وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
They question you concerning the Spirit. Say, ‘The Spirit is of the command of my Lord, and you have not been given of the knowledge except a few [of you].’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:85
[Pooya/Ali Commentary 17:85] Aqa Mahdi Puya says: Ruh has been used in the Quran in various meanings: (i) The life or spirit breathed into Adam (Hijra: 29). (ii) The life in every conscious being. (iii) Isa is a word of Allah and a spirit (proceeding) from Him. (Nisa: 171). (iv) The Quran as mentioned in Shura: 52. (v) The spirit which comes down in the night of qadr with the angels (Quran: 4). (vi) The spirit which will stand with the angels on the day of resurrection. (Naba: 38) (vii) The holy ghost (Ma-idah: 11). (viii) The spirit sent to Maryam which appeared before her as a man. (Maryam: 17). Besides the Quranic use, the word spirit was in vogue among the pagans of Arabia, India, Europe, Africa and other places, attributing to the spirit all the aspects and happenings they could not explain in terms of cause and effect. The reference here is not particular but to that which is unseen and immeasurable but present in human body as an active agent which gives awareness to man, not obtainable through observation and experiment, or produces extraordinary happenings in human society and other physical realms . The ancient philosophers had diverse opinions about the spirit in its general sense and did not have a clear definition. They were not sure whether it is created or uncreated. Some Indian and Greek schools of thought expounded the idea that both spirit and matter are uncreated, therefore the existence of a third agent, who controls these two as God, was a disputed issue among them. They also disputed whether there is one spirit manifesting in various ways in the nature, or every individual or every species has a spirit of its own; and whether it is an undimensional conscious entity influencing the dimensional relation, or it is also dimensional but not having the characteristics of matter-a very fine ethereal objective reality. The issue has been dealt with by the various schools of thought in Islam by relying, more or less, on the theories of Greek, Indian and Persian philosophers. According to some commentators the answer is evasive because Allah says in this verse that the spirit is a matter of concern for Allah only and human knowledge is not sufficient to understand it. Some commentators say that the answer is there because as an outcome of Allah's command spirit should be treated as created, and its nature is all-pervading like the nature of the divine command, assuming appropriate form and character in every stage and every realm, sometimes dimensional and sometimes undimensional. In other words the spirit, the active agent in the universe and in the order of creation, is the outcome of the divine will, not conditioned by any particular character or limitation, like the radiation coming from its source, which is not conditioned at all by the character of the ground on which it falls, but the reflection or the effect produced by the radiation is conditioned by the character of the ground, material or non-material. It is from this viewpoint the spirit has been termed by the scholars as material or non-material. What proceeds from Allah is undimensional and non-material, which, when produces effect in material beings, becomes material; and, when produces effect in non-material realm, becomes