الٓمٓ
Alif, Lam, Meem.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 30:1
[Pooya/Ali Commentary 30:1] Refer to the commentary of al Baqarah : 1 for Alif, Lam, Mim (huruf muqatta-at).
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 30:1-10
1. In June 614 A.D. Jerusalem was taken by the Persians. The entire Christian world was horrified. The Holy “life-giving cross of Christ” was taken away until 622, when Heraclius was able to take the field against the Persians. This is a miracle of the Qur’an, presaging events before their occurrence. This is also the period of the Battle of Badr. 2. Few worldly people realize the object of creation, being taken up in worldly affairs. They cannot devote a few hours for life beyond death, which is of permanent nature. Would they have relied with confidence, having belief in the future State, which is the appetite of reason. This is the world of seeds, of causes, and of tendency. The other is the world of harvest and results and of perfected and eternal consequences. The most momentous concern of man is that stage, which he shall enter upon, after this short and transitory life has ended, and in proportion as eternity is of greater importance than time, so ought men to be solicitous, upon what grounds, their expectations with regard to that durable State are built and on what assurances, their hopes and fears stand. 3. Tyrants and oppressors when living are terrors to humankind, but when dead, they are the object of general contempt and scorn. For instance, the death of Nero was celebrated by the Romans with bonfires. Also deaths of Yazid, ‘Omar, Sa‘ad, etc. are similarly celebrated by the Muslims until today. 4. Sin is first pleasing, then it grows easy, then delightful, then frequent, then habitual, then confirmed, then the man is impenitent, then he obstinate, then he is resolved never to repent and thus he is ruined ultimately, being turned into an apostate. 5. When chaos and insecurity end, attempt at restoring social order by promoting cultural creation, viz. economic, political, organizational, and moral, without guarding its impedance is made. Result has been the rise and fall of civilization (of our own making). Is India, amidst countrywide floods, marching successfully to civilization? Find out causes, so often repeated here. 6. It is only the bread of heaven and water of life (piety) which can so satisfy in which we shall hunger and thirst no more.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:1-7
ایک عجیب پیشین گوئی
