فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡحَقُّۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلۡعَرۡشِ ٱلۡكَرِيمِ
So exalted is Allah, the True Sovereign, there is no god except Him, the Lord of the Noble Throne.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 23:93-118
God reminds the way in which the hypocrites, who postpone doing even obligatory charity for the simple of this world, when, on their deathbed, will pray unto God, to give them time, to spend out of the treasure which they collect, for wife and children, when no opportunity will be given them. On the Day of Judgment, when the second siren will sound, all relationship will disappear and prove of no use, except intercession, of course, of our Prophet and immaculate Imams. They will come to assistance, for which man should make arrangements in this world and depend on one’s piety and love for his family (Immaculate) to register your claim for intercession. Love involves attachment, i.e. service and as they are pure, service to them is pure of sins. No appeal will prove fruitful and hypocrites will have to bear willy-nilly. They were ridiculing the virtuous for want of faith in the Prophet and text. On seeing the rich records they would feel they lived a day or two in the world. They would be replied, they should have realized the transitory period, when they were therein and it was too late to repent and they will not be forgiven on any account.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:112-116
اس دنیا کی عمر تھوڑی ہے
گذشتہ آیات میں اہل جہنم کی سزا کا ذکر ہے، یہ نفسیاتی سزا، خدا کی طرف سے سرزنش کی صورت میں ہے، فرمایا گیا ہے: اس روز الله انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہے گا کہ تم زمین پر کتنے سال رہے ہو (قَالَ کَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاٴَرْضِ عَدَدَ سِنِینَ) ۔ اس آیت میں لفظ ”الارض“ کی موجودگی اور دیگر قرائن ظاہر کرتے ہیں کہ ایّامِ آخرت کا موازنہ کرتے ہوئے دنیا میں ان کی عمر کے بارے میں سوال کیا گیا ہے ۔ بعض مفسرین نے یہاں عالمِ بر زخ میں ان کی مدّت ِ قیام کے بارے میں سوال مراد لیا ہے، یہ بہت بعید معلوم ہوتا ہے اگرچہ بعض دوسری آیات میں اس سلسلے میں کچھ شواہد ملتے ہیں(۱) ۔ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ اس میں بر زخ میں ٹھہرنے کے بارے میں سوال وجواب ہورہا ہے اور اگر اسے زیرِ بحث آیات کے لئے قرینہ قرار دیں تو یہاں مفہوم بھی برزخ میں ٹھہرنا ہوگا، لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں، زیرِ بحث آیات میں ایسے زیادہ قوی قرائن موجود ہیں کہ جو نشاندہی کرتے ہیں کہ یہاں سوال وجواب دنیا میں ٹھہرنے سے مربوط ہے ۔ لیکن اس موازنے میں انھیں دنیاوی زندگی اس قد رکم دکھائی دے گی کہ وہ جواب میں کہیں گے: ”ہم تو صرف ایک دن یا دن کا ایک حصّہ ہی دنیا میں ٹھہرے ہیں“ (قَالُوا لَبِثْنَا یَوْمًا اٴَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَاسْاٴَلْ الْعَادِّینَ) ۔ اب سوال رہ گیا کہ ”عرش“ کی صفت ”کریم“ کیوں ذکر ہوئی ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دراصل ”کریم“ کا معنی ہے شریف، فائدہ مند، عمدہ اور اچھا اور عرش الٰہی چونکہ ان صفات کا حامل ہے، اس لئے اسے ”کریم“ کہا گیا ہے ۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ لفظ ”کریم“ ہمیشہ کسی عاقل وجود مثلاً وجود خدا اور انسانوں کے لئے ہی استعمال نہیں بلکہ عربی زبان میں اس کے علاوہ اس کے علاوہ بھی بولاجاتا ہے، چنانچہ سورہٴ حج کی آیت۵۰ میں صالح مومنین کے بارے میں بولا جاتا ہے: <لھم مغفرة ورزق کریم ”ان کے مغفرت اور رزقِ کریم (پربرکت روزی) ہے ۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے: یہ صفت ، کم اہم نیکیوں اور خوبیوں کے لئے استعمال نہیں ہوتی، بلکہ نہایت اہم مواقع کے لئے استعمال ہوتی ہے ۔ موت زندگی کا خاتمہ نہیں ہم کہہ چکے ہیں کہ قیامت کی بحث میں ایک دوسرے عالم کے وجود کے لئے ایک دلیل خود اسی عالم کے نظام کا مطالعہ ہے، بالفاظ دیگر یہ ”نشاٴة اولیٰ“ گواہی دیتی ہے کہ اس کے بعد ”نشاٴة اخریٰ“ بھی ہے ۔ ہم یہاں اس سلسلے میں کچھ مزید وضاحت ضروری سمجھتے ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں ، جہان خلقت بہت عظیم بھی ہے اور منظّم بھی، ہر لحاظ سے یہ عالم پرشکوہ اور تعجب انگیز ہے، اس کائنات کے اسرار اس قدر ہیں کہ عظیم سائنسدان اور دانشور معترف ہیں کہ انسان کی تمام معلومات ایک ضخیم کتاب کے مقابلے میں ایک چھوٹے سے صفحے کی مانند ہیں، بلکہ اس کائنات کے بارے میں جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ درحقیقت اس کتاب کی الف ب ہے ۔ اس عالم کی ہر ایک عظیم گلیکسی کئی ارب ستاروں پر مشتمل ہے اور ان کہکشاوٴں کی تعداد ایک دوسرے سے فاصلہ اس قدر زیادہ ہے کہ روشنی کی بنیاد پر بھی اس کا حساب بہت مشکل ہے، جبکہ روشنی کی رفتار میں تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ ہے ۔ اس جہان کی ایک چھوٹی سے چھوٹی اکائی کی ساخت میں جو نظم اور شعور استعمال ہوا ہے، وہی ہے کہ اس جہان کی کسی عظیم اکائی میں نظر آتا ہے، انسان کو ہم اس کائنات کے کامل ترین موجود کے طور پر پہنچانتے ہیں، جہاں تک ہمیں معلوم ہے، انسان اس شاہکار کا شکار ہے ۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں، جسے عالم ہستی کا شاہکار سمجھا گیا ہے، یعنی انسان اپنی اس مختصر عمر میں کسی قسم کی پریشانیوں اور مشکلات میں پڑا ہوتا ہے، ابھی بچپن گزر نہیں پاتا کہ جوانی اور ہیجان انگیز دور آپہنچا ہے اور ابھی جوانی کی بہار قدم جما نہیں پاتی کہ بڑھاپے کا قابلِ رحم دورآپہنچا ہے ۔ کیا یہ بات قابلِ یقین ہے کہ اتنی بڑی کائنات اور اس کا شاہکار یہ انسان، بس اسی دور کے لئے ہو، بس یہی مقصد ہو کہ یہ انسان اس عالم میں رنج وتکلیف کے یہ تین دور گزارے، کھائے، پیئے، لباس پہنے، سوئے جاگے اور پھر ختم ہوجائے اور سب کچھ اپنے انجام کو پہنچ جائے؟ اگر سچ مچ ایسا ہی ہو تو کیا یہ خلقت مہمل اور فضول نہیں ہے، کیا کوئی عاقل اس سارے نظام اور اتنی عظیم کائنات کو اس معمولی سے ہدف کے لئے قائم کرسکتا ہے ۔ فرض کریں کئی ملین سال انسان اس دنیا میں باقی رہے اور کئی نسلیں یکے بعد دیگرے آئیں اور جائیں، سائنسی علوم اس قدر ترقی کریں کہ انسان کو بہترین غذا، لباس، مکان اور دیگر نہایت اعلیٰ سہولیات حاصل ہوجائیں لیکن کیا یہ کھانا، پینا، پہننا، سونا اور جاگنا اتنی قدر وقیمت رکھتا ہے کہ اس کے لئے ایسی کائنات پیدا کی جائے؟ لہٰذا اگر اس عظیم کائنات ہی کا مطالعہ کیا جائے تو یہ اس بات کی دلیل ہے، یہ دنیا ایک زیادہ وسیع دنیا کے لئے ایک تمہید ہے، ایسی وسیع دنیا کہ جو جاودانی ودائمی ہے، ایسے عالم کا وجود ہی ہماری زندگی کو کوئی مفہوم عطا کرکتا ہے اور اسے فضول ہونے س بچا سکتا ہے ۔ لہٰذا کوئی عجیب بات نہیں اگر مادہ پرست فلسفی کہ جو قیامت اور دوسرے جہان پر اعتقاد نہیں رکھتے اس عالم کو بے مقصد سمجھیں اور واقعاً اگر ہم بھی ایسے عالم پر ایمان نہ رکھتے ہوتے تو ان کے ہم آواز ہوتے، ہم کہتے ہیں کہ اگر موت ہی انسان کا انجام اور خاتمہ ہوتا تو خلقتِ عالم بے مقصد ہوتی، اسی لئے سورہٴ واقعہ کی آیت ۶۲ میں ہے: <وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ النَّشْاٴَةَ الْاٴُولَی فَلَوْلَاتَذکَّرُونَ ”تم نے اس نشاٴة اولیٰ اور عالم کے اس دور اوّل کو دیکھا تو کیوں متوجہ نہیں ہوتے ہو اور اس کے بعد کے عالم پر ایمان نہیں لاتے ہو ۔ <وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَیْرَ سَاعَةٍ کَذٰلِکَ کَانُوا یُؤْفَکُون، وَقَالَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِیمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِی کِتَابِ اللهِ إِلَی یَوْمِ الْبَعْثِ فَھٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَلَکِنَّکُمْ کُنتُمْ لَاتَعْلَمُونَ ”جب قیامت بر پا ہوگی تو مجرم قسم کھاکر کہیں گے کہ ہم ایک ساعت سے زیادہ نہیں ٹھہرے، جی ہاں! وہ اس طرح دنیا بھی جھوٹ بولا کرتے تھے، لیکن جو اصلِ علم وایمان ہیں وہ اُن سے کہیں گے: تمھارے وہاں ٹھہرنے کی مدّت کتابِ الٰہی میں ثبت ہے اور تم روز قیامت تک وہاں ٹھہرے ہو اور اب قیامت ان پہنچی ہے اور قبروں سے اٹھنے کا دن ہے، مگر تم جانتے نہ تھے“۔ 1۔ سورہٴ روم کی آیت ۵۵ اور ۵۶ میں ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 23:112-116
سوره مؤمنون / آیه 112 - 116
۱۱۲ قَالَ کَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاٴَرْضِ عَدَدَ سِنِینَ ۱۱۳ قَالُوا لَبِثْنَا یَوْمًا اٴَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَاسْاٴَلْ الْعَادِّینَ ۱۱۴ قَالَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلاَّ قَلِیلًا لَوْ اٴَنَّکُمْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ ۱۱۵ اٴَفَحَسِبْتُمْ اٴَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَاٴَنَّکُمْ إِلَیْنَا لَاتُرْجَعُونَ ۱۱۶ فَتَعَالَی اللهُ الْمَلِکُ الْحَقُّ لَاإِلَہَ إِلاَّ ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیمِ ترجمہ ۱۱۲۔ (خدا)کہے گا: تم زمین میں کتنے برس رہے ہو؟ ۱۱۳۔ وہ جواب میں کہیں گے: ایک دن یا دن کا کچھ حصّہ ہم ٹھہرے ہیں، شمار کرنے والوں سے پوچھ لے ۔ ۱۱۴۔ وہ کہے گا: (ہاں) تم تھوڑی ہی دیر ٹھہرے ہو، کاش تم یہ جان لیتے ۔ ۱۱۵۔ لیکن تم نے یہ گمان کیا ہے کہ ہم نے تمھیں فضول پیدا نہیں کیاہے اور یہ کہ تم ہماری طرف پلٹ کر نہیں آوٴگے ۔ ۱۱۶۔ پس (اس سے کہ تمھیں بیکار پیدا کرے) بزرگ وبرتر وہ خدا کہ جو فرماں روائے حق ہے، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور وہ عرش کریم کا پروردگار ہے ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 23:116
[Pooya/Ali Commentary 23:116]