non-material. The factor responsible for animal function is termed "spirit", and the mind itself is termed "spirit" because it produces effects and reflections known as knowledge; and what proceeds from Allah to give knowledge and awareness to human mind is also "spirit". Any effect or reflection produced by the agencies other than material factors, can be termed as spirit, or angels, or the hand of Allah. This is the interpretation of this verse in view of the traditions narrated from the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt. Human knowledge is not sufficient to understand the true nature of "spirit".
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 17:85-93
An atheist is but a mad ridiculous derider of piety, but a hypocrite makes a sober jest of God, talking familiarly to his creditor, without ever praying what he owes. Reason is a mysterious Divine Gift with knowledge as its spirit, sense of understanding as its soul, chastity as its head, sense of shame its eye, tact its tongue, kindness its desire, mercy its heart, aided by faculties of certainty, truth, calmness, self-respect, fulfilling promise, sympathy, piety, sincerity, charity, contentment, resignation, and thanksgiving.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:85
استدلال روح کے دلائل
استدلال روح کے دلائل یہ ہو رہی تھی کہ مادیین کا اصرار ہے کہ روح سے ظاہر ہونے والے آثار وافعال دماغی سَیلوں کے خواص سمجھنا چاہیئے اورفکر، حافظہ، یاد، محبت، نفرت، غصہ اور علم ودانش سب کو ایسے امور میں سے سمجھنا چاہیئے جنہیں ےجربہ گاہ میں دیکھا اور پرکھا جاسکتا ہے اور انہیں بھی عالمِ مادہ کے قوانین کے تحت سمجھنا چاہیئے ، اس کے برعکس اسقلالِ روح کے فلاسفہ اس کی نفی پر زور دار دلائل رکھتے ہیں جن میں سے بعض کی طرف ہم ذیل میں اشارہ کرتے ہیں:
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:85
ایک اشتباہ سے اجتناب
ایک اشتباہ سے اجتناب بعض لوگوں کا خیال ہے کی داماغ کے سَیل نہیں بدلتے ، وہ کہتے ہیں کہ فزیالوجی کی کتابوں کے مطابق دماغ کے سَیلوں کی تعداد آغازِ عمر سے آخرِ عمر تک ایک ہی رہتی ہے یعنی وہ بالکل کم یا زیادہ نہیں ہوتے، البتہ بڑے ہوجاتے ہیں لیکن یہ نہیں ہوتا کہ اُن جیسے اور سَیل پیداہوتے ہوں ، یہی وجہ ہے کہ انہیں کوئی نقصان پہنچے تو ا ن کی جگہ نئے سَیل پیدا نہیں ہوتے ، لہٰذا ہمارے بدن میں ایک”واحد ثابت“ موجود رہتا ہے اور یہ دماغ کے سَیل ہیں یہی ہماری شخصیت کی وحدت کے محافظ ہیں ۔ یہ خیال ایک بہت بڑااشتباہ ہے کیونکہ یہ بات کرنے والوں نے دومسئلوں کو آپس میں خلط ملط کردیا ہے، دورِ حاضر کی سائنس نے جو کچھ ثابت کیا ہے یہ ہے کہ دماغ کے سَیل آغازسے آخر تک تعداد کے لحاظ سے اتنے ہی اتنے ہی رہتے ہیں اوران کی تعداد میں کمی بیشی نہیں ہوتی نہ یہ کہ ان سِیلوں کے ذرات بدلتے، کیونکہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ انسانی بدن کے تمام سَیلوں کو ہمیشہ غذا کی احتیاج رہتی ہے نیز پرانے سَیل مرتے رہتے ہیں، جیسے کوئی شخص ایک طرف کماتا رہتا ہے اور دوسری طرف خرچ کرتا رہتا ہے، مسلم ہے کہ اس شخص کا سرمایہ آہستہ آہستہ بدل جائے گا اگرچہ اس کی مقدار نہ بدلے،جیسے کسی تالاب سے ایک طرف سے پانی نکلتا رہے اور دوسری طرف سے نیا پانی آتا رہے، ایک عرصے بعد اس کا سارا پانی بدل جائے گا اگرچہ اس کی مقدار اتنی ہی رہے ۔ (فزیالوجی کی کتابوں میں بھی اس بات کاذکر موجود ہے ، نمونے کے طور پر کتاب”ہورمونہا“صفحہ،۱۱،اورکتاب ”فیزیولوژی حیوانی“ از ڈاکڑ محمودبہزاد اور انک ہم کار صفحہ ۳۲ کی طرف رجوع کریں )۔ لہٰذا دماغ کے سَیل بھی باقی نہیں رہتے اور دیگر سَیلوں کی طرح بدلتے رہتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:85
۳۔بڑے کو چھوٹے پر منطبق نہیں کیا جاسکتا
