ذِكۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّكَ عَبۡدَهُۥ زَكَرِيَّآ
[This is] an account of your Lord’s mercy on His servant, Zechariah,
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:1-6
سوره مریم / آیه 1 - 6
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ كهيعص (1) ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا (2) إِذْ نادى رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا (3) قالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَ اشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْباً وَ لَمْ أَكُنْ بِدُعائِكَ رَبِّ شَقِيًّا (4) وَ إِنِّي خِفْتُ الْمَوالِيَ مِنْ وَرائي وَ كانَتِ امْرَأَتي عاقِراً فَهَبْ لي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُني وَ يَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (6) ترجمہ شروع اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے ۱۔ کھیعص ۲۔ یہ تیرے پروردگار کے رحمت کی اس بندے زکریا کے بارے میں ایک یاد ہیں۔ ۳۔ اس وقت جب کہ اسنے (عبادت کی) خلوتگاہ میں اپنے پروردگار کو پکارا۔ ۴۔ اس نے کہا پروردگار میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور بڑاپے کے شعلے نے میرے تمام سر کو گھیر لیا ہے اور میں تجھ سے دعا کر کے کبھی محروم نہیں رہا ہوں۔ ۵۔ اور میں اپنے بعد اپنے رشتیداروں سے خوفزدہ ہوں(کہ وہ تیرے دین کی پاسداری کا حق ادا نہیں کریںگے) اور میرے بیوی بانجھ ہے پس تو اپنی قدرت سے مجہے جانشین عطا فرما۔ ۶۔ کہ جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کا بھی وارث بنے اور تو اسکو اپنی رضا و پسندیدگی سے نواز۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:1-6
حضرت زکریا کی پراثر دعا
پھر اس سورہ کی ابتداء میں ہمیں حروف مقطعہ کا سامنا ہے ” کھٰیٰعص“ اور چونکہ ہم سابقاقرآن کی تین مختلف سورتوں (سورہ بقرہ ،سورہ آل عمران ،اور سورہ اعراف ) کی ابتدامیں حروف مقطعہ کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بحث کر چکے ہیں لہذا ہم یہاں پر تکرار کی ضرورت نہیں سمجھتے(۱) ۔ پہلی روایت تو وہ ہیں کہ جو ان حروف مقطعہ میں سے ہر ایک کو خداوند تعالیٰ کے عظیم اسماء حسنیٰ میں سے ایک ایک اسم کی طرف اشارہ قرار دیتی ہیں ”کاف ‘ ‘ اشارہ ہے ”کافی “ کی طرف ک جوخداوند تعالیٰ کا ایک عظیم نام ہے ”ھ“ اشارہ ہے ”ھادی “ کی طرف ”یاء“ اشارہ ہے ”ولی “ اور ”عین “اشارہ ہے ”عالم “ کی طرف اور” ص “اشارہ ہے ”صادق الواعد “ (وہ جو اپنے وعدہ کا سچّاہے )کی طرف (۲) ۔ دوسری قسم ان روایات کی ہے کہ جو ان حروف مقطعہ کی کربلا میں امام حسین (علیه السلام) کے قیام کی داستاں کے ساتھ تفسیر کرتی ہیں ان کےس مطابق ”کاف “ اشارہے ”کربلا“کی طرف ”ھاء“اشارہ ہے خاندان پیغمبر اکرم کے ہلاک اور شہید ہونے کی طرف اور ” یا“ یزید کی طرف اور ”عین “ مسئلہ عطش (پیاس ) کی طرف اور ”ص“ امام حسین (علیه السلام) اور ان کے جانبازیاروانصار کے ”صبر “ واستقامت کی طرف (۳) ۔ البتہ جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں قرآن مجید کی آیات مختلف معانی کی حامل ہو سکتی ہیں اور بعض اوقات گزشتہ اور آیند ہ کے مفاہیم بیا ن کرتی ہیں ک جومتنوع ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے اختلاف نہیں رکھتے جبکہ اگر معنیٰ کو ایک تفسیر میں منحصر کردیں توہوسکتا ہے کہ ہم آیت کی فضع کیفیت نزول اور اس کے زمانے کے لحاظ سے کئی ایک اشکال میں گرفتار ہوجائیں ۔ حروف مقطعہ کے ذکر کے بعد سب سے پہلی بات حضرت زکریا کی داستان سے شروع ہوتی ہے ۔خدافرماتا ہے : یہ یاد ہے اس رحمت کی جو تیرے پروردگار نے اپنے بندے زکریا پر کی (فکر رحمةربک عبدہ زکریا ) ۔۴ ”ھذاذکررحمةربک“ اس وقت جبکہ وہ کوئی فرزند نہ ہو نے کی وجہ سے سخت پریشان اور غمناک تھے تو انہونے درگاہ خداکی طرف رخ کیا ،اس وقت خلوت گاہ میں اور وہاں پر کہ جہاں کوئی ان کی آواز نہیں سن رہاتھا اپنے پرور دگار کو پکارا اور اس سے دعاکی (اذنادٰی ربہ نداء خفیاً ) ۔ ”اس نے کہا پرور دگار ا ! میری ہڈیاں جومیرے جسم کا ستون اور میرے بدن کا محکم ترین اعضاء ہیں کمزور ہو گئے ہیں (قال رب انی وھن العظم منی)اور بڑھاپے کے شعلوں نے میرے سر کے تمام بالوں کو گھیرلیا ہے (واشتغل الرائس شیباً ) بڑھاپے کے آثار کو ایسے شعلے سے تشبیہ دینا کہ جو تمام سر کو گھیر لے ایک جاذب نظر اور غمدہ تشبیہ ہے ۔کیوں کہ ایک طرف تو آگ کے شعلہ کی خاصیت یہ ہے کہ وہ جلدی پھیل جاتا ہے اور جو کچھ اس کے اطراف میں ہواسے گھیر لیتا ہے اور دوسری طرف آ گ کے شعلے ایک خاص قسم کی روشنی اور چمک کے حامل ہوتے ہیں اور دور سے توجہ مبندول کراتے ہیں اور تیسری طرف جس وقت آگ کسی جگہ کو گھیر تی ہے جو چیز اس سے باقی رہ جاتی ہے وہی خاکستر ہی ہو تی ہے ۔ حضرت ذکریا نے بڑھاپے کے گھیر لینے اور سر کے تمام بالوں کی سفیدی کو آگ کے شعلہ ور ہونے اور اس کے چمکنے اور سفیدی خاکستر کو اس کی جگہ پر باقی رہنے کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور یہ تشبیہ بہت ہی رسااور زیباتشبیہ ہے ۔ اس کے بعد مزید کہتے ہیں :۔میں ہر گز ان دعاؤں میں ، جو میں نے تیری بارگاہ میں کبھی کی ہیںمحروم نہیں پلٹا (اولم اکن بدعائک رب شقیاً )گزشتہ زمانے میں تونے مجھے ہمیشہ دعاؤ ں کی اجازت وقبولیت کا عادی بنا یا ہے اور مجھے محروم نہیں کیا ۔اب جبکہ میں بوڑھاہوگیاہوں اور ناتواں ہو گیا ہوں تو اب اور بھی زیادہ اس بات کا حقدار ہوں کہ تو دعاقبول فرمائے اور مجھے نا امید نہ پلٹائے ۔ حقیت میں ”شقادت “ یہاں پر تعب اور رنج و تکلیف کے معنیٰ میں ہے یعنی میں کبھی اپنی در خواستوں میں تجھ سے زحمت و مشقت میں نہیں پڑا کیونکہ وہ جلدی تیری بارگاہ میں قبول ہو جایا کرتی تھیں ۔ اس کے بعد اپنی حاجت کی اس طرح تشریح کر تے ہیں : پروردگارا ! میں اپنے بعد اپنے عزیز و اقاب سے خوفزدہ ہیں (ہو سکتا ہے وہ فتنہ فساد سے اپنے ہاتھ آلودہ کریں ) اور میری بیوی بانجھ ہے ،تو اپنی طرف سے مجھے ولی جانشین بخش دے ۔ (وانی خفت الموالی من ورائی وکانت امراء تی عاقرافھب لی من لدنک ولیّاٰ) ایساجانشین کہ جو میرابھی وارث بنے اور اسی طرح آل یعقوب کا بھی وارث ہو ۔ پرور دگا ر ا ! میرے اس جانشین کو اپنا پسندیدہ بنا ۔ (یر ثنی ویرث من اٰل یعقوب و اجعلہ ربّ رضیّاً)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:1-6
۱۔یہاں میراث سے کیا مراد ہے ؟
۱۔یہاں میراث سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین اسلام نے اس سوال کے بارے میں بہت بحث کی ہے ایک گروہ کا یہ نظریہ ہے کہ یہا ں ارث سے مراد مال کی میراث ہے ، اور ایک گروہ اسے مقام نبوت کی طر ف اشارہ سمجھتا ہے ۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس سے ایک ایسا جامع معنیٰ مراد ہے جس میں دونو مفاہیم شامل ہیں ۔ بہت سے شیعہ علماء نے پہلے معنی کو انتخاب کیا ہے جبکہ علماء اہل سنّت کی ایک جماعت نے دوسرے معنی کو ،اور بعض نے جیسا کہ سیّد قطب نے ”فی ظلال “ میں اور آلوسی نے ” روح المعانی “ میں تیسرے معنی کو انتخاب کیا ہے ۔ جن لوگوں نے اسے ارث مال میں منحصر سمجھا ہے ،انہوں نے یہ معنی مراد لینے میں لفظ ”ارث “کے کے ظاہر سے استناد کیا ہے کیو نکہ یہ لفظ جب تک دوسرے قرائن سے خالی ہو تو ارث مال ہی کے معنی دیتا ہے اور اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن کی چند ایک آیات میں یہ لفط معنوی امور میں استعمال ہو ا ہے ،تو یہ ان میں موجود قرئن کی بناپر ہے : مثلاً سورہ فاطر کی آیت ۳۲:۔ ثمہ اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا ۔ ہم نے آسمانی کتاب کو اپنے بز گزیدہ بندوں کی طرف بطور ارث منتقل کیا ہے ۔ علاوہ ازین چند ایک روایت سے معلوم ہو تا کہ اس زمانے میں بنی اسرائیل بہت سے ہدایا اور نذریں ” احبار “ (علماء یہود کے لیے لاتے تھے اور حضرت زکریا احبار کے سردار تھے ۔1 اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ حضرت زکریا کی زوجہ جو کہ حضرت سلمان (علیه السلام) بن داؤد کی اولاد میں سے تھیں ،حضرت سلمان (علیه السلام) اور داؤد (علیه السلام) کی مالی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے بہت سے اموال میراث میں پائے تھے ۔ حضرت ذکریا (علیه السلام) اس بات سے خوفزدہ تھے ،کہ مبادایہ مال غیرصالح ،مطلب پرست ،ذخیرہ اندوزیافاسق و فاجر افراد کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں گے اور وہ معاشرہ میں برائی کی ترویج کریں لہذااپنے پرور دگار سے صالح اور نیک بیٹے کی درخواست کی تاکہ وہ ان اموال کی نگرانی کرے اور انہیں بہتریں طریقہ سے خرج کرے ۔ وہ مشہور روایت ،کہ جو پیغمبر اسلام کی پاک بیٹی جناب فاطمہ (علیه السلام) زہراسے فدک لینے کے سلسلے میں،خلیفہ اوّل کے سامنے ،اس آیت سے استدلا ل کے بارے میں نقل ہوئی ہے ،خود اس دعوے کی ایک شاید ہے ۔ مرحوم طبرسی کتاب احتجاج میں بانو ئے اسلام حضرت فاطمہ (علیه السلام) زہراسے اس طرح نقل کرتے ہیں کہ: جس وقت خلیفئہ اول نے فدک کو جناب فاطمہ (علیه السلام) سے چین لینے کا مصمم اراوہ کر لیا اور ایہ خبر اس بی بی تک پہنچی تو آپ اس کے پاس آئیں اور اس طرح فرمایا:اے ابابکر ! افی کتاب اللہ ان ترث اباک ولاارث ابی لقد جئت شیئافریّا ؟ افعل عمد ترکتم کتاب اللہ ونبذ تمرہ وراء ظھورکم ؟ اذ یقول فیما اقتص من خیر یحییٰ بن زکریا :اذقال ربّ ہب لی من لدنک ولیاً یرثنی ویر ث من اٰل یعقوب ۔ ”کیا یہ بات کتاب خدامیں لکھی ہوئی ہے کہ توتو اپنے باپ کی میراث پائے اور میں اپنے باپ کی میراث نہ لو ں یہ تو عجیب وغیرب چیز ہے ،کیا تم لوگوں نے جان بوجھ کر کتاب خداکو چھوڑ دیا ہے اور اسے پس پشت ڈال دیا ہے ؟ جبکہ وہ یحییٰ بن زکریا کے قصّہ میں کہتا ہے کہ ” زکریا نے کہا خداوندا !تومجھے اپنی طرف سے جانشین عطافرما تاکہ وہ میراآل یعقوب کا وارث ہو ۔۶ لیکن وہ لوگ کہ جن کا یہ نظریا ہے ،کہ یہاں پر وہی معنوی معنی مراد ہے تو انہونے ایسے قرائن سے ، جو خود آیت میں یا اس سے باہر ہیں تمسک کیا ہے مثلاً :۔ ۱۔ یہ کہ یہ بات بعید نظر آتی ہے کہ حضرت زکریا (علیه السلام) جیسے عظیم پیغمبر اس سن وسال میں اپنی ثروت کے وارثوں کے بارے میں اس قدر فکر مند ہوں خصوصاً جبکہ ” یرثی ویرث من الی یعقوب “ کے جملوں کے ذکر کرنے کے بعد اس جملہ کا اضافہ کرتے ہیں (واجعلہ ربّ رضیّاً) ”خداوند اسے اپناپسندیدہ بنا “ اس میں شک نہیں کہ جملہ اس وارث کی معنوی صفات کی طرف اشارہ ہے ۔ ۲۔ آیندہ آیات میں جہاں خداوندتعالیٰ انہیں یحییٰ کے پیداہونے کی بشادت دیتا ہے وہاں عظیم معنوی مقامات کے منجملہ مقام نبوّت کا اس کے لیے ذکر کرتا ہے ۔ ۳۔ سورہ آل عمران کی آیت ۳۹میں جبکہ خداوند تعالیٰ زکریا (علیه السلام) کی طرف سے فرزند کے تقاضے کی تشریح میںیہ اشارہ کرتے ہے کہ وہ اس وقت اس سوچ میں پڑے کہ جب انہونے جناب مریم (علیه السلام) کے مقامات اور مراتب کا مشاہدہ کیا کہ پرور دگار کے لطف و کرم سے جنت کے کھانے اور پھل ان کی محراب عبادت پر آجاتے تھے ۔ ھنالک دعازکریا ربہ قال ھب لی من لدنک ذریة طیبة انک سمیع الدعاء ۴۔چند ایک احادیث میں پیغمبر اکرم سے نقل ہواہے جو اس بات کی تائید کرتا ہے کہ مراث یہاں معنوی پہلوکی طرف اشارہ ہے اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کے امام صادق (علیه السلام) پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیه السلام) ایک ایسی قبر کے نذدیک سے گزرے کہ جس میں موجود شخص عذاب میں گرفتا ر تھا ۔ اگلے سال بھی آپ کا گزر وہاں سے ہو ا تو آپ نے ملاحظ کیا کہ وہ صاحب قبر عذاب میں امتلانہیں ہے تو انہوں نے اپنے پرور دگارسے اس بارے سوال کیا توان کی طرف خداوند تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی کہ صاحب قبر کا ایک نیک بیٹا تھا اس نے ایک راستہ درستہ کیا تھا اور ایک یتیم کو پناہ دی تھی خداوندتعالی نے اس کے بیٹے کے اس عمل کی وجہ سے بخش دیا ہے اس کے بعد پیغمبر اکرم نے فرمایا : خداوند تعالیٰ کہ اس کے مومن بندسے کے لیے میراث یہ ہے کہ اسے ایسابیٹا دے کی جو اس کے بعد حکم خداکا مطیع وفرنبردارہو۔ اس کے بعد حضرت امام صادق (علیه السلام) نے اس حدیث کے نقل کرنے کے موقع پر حضرت زکریا (علیه السلام) یا سے متعلق آیت کی تلاوت فرمائی : ھب لی من لدنک ولیاً یرثنی ویرث من اٰل یعقوب وجعلہ ربّ رضیّا ۔3ً اور اگر یہ کہاجائے کہ لفظ ارث کا ظاہری وہی میراث اموال ہے تو وہ جواب میں کہیں گے یہ ظاہر ی معنی قطعی و یقینی نہیں ہے کیوں کہ قرآن میں بارہا معنوو ارث میں استعمال ہواہے ( مثلاً سورہ فاطر کی آیتہ ۳۲ اور سوہ مومن کی آیہ۵۳ ) ۔ علاوہ ازین اگر فرض کریں کہ خلاف ظاہرہوتو قرائن بالاکے ہوتے ہوئے کوئی مشکل باقی نہیں رہتی ۔ لیکن پہلے نظر یے والے استدلالات کا جواب دے سکتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ کے یہ عظیم پیغمبر اموا ل کے بارے میںذاتی غرض سے پریشان نہ تھے بلکہ وہ اسے معاشرے کے لیئے برائی کا منبع نہیں بننے دینا چاہتے تھے ان کی غرض یہ تھی کہ یہ صلاح ودرستی کے راستے میں استعمال ہوکیونکہ عبیساکہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے ،کہ (بنی اسرائیل ) احبار وعلماکے لیے بہت زیادہ ہدیے اور نذریں لاتے تھے کہ جو حضرت زکریا(علیه السلام) کے سپرد ہوتی تھیں اور شاہد بہت سے اموا ل ا ن کی بیوی کی طرف سے بھی کہ جو حضرت سلمان (علیه السلام) کی اولاد میں سے تھی باقی رہ گئے تھے ،اب یہ بات صاف طور پر واضح ہے کہ ان (اموال ) کے اوپر ایک غیر صالح شخص کا ہونا عظیم مفاسد کا سبب ہوتا ہے ۔اور یہی چیز تھی کہ جس نے حضرت زکریا(علیه السلام) کو پریشان کررکھاتھا ۔ باقی رہیں حضرت یحییٰ (علیه السلام) کے لئے معنوی صفات کہ جو اس آیت میں اور دوسری آیات قرآن میں ذکر ہوئی ہیں ،وہ نہ صرف یہ کہ اس بات کے معانی نہیں بلکہ وہ اس سے ہم آہنگ بھی ہیں ۔کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ یہ عظیم ثروت ایک مردخداپر ست اور ہرگز یدہ الہیٰ کے ہاتھ میں جائے اور وہ اس سے معاشرے کو سعادت کی راہ پر چلانے کے لیے استفادہ کرے۔ لیکن ہمارے نظریے کے مطابق اگر ہم اوپر کی مجموعی بحث سے یہ نتیجہ نکالیں کہ لفظ یہاں پروسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس میں ارث اموال بھی شامل ہے اور مقامات معنوی کی میراث بھی تو یہ کوئی غلط بات نہیں ہوگی کیونکہ ہرطرف کے لیے قرائن موجود ہیں اور قبل و بعد کی آیات اور تمام تر وآیات کی طرف توجہ کرنے سے یہ تفسیر کا مل طورپر صحیح مفہوم کے قریب نظر آتی ہے ۔ باقی رہا ( انی خفت الموال من ورائی ) ” مجھے اپنے بعد اپنے رشتہ داروں کا ڈر ہے “ کا جملہ تو وہ دونوں معانی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے کیونکہ اگر فاسد اور اپر ے لوگ ان اموال میں صاحب اختیار ہو جاتے تو واقعاً یہ پرشانی کرنے والی بات تھی اور اگر رہبری و ہدایت غیر صالح افرادکے ہاتھ جاپڑتی تو بہت ہی پریشانی اور مصیبت کا سبب بنتی ۔اس بناپر حضرت زکریا (علیه السلام) کا خوف ددونو ں صورتوں میں قابل توجہ ہے ۔ بانوئے اسلام حضرت فاطمہ زہرا(علیه السلام) کی مشہور حدیث بھی اس معنی کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ 1۔نوراثقلین ،جلد ۳ ، ص نمبر ۳۲۳۔ 2۔نوراثقلین ،جلد ۳ ، ص نمبر ۳۲۴۔ 3۔نوراثقلین ،جلد ۳ ،ص ۳۲۳۔۳۲۴۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:1-6
۲۔ اذنادٰی ربہّ نداء خفیاکامفہوم
۲۔ اذنادٰی ربہّ نداء خفیاکامفہوم : اس جملہ میں مفسرین کے لئے یہ سوال سامنے آیا ہے کہ ” نادٰی “ بلند آواز سے دعاکرنے کے معنی میں ہے جبکہ ”خفی “ آہستہ و مخفی کے معنی میں ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہیں لیکن اس نکتے کی فرف توجہ کرنے سے کہ ” خفی “ آہستہ کے معنی میں نہیں ہے بلکہ پوشیدہ اور مخفی کے معنی میں ہے ،اس بناپر بات ممکن ہے کہ حضرت زکریا (علیه السلام) نے انی خلوت گاہ میں کہ جہاں ان کے علاوہ کوئی دوسرا موجود نہیں تھا خداوند تعالیٰ کو بلند آواز میں پکارا ہو بعض نے کہا کہ ان کی یہ درخوست رات کی تاریکی اور وسط شب میں تھی کہ جس وقت لوگ خواب غفلت میں آرام کرہے تھے (1) ۔ نیز بعض نے ( فخرج علی قومہ من المحراب ) ” زکریا (علیه السلام) اپنی محراب سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے “ کہ جملہ کو ،کہ جو آیندہ کی آیات میں آئے گا اس دعا کے خلوت گاہ میں ہونے کی دلیل قراردیا ہے ۔(2) ۳۔ ویرث من اٰل یعقوب کا مطلب : ” مجھے ایسافرزند عنایت کر جو آل یعقوب کا وارث بنے ،کا جملہ اس بناپر ہے ،کہ زکریا (علیه السلام) کی بیوی حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی والدہ جناب مریم کی خالہ تھی اور اس کاتون کا نسب حضرت یعقوب تک پہنچتا تھا ،کیونکہ وہ حضرت سلما ن بن داؤد کی اولاد میں سے تھیں جو ”یہود “ فرزند یعقوب کی اولاد میں سے تھے ۔۱۰ 1۔تفسیر قرطبی جلد ۶ ،ذیل آیہ محل بحث ۔ 2۔تفسیر المیزان جلد ۱۴ ،ذیل آیہ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:1-6
۳۔ ویرث من اٰل یعقوب کا مطلب
۳۔ ویرث من اٰل یعقوب کا مطلب : ” مجھے ایسافرزند عنایت کر جو آل یعقوب کا وارث بنے ،کا جملہ اس بناپر ہے ،کہ زکریا (علیه السلام) کی بیوی حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی والدہ جناب مریم کی خالہ تھی اور اس کاتون کا نسب حضرت یعقوب تک پہنچتا تھا ،کیونکہ وہ حضرت سلما ن بن داؤد کی اولاد میں سے تھیں جو ”یہود “ فرزند یعقوب کی اولاد میں سے تھے ۔۱ ۱۔تفسیر مجمع البیان جلد ۶ ،ذیل آیت ۔
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 19:1-15
