فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا
Thus she conceived him, then withdrew with him to a distant place.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 19:22
[Pooya/Ali Commentary 19:22] (see commentary for verse 16)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:22-26
مریم (علیه السلام) سخت طوفانوں کے تھپڑوں میں
مریم (علیه السلام) سخت طوفانوں کے تھپڑوں میں : ” سر انجام مریم حاملہ ہو گئی “ اور اس موعود بچہ نے اس کے رحم میں جگہ پائی (فحملتہ) ۔ اس بارے میں کہ یہ بچہ کس طرح و جود میں آیا ، کیا جبرئیل نے مریم کے پیرہن میں پھونکا یا ان کےے منہ میں قرآن مجید میں اس کے متعلق کوئی بات نہیں ہے کیونکہ اسکی ضرورت نہیں تھی اگر چہ مفسرین کے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں ۔ بہر حال اس امر کے سبب و ہ بیت المقدس سے کسی دور دراز مقام پر چلی گئی (فانتبذت بہ مکاناقصیا) ۔ وہ اس حالت میں ایک امید وہم کے دومیا ن پریشانی و خوشی کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ وقت گزاررہی تھی ، کبھی وہ یہ خیال کرتی کہ آخرکار یہ حمل ظاہرہوجائے گا ،مانا کہ چند دن یا چن مہینے ان لوگوں سے دوررہ لوں گی اور اس مقام پر ایک اجنبی کی طرح زندگی بسر کرلوں گی مگر آخر کارکیاہوگا ۔ کون میری بات قبول کرے گا کہ ایک عورت بغیر شوہر کے حاملہ ہوگئی سوائے اس کے کہ اس کا دامن آلودہ ہو ، میں اس اہتمام کے مقابلہ میں کیا کروں گا ۔واقعاوہ لڑکی کہ جو سالہا سے پاکیزگی و عفت اور تقویٰ و پر ہیز گار ی کی علاتھی اور خداکی عبادت و بندگی میں نمونہ تھی جس کے بچپنے میں کفالت کرنے پر بنی اسرائیل کے زاہد وعابد فخرکرتے تھے ۔اور جس نے ایک عظیم پیغمبر کے زیرنظر پرورش پائی تھی ۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس کے اخلاق کی دھوم اور پاکیز گی کی شہرت ہر جگہ پہنچی ہوئی تھی اس کے لیے یہ بات بہت ہی درد نک تھی کہ ایک دن وہ یہ محسوس کرے کہ اس کا یہ سب معنوی سرمایہ خطرے میں پڑ گیا ہے ،اور وہ ایک تہمت کے گرداب میں پھنس گئی ہے کہ جو بد ترین تہمت شمار ہوتی ہے ْاور تیسرا الزرہ تھا کہ جو اس کے جسم پر طاری ہو ا ۔ لیکن دوسری طرف وہ محسوس کرتی تھی کہ یہ فرزند خدا وندتعالیٰ کاموعودپیغمبر ہے یہ ایک عظیم آسمانی تحفہ ہو گا ، وہ خداکہ جس نے مجھے ایسے فرزند کی بشارت دی ہے اورایسے معجزہ انہ طریقہ سے اسے پیدا کیا ہے مجھے اکیلاچھوڑے گا ؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اس قسم کے اتہام کے مقابلہ میں میرادفاع نہ کرے ؟ میں نے تو اس کے لطف و کرم کو ہمیشہ آزمایا ہے اوراس کا دست رحمت ہمیشہ اپنے سرپر دیکھا ہے ۔ اس بات پر کہ مریم (علیه السلام) کی مدت حمل کس قدر تھی ،مفسرین کے دومیان اختلاف ہے ، اگرچہ قرآن میں سر بستہ طورپر بیان ہواہے ( پھر بھی ) بعض نے اسے ایک گھنٹہ ،بعض نے نو گھنٹے بعض نے چھ ماہ بعض نے سات ماہ بعض نے آٹھ ماہ اور بعض نے دوسری عورتوں کی طرح نو مہینے کہا ہے ، لیکن یہ موضوع اس واقعے کے مقصد پر اثر نہیں رکھتا ۔