كٓهيعٓصٓ
Kaf, Ha, Ya, ‘Ayn, Suad.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 19:1
[Pooya/Ali Commentary 19:1] For Kaf, Ha, Ya, Ayn, Sad (huruf muqatta-at) refer to the commentary Baqarah: 1.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 19:1-15
Bodily note is worth remembering as to why the Shias do not accept so-called Prophets’ traditions without scrutiny as genuine, unless tested by the text.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:1-6
سوره مریم / آیه 1 - 6
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ كهيعص (1) ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا (2) إِذْ نادى رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا (3) قالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَ اشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْباً وَ لَمْ أَكُنْ بِدُعائِكَ رَبِّ شَقِيًّا (4) وَ إِنِّي خِفْتُ الْمَوالِيَ مِنْ وَرائي وَ كانَتِ امْرَأَتي عاقِراً فَهَبْ لي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُني وَ يَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (6) ترجمہ شروع اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے ۱۔ کھیعص ۲۔ یہ تیرے پروردگار کے رحمت کی اس بندے زکریا کے بارے میں ایک یاد ہیں۔ ۳۔ اس وقت جب کہ اسنے (عبادت کی) خلوتگاہ میں اپنے پروردگار کو پکارا۔ ۴۔ اس نے کہا پروردگار میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور بڑاپے کے شعلے نے میرے تمام سر کو گھیر لیا ہے اور میں تجھ سے دعا کر کے کبھی محروم نہیں رہا ہوں۔ ۵۔ اور میں اپنے بعد اپنے رشتیداروں سے خوفزدہ ہوں(کہ وہ تیرے دین کی پاسداری کا حق ادا نہیں کریںگے) اور میرے بیوی بانجھ ہے پس تو اپنی قدرت سے مجہے جانشین عطا فرما۔ ۶۔ کہ جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کا بھی وارث بنے اور تو اسکو اپنی رضا و پسندیدگی سے نواز۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:1-6
حضرت زکریا کی پراثر دعا
پھر اس سورہ کی ابتداء میں ہمیں حروف مقطعہ کا سامنا ہے ” کھٰیٰعص“ اور چونکہ ہم سابقاقرآن کی تین مختلف سورتوں (سورہ بقرہ ،سورہ آل عمران ،اور سورہ اعراف ) کی ابتدامیں حروف مقطعہ کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بحث کر چکے ہیں لہذا ہم یہاں پر تکرار کی ضرورت نہیں سمجھتے(۱) ۔ پہلی روایت تو وہ ہیں کہ جو ان حروف مقطعہ میں سے ہر ایک کو خداوند تعالیٰ کے عظیم اسماء حسنیٰ میں سے ایک ایک اسم کی طرف اشارہ قرار دیتی ہیں ”کاف ‘ ‘ اشارہ ہے ”کافی “ کی طرف ک جوخداوند تعالیٰ کا ایک عظیم نام ہے ”ھ“ اشارہ ہے ”ھادی “ کی طرف ”یاء“ اشارہ ہے ”ولی “ اور ”عین “اشارہ ہے ”عالم “ کی طرف اور” ص “اشارہ ہے ”صادق الواعد “ (وہ جو اپنے وعدہ کا سچّاہے )کی طرف (۲) ۔ دوسری قسم ان روایات کی ہے کہ جو ان حروف مقطعہ کی کربلا میں امام حسین (علیه السلام) کے قیام کی داستاں کے ساتھ تفسیر کرتی ہیں ان کےس مطابق ”کاف “ اشارہے ”کربلا“کی طرف ”ھاء“اشارہ ہے خاندان پیغمبر اکرم کے ہلاک اور شہید ہونے کی طرف اور ” یا“ یزید کی طرف اور ”عین “ مسئلہ عطش (پیاس ) کی طرف اور ”ص“ امام حسین (علیه السلام) اور ان کے جانبازیاروانصار کے ”صبر “ واستقامت کی طرف (۳) ۔ البتہ جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں قرآن مجید کی آیات مختلف معانی کی حامل ہو سکتی ہیں اور بعض اوقات گزشتہ اور آیند ہ کے مفاہیم بیا ن کرتی ہیں ک جومتنوع ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے اختلاف نہیں رکھتے جبکہ اگر معنیٰ کو ایک تفسیر میں منحصر کردیں توہوسکتا ہے کہ ہم آیت کی فضع کیفیت نزول اور اس کے زمانے کے لحاظ سے کئی ایک اشکال میں گرفتار ہوجائیں ۔ حروف مقطعہ کے ذکر کے بعد سب سے پہلی بات حضرت زکریا کی داستان سے شروع ہوتی ہے ۔خدافرماتا ہے : یہ یاد ہے اس رحمت کی جو تیرے پروردگار نے اپنے بندے زکریا پر کی (فکر رحمةربک عبدہ زکریا ) ۔۴ ”ھذاذکررحمةربک“ اس وقت جبکہ وہ کوئی فرزند نہ ہو نے کی وجہ سے سخت پریشان اور غمناک تھے تو انہونے درگاہ خداکی طرف رخ کیا ،اس وقت خلوت گاہ میں اور وہاں پر کہ جہاں کوئی ان کی آواز نہیں سن رہاتھا اپنے پرور دگار کو پکارا اور اس سے دعاکی (اذنادٰی ربہ نداء خفیاً ) ۔ ”اس نے کہا پرور دگار ا ! میری ہڈیاں جومیرے جسم کا ستون اور میرے بدن کا محکم ترین اعضاء ہیں کمزور ہو گئے ہیں (قال رب انی وھن العظم منی)اور بڑھاپے کے شعلوں نے میرے سر کے تمام بالوں کو گھیرلیا ہے (واشتغل الرائس شیباً ) بڑھاپے کے آثار کو ایسے شعلے سے تشبیہ دینا کہ جو تمام سر کو گھیر لے ایک جاذب نظر اور غمدہ تشبیہ ہے ۔کیوں کہ ایک طرف تو آگ کے شعلہ کی خاصیت یہ ہے کہ وہ جلدی پھیل جاتا ہے اور جو کچھ اس کے اطراف میں ہواسے گھیر لیتا ہے اور دوسری طرف آ گ کے شعلے ایک خاص قسم کی روشنی اور چمک کے حامل ہوتے ہیں اور دور سے توجہ مبندول کراتے ہیں اور تیسری طرف جس وقت آگ کسی جگہ کو گھیر تی ہے جو چیز اس سے باقی رہ جاتی ہے وہی خاکستر ہی ہو تی ہے ۔ حضرت ذکریا نے بڑھاپے کے گھیر لینے اور سر کے تمام بالوں کی سفیدی کو آگ کے شعلہ ور ہونے اور اس کے چمکنے اور سفیدی خاکستر کو اس کی جگہ پر باقی رہنے کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور یہ تشبیہ بہت ہی رسااور زیباتشبیہ ہے ۔ اس کے بعد مزید کہتے ہیں :۔میں ہر گز ان دعاؤں میں ، جو میں نے تیری بارگاہ میں کبھی کی ہیںمحروم نہیں پلٹا (اولم اکن بدعائک رب شقیاً )گزشتہ زمانے میں تونے مجھے ہمیشہ دعاؤ ں کی اجازت وقبولیت کا عادی بنا یا ہے اور مجھے محروم نہیں کیا ۔اب جبکہ میں بوڑھاہوگیاہوں اور ناتواں ہو گیا ہوں تو اب اور بھی زیادہ اس بات کا حقدار ہوں کہ تو دعاقبول فرمائے اور مجھے نا امید نہ پلٹائے ۔ حقیت میں ”شقادت “ یہاں پر تعب اور رنج و تکلیف کے معنیٰ میں ہے یعنی میں کبھی اپنی در خواستوں میں تجھ سے زحمت و مشقت میں نہیں پڑا کیونکہ وہ جلدی تیری بارگاہ میں قبول ہو جایا کرتی تھیں ۔ اس کے بعد اپنی حاجت کی اس طرح تشریح کر تے ہیں : پروردگارا ! میں اپنے بعد اپنے عزیز و اقاب سے خوفزدہ ہیں (ہو سکتا ہے وہ فتنہ فساد سے اپنے ہاتھ آلودہ کریں ) اور میری بیوی بانجھ ہے ،تو اپنی طرف سے مجھے ولی جانشین بخش دے ۔ (وانی خفت الموالی من ورائی وکانت امراء تی عاقرافھب لی من لدنک ولیّاٰ) ایساجانشین کہ جو میرابھی وارث بنے اور اسی طرح آل یعقوب کا بھی وارث ہو ۔ پرور دگا ر ا ! میرے اس جانشین کو اپنا پسندیدہ بنا ۔ (یر ثنی ویرث من اٰل یعقوب و اجعلہ ربّ رضیّاً)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:1-6
۱۔یہاں میراث سے کیا مراد ہے ؟
۱۔یہاں میراث سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین اسلام نے اس سوال کے بارے میں بہت بحث کی ہے ایک گروہ کا یہ نظریہ ہے کہ یہا ں ارث سے مراد مال کی میراث ہے ، اور ایک گروہ اسے مقام نبوت کی طر ف اشارہ سمجھتا ہے ۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس سے ایک ایسا جامع معنیٰ مراد ہے جس میں دونو مفاہیم شامل ہیں ۔ بہت سے شیعہ علماء نے پہلے معنی کو انتخاب کیا ہے جبکہ علماء اہل سنّت کی ایک جماعت نے دوسرے معنی کو ،اور بعض نے جیسا کہ سیّد قطب نے ”فی ظلال “ میں اور آلوسی نے ” روح المعانی “ میں تیسرے معنی کو انتخاب کیا ہے ۔ جن لوگوں نے اسے ارث مال میں منحصر سمجھا ہے ،انہوں نے یہ معنی مراد لینے میں لفظ ”ارث “کے کے ظاہر سے استناد کیا ہے کیو نکہ یہ لفظ جب تک دوسرے قرائن سے خالی ہو تو ارث مال ہی کے معنی دیتا ہے اور اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن کی چند ایک آیات میں یہ لفط معنوی امور میں استعمال ہو ا ہے ،تو یہ ان میں موجود قرئن کی بناپر ہے : مثلاً سورہ فاطر کی آیت ۳۲:۔ ثمہ اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا ۔ ہم نے آسمانی کتاب کو اپنے بز گزیدہ بندوں کی طرف بطور ارث منتقل کیا ہے ۔ علاوہ ازین چند ایک روایت سے معلوم ہو تا کہ اس زمانے میں بنی اسرائیل بہت سے ہدایا اور نذریں ” احبار “ (علماء یہود کے لیے لاتے تھے اور حضرت زکریا احبار کے سردار تھے ۔1 اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ حضرت زکریا کی زوجہ جو کہ حضرت سلمان (علیه السلام) بن داؤد کی اولاد میں سے تھیں ،حضرت سلمان (علیه السلام) اور داؤد (علیه السلام) کی مالی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے بہت سے اموال میراث میں پائے تھے ۔ حضرت ذکریا (علیه السلام) اس بات سے خوفزدہ تھے ،کہ مبادایہ مال غیرصالح ،مطلب پرست ،ذخیرہ اندوزیافاسق و فاجر افراد کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں گے اور وہ معاشرہ میں برائی کی ترویج کریں لہذااپنے پرور دگار سے صالح اور نیک بیٹے کی درخواست کی تاکہ وہ ان اموال کی نگرانی کرے اور انہیں بہتریں طریقہ سے خرج کرے ۔ وہ مشہور روایت ،کہ جو پیغمبر اسلام کی پاک بیٹی جناب فاطمہ (علیه السلام) زہراسے فدک لینے کے سلسلے میں،خلیفہ اوّل کے سامنے ،اس آیت سے استدلا ل کے بارے میں نقل ہوئی ہے ،خود اس دعوے کی ایک شاید ہے ۔ مرحوم طبرسی کتاب احتجاج میں بانو ئے اسلام حضرت فاطمہ (علیه السلام) زہراسے اس طرح نقل کرتے ہیں کہ: جس وقت خلیفئہ اول نے فدک کو جناب فاطمہ (علیه السلام) سے چین لینے کا مصمم اراوہ کر لیا اور ایہ خبر اس بی بی تک پہنچی تو آپ اس کے پاس آئیں اور اس طرح فرمایا:اے ابابکر ! افی کتاب اللہ ان ترث اباک ولاارث ابی لقد جئت شیئافریّا ؟ افعل عمد ترکتم کتاب اللہ ونبذ تمرہ وراء ظھورکم ؟ اذ یقول فیما اقتص من خیر یحییٰ بن زکریا :اذقال ربّ ہب لی من لدنک ولیاً یرثنی ویر ث من اٰل یعقوب ۔ ”کیا یہ بات کتاب خدامیں لکھی ہوئی ہے کہ توتو اپنے باپ کی میراث پائے اور میں اپنے باپ کی میراث نہ لو ں یہ تو عجیب وغیرب چیز ہے ،کیا تم لوگوں نے جان بوجھ کر کتاب خداکو چھوڑ دیا ہے اور اسے پس پشت ڈال دیا ہے ؟ جبکہ وہ یحییٰ بن زکریا کے قصّہ میں کہتا ہے کہ ” زکریا نے کہا خداوندا !تومجھے اپنی طرف سے جانشین عطافرما تاکہ وہ میراآل یعقوب کا وارث ہو ۔۶ لیکن وہ لوگ کہ جن کا یہ نظریا ہے ،کہ یہاں پر وہی معنوی معنی مراد ہے تو انہونے ایسے قرائن سے ، جو خود آیت میں یا اس سے باہر ہیں تمسک کیا ہے مثلاً :۔ ۱۔ یہ کہ یہ بات بعید نظر آتی ہے کہ حضرت زکریا (علیه السلام) جیسے عظیم پیغمبر اس سن وسال میں اپنی ثروت کے وارثوں کے بارے میں اس قدر فکر مند ہوں خصوصاً جبکہ ” یرثی ویرث من الی یعقوب “ کے جملوں کے ذکر کرنے کے بعد اس جملہ کا اضافہ کرتے ہیں (واجعلہ ربّ رضیّاً) ”خداوند اسے اپناپسندیدہ بنا “ اس میں شک نہیں کہ جملہ اس وارث کی معنوی صفات کی طرف اشارہ ہے ۔ ۲۔ آیندہ آیات میں جہاں خداوندتعالیٰ انہیں یحییٰ کے پیداہونے کی بشادت دیتا ہے وہاں عظیم معنوی مقامات کے منجملہ مقام نبوّت کا اس کے لیے ذکر کرتا ہے ۔ ۳۔ سورہ آل عمران کی آیت ۳۹میں جبکہ خداوند تعالیٰ زکریا (علیه السلام) کی طرف سے فرزند کے تقاضے کی تشریح میںیہ اشارہ کرتے ہے کہ وہ اس وقت اس سوچ میں پڑے کہ جب انہونے جناب مریم (علیه السلام) کے مقامات اور مراتب کا مشاہدہ کیا کہ پرور دگار کے لطف و کرم سے جنت کے کھانے اور پھل ان کی محراب عبادت پر آجاتے تھے ۔ ھنالک دعازکریا ربہ قال ھب لی من لدنک ذریة طیبة انک سمیع الدعاء ۴۔چند ایک احادیث میں پیغمبر اکرم سے نقل ہواہے جو اس بات کی تائید کرتا ہے کہ مراث یہاں معنوی پہلوکی طرف اشارہ ہے اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کے امام صادق (علیه السلام) پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیه السلام) ایک ایسی قبر کے نذدیک سے گزرے کہ جس میں موجود شخص عذاب میں گرفتا ر تھا ۔ اگلے سال بھی آپ کا گزر وہاں سے ہو ا تو آپ نے ملاحظ کیا کہ وہ صاحب قبر عذاب میں امتلانہیں ہے تو انہوں نے اپنے پرور دگارسے اس بارے سوال کیا توان کی طرف خداوند تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی کہ صاحب قبر کا ایک نیک بیٹا تھا اس نے ایک راستہ درستہ کیا تھا اور ایک یتیم کو پناہ دی تھی خداوندتعالی نے اس کے بیٹے کے اس عمل کی وجہ سے بخش دیا ہے اس کے بعد پیغمبر اکرم نے فرمایا : خداوند تعالیٰ کہ اس کے مومن بندسے کے لیے میراث یہ ہے کہ اسے ایسابیٹا دے کی جو اس کے بعد حکم خداکا مطیع وفرنبردارہو۔ اس کے بعد حضرت امام صادق (علیه السلام) نے اس حدیث کے نقل کرنے کے موقع پر حضرت زکریا (علیه السلام) یا سے متعلق آیت کی تلاوت فرمائی : ھب لی من لدنک ولیاً یرثنی ویرث من اٰل یعقوب وجعلہ ربّ رضیّا ۔3ً اور اگر یہ کہاجائے کہ لفظ ارث کا ظاہری وہی میراث اموال ہے تو وہ جواب میں کہیں گے یہ ظاہر ی معنی قطعی و یقینی نہیں ہے کیوں کہ قرآن میں بارہا معنوو ارث میں استعمال ہواہے ( مثلاً سورہ فاطر کی آیتہ ۳۲ اور سوہ مومن کی آیہ۵۳ ) ۔ علاوہ ازین اگر فرض کریں کہ خلاف ظاہرہوتو قرائن بالاکے ہوتے ہوئے کوئی مشکل باقی نہیں رہتی ۔ لیکن پہلے نظر یے والے استدلالات کا جواب دے سکتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ کے یہ عظیم پیغمبر اموا ل کے بارے میںذاتی غرض سے پریشان نہ تھے بلکہ وہ اسے معاشرے کے لیئے برائی کا منبع نہیں بننے دینا چاہتے تھے ان کی غرض یہ تھی کہ یہ صلاح ودرستی کے راستے میں استعمال ہوکیونکہ عبیساکہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے ،کہ (بنی اسرائیل ) احبار وعلماکے لیے بہت زیادہ ہدیے اور نذریں لاتے تھے کہ جو حضرت زکریا(علیه السلام) کے سپرد ہوتی تھیں اور شاہد بہت سے اموا ل ا ن کی بیوی کی طرف سے بھی کہ جو حضرت سلمان (علیه السلام) کی اولاد میں سے تھی باقی رہ گئے تھے ،اب یہ بات صاف طور پر واضح ہے کہ ان (اموال ) کے اوپر ایک غیر صالح شخص کا ہونا عظیم مفاسد کا سبب ہوتا ہے ۔اور یہی چیز تھی کہ جس نے حضرت زکریا(علیه السلام) کو پریشان کررکھاتھا ۔ باقی رہیں حضرت یحییٰ (علیه السلام) کے لئے معنوی صفات کہ جو اس آیت میں اور دوسری آیات قرآن میں ذکر ہوئی ہیں ،وہ نہ صرف یہ کہ اس بات کے معانی نہیں بلکہ وہ اس سے ہم آہنگ بھی ہیں ۔کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ یہ عظیم ثروت ایک مردخداپر ست اور ہرگز یدہ الہیٰ کے ہاتھ میں جائے اور وہ اس سے معاشرے کو سعادت کی راہ پر چلانے کے لیے استفادہ کرے۔ لیکن ہمارے نظریے کے مطابق اگر ہم اوپر کی مجموعی بحث سے یہ نتیجہ نکالیں کہ لفظ یہاں پروسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس میں ارث اموال بھی شامل ہے اور مقامات معنوی کی میراث بھی تو یہ کوئی غلط بات نہیں ہوگی کیونکہ ہرطرف کے لیے قرائن موجود ہیں اور قبل و بعد کی آیات اور تمام تر وآیات کی طرف توجہ کرنے سے یہ تفسیر کا مل طورپر صحیح مفہوم کے قریب نظر آتی ہے ۔ باقی رہا ( انی خفت الموال من ورائی ) ” مجھے اپنے بعد اپنے رشتہ داروں کا ڈر ہے “ کا جملہ تو وہ دونوں معانی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے کیونکہ اگر فاسد اور اپر ے لوگ ان اموال میں صاحب اختیار ہو جاتے تو واقعاً یہ پرشانی کرنے والی بات تھی اور اگر رہبری و ہدایت غیر صالح افرادکے ہاتھ جاپڑتی تو بہت ہی پریشانی اور مصیبت کا سبب بنتی ۔اس بناپر حضرت زکریا (علیه السلام) کا خوف ددونو ں صورتوں میں قابل توجہ ہے ۔ بانوئے اسلام حضرت فاطمہ زہرا(علیه السلام) کی مشہور حدیث بھی اس معنی کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ 1۔نوراثقلین ،جلد ۳ ، ص نمبر ۳۲۳۔ 2۔نوراثقلین ،جلد ۳ ، ص نمبر ۳۲۴۔ 3۔نوراثقلین ،جلد ۳ ،ص ۳۲۳۔۳۲۴۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:1-6
۲۔ اذنادٰی ربہّ نداء خفیاکامفہوم
۲۔ اذنادٰی ربہّ نداء خفیاکامفہوم : اس جملہ میں مفسرین کے لئے یہ سوال سامنے آیا ہے کہ ” نادٰی “ بلند آواز سے دعاکرنے کے معنی میں ہے جبکہ ”خفی “ آہستہ و مخفی کے معنی میں ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہیں لیکن اس نکتے کی فرف توجہ کرنے سے کہ ” خفی “ آہستہ کے معنی میں نہیں ہے بلکہ پوشیدہ اور مخفی کے معنی میں ہے ،اس بناپر بات ممکن ہے کہ حضرت زکریا (علیه السلام) نے انی خلوت گاہ میں کہ جہاں ان کے علاوہ کوئی دوسرا موجود نہیں تھا خداوند تعالیٰ کو بلند آواز میں پکارا ہو بعض نے کہا کہ ان کی یہ درخوست رات کی تاریکی اور وسط شب میں تھی کہ جس وقت لوگ خواب غفلت میں آرام کرہے تھے (1) ۔ نیز بعض نے ( فخرج علی قومہ من المحراب ) ” زکریا (علیه السلام) اپنی محراب سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے “ کہ جملہ کو ،کہ جو آیندہ کی آیات میں آئے گا اس دعا کے خلوت گاہ میں ہونے کی دلیل قراردیا ہے ۔(2) ۳۔ ویرث من اٰل یعقوب کا مطلب : ” مجھے ایسافرزند عنایت کر جو آل یعقوب کا وارث بنے ،کا جملہ اس بناپر ہے ،کہ زکریا (علیه السلام) کی بیوی حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی والدہ جناب مریم کی خالہ تھی اور اس کاتون کا نسب حضرت یعقوب تک پہنچتا تھا ،کیونکہ وہ حضرت سلما ن بن داؤد کی اولاد میں سے تھیں جو ”یہود “ فرزند یعقوب کی اولاد میں سے تھے ۔۱۰ 1۔تفسیر قرطبی جلد ۶ ،ذیل آیہ محل بحث ۔ 2۔تفسیر المیزان جلد ۱۴ ،ذیل آیہ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:1-6
۳۔ ویرث من اٰل یعقوب کا مطلب
۳۔ ویرث من اٰل یعقوب کا مطلب : ” مجھے ایسافرزند عنایت کر جو آل یعقوب کا وارث بنے ،کا جملہ اس بناپر ہے ،کہ زکریا (علیه السلام) کی بیوی حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی والدہ جناب مریم کی خالہ تھی اور اس کاتون کا نسب حضرت یعقوب تک پہنچتا تھا ،کیونکہ وہ حضرت سلما ن بن داؤد کی اولاد میں سے تھیں جو ”یہود “ فرزند یعقوب کی اولاد میں سے تھے ۔۱ ۱۔تفسیر مجمع البیان جلد ۶ ،ذیل آیت ۔