Bodily note is worth remembering as to why the Shias do not accept so-called Prophets’ traditions without scrutiny as genuine, unless tested by the text.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 19:2
[Pooya/Ali Commentary 19:2] Refer to the commentary of Ali Imran: 38 to 41 for the prayer of Zakariyya. Zakariyya invoked Allah to give him a son, not only as the inheritor of his family but also as an upholder of his mission and the mission of his ancestors. It is interesting to recall here that when the Holy Prophet passed away and Abu Bakr was made caliph to rule over the Muslim community he dispossessed the Holy Prophet's daughter Fatimah of the agricultural land or estate known as Fadak which had been gifted to her by the Holy Prophet during his life time and given in her possession. When Fatimah asked Abu Bakr to restore her estate as it had been gifted to her by the Holy Prophet along with possession, he demanded evidence and refused to accept the evidence of witnesses produced by Fatimah. Then she claimed the estate as the sole heir to her father, the Holy Prophet. This request was rejected by Abu Bakr saying that he had heard the Holy Prophet say that "We the messengers of Allah neither inherit nor leave inheritance." In the light of verses 5 and 6 the statement of Abu Bakr should be treated as an instantaneous excuse, he thought of, to deprive Bibi Fatimah from the lawful inheritance, her father left for her, otherwise the words of Allah become vague and meaningless. In reply she quoted these verses to prove that he had reported a false tradition because when the Quran has used the word "warith" the Holy Prophet could not say that which the caliph reported. The mention of these verses by her means that the word "warith" refers to all that which a messenger of Allah leaves as inheritance. She was the daughter of the Holy Prophet (tutored and educated by him from the day she was able to talk and understand) to whom the Quran was revealed, and she was the wife of Ali ibn abi Talib whose authority on the Quran stands established in view of several traditions mentioned on page 5-both of them only knew the hidden and the manifest meanings of every word of the Quran. Therefore her understanding of the Quran must be preferred over those who never had been credited with even a cursory knowledge of the book of Allah. Please refer to the commentary of Bani Israil: 26, Nahl . 90 and the Biography of Bibi Fatimah Zahra, published by our Trust, to know the full details pertaining to the issue of Fadak. Aqa Mahdi Puya says: These verses prove that the prophets of Allah inherit and leave inheritance. To interpret "Warith" as reference to knowledge and wisdom only is a deviation from the real, direct and plain meaning of this word, without any external or internal evidence. If inheritance of personal belongings is excluded, the repetition of the verb becomes meaningless because Zakariyya himself