الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا
All praise belongs to Allah, who has sent down the Book to His servant and did not let any crookedness be in it,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:1
[Pooya/Ali Commentary 18:1] The Quran, revealed to the Holy Prophet, contains plain, simple and clear guidance to mankind, in order that the Holy Prophet as the nadhir may warn those who do not believe in his message although it is straight and there is no ambiguity in it; and as the bashir may give glad tidings to those who believe and follow him. The last verse of the preceding surah says that praise be to Allah because He has begotten no son and has no partner in His authority, and this surah also begins with "praise be to Allah" and states that those who say: "Allah has begotten a son" are like the disbelievers. The Jews, the Christians and the infidels are warned of a terrible punishment. The ultimate fate of a large number of human beings because of their obstinate adherence to falsehood caused utmost grief to the Holy Prophet, the mercy unto the worlds, who suffered abuse and persecution in order to preach the truth and show the way of salvation to the whole mankind, in every age, so that the maximum number of people may be saved from the certain wrath of Allah. His love for the human race was particular as well as general. It was his earnest desire that every living being should receive guidance from the book of Allah (the word hadith has been used for the Quran in verse 6) and follow its guidance to attain bliss and salvation.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 18:1-12
Worldly adornments are frail and contribute a test.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:1-5
۱۔ حمدِ الٰہی سے سورہ کی ابتداء
۱۔ حمدِ الٰہی سے سورہ کی ابتداء: قرآن مجید کی پانچ سورتیں ”الحمد للّٰہ“سے شروع ہوتی ہیں ۔ ان پانچ سورتوں میں حمد الٰہی کے بعد زمین و آسمان کی خلقت (یا ملکیت)یا عالمین کی پرورش کا ذکر آیا ہے سوائے زیر بحث سورت کے ۔ یہاں حمدِ الٰہی کے بعد رسول اللہ پر قرآن نازل ہونے کا ذکر آیا ہے ۔ درحقیقت سورہٴ انعام ، سبا، فاطر اور فاتحہ میں ”کتابِ تکوین“کی بات کی گئی ہے لیکن سورہ کہف میں ”کتاب تکوین“کی بات کی گئی ہے لیکن سورہ کہف میں ”کتاب تدوین“ کا ذکر کیا گیا ہے اور ہم جانتے ہیںکہ کتابوں یعنی عالم خلقت اور قرآن میں سے ہر ایک دوسرے کی تکمیل کرتا ہے اور یہ بات اس امر کو واضح کرتی ہے کہ قرآن سارے عالم خلقت جتنا وزن رکھتا ہے اور یہ بھی جہانِ ہستی کی سی نعمت ہے اور اصولی طور پر عالمین کی پرورش و تربیت کا مسئلہ کہ جو”الحمد لله رب العالمین“کے جملے میں آیا ہے، اس عظیم آسمانی سے فائدہ اٹھائے بغیر ممکن نہیں ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:1-5
سوره کهف / آیه 1 - 5
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۱ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی اٴَنزَلَ عَلیٰ عَبْدِہِ الْکِتَابَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَہُ عِوَجَا ۲ قَیِّمًا لِیُنذِرَ بَاٴْسًا شَدِیدًا مِنْ لَدُنْہُ وَیُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِینَ الَّذِینَ یَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ اٴَنَّ لَھُمْ اٴَجْرًا حَسَنًا ۳ مَاکِثِینَ فِیہِ اٴَبَدًا ۴ وَیُنذِرَ الَّذِینَ قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا ۵ مَا لَھُمْ بِہِ مِنْ عِلْمٍ وَلَالِآبَائِھِمْ کَبُرَتْ کَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اٴَفْوَاہِھِمْ إِنْ یَقُولُونَ إِلاَّ کَذِبًا ترجمہ اللہ کے نام سے جو رحمان اور رحیم ہے ۔ ۱۔ حمد مخصوص ہے اللہ کے لیے جس نے اپنے (برگزیدہ)بندے پر یہ (آسمانی)کتاب نازل کی اور اس میں کسی قسم کی کوئی کجی نہ رکھی۔ ۲۔ وہ کتاب کہ جو ثابت، مستقیم اور دوسری کتب کی نگہبان ہے تاکہ (برے کام انجام دینے والوں کو)اس کے شدید عذاب سے ڈرائے اور نیک عمل انجام دینے والے مومنین کو بشارت دے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے ۔ ۳۔(وہی بہشت بریں کہ)جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ ۴۔ اور (نیز)انہیں ڈرائے کہ جو کہتے ہیں کہ خدا نے (اپنے لیے)بیٹا انتخاب کیا ہے ۔ ۵۔ نہ انہیں (ہرگز)اس بات پر یقین ہے نہ ان کے آباؤ اجداد کو، یہ بہت بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے ۔ یقیناً وہ جھوٹ کہتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:1-5
اللہ اور قرآن کے ذکر سے آغاز
اللہ اور قرآن کے ذکر سے آغاز سورہ کہف قرآن کی بعض دیگر سورتوں کی مانند اللہ کی حمد و ثنا سے شروع ہوتی ہے اور حمد چونکہ کسی اہم اور لائق تعریف کام پر ہوتی ہے لہٰذا ساتھ ہی نزول قرآن کا ذکر کیا گیا ہے، وہ قرآن کہ ہر قسم کی کجی سے پاک ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: تعریف ہے اس خدا کی جس نے اپنے بندے پر یہ آسمانی کتاب نازل کی کہ جس میں کسی قسم کا ٹیڑھ پن نہیں ہے ( الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی اٴَنزَلَ عَلیٰ عَبْدِہِ الْکِتَابَ وَلَمْ یَجْعَلْ لَہُ عِوَجَا)۔ ایسی کتاب ہے کہ جو ثابت و مستحکم ہے، جو متعدل و مستقیم ہے، جو حقیقی انسانی معاشرے کے قیام کے لیے ہے اور جو تمام آسمانی کتب کی پاسدار ہے ( قَیِّمًا)۔ تاکہ بُرے کام انجام دینے والوں اور دل کے اندھوں کو اللہ کے عذاب شدید سے ڈرائے (لِیُنذِرَ بَاٴْسًا شَدِیدًا مِنْ لَدُنْہُ وَیُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِینَ الَّذِینَ یَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ اٴَنَّ لَھُمْ اٴَجْرًا حَسَنًا)۔ایسی جزاء کہ جو جاودانی ہے اور جس میں وہ تابعد رہیں گے( مَاکِثِینَ فِیہِ اٴَبَدًا)۔ اس کے بعد یہودی ہوں، عیسائی ہوں یا مشرکین ہر قسم کے مخالفین کے ایک عمومی انحراف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس آسمانی کتاب کا ایک ہدف یہ ہے کہ پیغمبر ان لوگوں کو ڈرائے کہ جو خدا کے لیے بیٹے کے قائل ہیں( وَیُنذِرَ الَّذِینَ قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا)۔ یعنی عیسائیوں کو ڈرائے چونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ خدا کے بیٹے ہیں اور یہودیوں کو ڈرائے چونکہ ان کا عقیدہ کہ عزیر خدا کے بیٹے ہیں اور مشرکین کو ڈرائے کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ۔ اس کے بعد اس قسم کے بے بنیاد عقائد کی اساس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: انہیں اپنے اس عقیدے کے بارے میں کوئی علم و یقین نہیں ہے اور اگر یہ اپنے آباؤ اجداد کی تقلید کرتے ہیں تو ان کے آباؤ اجداد کا بھی یہی عالم تھا ( مَا لَھُمْ بِہِ مِنْ عِلْمٍ وَلَالِآبَائِھِمْ)۔ تا ہم یہ منہ سے بہت بڑی اور وحشت ناک بات نکالتے ہیں ( کَبُرَتْ کَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اٴَفْوَاہِھِمْ)۔ خدا کا جسم ہونا، خدا کی اولاد ہونا، خدا کو مادی احتیاجات ہونا مختصر یہ کہ خدا کا محدود ہونا یہ کیسی وحشت ناک باتیں ہیں ۔ جی ہاں یہ صرف جھوٹ بولتے ہیں ( إِنْ یَقُولُونَ إِلاَّ کَذِبًا)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:1-5
۴۔ دعویٰ، بلا دلیل