روایات بھی اس سلسلہ میں مختلف ہیں ۔ اس بارے میں کہ یہ جگہ ”قصی “ (دوردراز ) کہاں تھی ، بہت سے لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ شہر ”نا صر ہ “ تھا اور شاید اس شہر میں بھی وہ مسلسل گھر ہی میں رہتی تھیں اور بہت کم باہر نکلتی تھیں ۔ جو کچھ بھی تھا مدّت حمل ختم ہوئی اور مریم کی زندگی کے طوفانی لمحات شروع ہو گئے انہیں سخت دردزہ کا آغاز ہوگیا ۔اور جو انہیں آبادی سے بیابان کی طرف لے گیا ۔ایسابیابان جو انسان سے خالی ، خشک اور بے آب تھا جہاں کوئی جائے پناہ نہ تھی ۔ اگر چہ اس حالت میںعورتیں اپنے قریبی اعزّہ کی پناہ لیتی ہیں تاکہ وہ بچہ کی پیدائش کے سلسلہ میں ان کے مدد کریں ،لیکن مریم کی حالت چونکہ ایک استثنائی کیفت تھی ، وہ ہر گز نہیں چاہتی تھیں کہ ان کے و ضع حمل کو دیکھے لہذادردزہ کے شروع ہوتے ہی انہونے بیابان کی راہ لی ۔ قرآن اس سلسلہ میں کہتا ہے : وضع حمل کاوہ درد اسے کھجور کے درخت کے پاس کھینچ لے گیا ۔( فاجائھا المخاض الی جذالنخلة) ۔ ”جذع النخلة“ کی تعبیر : اس بات کومد نظر ہوئے کہ ” جذع “ درخت کے تناکے معنی میں ہے ، یہ نشاندہی کرتی ہے کہ : اس درخت کاصرف تنہ باقی رہ گیا تھا یعنی وہ خشک شدہ درخت تھا (۱) ۔ اس حالت میں غم واندوہ کا ایک طوفان تھا جو مریم (علیه السلام) کے پورے و جود پر طاری تھا ، انہوں نے محسوس کیا کہ جس لمحے کاخوف تھا وہ آن پہنچاہے ایسالحظ کہ جس میںوہ سب آشکار ہوجائے گا جواب تک چھپاہواہے اور بے ایمان لوگوں کی طرف سے ان پر تہمت کے تیروں کی بارش شروع ہوجائیگی ۔ یہ طوفان اس قدر سخت تھا اور یہ باران کے دوش پر اتناسنگین تھا کہ بے اختیار ہوکر بولیں ، اس کاش ! میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی اور بلکل بھلادی جاتی ۔(قالت یالیتنی مت قبل ھذٰوکنت نسیامنسیا) ۔ یہ بات صاف طورپر ظاہر ہے کہ حضرت مریم (علیه السلام) کو صرف آئندہ کی تہمتوں کاخوف ہی نہیں تھا کہ جوان کے دل کو بے چین کیے ہوئے تھا ، بلکہ انہیں سب سے زیادہ فکر اس نات کا تھا کہ دوسری مشکلات بھی تھیں کسی اور ہمد مو مددگار کے بغیر و ضع حمل ، سنسان بیابا ن میں بالکل تنہائی ، آرام کے لیے کوئی جگہ نہ ہونا ، پینے کے لیے پانی اور کھانے کے لئے غذاکا فقدان اور نو مولود کے لیے نگہداشت کے کسی وسیلے کا ہو نا یہ ایسے امور تھے کہ جنہوں نے انہیں سخت پریشان کررکھا تھا ۔ اور وی لوگ جویہ کہتے ہیں کہ حضرت مریم (علیه السلام) نے ایمان اور توحید کی ایسی معرفت کے ہوتے ہو ئے اور خداوندتعالیٰ کے اتنے لطف و کر م اور احسانات دیکھنے کے باوجود ایساجملہ زبان پر کیسے جاری کیا کہ ” اے کاش میں مرگئی ہوتی اور فراموش ہو چکی ہوتی“ انہونے اس وقت میں جناب مریم (علیه السلام) کی حالت کا تصور ہی نہیں کیا ۔اور اگر وہ خودان مشکلات میں سے کسی چھوٹی سی مشکل میں بھی گرفتار ہوجائیں تو ان کے ایسے ہاتھ پاؤ پھول جائیں گے کہ انہیں خود اپنی بھی خبرنہ رہے گی اور وہ خود کو بھی بھول جائیں گے ۔ لیکن یہ حالت زیادہ دیرتک باقی نہ رہی اور امید کاوہی روشن نقط جو ہمیشہ انکے دل کی گہرائیوں میں رہتا تھا چمکنے لگا ۔