was a descendant of ali Yaqub, who inherited the prophethood and wisdom of his ancestors, and his son would do the same if Allah so willed as He chooses whomsoever He wills as His messenger (An-am: 124), therefore Zakariyya said: "inherit me and inherit ali Yaqub". Zakariyya is referring to his belongings and the belongings of the posterity of Yaqub separately. The first verb refers to the inheritance of his property which Zakariyya thought would be appropriated by his relatives if he remained childless; and the second verb refers to the prophethood, he wanted for Yahya, for which there was no need to fear that it would be taken by any one. Verse 16 of An Nahl confirms that which has been explained here. No doubt the prophets of Allah did not give any importance to the material possessions and laid emphasis on the knowledge and wisdom, but it does not mean that they did not possess property or did not leave what they had as inheritance to their next to kin. The tradition quoted to deprive Bibi Fatimah of her lawful inheritance was tampered with by the narrator for political reasons. He omitted a clause indicating that they leave knowledge as inheritance, and added a clause, which is not correct from the grammatical point of view, unless it is an objective clause subordinate to the principal clause "We the group of prophets", and the word be read as "sadaqtan", the second object to the verb "taraknahu ", but he read the clause as co-ordinative and conjunctive, and read "sadaqtan" as the predicate to the word "ma", which according to the recitation means "whatever", whereas according to the correct recitation "ma " means "that which". The mother of the son given to Zakariyya was a born barren woman, so he was named Yahya, derived from hayat (life), a name which was given to him for the first time. The Hebrew form of Yahya is Johanan which means "Jehvah (God) has been gracious". Hananan (see verse 13) means compassion. The births of Isa and Yahya were the miraculous signs of the will of Allah. Isa was born to a virgin without a father and Yahya was born to a born barren woman, and both of them were so disinterested in the physical life that they never married. Aqa Mahdi Puya says: According to the Ahl ul Bayt, the names of Muhammad, Ali, Hasan and Husayn were also chosen for the first time under divine inspiration. Imam Jafar bin Muhammad as Sadiq said: "Before Yahya and Husayn, no one was ever named by either of their names. For no one the heavens wept for forty days save Yahya and Husayn. The murderers of Yahya and Husayn were illegitimate. The heads of both of them were severed from their bodies and displayed in the streets and the courts which (according to Imam Husayn) prove the worthlessness of this world in the estimation of Allah. The head of Yahya was presented before the depraved wife of the Egyptian king and her pervert daughter and the head of Husayn was presented to