قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا
He said, ‘My Lord! Appoint a sign for me.’ He said, ‘Your sign is that you will not speak to the people for three complete nights.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 19:10
[Pooya/Ali Commentary 19:10] (see commentary for verse 2)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:10-11
زکریا کی آرزو پوری ہوگئی
زکریا کی آرزو پوری ہوگئی : یہ آیات حضرت زکریا (علیه السلام) کی دعاکی بارگاہ پرور دگار میں قبولیت کو بیا ن کرہی ہیں یہ ایسا استجابت و قبولیت تھی جو اس کے مخصوص لطف و عنایت سے آمینحتہ تھی فرمایا گیا : اے زکریا ! ہم تجھے ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں کہ جس کا نام یحییٰ ہے ،ایسا لڑکا کہ جس کا پہلے کوئی ہم نام نہیں ہوا ۔(یا زکریا انا نبشرک بغلام اسمہ یحیی( لم نجعل لہ من قبل سمیاً ) کس قدر جاذب اور عمد ہ چیز ہے کہ خد وند تعالیٰ اپنے بندہ کی دعا اس طرح قبول کرے ،اور بشارت دے کر اس کی دعا کے نتیجے سے اسے اگاہ کرے اور فرزند کی در خواوست میں ایک بیٹاعنایت کرے اور اس کا نام بھی خود ہی رکھ دے ۔اور امزید کہے کہ یہ فرزند کئی جہات سے منفردہے او ر اس سے پہلے کوئی ایسانہیں ہوا ۔ کیونکہ (لم نجعل لہ من قبل سمیا) کا ترجمہ اگر چہ ظاہر اً اس معنی میں ہے کہ اب تک کوئی اس کا نام نہیں تھا ۔لیکن چونکہ محض نام کسی کی شخصیت کی دلیل نہیں ہے لہذا معلو م ہوتا ہے کہ یہ اسم مسمّٰی کی طرف اشارہ ہے یعنی اس جیسی امتیازی خصوصیات کا حامل اس سے پہلے کوئی نہیں ہو ا جیساکہ راغب نے مفردات میںصراحت کے ساتھ یہ معنی بیان کیا ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت یحییٰ سے پہلے بہت سے بزرگ پیغمبر کزرگئے ہیں جو ان سے بالا تر اور افضل تھے ۔لیکن اس بات میں کوئی امرنہیں ہے کہ یحییٰ کچھ امتیاز ی خصوصیات رکھتے ہوں جو انہیں کے ساتھ مخصوص ہوں ۔جیسا کہ بعد میں اس کی طرف اشارہ ہوگا ۔ لیکن حضرت زکریا (علیه السلام) چونکہ ایسے مطلوب تک پہنچنے کے لیے ظاہر ی اسباب کو کارآمد نہیں سمجھتے تھے لہذا انہونے بار گاہ پرور دگار میں وضحت کا تقاضا کیا ۔انہونے کہا پرور دگار ا ! یہ کیسے ممکن ہے کہ مجھے وئی بیٹا نصیب ہو جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بھی سن وسال کے لحاض سے اس حد کو پہنچ گیا ہوں کہ بالکل بوڑھا اور ناکارہ ہوگیا ہوں (قال رب انی یکون لی غلام و کانت امراء تی عاقرً و قد بلغت من الکبرعیاً) ” عاقرً“ اصل میں عقر کے مادہ سے جڑ اور بنیاد کے معنی میں یا جیس یعنی بند ہوجانے کے معنی میں ہے اور یہ جو بانجھ عواتوں کو ”عاقر “ کہتے ہیں تو اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ اوالاد کے قابل نہیں رہی ہو تیں یا یہ کہ ان کے بچہ کی پیدائش بند ہو گئی ہو تی ہے ۔ ”عتی “ اس شخص کو کہتے ہیں کہ زیادہ عمر ہوجانے کے سبب سے بدن خشک ہو گیا ہو ۔وہی حات جو بہت زیاد ہ سن ر سیدہ ہونے کی وجہ سے انسان میں پیداہوجاتی ہے ۔ لیکن بہت جلدی حضرت زکریا (علیه السلام) کو ان کے سوال کے جواب میں بارگاہ خداوندی سے یہ پیغام مل گیا ”فرمایا : معاملہ اسی طرح ہے کہ جیسا تیرے پرور دگار نے کہا ہے اور یہ میرے لیے آسان بات ہے (قال کذالک قال ربک ھواعلی ھین ) ۔