یکایک ایک آواز ان کے کانوں میں آئی جو ان کے پاؤ کے نیچے سے بلند ہو رہی تھی اور واضح طورپرکہہ رہی تھی کہ غمگین نہ ہو ۔غور سے دیکھ تیرے پروردگار نے تیرے پاؤ کے نیچے ایک کوشگوار پانی کا چشمہ جاری ہے ( فنادٰ ھامن تحتھاان لاحرنی قد جعل ربک تختک سریا ) ۔ ایک نظر اپنے سرکے اوپر ڈالواور غور سے دیکھو کہ کس طرح خشک تنہ بارآور کھجورکے درخت میں تبدیل ہو گیا ہے پھلوں نے اس کی شاخوں کو زینت بخشی ہے اور اس کھجورکے درخت کو ہلاؤتاکہ تازہ کھجوریں تم پرگرنے لگیں ( وھزی الیک بجد ع النخلة تساقط علیک رطباجنیا) ۔ اس لذیذ اور قوت بخش غذامیں کھاؤ اوراس خوشگوارپانی میں سے پیو( فکلی واشربی ) ۔ اور اپنی آنکھوں کو اس نومولود سے روشن رکھو ( وقری عینا) ۔ اور اگر آیند ہ کے حالات سے پریشانی ہے تو مطمئن رہو جب تم کسی بشر کو دیکھو اور وہ تم سے اس بارے میں و ضاحت چاہے تو اشارہ کے ساتھ اس سے کہہددیناکہ میں نے خدائے رحمن کے لیے روزہ رکھاہواہے ، خاموشی کا روزہ اور اس سبب میں آج کسی سے بات نہیں کروں گی (فاماترین من البشراحد افقولی انی نذرت للرحمن صومافلن الیوم انسیا) ۔ خلاصہ یہ ہے کہ تمہیں اس بات کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ تم آپ اپنادفاع کرو وہ ذات کہ جس نے یہ مولود تمہیں عطاکیا ہے ،اس نے تیرے دفاع کی ذمہ داری بھی اسی کے سپرد کردی ہے اس لیے تم ہر طرح سے مطمئن رہو اور غم و اندوہ کو اپنے دل میں جگہ نہ دو ان پے درپے واقعات نے جو ایک انتہائی تاریک فضامیں روشن شعلوں کی طرح چمکنے لگے تھے ،اور ان کے دل کو پوری طرح روشن کردیا تھا اور انہیں ایک سکون بخش دیا تھا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:22-26
سوره مریم / آیه 22 - 26
۲۲۔فحملتہ فانتبذت بہ مک ناقصیا ۲۳۔فاجآء ھا المخاض الی جذع النخلة قالت یٰلیتنی مت قبل ھذاو کنت نسیا منسیا ۲۴ ۔فنادھامن تحتھاالاتحزنی قد جعل ربک تحتک سریا ۲۵ ۔و ھزی ٓ الیک بجذع النخلة تسقط علیک رطباجنیا ۲۶۔فکلی وشربی و قری عینا فاماترین من البشر احد ا فقولہ اٰنی نذرت للرحمن صومافلن اکلم الیوم انسیا ترجمہ ۲۲۔آخر کار (مریم ) حاملہ ہوگئی اور وہ اسے دور دراز مقام کی طرف لے گیا ۔ ۲۳ ۔درد زہ کی تکلیف اسے ایک کھجور کے تنے کی طرف لے گئی ( وہ اس قدر پریشان ہوئی کہ ) اس نے کہا کہ اے کاش میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی اور بالکل فراموش ہو گئی ہوتی ۔ ۲۴۔اچانک اس کے پاؤں کے نیچے کی طرف سے ( کسی نے ) اس پکار کر کہا کہ غمگین نہ ہو تیرے پروردگار نے تیرے ہاؤ کے نیچے (خوشگوار ) پانی کا چشمہ جاری کردیا ہے ۔ ۲۵ ۔ اور کھجور کے اس درخت کو ہلاتا کہ ترو تازہ کھجور تجھ پو گریں ۔ ۲۶ ۔ اس ( لذیذ غذا) میں سے کھا اوراس ( خوشگوار پانی میں سے پی اور اپنی آنکھو ں کو ( اس نئے مولود سے ) روشن کھ اور جب تو انسانوں میں سے کسی کو دیکھے تو اشارے سے کہ دے کہ میں نے خدائے ڑحمن کے لیے روزہ رکھا ہوا ہے اور میں آج کسی کے ساتھ بات نہیں کروں گی (یہ نومولود خود ہی تیرادفاع کرلے گا ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:22-26
