہر ایک نے اس علیحدہ وجہ تسمیہ بیان کی ہے اور یہ وجو ہات تقریبا ًایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ نام دوزخی لوگوں کے بہشتیوں کوپکارنے کی وجہ سے ہے جیساکہ قرآن کہتاہے : وَ نادی اٴَصْحابُ النَّارِ اٴَصْحابَ الْجَنَّةِ اٴَنْ اٴَفیضُوا عَلَیْنا مِنَ الْماء ِ اٴَوْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللَّہُ ” جہنمی لوگ اہل بہشت کوپکاریں گے کہ تھوڑا ساپانی یاتھوڑی سی روزی جوتمہیں خدانے دی ہے ہمیں دے دو “ تو بہشتی لوگ انہیں جواب دیں گے : إِنَّ اللَّہَ حَرَّمَہُما عَلَی الْکافِرینَ ” خدا نے یہ سب کچھ کافروں پرحرا م کردیاہو اہے “ ۔( اعراف . ۵۰) (۲)۔ یااس لیے کہ لوگ دوسرے کو پکاریں گے اورایک دوسرے سے پناہ طلب کریں گے اور مدد مانگیں گے ۔ یا اس لیے کہ منادیان محشر بلند آواز سے کہیں گے : الالعنة اللہ علی الظا لمین ’ ’ظالمین پرخدا کی لعنت ہے “ ۔( ہود . ۱۸) یا اس لیے کہ جب موٴ منین کو نامہٴ اعمال دیاجائے گا تو وہ خوشی سے پکار اٹھیں گے : ھاؤم اقرء وا کتابیہ ” آؤلوگوں ! میرا نامہٴ اعمال پڑھو “ ۔ ( حاقہ . ۱۹) اور جب کافروں کوان کانامہٴ اعمال دیاجائے گاتووہ کھبر اکرفر یاد بلند کریں گے : یالیتنی لم اوت کتابیہ ” اے کاش کہ مجھے نامہٴ اعمال نہ دیاجاتا “ ۔ ( حاقہ . ۲۵) لیکن اس معنی کووسیع ترتناظرمیں دیکھنا چاہیے ” یوم التناد “ کے مفہوم میں یہ دنیا بھی شامل ہے کیونکہ ” یوم التناد “ کامعنی صرف اورصرف ” ایک دوسرے کو پکارنے کادن ہے “ اور یہ تعبیر انتہائی عاجزی اورسخت حیرت اور بے کسی کی نشانی ہے جب بھی کوئی شخص کسی مصیبت میں پھنس جاتاہے اور ہر طرف سے اس کی امیدیں منقطع ہوجاتی ہیں تو اس وقت چیخ و پکار کرتاہے لیکن اس کی فر یادسننے والاکوئی نہیں ہوتا ۔ اس دنیا میں بھی ” یوم التناد“ بہت ہیں . جس دن خدا کاعذاب نازل ہوتاہے ، جس دن معاشرہ اپنے گناہوں اور غلطیوں کی وجہ سے چاروں طرف سے مشکلات میں پھنس جاتاہے ،جس دن بحراں اورحوادث سب کواپنے شکنجوں میں جکڑ لیتے ہیں تو لوگ ادھرادھربھاگ کرپنا ہ تلاش کرتے ہیں لیکن انہیں کہیں بھی پناہ نہیں ملتی اورہرشخص چیخ وپکار کررہا ہوتاہے وہی دن ” یوم التناد“ ہوتاہے ۔ لیکن آیت ” یوم التناد“ کی تفسیر بیان کررہی ہے : جس دن تم منہ پھیرکربھاگ رہے ہو گے لیکن خدا کے عذاب سے تمہیں کوئی چیز نہیں بچا سکے گی ۔ اور جسے خدا ( اس کے اعمال کی وجہ سے ) گمراہ کردے اسے کوئی بھی ہدایت کرنے والانہیں ہے ۔ وہ لوگ اس دنیا میں را ہ ہدایت سے گمراہ ہوجاتے ہیں اورجہل وضلالت کے پردوں میں چلے جاتے ہیں لہذا آخر ت میں بہشت اورخدا کی نعمتوں کے راستے بھول جاتے ہیں ۔ ممکن ہے مندرجہ بالاعبار ت فرعون کی باتوں کی طرف لطیف سااشارہ ہوجب کہ اس نے کہاکہ : مااھدیکم الاّ سبیل الرشاد ” میں تمہیں ہدایت اور سچائی کے راستے کے علاوہ اورکوئی دعوت نہیں دیتا “ ۔ ( موٴ من . ۲۹) آیت” یوم التناد “ کی تفسیر بیان کررہی ہے : جس دن تم منہ پھیر کربھاگ رہے ہوگے لیکن خدا کے عذاب سے تمہیں کوئی چیز نہیں بچا سکے گی (یَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرینَ ما لَکُمْ مِنَ اللَّہِ مِنْ عاصِمٍ )۔ اور جسے خدا(اس کے اعمال کی وجہ سے ) گمراہ کردے اسے کوئی بھی ہدایت کرنے والا نہیں ہے (وَ مَنْ یُضْلِلِ اللَّہُ فَما لَہُ مِنْ ہاد)۔ وہ لوگ اس دنیامیں راہ ہدایت سے گمراہ ہوجاتے ہیں اورجہل وضلالت کے پردوں میں چلے جاتے ہیں لہذا آخرت میں بہشت اورخدا کی نعمتوں کے رستے بھول جاتے ہیں ۔ ممکن ہے کہ مندرجہ بالاعبارت فرعون کی باتوں کی طرف لطیف سااشارہ ہو جب کہ اس نے کہاکہ : َ ما اٴَہْدیکُمْ إِلاَّ سَبیلَ الرَّشادِ ” میں تمہیں ہدایت اورر سچائی کے راستے کے علاوہ اور کوئی دعوت نہیں دیتا “ ( موٴ من . ۲۹)۔ ۱۔ ”داٴب “ ( بروزن ”ضرب“ ) کااصل معنی ہمیشہ چلنا ہے اور” دائب “ اس چیز کوکہتے ہیں جوہمیشہ چلتی رہے پھر اس کااطلاق ہرپختہ مستقل اورہمیشگی کی عادت پرہونے لگ. یہاں پر قوم نوح وغیرہ کے لیے ” داٴب “ کالفظ ان کی مستقل اوردائمی عادت کی طرف اشارہ ہے جوان میں تھی اور وہ دائمی عادت شرک ، سرکشی ،ظلم اور کفر ہے ۔ ۲۔ یہی مطلب شیخ صدوق کی کتاب ” معانی الاخبار “ میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:30-33
سوره مؤمن/ آیه 30- 33
۳۰۔وَ قالَ الَّذی آمَنَ یا قَوْمِ إِنِّی اٴَخافُ عَلَیْکُمْ مِثْلَ یَوْمِ الْاٴَحْزابِ ۔ ۳۱۔ مِثْلَ دَاٴْبِ قَوْمِ نُوحٍ وَ عادٍ وَ ثَمُودَ وَ الَّذینَ مِنْ بَعْدِہِمْ وَ مَا اللَّہُ یُریدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ ۔ ۳۲۔ وَ یا قَوْمِ إِنِّی اٴَخافُ عَلَیْکُمْ یَوْمَ التَّنادِ ۔ ۳۳۔ یَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرینَ ما لَکُمْ مِنَ اللَّہِ مِنْ عاصِمٍ وَ مَنْ یُضْلِلِ اللَّہُ فَما لَہُ مِنْ ہادٍ۔ ترجمہ ۳۰۔ اس بایمان شخص نے کہا : اے میری قوم ! مجھے تمہارے بار ے میں گزشتہ اقوام کے (عذاب کے ) دن کی طرح کاخوف ہے ۔ ۳۱۔ میں قوم نوح ،عاد ،ثمود اوران کے بعد والے لوگوں کی (شرک ، کفراور سرکشی جیسی ) عادت سے ڈرتا ہوں . اورخدا بندوں پرظلم نہیں چاہتاا ۔ ۳۲۔ اے میری قوم ! مجھے تمہارے لیے اس دن سے خوف ہے جس دن لوگ ایک دوسرے کو بلائیں گے (اورایک دوسرے سے مدد طلب کریں گے لیکن ان کی ایک بھی نہیں سنی جائے گی ۔ ۳۳۔جس دن تم منہ پھیرکربھاگ رہے ہوگے لیکن خداکے عذاب سے تمہیں کوئی چیز نہیں بچاسکے گی اور جسے خدا ( اس کے اعمال کی وجہ سے ) گمرا کردے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے ۔