۴۔ دعویٰ، بلا دلیل: انحرافی عقائد کا مطالعہ کیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر دعویٰ بلا دلیل کے مترادف ہیں ۔ بعض اوقات یہ جھوٹے نعروں کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آتے ہیں ۔ کوئی نہرہ بلند کرتا ہے اور ایک نسل سے دوسرے اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔ یا بڑے بوڑھوں کے رسم و رواج کی صورت میں کوئی عقیدہ ایک نسل سے دوسرے نسل کی طرف منتقل ہوتا ہے ۔ ضمنی طور پر قرآن ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ہر صورت میں ہم بے دلیل دعووٴں سے پرہیز کریں چاہے وہ کسی طرف سے اور کسی شخص کی جانب سے ہوں ۔ مندجہ بالاآیات میں اس قسم کے کام کے بارے میں الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بہت بڑی اور وحشتناک بات ہے اور ایسی بات کو جھوٹ کا سر چشمہ قرار دیتا ہے ۔ یہ ایک ایسی بنیاد بات ہے کہ اگر مسلمان اپنی ساری زندگی میں اس کی پیروی کریں یعنی بلا دلیل نہ کچھ کہیں اور نہ کوئی بات قبول کریں اور پراپیگنڈاو دلیل سے عادی دعووں کی پرواہ نہ کریں تو ان بہت سی پریشانیاں اور مشکلات دور ہوجائیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:1-5
۵۔ عمل صالح ۔ ایک مسلسل طرزِ عمل
۵۔ عمل صالح ۔ ایک مسلسل طرزِ عمل: مندرجہ بالا آیات میں مومنین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے”عمل صالح“ کو اس کا مسلسل اور دائمی طرزِ عمل قرار دیا گیا ہے کیونکہ ”یعملون الصالحات“ فعل مضارع ہے اور ہم جانتے ہیں کہ فعل مضارع تسلسل اور دوام پر دلالت کرتا ہے ۔ حقیقت میں ہونا بھی ایسا ہی چاہئے کیونکہ چند ایک نیک کام تو ہوسکتا ہے اتفاقاً یا بعض وجوہ کی بناء پر انجام پا جائیں لہٰذا وہ ہرگز حقیقی ایمان کے لیے دلیل نہیں ہوسکتے ۔ حقیقی ایمان تو ایسا عملِ صالح ہے جس میں تسلسل اور دوام ہے ۔ ۶۔ جس نے اپنے ”بندہ“ پر کتاب ناز ل کی: زیر نظر آیات میں آسمانی کتاب کے نازل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: شکر ہے اس خدا کا جس نے اپنے ”بندہ“ پر کتاب نازل فرمائی ہے ۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ”بندہ“کی تعبیر انتہاہی فخر یہ اور باعظمت ہے ۔ یہ وصف اسی انسان کا ہوسکتا ہے جو واقعاً الله کا بندہ ہو جو اپنی ہر چیز کواس سے وابستہ سمجھے سمجھے ۔ جس کی آنکھ اور کان اس کے حکم پر لگے ہوں ۔ جو اس کے غیر کا تور بھی نہ کرے ۔ جو اس کی راہ کے علاوہ کسی راہ پر نہ چلے ایسے شخص ہی کو یہ افتخار اور اعزاز حاصل ہوسکتا ہے کہ وہ اس کا پاکباز بندہ ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:1-5
۳۔ خدا کے لیے اولا کے قائل افراد کو خصوصی تنبیہ
۳۔ خدا کے لیے اولا کے قائل افراد کو خصوصی تنبیہ: مندرجہ بالا آیات میں وسیع اور مطلق طور پر انداز کے بعد ان لوگوں کو بالخصوص ڈرا یا گیا ہے کہ جو خدا کے لیے اولاد کے قائل ہیں ۔ یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ یہ انحراف حاص اہمیت رکھتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے کہا یہ اعتقادی انحراف عیسائیوں ہی سے مخصوص نہیں بلکہ یہود و مشرکین بھی اس میں شریک تھے اور جب یہ قرآن نازل ہو رہا تھا تو یہ ایک طرح کا عمومی اعتقاد تھا ۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسا عقیدہ روح توحید کو بالکل ختم کریتا ہے اور خدا کو مادی و جسمانی موجودات کی صف میں لے آتا ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے لیے انسانی جذبات و احساسات کا قائل ہوٴا جائے، اس کے لیے شبیہ و شریک مانا جائے اور اسے حاجتمند شمار کیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس بات کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے ۔ سورہ یونس کی آیہ ۶۸ میں ہے: <قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا سُبْحَانَہُ ھُوَ الْغَنِی انہوں نے کہا کہ خدا کا بیٹا ہے، حالانکہ وہ غنی و بے نیاز ہے ۔ سورہ مریم کی آیہ ۸۸ تا ۹۱ میں ہے: <وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَانُ وَلَدًا ،لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا إِدًّا ،تَکَادُ السَّمَاوَاتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنشَقُّ الْاٴَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ھَدًّا ، اٴَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَانِ وَلَدًا انہوں نے کہا کہ رحمن کا بیٹا ہے ۔ تمہاری یہ بات بہت ہی ناموزان اور سنگین ہے قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ پڑیں کیونکہ تم خدا کے لیے بیٹے کے قائل ہو ۔ یہ انتہائی سخت انداز کلام اس بات کی دلیل ہے کہ نتیجہ اور انجام بہت ہی برا ہے ۔ اس کے منحوس اثرات بہت وسیع ہیں اور در حقیقت ہے بھی ایسا ہی کیونکہ اس نتیجہ یہ ہے کہ الله کو اوج عظمت سے نیچے لے آیا جائے اور اسے پست مادی موجودات کی صف میں لاکھڑا کیا جائے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:1-5
۲۔ مستحکم، مستقیم اور نگہبان۔ کتاب
۲۔ مستحکم، مستقیم اور نگہبان۔ کتاب: ”قیّم“(بروزن”سیّد“)”قیام“کے مادہ سے لیا گیا ہے ۔ یہاں یہ لفظ مستحکم، ثابت اور استوار کے معنی میں ہے ۔ علاوہ ازیں یہاں اس امر سے مراد ایسی کتاب ہے جو دوسری کتب کی محافظ و پاسداری ہو نیز ایسی کتاب کہ جو اعتدال و استقامت کی حامل ہو اور ہر قسم کی کجی اور ٹیڑھ پن سے پاک ہو ۔ پہلے قرآن کو ہر قسم کی کجی سے پاک کہنے کے بعد اس لفظ سے قرآن کو توصیف کی گئی۔ گویا یہ قرآن کی استقامت، اس کے اعتدال اور ہر قسم کے تضاد سے پاک ہونے پر تاکید بھی ہے، اس عظیم کتاب کے جاودانی پر دلالت بھی ہے اور اصالتوں کی محافظ ہونے کا مفہوم بھی دیتا ہے ۔ نیز یہ ہر قسم کی کج روی سے اصلاح کرنے والی کتاب کا معنی بھی دیتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کتاب احکامِ الٰہی اور انسانی عدالت و فضیلت کی نگہبانی کے لیے نمونہ بھی ہے ۔ یہ صفت”قیّم“ در اصل الله کی صفتِ ”‘قیومیت‘ سے مشتاق ہے جس کے مطابق خدا تمام موجودات اور اشیاء عالم کا محافظ و نگہبان ہے ۔ ما بہ تُو قائم چو تُو قائم بذات ہم تجھ سے قائم ہیں چونکہ تو قائم بالذات ہے ۔ قرآن چونکہ خدا کا کلام ہے اس کی بھی یہی حالت ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن کی آیات میں لفظ”قیّم“ دین اسلام کی صفت کے طور پر کئی مرتبہ استعمال ہوٴا ہے ۔ یہاں تک کہ رسول الله علیہ وآلہٖ وسلم کو حکم دیا گیا ہے: <فَاٴَقِمْ وَجْھَکَ لِلدِّینِ الْقَیِّمِ اپنے آپ ک قیّم ،پاک اور مستقیم دین کے ساتھ ہم آہنگ کرو ۔(روم۔۴۳) سطور بالا میں”قیّم“کی تفسیر بیان کی گئی ہے، یہ در اصل تمام تفاسیر کا ایک جامع مفہوم ہے جو اس سلسلے میں مفسّرین نے بیان کی ہیں ۔ کیونکہ بعض نے اسے اس کتاب کے معنی میں لیا ہے جو کبھی منسوخ نہیں ہوگی۔ بعض نے گزشتہ کتب کی محافظ کے معنی میں لیا ہے ۔ بعض نے امورِ دین کو برپا کرنے والی کتاب کے مفہوم میں لیا ہے اور بعض نے ایسی کتاب میں لیا ہے جس میں اختلاف و تضاد نہیں ہے ۔ لیکن یہ تمام معانی اس جامع مفہوم میں جمع ہیں جو ہم نے بیان کیا ہے ۔ بعض مفسّرین نے”لم یجعل عوجاً“ کو الفاظِ قرآن کی فصاحت کے معنی میں لیا ہے جبکہ ”قیًّما“ کو بلاغت اور مفہوم کی استقامت کے معنی میں لیا ہے ۔ البتہ اس فرق کے لیے کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے اور زیاہ تریہی معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے تاکید کی مانند ہے ۔ فرق یہ ہے کہ”قیّم“ کا مفہوم زیادہ وسیع ہے یعنی ذاتی استقامت کے مفہوم کے علاوہ دوسروں کی پاسداری، اصلاح اور حفاظت بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے ۔