ہ سورہ ان انتیس سورتوں میں س ے ایک ہے جوصرف مقطعہ سے شروع ہوئی ہیں (الم ) .ہم ان حروف مقطعہ کے تفسیر کے بارے میں بار ہابحث کرچکے ہیں بالخصوص سورہ بقرہ ، سورہ آل عمران اورسورہ اعراف کی ابتداء میں ۔ اس مقا م پر جو چیز جاذب توجہ ہے وہ صرف یہ ہے کہ بہت سی ان سورتوں کے برخلاف جو حروف مقطعہ س شروع ہوتی ہیں اورمعابعد ازاں ان میں عظمت قرآن کاذکر شروع ہوجاتا ہے ۔ اس سورہ میںعظمت قرآن کی بحث نہیں ہے بلکہ ایرانیوں کے مقابلے میں اہل روم کی شکست اور پھر ان کی فتح کاذکر ہے . لیکن غور کرنے سے واضح ہوتاہے کہ یہ بحث بھی عظمت قرآن ہی کا بیان ہے . کیونکہ یہ غیبی خبر زمانہٴ مستقبل سے متعلق ہے ، ا س کتاب ِ آسمانی کی عظمت و اعجاز کے دلائل میں شمار ہوتی ہے ۔ خدواند عالم حروف مقطعہ کے ذکر کے بعد فرماتا ہے ، رومی مغلوب ہوگئے : ( غلبت الرّوم ) ۔ اور یہ شکست اس مقام پر ہونی ہے جوتم سے نزدیک ہے : ( فی ادنی الارض ) ۔ ” اے ساکنان مکّہ “ تمہارے نزدیک کے علاقہ میں یہ واقعہ نمودار ہواہے . یعنی جزیرة العرب کے شمال سرزمین شام میں . اس علاقے میں جو بصری اور اذر عات کے درمیان واقع ہے ۔ اس مقام سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کلمہ ” روم “ سے مشرقی روم ( موجود ترکی ) مراد ہے نہ کہ مغربی ۔ بعض مفسرین ( مثلا .شیخ طوسی نے تبیان میں ) نے یہ خیال کیا ہے کہ ” ادنی الارض “ سے مراد ملک ایران ہے یعنی یہ شکست ایران اورروم کی سرحد پر واقع ہوئی (1) ۔ کلمہ ” الارض “ کی ابتداء میں الف و لام عہدکے پیش نظر پہلی تفسیر درست معلوم ہوتی ہے لیکن بعض جہات سے جن کا ذکر ہم کریں گے دوسری تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے ۔ کلمہ ” ادنی الارض “ سے ایک تیسرامفہوم بھی اخذ ہو سکتاہے جو باعتبار نتیجہ تفسیر دوم سے زیادہ مختلف نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ ” زمین “ سے مراد روم کاعلاقہ ہے یعنی اہل روم نے اپنی سرحد کے قریب ترین علاقے میں ایرانیوں سے شکست کھائی ۔ کلمہٴ ” ادنی“ سے اس شکت کی اہمیت کی طرف اشارہ ہے . کیونکہ اگرکسی فوج کو اس کے ملک کی سرحد سے دور دراز علاقے میں شکست ہوجائے تویہ امر اس قدر اہم نہیں ہے .اہم بات یہ ہے کہ کہ کسی فوج کو اس کے ملک کے قریبی علاقے میں جہاں اسے ہرطر ح کی کمک پہنچ سکتی ہے اور جو مضبوط علاقہ شمار ہو وہاں شکست ہوجائے ۔ اس بناء پر ” فی ادنی الارض “ کے مفہوم میں رومیوں کی شکست کی اہمیت شامل ہے . اس حالت میں مغلوب قوم کے لیے یہ پیش گوئی کہ انھیں آئندہ چند سال میں فتح حاصل ہوگی اور بھی زیادہ اہم ہے اور ایسی پیش گوئی طریق اعجاز کے علاوہ اور کسی طرح نہیں ہو سکتی ۔ اس شکست کے ذکر کے بعد یہ اضافہ کیاگیا ہے کہ رومی اس شکست کے بعد جلد ہی فتح یاب ہوں گے : ( وھم من بعد غلبھم سیغلبو ن ) ۔ صرف کلمہ ” سیغلبون “ ہی ( یعنی وہ جلد غالب ہوں گے ) بیان مقصود کے لیے کافی تھا مگر ” من بعد غلبھم ) کا اضافہ اس لیے کیاگیا ہے تاکہ فتح کی اہمیت زیادہ ہوجائے . کیونکہ ایک شکست خوردہ فوج کاایک قلیل مدّت میں پھر غالب آجاناغیرمتوقع ہے اور قرآن میں مستقبل میں اس کے وقوع کی خبر دی گئی ہے (2) ۔ ۶۱۲. ء میں روم کے باد شا ہ قیصرماریس کوایک شخص مسمی فوکس نے قتل کردیا . خسرونے اس موقع سے فائدہ اٹھا کرروم کے خلاف جنگ شروع کردی . اس جنگ میں چو ۶۱۵ . ء تک جاری رہی ایرانی سپہ سالاروں نے الرّہا، الظاکیہ ، دمشق اور یرو شلم پر قبضہ کرلیا اور شمالی مصر کے بعض حصے بھی فتح کرلیے ” غلبت الروم “ اس واقعے کی طرف اشارہ ہے ۔ قیصر ماریس کے بعد ہرقل روم کابادشاہ بناء اس نے ۶۲۳ .۶۲۴عیسوی میں ایرانیوں سے نہ صرف مفتوحہ علاقے واپس لے لیے بلکہ وہ ایرانی حدود میں داخل ہو کہر شہر کنزک تک پہنچ گیا . ۶۲۸ ء میں وہ ایران کے دار السطنت تیسفون تک آپہنچا . خسرو وہاں سے فرار ہو گیا اور تھوڑی مدّت بعد ایک بغاوت میں مارا کیا . ” وھم من بعد غلبھم سیغلبون “ رومیوں کی اس فتح کی پیش گوئی ہے ۔ اس کے بعد اس حادثے کے وقوع کی مدت بالفاظ(فی بضع سنین ) چند سال ہی میں بیان کی گئی ہے ۔ جب کلمہ ” بضع “ کہاجاتا ہے تواس سے کم از کم تین سال اورزیادہ سے زیادہ نوسال مدّت مراد ہوتی ہے (3) ۔ اگر خدا زمانہ ٴ مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی خبردیتا ہے تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ چیز اورہر کام اسی کے اختیار میں ہے .خواہ کوئی بات اس شکست خوردہ قوم کی فتح سے پہلے ہو یا بعد میں : ( للہ الامرمن قبل ومن بعد ) ۔ یہ امر بدیہی ہے کہ کائنات میں ہونے والے ہرواقعے کا خدا کے حکم اوراس کے ارادے سے وقوع پذیرہونا ہمارے اختیار و آذادیٴ ارادہ اور پیش نظر مقاصد کے حاصل کرنے کے لیے اسعی و کوشش میں ر کا وٹ نہیں بنتا . بہ الفاظ دیگر یوں کہنا چاہیئے کہ اس عبار ت کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ وہ انسان سے اختیار کرسلب کرلے بلکہ یہ نکتہ سمجھانا مقصود ہے کہ درحقیقت قادر بالذات اور” مالک علی الاطلاق “ وہی ہے اورکسی انسان کے پاس جو کچھ ہے اسی کا دیا ہواہے ۔ اس کے بعد ان الفاظ کااضافہ کیاگیا ہے کہ : آگر آج رومیوں کو شکست ہوگئی ہے اورمشرک اس سے خوش ہیں تو جب رومی غالب ہو ںگے تومومنین خوش ہوںگے : ( و یومئذ یفر ج المئو منون ) ۔ البتہ مومنین نصرت الہٰی سے خوش ہوں گے : ( بنصراللہ ) ۔ خداجس کی چاہتا ہے مدد کرتاہے : وہ شکست ناپذیر اورمہربان ہے :( ینصرمن یشاء وھوالعزیز الرحیم ) ۔ اس روز مسلمانوں کی خوشنودی سے کیا مراد ہے ؟ اس کے متعلق کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ رو میوں کی فتح سے خوش ہوں گے .ہرچند کہ ان کاشمار بھی کفار میں تھا . لیکن چونکہ وہ کتاب آسمانی کے حامل تھے اس لیے مشرک مجوسیوں پر ان کی فتح گویا شرک پر توحید کی فتح کاایک مرحلہ تھی ۔ اس مسئلے میں بعض حضرات کاخیال یہ ہے کہ مومنین اس وجہ سے خوش ہوئے کہ انھوں نے اس واقعے کوفال نیک سمجھا اور مشرکین پر اپنی فتح کی دلیل خیا ل کیا۔ یایہ ...ان کی خوشی کاباعث یہ تھا کہ اس وقعے سے اس روز قرآن کے عظمت اوراس کی پیش گوئی کی صداقت ظاہر ہوگئی . یہ بات بھی مسلمانوں کے لیے ایک اہم معنوی فتح خیال کی گئی ۔ یہ احتمال بھی بھی بعید نہیں ہے کہ رومیوں کی فتح مسلمانوں کی مشرین پر فتوحات میں سے ایک فتح کی ہم زمان تھی . بالخصوص بعض بزرگ مفسرین نے لکھا ہے کہ رومیوں کی یہ فتح مسلمانوں کی جنگ بد ر میں فتح یاصلح حدیبیہ کے ہم زمان تھی کہ وہ بھی اپنی حیثیت سے ایک بڑی فتح شمال ہوتی تھی . خاص طور پر کلمہ ” بنصراللہ “ اس مطلب سے مناسب رکھتا ہے ۔ خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ مسلمان اس روز مختلف جہتوں سے خوش ہوئے ۔ اوّل تواس وجہ سے کہ اہل کتاب کومجوسیوں پرفتح حاصل ہوئی جو کہ خدا پرستی کی شرک پرفتح کی علامت تھی ۔ دوم : چونکہ قرآن کی معجزانہ پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی . اس لیے یہ بھی ایک معنوی فتح تھی ۔ سو م: اسی زمانے میں مسلمانوں کو دوسری فتوحات کے علاوہ ایک اورفتح حاصل ہوئی تھی ، وہ تھی صلح حدیبیہ ۔ پھر بطور تاکید مزید فرمایاگیا ہے : یہ وہ وعدہ ہے جو خدا نے کیا ہے : ( وعداللہ ) (4)۔ اور خدا ہر گز وعدہ خلافی نہ کرے گا ، اگرچہ اکثر آدمی نہیں جانتے : ( لا یخلف اللہ وعدہ ولکن اکثر الناس لایعلمون ) ۔ اورلوگوں کی لاعلمی کا باعث ہے کہ انھیں خدااوراس کے علم وقدرت کی معرفت حاصل نہیں ہے . درحقیقت انھوں نے خداکو پہچانا ہی نہیں . اس لیے وہ اس حقیقت سے کہ خدا کااپنے وعدے سے پھر جانامحال ہے ، آگاہ نہیں ہیں کہ کیونکہ وعدہ سے پھر جانا یاتو جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے یعنی وعدہ کرتے وقت کوئی بات نامعلوم تھی مگر جب بعد میں معلوم ہوئی تو رائے بدل گئی یاوعدہ خلافی ضعف و ناتوانی کی وجہ سے ہوتی ہے جس کے باعث وعدہ کرنے والااپنے رائے بد ل لیتا ہے کیونکہ اس میں اپنا وعدہ پورا کرنے کی قدرت نہیں ہوتی ۔ لیکن وہ خدا جو ہر کام کے انجا م سے باخبرہے اورا س کی قدرت جملہ اہل جہان کی قدرتوں پر توقیت رکھتی ہے ، ہرگز اپنے وعدے سے نہ پھر ے گا ۔ اس کے بعد یہ اضافہ کیاگیا ہے کہ : یہ کو تاہ بیں لوگ دنیا کی صرف ظاہری زندگی کودیکھتے ہیں اور آخر ت اورانجام کار سے بے خبرہیں :( یعلمون ظاھرا من الحیواة الدنیا وھم عن الاخرة ھم غافلون ) ۔ یہ لوگ صرف دنیا وی زندگی سے جو آگا ہ ہیں اورزندگی کی بھی صرف ظاہری حالت پر قناعت کیے ہوئے ہیں .ان لوگوں نے دنیا وی زندگی سے جو حاصل کیاہے وہ صرف چند مصروفیات ، لذّات ِ زور گزرا ورخواب و خیال ہیں اوراس زندگی کے ماحصل میں جو غرور اورغفلت پوشیدہ ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ اگروہ لوگ دنیا کی اس زندگی کے باطن اورمخفی کیفیت کوبھی جانتے ہوتے تویہی بات ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھی کہ آخرت میں کیا ہوگا . کیونکہ اگراس حیات ناپائیدار پرغور کیاجائے تومعلوم ہوتاہے کہ یہ طویل زنجیرحیات کی ایک کڑی ہے اورطویل سفر کی ایک منزل ہے . بالکل اسی طرح جیسے شکم مادر میں بچے کی زندگی مقصود بالذّات نہیں ہے بلکہ وہ تو ایک طویل زندگی کاابتدائی مرحلہ ہے ۔ ہاں ٹھیک ہے کہ وہ لوگ اس دنیا وی زندگی کے ظاہری کودیکھتے ہیں اوراس کی باطنی کیفیت اورمخفی حالت سے غافل ہیں ۔ اس موقع پر جاذب توجہ یہ امر ہے کہ آیت ہفتم میں ضمیر ” ھم “ مکرّ ر استعمال ہوئی ہے جواس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے . کہ اس غفلت وبے خبری کاباعث وہ خود ہیں . بالکل اسی طرح جیسے کوئی ہم سے کہے کہ : ”تونے مجھے اس کام سے غافل کردیا .“ اورہم اس کے جواب میں یہ کہیں کہ : توتو خود ہی غافل ہوگیا . یعنی توخود ہی اپنی غفلت کا باعث تھا ۔ 1۔ تفسیر بیان ، جلد ۸ ،ص ۲۰۶۔ 2 خسرو اول انو شیرواں کے بعد اس کا بیٹا ہرمز د اور اور ہر مزد کے قتل کے بعد پر ویزملقب . بہ خسرودوم تخت نشین ہو ا ۔ 