۵۔ایک قوت بخش غذا
۵۔ایک قوت بخش غذا : اس بات کہ مذکورہ بالاآیات میںصرحت کے ساتھ یہ بیان ہوا ہے کہ خداوندتعالیٰ نے حضرت مریم (علیه السلام) کے لیے نومولود کی پیدائش کے وقت ان کی غذارطب ( کھجور ) کو قرار دیا ہے مفسرین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عورتوں کے لیے وضع حمل کے بعد بہترین غذاؤں میں سے ایک رطب (تازہ کھجور )ہے ۔ اسلامی احدیث میں اس مطلب کی طرف صراحت کے ساتھ اشارہ ہواہے : امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے پیغمبر اکرم سے نقل کیا ہے : لیکن اول ما تاٰکل النفساء الرطب فان اللہ عذاو جل قال لمریم و ھذی الیک یجذع النخلة تساقط علیک رطباجنیا، پہلی چیز جو عورت کو وضع حمل کے فوربعد کھانی چاہئے وہ رطب (تازہ کھجور ) ہے کیونکہ خدائے عزوجل نے مریم (علیه السلام) سے فرمایا خرمے کے درخت کو ہلا تاکہ تازہ کھجویں تجھ پر گریں (1) ۔ اسی حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس غذاکا کھانانہ صرد ماں کے لیے موئثرہے بلکہ اس کے دودھ کے لئے بھی مفید ہے ۔ یہاں تک کہ چند ایک روایا سے تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حاملہ عورت کے لیے بہترین غذاور اس کی دوارطب ہے : ماتاکل الحامل من شیء ولاتتداوی بہ افضل من الرطب (2) ۔ لیکن مسلمہ طورپر ہر چیز اور اسی طرح اس موضوع میں ھبی اعتدال کو ملحوظ نظر رکھناچاہیئے ،جیساکہ بعض روایات میں بیان ہوا ہے ، جو اسی بارے میںوارد ہویہ ہیں ۔ نیزیہ بھی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر تازہ کھجوریں نہ مل سکیں تو پھر عام کھجوروں سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔ غذاؤپر تحقیقات کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے : کھجور میں جو بکثرت شکرپائی جاتی ہے وہ ہر قسم کی شکرکی نسبت کامل تر ہے یہاں تک کہ بہت سے مواقع پر شوگر کے مریض بھی اس سے استفادہ کرتے ہیں ۔ یہی ماہرین کہتے ہیں کہاانہونے کھجورمیں۱۳حیاتی اجزا، اور پانچ قسم کے وٹامن معلوم کیے ہیں کہ جنہوں نے مجموعی طورپر کھجورکو ایک بھرپور غذائی منبع کی صورت دے دی ہے (3) ۔ نیز یہ بات ہم جانتے ہیں کہ ایسی حالت میں عورتوں کو قوت بخش اور وٹامن سے بھر پور غذاؤں کی سخت ضرورت ہوتی ہے ۔ علم طب کی ترقی کے ساتھ ساتھ دواکی حیثیت سے کھجور کی اہمیت بھی ثابت ہوگئی ہے کھجورمیں کیلشیم موجود ہے کہ جو ہڈیوں کی مضبوطی کا اصل عامل ہے نیز اس میں فاسفورس بھی پایا جاتا ہے کہ جو مغز کو تشکیل دینے والے اصلی عناصر میں سے ہے اور اعصاب کے ضعف اور خستگی کو دورکرنے والاہے ۔علاوہ ازیں اس میں پوٹاشیم بھی موجود ہے جس کی بدن میں کمی کو زخم معدہ کا حقیقی سبب سمجھاجاتا ہے (4) ۔ ۱۔نوراثقلین ،جلد ۳ ، ص ۳۳۰۔ 2۔ نوراثقلین ،جلد ۳ ،ص ۳۳۰۔ 3۔ اولین دانش گاہ و آخریں پیغمبر ،جلد ۷، ص۶۵۔ 4۔اولین دانش گاہ آخرین پیغمبر ،جلد ۷،ص ۶۵۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:22-26
۴۔خاموشی کا روزہ