۱ یہ مسئلہ کوئی عجیب و غریب نہیں ہے کہ تجھ جیسے بوڑھے اور ظاہر اًبانجھ بیوی سے بچہ پیدا ہو اور میں نے تجھے پہلے پیدا کیا تھا جبکہ تو کچھ نہیں تھا (وقد خلقتک من قبل و لم تک شیئا) وہ خداجو یہ قدرت و توانائی رکھتا ہے کہ بغیر کسی چیز کے تمام چیزوں کو پیدا کرے یہ کونسی تعجب کی بات ہے کہ اس سن و سال میں اور ان حالات میں تجھے فرزندعناےت کردے ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ پہلے آیات میں بشارت دینے والا اور کلام کرنے والا خداوند عالم ہے لیکن یہ کہ تیسری زیربحث آیت (قال کذالک قال ربک) میں گفتگو کرنے والاکو ن ہے ۔بعض اسے فرشتوں کی گفتگو سمجھتے ہیں کہ جو زکریا (علیه السلام) کو بشارت دینے کا ذریعہ بنے تھے اور اسورہ آل عمران کی آیت ۳۹ کو اس کا گواہ سمجھا جاسکتا ہے :۔ فناد تہ الملائکت و ھو قائم یصلی فی المحراب ان اللہ یبشرک یحییٰ فرشتوں نے زکریا (علیه السلام) کو ندادی جبکہ وہ محراب میں کھڑے ہوئے تھے اور مشغول نماز تھے کہ خداتجھے یحییٰ کی بشارت دیتا ہے ۔ لیکن ظاہر یہ ہے ان تمام جملوں کا کہنے والاخدا ہے اور کوئی دلیل ایسی نہیں ہے ک ہم اس کے ظاہر کے خلاف معنی کریں ۔اگر فرشتے بشارت دینے کے واسطے تھے تو بھی کوئی امر مانع نہیں ہے کہ خداتعالی ٰ اصل پیغام کو اپنی طرف نسبت دے ،خصوصاً جبکہ ہم اسی سورہ آل عمران کی آیہ ۴۰ میں یہ پڑھتے ہیں : قال کذالک اللہ یفعل ماعشآئ خدااسی طرح سے جوکچھ چہاتا ہے انجام دیتا ہے ۔ بہر حال حضرت زکریا (علیه السلام) بہت ہی مسرور رہوئے ،نور امید لئے ان کے سراپا کو گھیر لیا یہ پیغام ان کی نظر میں بہت ہی اہم اور ان کے مستقبل کو روشن کرنے ولاتھا، لہذاخداوند تعالیٰ سے اس کام کے لیے نشانی کا تقاضا کیا اور ” کہا پرور دیگار ا ! میرے لئے کوئی نشانی قراردے “ ( قال رب اجل لی اٰیة) ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت زکریا (علیه السلام)خدائی وعدہ پر ایمان رکھتے تھے اور وہ بالکل مطمئن تھے ۔لیکن جس طرح حضرت ابراھیم (علیه السلام) نے جو معاد پر ایمان کا مل رکھتے تھے زیادہ سے اطمینان قلب کی خاطر اسی زندگی میں معاد کی صورت کا مشاہدہ کرنے کا تقاضا کیا تھا اسی طرح زکریا (علیه السلام) نے بھی زیادہ سے زیادہ حصول اطمینان کے لئے اس قسم کی نشانی کا تقاضا کیا تھا ۔ خداوندتعالیٰ نے فرمایا : تمہاری نشانی یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ تمہا ری زبان صحیح و سالم ہے تم مکمل تین دن رات لوگوں سے گفتگو نہیں سکوگے اور تمہاری زبان صرف ذکرر خدااور اس سے مناجات کر سکے گے ( قال اٰیایتک ان لا تکلم النّاس ثلاث لیالی سویّاً) ۔ لیکن یہ کتنی عجیب غریب نشانی تھی یہ ایک ایسی نشانی تھی کہ جو ایک طرف تو اس کی مناجات و دعا کے ساتھ ہم آہنگ تھی اور دوسری طرف اس کو تمام مخلوق سے منقطع کرہی تھی اور خداکے ساتھ اس کا قائم کررہی تھی تاکہ اس حال میں اس عظیم نعمت کا شکربجالائے اور اسے زیادہ سے زیادہ خداتعالیٰ کی حمد ثناپر آمادہ کرے ۔ یہ ایک وضح اور آشکار نشانی ہے کہ انسان صحیح و سالم زبان رکھتے ہوئے اور پر ور دیگا ر کے ساتھ پر قسم کی مناجات و حمدو ثناکرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود لوگوں سے بات کرنے کی طاقت نہ رکھتاہو ۔ اس بشارت اور اس واضح نشانی کے بعد حضرت زکریا (علیه السلام) اپنی محراب عبادت سے لوگوں کے پاس آئے اور نہیں اشارہ کے ساتھ اس طرح کہا : صبح شام پرور دگار کی تسبیح کرو ( فخرج علیٰ قومہ من المحراب فاوحی الیھم ان سبحو بکرة عشیّاً) ۔ کیونکہ وہ عظیم نعمت جو خد اوند تولیٰ نے زکریا (علیه السلام) کو عاطا فرمائی تھی اس کی وسعت پوری قوم کے لئے تھی اور ان سب کے مستقل پر اثر اندا ز ہونےوالی تھی اسی بناپر اس لائق تھی کہ اس نعمت کے شکرانے میں سب کے سب خداوندتعالیٰ کی تسبح کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور خداوند تعاکی مدح ثناکریں اس سے بھی بڑ ھ کر بات یہ ہے کہ یہ عطاکہ جو ایک معجزہ تھی افراد بشر کے دلوں میں ایمان کی جڑیں راسخ کر سکتی تھی یہ بھی ایک اورنعمت تھی ۔ ۱۔مفسرین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ ” کذالک “ کا جملہ تقدیر میں ( لا مرکذالک) تھا یعنی مطلب اسی طرح ہے ۔یہ احتمال بھی ہے ک کذالک کا تعلق بعد والے جملے کے ساتھ ہوااور اس کا مفہون یہ ہوکہ اس طرح تیرے پرودگار نے کہا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:10-11
۲۔محراب
۲۔محراب : یہ ایک ایسی مخصوص جگہ ہوتی ہے کہ عبادت تگاہ میں امام یا پیش نماز کے لیے مخصوص کردی جاتی ہے اور اس کا نام رکھنے کی دو وجوہات بیان کی جاتی ہیں ۔ پہلی یہ کہ مادہ ” حرب “ حرب سے جو جنگ کے معنی میں ہے لیا گیا ہے کیونکہ محراب در حقیقت شیطان اور ہوائے نفس کے ساتھ مبارزہ اور جنگ کرنے کی جگہ ہے دوسری وجہ یہ کہ محراب لغت میں مجلس کے معنی میں لیا گیا ہے کیونکہ محرابکی جگہ عبادت گاہ کے اوپر ہوتی والے حصّہ میں ہوتی تھی لہذااسے یہ نام دیا گیا بعض یہ کہتے ہیں کہ ، جو کچھ ہمارے ہاں معمول ہے ،اس کے برعکس بنی اسرائیل میں”محرب “ سطح زمین سے کچھ اوپر ہوتی تھی اور اس میں کچھ سڑھیاں ہوتی تھیں اور اس کے چارو ں طرف دیوار کھچی ہوئی ہوتی تی ، اس طرح سے کہ جو لوگ محراب میں ہوتے تھے وہ باہر سے دکھائی نہیں دیتے تھے ، ” فخرج علی قومہ من المحراب “ کا جملہ جو ہم نے مذکورہ بالاآیات میں پڑھا ہے لفظ ”علی “ پر توجہ کرتے ہوئے کہ جو کام عام طو ر پر اوپر کی سمت کے لیے استعمال ہوتا ہے اس معنی کی تا ئید کرتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:10-11
۱۔ یحییٰ (علیه السلام) ،عشق الٰہی میں سرشار پیغمبر
۱۔ یحییٰ (علیه السلام) ،عشق الٰہی میں سرشار پیغمبر : حضرت یحییٰ (علیه السلام) کا نام سورہ آل عمران ، انعام ، مریم اور انبیاء میں مجموعی طور پر پانچ مرتبہ آیا ہے وہ خداوند تعالیٰ کے ایک عظیم پیغمبر تھے اور ان کی خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ وہ بچپن میں مقام ِنبوت پر فائز ہوئے خداوند تعالیٰ نے انہیں اس سن و سال میں ایسی روشن عقل اور اتنی تابناک فہم و فراست عطافرمائی کہ اوہ اس عظیم منصب کو قبول کرنے کے لائق قرار پائے ۔ اس پیغمبر کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک کے بارے میں قرآن نے سورہ آل عمران کی آیہ ۲۹ میں اشارہ کیا ہے اور ان کے حصور کے ساتھ توصیف و تعریف ہے ۔جیسا کہ ہم نے اسی آیت کے ذیل میں بیان کیا ہے کہ ” حصور “ کے مادہ سے اس شخص کے معنی میں ہے کہ جو کسی جہت سے محاصرہ میں قرار پائے ،اور اس مقام پر بعض روایات کے مظابق شادی سے اجتناب کرنے کے معنی میں ہے ۔ یہ کام ان کے لیے اس لحاظ سے امتیاز تھا کہ یہ ان کی انتہائی عفت و پاکیزگی کو بیان کرتا ہے یا وہ زندگی کے مخصوص حالات کی بناپر دین الہی کی تبلیغ کے لیے متعدد سفر وں پرجانے پر مجبور تھے اور عیسیٰ مسیح (علیه السلام) کی طرح مجروزندگی بسر کرنے پر مجبور تھے ۔ یہ تفسیر بھی ممکن ہے کہ اس آیت میں ” حصور “ سے مراد وہ شخص ہے کہ جس نے دنیاوی خواہشات اور ہوس کو ترک کردیا ہو اور در حقیقت یہ زہد کا ایک اعلیٰ مرحلہ ہو (۲) ۔ بہر حال منابع اسلامی اور منابع مسیح سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یحییٰ (علیه السلام) حضرت عیسیٰ کی خالہ کے بیٹے تھے ۔ منابع مسح میں تصریح ہوئی ہے،کہ حضرت یحییٰ نے حضرت عیسیٰ کو غسل تعیدو دیا اور اسی لئے انہیں ”یحییٰ تعمید و ہندہ “ کے نام سے پکارتے ہیں (غسل تعمید ایک مخصوص غسل ہے کہ جو عیسائی اپنے بیٹوں کو دیتے ہیں اور انکا عقیدہ یہ ہے کہ وہ انہیں گناہ سے پاک کرتا ہے ) اور جب حضرت مسیح (علیه السلام) نے اعلان نبوت کیا تو حضرت یحییٰ (علیه السلام)ان پر ایمان لائے ۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت یحییٰ (علیه السلام) کو ئی خاص آسمانی کتا ب نہیں رکھتے تھے اور یہ جو بعد کی آیت میں ہم پڑ ھتے ہیں :۔ یایحییٰ خذالکتاب بقوة اے یحییٰ ! کتاب کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو یہ حضرت موسٰی (علیه السلام) کی کتاب تورات کی طر ف اشارہ ہے البتہ کچھ لوگ حضرت یحییٰ کے پیرو ہیں وہ ان کی طرف ایک کتاب کی نسبت بھی دیتے ہیں اور شاید ”موحدصائبین “ حضرت یحییٰ کے پیروہیں (۳) ۔ حضرت یحییٰ اور حضرت عیسٰی(علیه السلام) میں بعض چیزیں قدر مشترک تھیں انتہائی زیادہ زہد و تقویٰ ،مذکورہ بالااسباب کی بنا ء پر ترک ازدواج معجزہ انہ طورپر پیار ہونا اور اسی طرح بہت ہی زیادہ قریبی نسبت ۔ اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یحییٰ میں بھی بعض باتیں مشتر ک تھیں، لہذ اامام علی بن الحسین زین العابدین (علیه السلام) سے اس طرح نقل ہواہے کہ آپ نے فرمایا : خرجنامع الحسین بن علی (ع )فمامنزلاولارحل منہ الاذکریحییٰ بن ذکریا و قتلہ ، وقال ومن ھوان الہ دنیا علی اللہ ان رائس یحییٰ بن زکریا اھدی الیٰ بغی من بغا یاابنی اسرائیل ہم امام حسین (علیه السلام)کے ساتھ( کربلاکی طرف جاتے ہوئے ) باہر نکلے تو امام جس منزل میں نزول اجلافرماتے یا اس سے کوچ کرتے تو یحییٰ (علیه السلام) اور ان کے چہید ہونے کو یاد کرتے اور فرماتے کہ خداوند تعالیٰ کے نزدیک دنیاکی بے قدری کے لیے یہی کافی ہے کہ یحییٰ اور بن زکریا (علیه السلام) کا سر بنی اسرائیل کے بد کاروں میں سے ایک بد کار کے پاس ہدیہ کے طورپر لایاگیا (۴) ۔ حضرت امام حسین (علیه السلام) کی شہادت بھی کئی ایک جہات سے حضرت یحییٰ کی شہادت کی مانند تھی ۔(حضرت یحییٰ کے قتل ہونے کی کیفیت ہم بعد میں بیان کریں گے ) ۔ امام حسین (علیه السلام) کا نام بھی حضرت یحییٰ کے نام کی طرح بے سابقہ تھا (اور پہلے کسی کا یہ نام بھی نہیں تھا ) اور ان کی مدت حمل ”جس وقت شکم مادر میں تھی “ معمولی کی نسبت بہت کم تھی ۔ ۲۔اس بار ے میں کہ مخص ترک ازدواج اکیلاباعث فضیلت نہیں ہو سکتا اور قانون اسلام نے ازدواج کے سلسلے میں تاکید کی ہے تفسیر نمونہ کیددوسری جلد ،ص ،۳۱۷ (اردو ترجمہ ) میں ہم نے تفصیل سے بحث کی ہے ۔ ۳۔اعلام قرآن ،ص ۶۶۷۔ 4۔اعلام قرآن ،ص ۶۶۷۔