3 ۔کلمہ ” بضع “ سے اور معنی بھی مراد لیے گئے ہیں . مثلا یہ مدّت کم از کم تین سال اورزیادہ سے دس سال ہوتی ہے یاکم از کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ نو سال یاکم از کم چھ سال اورزیادہ سے زیادہ نوسال . مگر ہم نے جو کہاوہ زیادہ مشہور ہے ۔ 4 ۔ ” وعداللہ “ بطور مفعول مطلق منصوب ہے اوراس کاحامل محذوف ہے اوراس کے ماقبل جملہ ” سیغلبون “ سے جو کہ وعدہٴ الہٰی کامصداق ہے ، معلوم ہوتاہے اور بحالت تقدیر پورا جملہ یوں ہے : ’( وعداللہ ذلک وعدا“ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:1-7
شان نزول
جملہ مفسرین بزرگ کااس پراتفا ق ہے کہ اس سورة کی پہلی آیات ا س وقت نازل ہوئی تھیں جب جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکّہ میں تھے اورمومنین بہ لحاظ تعداد اقلیّت میں تھے . اس زمانے میں ایرانیوں اور رومی حکومت میں جنگ ہوئی . جس میں ایرانی جوفی کوفتح ہوئی تھی ۔ مکّہ کے مشرکین نے اس فتح کوفال نیک سمجھ کراپنے شرک کومبنی بر حق ہونے کی دلیل قرار دیا اور کہاکہ ایرانی تو مشرک اور مجوسی ہیں کیونکہ وہ ثنویت پرست ہیں مگر رومی مسیحی اور اہل کتاب ہیں . لہذا جس طرح ایرانی غالب اور رومی مغلوب ہوئے اسی طرح آخر ی فتح شرک ہی کی ہوگی . اسلام کادور جلد ختم ہوجائے گا اورہم فتح مند ہوں گے ۔ اگرچہ اس قسم کی خوش فہمیاں بے بنیاد ہوتی ہیں . لیکن معاشرے اور ماحول کے جہلامیں یہ پرو پیگنڈ ابے اثر نہیں رہ سکتاتھا . لہذا یہ امر مسلمانوں پر گراں گزرا ۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں . جن میں حتمی طو ر پر یہ کہاگیا کہ اگر چہ ایرانی اس جنگ میں کامیاب ہوگئے ہیںلیکن زیادہ وقت نہیں گزرے گا . کہ رومی فوج سے شکست کھائیں گے ، یہاں تک کہ اس پیش گوئی کے پورا ہونے کاوقت بھی بتا دیاگیااور کہا کہ چند سال کے اندر ہی یہ امر وقوع پذیر ہوگا ۔ قرآن کی یہ حتمی گوئی ایک طر ف تواس کتاب آسمانی کے اعجاز کی علامت اوراس امر کی دلیل تھی کہ اس کے لانے والے کوخدا کے علم بے پایاں اوراس کے عالم الغیب ہونے پر کتنا بھروسہ تھا .دوسری طرف . یہ مشرکین کی فال گیری نقیض تھی . اس پیش گوئی نے مسلمانوں کوایسا آسودہ مطمئن کردیا کہ ان میں سے بعض نے اس مسئلہ پر مشرکین سے شرط باندھنی شروع کردی .( یہ ملحوظ رہے کہ اس وقت تک اس قسم کی شرط بندی کی ممانعت کاحکم نہیں آیا تھا (1) ۔ 1۔ یہ شان نزول مختلف تعبیرا ت سے تفاسیر مجمع البیان ،المیزان ، نورا ثقلین ، ابو الفتوح رازی ، تفسیر فخررازی ، تفسیر فی ضلال اوردوسری تفاسیر میں آئی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:1-7
سوره روم / آیه 1 - 7
۱ ۔ الم ۔ ۲۔ غُلِبَتِ الرُّومُ ۔ ۳۔ فی اٴَدْنَی الْاٴَرْضِ وَ ہُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُونَ ۔ ۴۔ فی بِضْعِ سِنینَ لِلَّہِ الْاٴَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ بَعْدُ وَ یَوْمَئِذٍ یَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ۔ ۵۔ بِنَصْرِ اللَّہِ یَنْصُرُ مَنْ یَشاء ُ وَ ہُوَ الْعَزیزُ الرَّحیمُ ۔ ۶۔ وَعْدَ اللَّہِ لا یُخْلِفُ اللَّہُ وَعْدَہُ وَ لکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لا یَعْلَمُونَ ۔ ۷۔ یَعْلَمُونَ ظاہِراً مِنَ الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ ہُمْ عَنِ الْآخِرَةِ ہُمْ غافِلُونَ ۔ ترجمہ ۱۔ المّ ۲۔ اہل روم مغلوب ہوگئے ۳۔ ( اور یہ شکست ) نزدیک کے ملک میں دونما ہوئی لیکن وہ مغلو ب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے ۔ ۴۔ چند ہی سال میں . سب کام حکم خداسے ہوتے ہیں خواہ ( ا س شکت و کامیابی سے ) قبل ہوں یابعد میں اوراس رو ز مومنین خوش ہوجائیںگے ۔ ۵۔ خداکی مدد کی سبب سے . خدا جسے چاہتا ہے فتح و نصرت دیتا ہے اوروہ عزیز و رحیم ہے ۔ ۶۔ یہ خدا کا وعدہ ہے اوروہ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا . لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ ۷۔ یہ لوگ تو دنیا کی طرف ظاہری زندگی کو جانتے ہیں آخرت کی زندگی سے غافل ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:1-7
۱۔ اعجاز قرآن ... علم غیب کے لحاظ سے
قرآن کامعجزہ ثابت کرنے کے دلائل میں سے ایک دلیل قرآن کی غیبی خبریں بھی ہیں کہ جن کا ایک نمونہ آیات زیر بحث میں آیا ہے . چنانچہ آیات کے اندر مکرر تاکید ا ت کے ساتھ ایک شکست خوردہ فوج کی چند سال بعد عظیم فتح کی خبردی گئی ہے اوراس اطلاع کو خدا کے تخلف باپذیر وعدہ کے طور پر بیان کیاگیا ہے ۔ اس پیش گوئی کے چند اہم پہلو ہیں ، اوّ ل تومطلقا فتح کی خبر دی گئی ہے : وھم عن بعد غلبھم سیغلبون اوراس کے بعد انہیں جلدی ہی فتح نصیب ہوگی ۔ دوسرے کفار پر اسی زمانے کے قریب مسلمانوں کی فتح کی خبر ہے : ویو مئوم یفرح المئو منون بنصراللہ اوراس نصرت الہٰی کے باعث اہل ایمان خوش ہوں گے ۔ تیسرے یہ تصریح ہے کہ واقعہ چند سال بعد ظہور پذیر ہوگا . فی بضع سنین ۔ چوتھے دوبار تاکید کے ساتھ ، اس وعدے کا قطعی ہونا ثابت کرتا ہے : وعداللہ لایخلف اللہ وعدہ یہ اللہ کاوعدہ ہے اوراللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتا ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ نو سال بھی نہیں گزرے تھے ، یہ دونوں واقعات و قوع پذیر ہوگئے . نئی جنگ میں رومیوں نے ایرانیوں بتاتی پرفتح حاصل کی اور قریبا اسی زمانے میں صلح حدیبیہ کے ذریعہ ( اورایک روایت کے مطابق جنگ بدرمیں ) مسلمانو ں کودشمنوں پرقابل دید فتح حاصل ہوئی ۔ اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیاایک انسان اپنے عام اکتسابی علم کے ساتھ ایسے اہم واقعے کی بطور قطعی خبردے سکتا ہے ۔ یہاں تک کہ بالفرخ اگرکوئی سیاسی آدمی پیش بینی ے قابل بھی ہو ، تب بھی وہ ایسی بات نہایت محتاط الفاظ میں بطور احتمال کہے گا ، نہ کہ اس طرح صراحت اور تیقن کے ساتھ کیونکہ اگر یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوجاتی تودشمنوں کے ہاتھ ابطال ِ نبّوت کی ایک سند آجاتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ مسائل مثلا اہل روم کی فتح مباہلہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علم اطلاع کامنبع کوئی دوسراتھا . وگر نہ کوئی شخص بھی معمول کے اورعام حالات میں نہ اتنی توانائی رکھتا ہے ،نہ جرائت کرسکتا ہے تیقن کے ساتھ ایسی بات کہہ دے ۔ بالخصوص پیمبراسلا م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حالات پرغور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے نہ تھے جو غیر محتاط بات کہہ دیتے ہیں بلکہ آپ علیہ السلام کے تمام کام منظم تھے . ایسا شخص اگراس قسم کا دعویٰ کرتا ہے تواس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کی اطلاعات کامرکز ماورائے طبیعت ہے اور اس کا انحصار وحی الہٰی اورخدا کے بے پایاں علم پر ہے ۔ اس پیش گوئی کی تاریخی مطابقت پر ہم جلد ہی بحث کریں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:1-7
۲۔ ظاہربین لوگ
اصولا ایک مومن اورصاحب معرفت انسان اور ایک مادہ پرست یامشرک بصیرت میں بہت فرق ہے ۔ مقدّم الذکر انسان اپنے عقیدہ ٴ توحید کی بناء پر کائنات کو خدا ئے حکیم و دانا کی مخلوق سمجھتا ہے . اور یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ کے تمام افعال ایک پیش نظر غایب کے تحت حکمت پر مبنی ہیں . اوراسی دلیل سے وہ عالم کو نہایت دقیق اسرار و رموز کا مجموعہ سمجھتا ہے . وہ خیال کرتا ہے ، اس عالم میں کوئی چیز بھی غیر اہم نہیں ہے . اس کتاب کائنات کے تمام کلمات پرمغز و پر معنی ہیں ۔ یہ بصیرت توحید ی اسے متنبہ کرتی رہتی ہے کہ دنیا کے کسی واقعے اورکسی امر سے سرسری نہ گزرجانا کیونکہ ممکن ہے کہ جو بات بالکل سادہ نظر آتی ہے اس میں پیچیدہ ترین راز ہوں ۔ توحید پرست انسان کی نظر میں دنیا کی گہرائی کو دیکھتی ہے ، صرف اس کے ظاہر قناعت نہیں کرتی .اس نے مکتب توحید میں یہ سبق پڑھا ہے . وہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ خدا کاکوئی فعل بھی عبث نہیں ہے اور تخلیق عالم کی کوئی غایت ہے . اس لیے کائنا ت کے ہر جزء کو اسی غایت کے نقطہٴ نظر سے دیکھتا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں مئو خر الذکرمادّہ پرست بے ایمان انسان دنیا کواندھے ،بہر ے اور بے مقصد واقعات کاایک مجموعہ سمجھ کرصرف اس کے ظاہر کو دیکھتا ہے اور اس حقیقت کاقائل ہی نہیں ہے کہ اس کا باطن اورعمق بھی ہے ۔ اس گروہ کاخیال ہے کہ بالفرض ایک کتاب ہے جس کے اوراق پرایک طفل نادان نے اپنی انگلیوں سے بے مقصد لکیر یں اور خطوط کھینچ دیئے ہیں تو کیا اس کتاب کی کوئی اہمیت ہوگی ؟ یاس میں کچھ معنی ہوں گے ؟ ان کی نظر میں یہ دنیا بھی ایسی ہی ہے ۔ یہاں تک کے بعض عظیم سائنس دانوں کاقول ہے کہ بنی نوع انسان میں س ے ہرطریقہ اورہر گروہ کے وہ منکرین جونظام کائنات کے متعلق غور وفکر کرتے رہے ہیں وہ منذ ہبی ذہن رکھتے تھے . ( غور کیجئے گا ) ۔ چنانچہ دانش مند معروف معاصر آئن سٹائن یوں کہتا ہے (1) ۔ دنیا کے مغز ہائے متفکر ( thinking brains )میں سے بمشکل کوئی ایسا شخص مل سکتا ہے جو ایک قسم کامخصوص مذہبی احساس نہ رکھتا ہو . اگرچہ اس کامذہب عامتہ الناس کے مذہب سے مختلف ہوتا ہے ۔ اس عالم کامذہب کائنات کے عجیب و دقیق نظام پرغور کرنے کے بعد ایک مسرت بخش حیرت پرمبنی ہوتاہے . جب کبھی ان اسرارسے پر وہ اٹھتا ہے تومعلوم ہوتاہے کہ انسان نے اب تک اپنی منظم کوشش اور غور فکرسے اس کائنات کے متعلق جوکچھ جانا ہے ، وہ علم کے ایک ہلکے عکس سے زیادہ نہیں ہے ۔ آئن سٹائن ایک دوسری جگہ کہتا ہے : سائنس دانوں ، متفکرین اورنکشاف کرنے والوں کے لیے وہ شے جواس بات کا سبب ہوئی کہ وہ عمر ہاعمر اورسالہا سال تک گوشہٴ تنہائی میں بیٹھ کرکائنات کے دقیق اسرار کامطالعہ کرتے رہیں ،ان کایہی مذہبی اعتقاد تھا (2) ۔ ایک و ہ آدمی ہے جواس دنیا ہی کو آخر ی مرحلہ اورمقصود حیا ت سمجھتا ہے ۔ دوسراوہ شخص ہے جس کانقطہٴ نگاہ ہے کہ یہ دنیا اوراس کی زندگی تو ایک کھیت اور اس حیات جاودانی کے لیے میدان امتحان ہے جواس کے بعد آنے والی ہے . بھلا ان دونوں آدمیوں کادنیا کے متعلق طرز عمل یکساں کیسے ہوسکتا ہے ؟ ان میں سے ایک کی نظر صرف اس کے ظاہری پرہوتی ہے اوردوسرااس کی عمیق حقیقت پرغور و فکر کر تا ہے ۔ اور زاویہٴ نظر کا یہ اختلاف ان لوگون کی تمام زندگی کومتاثر کرتا ہے ۔ ظاہر بیں انسان راہ خدا میںخرج کرنے کو نقصان مایہ سمجھتا ہے .جب کہ مرد موحدّ ِ اسے پرمنفعت تجارت خیال کرتاہے .ان میں سے ایک سود خوری کواپنی آمدنی میں افزائش کاذریعہ خیال کرتاہے اوردوسرااسے باعث وبال و بدبختی و زبان سمجھتا ہے . ان میں سے ایک جہاد کواپنے لیے باعث زحمت اور شہادت کوبہ معنی فناسمجھتا ہے اور دوسرا جہاد کورمز سربلند ی اورشہادت کوحیات جاودان خیال کرتا ہے ۔ یہ درست ہے کہ بے ایمان لوگ دنیا کی صرف ظاہری زندگی کودیکھتے ہیں اورآخر ت سے غافل ہیں : یعلمو ن ظاھرا من الحیوة الدنیاوھم عن الا خرة ھم غافلون 1 آئن سٹائن ( einstsein) کانتقال ۱۹۵۵ ء میں ہوا ۔ 2 ۔ از کتاب ” دنیای کہ من بینم “ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:1-7
۳۔ تاریخی مطابقت
اس پیش گوئی سے جنگ ایران و روم کی مطابقت تاریخی یوں ہے کہ : خسرو پرویز کے عہدمیں ایرانیوں اور رمیوں کے درمیان ایک طویل جنگ کاسلسلہ شروع ہوا جوقریبا چوبیس سال تک جاری رہی یعنی ۶۰۴ ء سے شروع ہو کر ۶۲۷ عیسوی میں ان ایران کے دوسپہ سالاروں شہر براز اورشاہین نے روم کے مشر ق علاقے پر حملہ کردیا اور رومیوں کو شکست دے کر شامات ، ایشیائے کوچک اورمصر تک کو فتح کرلیا . روم کی مشرقی حکومت جس نے شدید شکست کھائی تھی تباہی کے کنارے چاپہنچی اورایرانیوں نے ان کے تمام ایشیائی مقبوضات پر قبضہ کرلیا ۔ یہ واقعہ بعثت پیمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریبا ساتویں سال پیش آیا . اس کے بعد قیصر روم ” ہرقل “ نے ۶۲۲ ء عیسوی میں ایران پر جوابی حملہ کیا اورخسرو پر یز کی فوجوں کے پے درپے شکستیں دیں . اس جنگ کاسلسلہ جس میں رومی فاتح ہے ۶۲۷ ء عیسوی تک جاری رہا . ایرانیوں نے شکست سے متاثر ہو کر خسرو پرو یز کو سلطنت سے معزول کرکے اس بیٹے ” شیرو یہ “ کو باد شاہ نبادیا ۔ تاریخی لحاظ سے یہ امر پیش نظر رہے کہ جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت ۵۷۱ ء عیسوی میں ہوئی اور آپ کی بعثت ۶۱۰ عیسوی میں ہوئی .اس حساب سے ایرانیوں کے ہاتھ رومیوں کو بعثت کے ساتویں سال شکست ہوئی اور پھر رومیوں کوفتح اور ایرانیوں کو شکست ہجرت کے پانچویں یاچھٹے سال سے منطبق ہوتی ہے ۔ ہجرت کے پانچویں سال جنگ خندق ہوئی اور چھٹے سال صلح حدیبیہ واقع ہوئی ۔ البتہ ایران اورروم کے مابین جنگ کی خبروں کو حجاز و مکہ تک پہنچتے تک کچھ دیر لگی ہوگی . بہر حال اس تاریخ مطابقت سے قرآن کی پیش گوئی کی صداقت واضح ہوتی ہے ۔( غور کیجئے گا ) ۔