۴۔خاموشی کا روزہ : مذکور ہ بالاآیات کا ظاہری مفہوم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مریم (علیه السلام) ایک خاص مصلحت کی خاطر خاموشی پر امور تھا اور خد اوندتعالیٰ کے حکم سے اس خاص مدّت میں بات کرنے سے اجتناب کررہی تھیں تاکہ ان کا نومود بچہ عیسٰی (علیه السلام) بات کرنے کے لیے لب کشائی کرے اور ان کی پاکیزگی کادفاع کرے ،کیونکہ یہ بات ہر لحاظ سے موثر تراور بہت سے امور پر محیط تھی ۔ لیکن آیت کی تعبیر سے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ نذر سکوت (خاموشی کے دروازے کی منت ماننا) اس قوم اور جمیعت کے لیے ایک جاناپہچانا نام تھا ، اسی وجہ سے اس کام کے لیے انہوں نے جناب مریم (علیه السلام) پر کوئی اعتراض نہ کیا ۔ لیکن اس قسم کاروزہ شریعت اسلام میں مشروع اور جائز نہیں ہے ۔ حضرت امام علی بن الحسین علیہ السلام سے ایک حدیث میں منقول ہے : صوم الکوت حرام خاموشی کا روزہ حرام ہے (1) ۔ یہ بات ظہور اسلام کے زمانے اور اس زمانے کی شرائط میں اختلاف اور فرق کی و جہ سے ہے ۔ ہاں البتہ اسلام میں کامل روزہ کے آداب میں سے ایک بات یہ ہے کہ انسان روزے کی حالت میں اپنی زبان کو گناہ اور مکروہات کی آلودگی سے بچائے اور اسی طرح اپنی آنکھوں کو ہر قسم کی آلودگی سے بندر کھے ،جیساکہ ہم امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں پڑھتے ہیں : ان الصوم لیس من الطعام والشراب وحدہ ،ان مریم قالت انی نذرت للرحمن صوما، ای صمتا ،فاحفظو النتکم و غضواالبصارکم ولاتحاسدواولاتبنازعوا: روزہ صرف کھانے اور پینے سے ہی نہیں ہے ،حضرت مریم (علیه السلام) نے کہا : کہ میں نے خدائے رحمن کے لیے روزہ کی نذر مانی ہے یعنی خاموش رہنے کی ، اس بناپر (جب تم روزہ کی حالت میں ہوتو ) اپنی زبان کی حفاظت کرو ، : اپنی آنکھو ں کو ہراس چیز سے کہ جس میں گناہ ہو بند رکھو ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور جھگڑ انہ کرو (2) ۔ 1۔وسائل اشیعہ ،جلد ۷ ،ص ۳۹۰۔ 2۔من لایحضرہ الفقیہ طبق نقل تفسیر نوالثقلین ،جلد ۳ ، ص ۳۳۲۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:22-26
۳۔ایک سوال کا جواب
۳۔ایک سوال کا جواب : بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ اگر معجزہ انبیاء اور آئمہ کے ساتھ مخصوص ہے تو پھر جناب مریم (علیه السلام) کے لیے ایسے معجزات کیونکر ظہورپذیر ہو ئے ۔ بعض مفسرین نے اس سوال کے جوا ب کے لیے ان کو حضرت عیسٰی کے معجزات میں سے قراردیا ہے کہ جو تمہید کے طورپر و قوع پذیرہوئے تھے اور وہ انہیں ”ارھاص “ سے تعبیر کرتے ہیں ( ارھاص مقدمہ کے طورپر ظاہرہونے والے معجزے کے معنی میں ہے ) ۔ لیکن اس قسم کے جوابات کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ معجزات کا ظہور انبیاء اور آئمہ کے علاوہ کسی کے لیے کوئی مانع نہیں رکھتا ، یہ وہی چیز ہے کہ جیسے ہم کرامت کہتے ہیں ۔ معجزہ وہ ہے کہ جس میں ” تحدی “ یعنی چیلنج ادّعائے نبوت وامامت کے ساتھ ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:22-26
۲۔ مریم (علیه السلام) نے موت کی تمناکیوں کی ؟