the sons of whores.") ("The heavens wept" means the sun became extraordinarily red according to the Imam). It was as easy for Allah to give a son to a born barren woman from an old and decrepit man as He brought them into being when they were nothing. Awha, the root of which is wahi, is used in verse 11 to indicate communication by signs. Verse 12 says that hukm (strength, power of judgement and prophethood) was given to Yahya in his childhood. Likewise Isa was also appointed as the prophet of Allah while he was in the cradle. Therefore there is no justification for the misconceived idea propagated by a large number of Muslims that the Holy Prophet was an illiterate person (see commentary of al Baqarah: 97). Ayyashi quotes Ali bin Asbath as under: "While going to Egypt I met Imam Ali bin Musa in Madina. Then he was a five year old boy. I was greatly impressed by his knowledge when we talked about on various topics. I had decided to tell everyone in Egypt about his extraordinary wisdom and judgement. As soon as the idea came into my mind, he recited: 'We gave him (Yahya) wisdom, while yet a child.'" Aqa Mahdi Puya says: In dawat dhil ashirah Ali ibn abi Talib was the only person who came forward in response to the call of the Holy Prophet: "Who among you will help me and join me in my task, and be my brother, my lieutenant, my vicegerent and my successor?" So then and there the Holy Prophet declared: "Verily Ali is my brother, my vicegerent and my successor. From this day it has been made obligatory upon every one to obey the superior authority of Ali." Please refer to the commentary of Ali Imran: 52 and 53. In view of this verse and verse 46 of Ali Imran no sincere Muslim is in a position to bypass the vicegerency of Ali on the ground that he was at the time a very young boy. Likewise the imamah and wilayah of Imam Muhammad bin Ali at Taqi and Imam Muhammad bin Hasan al Qa-im cannot be disputed on account of their age in presence of these verses in the Quran. Refer to verse 1 to 4 of Ar Rahman to know that Allah Himself taught wisdom to the Holy Prophet because of which the word ummi has been used in the Quran (refer to the commentary of al Baqarah : 97. Yahya boldly denounced sin. He had pity and love for all creatures of Allah, lived among the humble and lonely, despised worldly comforts, and never used violence nor entertained a spirit of rebellion against human or divine law. He did not live long. He was beheaded by Herod, the provincial ruler under the Roman empire, at the instigation of the woman with whom Herod was infatuated. For full details of Yahya's life refer to our publication "The Glimpses of the Prophets" based upon the well-known book "Hayatul ul Qulub" by Allama Majlisi. Peace and Allah's blessings were on him when he was born; they continued when he was about to die an unjust death at the hands of a tyrant; and they will be manifest at the day of resurrection.