۲۔ مریم (علیه السلام) نے موت کی تمناکیوں کی ؟ اس میں شک نہیں ہے کہ خداوند تعالیٰ سے موت کا تقاضاکرنااچھاکام نہیں ہے لیکن کبھی انسان کی زندگی میں ایسے سخت حادثات بھی پیش آجاتے ہیں ک جس سے زندگی کا ذائقہ بالکل تلخ اور ناگوار ہو جاتا ہے خصوصاایسے مواقع پر کہ جہاں انسان ،مقدس مقاصد ےا اپنے شرف و حیثیت کو خطرے میں دیکھتا ہے اور دفاع کی طاقت نہیں رکھتا ،ایسے مواقع پر بعض اوقات روحانی اذیت سے رہائی کے لیے موت کا تقاضاکرتا ہے ۔ لیکن اس قسم کے انکار جو شاہد ہی مختصر سی مدت کے لیے صورت پذیر ہوئے تھے زیادہ دیرتک نہ رہے اور خداوند تعالیٰ کے دو معجزات یعنی پانی کا چشمہ پھوٹنے اور کھجورکا خشک درخت بارآور ہوتے دیکھا تو افکار برطرف ہو گئے ،اور اطمنان و سکون کا نور ان کے دل پر چھاگیا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:22-26
۱۔حضرت مریم (علیه السلام) کی مشکلات میں تربیت
۱۔حضرت مریم (علیه السلام) کی مشکلات میں تربیت : وہ حادثات جو اس مختصر سی مدّت میں حضرت مریم (علیه السلام) پر گزرے اور لطف خداکے ایسے حیرت انگیز مناظر جو ان کے سامنے آئے ،اور وہ مسلمہ طورپر انہیں ایک اولوالعزم پیغمبر کی پرورش کے لیے تیار کرہے تھے تاکہ وہ اس عظیم کام کی انجام دہی کے لیے اپنی مادری ذمہ داریوں کو اچھی طرح اداکرسکیں ۔ حادثات کی رفتارانہیں مشکلات کے آخری مرحلہ تک یہاں لے گئے یہاں تک کے انہیں اپنے اورزندگی کے اختتام کے درمیان ایک قدم سے زیادہ فاصلہ دکھائی نہ دیتا ۔ لیکن اچانک ورق الٹ جاتا اور تمام چیزیں ان کی مدد کے لیے دوڈ پڑتیں اور وہ ہر لحاظ سے آرام و سکون اور مطمئن ماحول میں قدم رکھ دیتیں ۔” ھذی الیک بجذع النخلة “ کاجملہ کہ جو حضرت مریم (علیه السلام) کو یہ حکم دے رہاہے کہ وہ کھجورکے درخت کو ہلائیں تاکہ اس کے پھل سے فائدہ اٹھائیں ، انہیں اور تمام انسانوں کو یہ سبق سکھاتا ہے کہ زندگی کے سخت ترین لمحات میں بھی تلاش اور کوشش سے ہاتھ نہیں اٹھاناچاہیے ۔ یہ بات ان لوگوں کاجواب ہے کہ جو یہ سوچتے ہیں کہ اس بات کی کیا ضرورت تھی کہ مریم (علیه السلام) اس حالت میں کہ انہیں ابھی ابھی و ضع حمل ہواتھا ،اٹھیں اورکھجورکے درخت کو ہلائیں ؟کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ وہ خداجس کے حکم سے خشک درخت بھی بارآور ہو گیا ، ہواکو بھچ دیتا تاکہ وہ درخت کی شاخوں کو ہلاتی اور مریم (علیه السلام) کء گرد ا گرد کھجوریں گراتی ، یہ کیا ہوا کہ جب مریم (علیه السلام) صحیح و سالم تھی تو جنت کے پھل ان کی محراب کے پاس آجاتے لیکن اس وقت جبکہ و ہ اس شدید مشکل میں گرفتار تھیں تو انہیں خوپھل چننے پڑے ؟ ہاں : مریم (علیه السلام) کو خداوندتعالیٰ کا یہ حکم اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ جب تک ہماری طرف سے حرکت نہیں ہوگی کو ئی برکت نہیں ہوگی ۔دوسرے الفاظ میں ہر شخص کو مشکلات کے وقت زیادہ کوشش کرنی چاہیے اوراس کے علاوہ وہ جو باتیں اس کی قدرت و طاقت سے باہر ہیں ان کے لیے خداوند تعالیٰ کے حضورمیں دعاکرے ۔جیساکہ شاعرنے کہا برخیزو فشاں درخت خرما تاسیرشوی رسی ببارش کان مریم تا درخت نفشاند خرمانفتاد در کنارش