۳۔بڑے کو چھوٹے پر منطبق نہیں کیا جاسکتا: فرض کریں کہ، ہم دریا کے ایک خوبصورت کنارے پر بیٹھے ہیں، چند چھوٹی چھوٹی کشتیاں پانی کی موجوں پر تیر رہی ہیں ، ایک بڑی کشتہ بھی ہے، ایک طرف سورج غروب ہورہا ہے اور دوسری طرف چاند طلوع ہورہا ہے، خوبصورت آبی پرندے پانی پر آکر بیٹھتے ہیں اور اُڑجاتے ہیں، ایک طرف بہت بڑا پہاڑ ہے، اس کی چوٹی آسمان سے باتیں کر رہی ہے ۔ ہم ساحل پر بیٹھے چند لمحوں کے لئے اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں، جو کچھ دیکھا ہے اسے اپنے ذہن پر مجسم کرلیتے ہیں، وہی بڑا سا پہاڑ، دریا کی وہی وسعت، وہی بڑی سی کشتی، سب ہمارے صفحہ ذہن پر ابھر آتے ہیں یعنی جیسے ایک بہت بڑا منظر ہماری روح کے سامنے یا ہماری روح کے اندر موجود ہو ۔ اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اس منظر کی جگہ کہاں ہے، کیا چھوٹے سے دماغ کے سَیلوں میں اتنا بڑا نقشہ سماجاتا ہے، یقینا نہیں ، اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے وجود کا ایک اور حصہ ہو کہ جو اس جسمانی مادہ سے ماوراء ہو اور اس قدر وسیع ہو کہ یہ تمام منظر اور نقشے اس میں سماسکیں ۔ کیا ایک ۵۰۰ مربع میٹر عمارت کا نقشہ اسی لمبائی چوڑائی کے ساتھ چند مربع ملی میٹر زمین پر بنایا جاسکتا ہے؟ مسلم ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے کیونکہ بہت بڑا موجوداپنی اسی وسعت کے ساتھ کسی چھوٹے سے موجود پر منطبق نہیں ہوسکتا، انطباق کے لئے ضروری ہے کہ جیسے منطبق کرنا ہے وہ، اس کے مساوی ہو یا اسے چھوٹا ۔ لہٰذا ہم انتہائی بڑے بڑے ذہنی نقشوں کو اپنے دماغ کے چھوٹے چھوٹے خلیوں میں جگی کیسے دے سکتے ہیں، کرہ زمین تقریباً چار کروڑ مربع میٹر ہے اس ہم اپنے ذہن میں ترسیم کرسکتے ہیں، کرہ آفتاب زمین سے بارہ لاکھ گناہ ہے اور کہکشامیں ہمارے آفتاب کی نسبت کئی ملین گناہے ، انہیں ہم اپنی فکر میں تصویر کشی کرسکتے ہیں لیکن اگرہم چاہیں کہ اپنے دماغ کے چھوٹے چھوٹے خلیوں میں یہ نقشے اسی وسعت کے ساتھ بنائیں تو بڑے کے چھوٹے پر منطبق نہ ہوسکنے کے قانون کے مطابق ممکن نہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اس جسم سے ،مافوق ایک وجود کا اعتراف کریں کہ جس میں بڑے بڑے نقشے سما سکیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:85
ایک اہم سوال اور اس کا جواب
ایک اہم سوال اور اس کا جواب ہوسکتا ہے کہ کہا جائے کہ ہمارے ذہنی نقشے مائیکرو فلم یا جغرافیائی نقشوں کی طرح ہے مثلاً ۱۰۰۰۰۰۰/۱یا ۱۰۰۰۰۰۰۰۰/۱ (یانی ایک سنیٹی میٹر برابر ہے ، ۱۰ لاکھ سینٹی میٹر وغیرہ )، جغرافیا نقشوں یا مائیکرو فلموں میں ہم اس طرح کا تناسب معین کر لیتے ہیں یہ سکیل Scaleہمیں بتاتی ہے کہ اس نقشے کو ہم اسی نسبت کے ساتھ بڑا کریں گے تو اصل پیمائش ہمیں میسر آجائے گی، نیز ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ کسی دیوپکیر جہاز کی ایک تصویر سے ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ کتنا بڑا ہے لہٰذا اس کی تصویر کھینچنے سے پہلے کسی انسان کو اس کے عرشے پر کھڑا کرکے دونوں کی تصویر کھینچتے ہیں تاکہ موازنے سے اندازہ ہوجائے کہ جہاز کتنا بڑا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ کہاجائے کہ ہمارے ذہنی نقشے بھی چھوٹی چھوٹی تصویریں ہیں جنہیں معین سکیل کے تحت چھوٹا کیا گیا ہے اور اگر انہیں اس نسبت سے بڑا کردیا جائے تو ایک حقیقی نقشہ مل جائے گا اور مسلم ہے کہ یہ چھوٹے نقشے دماغ کے سَیلوں میں بن سکتے ہیں (غور کیجئے گا )۔ اب ہم اس سوال کے جواب کی طرف آتے ہیں ۔ اہم بات یہی ہے کہ مائیکرو فلموں کو عام طور پر پروجیکٹروں کے ذریعے بڑا کرکے پردہ سکرین پر منعکس کرتے ہیں ، اسی طرح جغرافیا نقشوں میں دی گئی سکیل کے مطابق ہم نقشے کو ضرب دے کر اپنے ذہن میں منعکس کرتے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ بڑا پردہ جس پر ہماری بڑی بڑی ذہنی فلمیں منعکس ہوتی ہیں کہاں ہے؟ کیا وہ بڑا پردہ دماغ کے خلیے ہیں؟ وہ تو قطعاً نہیں اور وہ چھوٹا جغرافیا نقشہ کہ جسے ہم بڑے عدد سے ضرب دے کر بڑے نقشے میں تبدیل کرتے ہیں یقینا اس کے لئے کوئی جگہ چاہییے، کیا دماغ کے چھوٹے چھوٹے خلےے اس کی جگہ بن سکرتے ہیں؟ زیادہ واضح عبارت میں، مائیکرو فلم اور جغرفیائی نقشے میں جو کچھ خارج میں ہے وہ تو وہی چھوٹی فلم اور نقشہ ہے لیکن ہمارے ذہنی نقشوں میں تو بعینہ وہ نقشے اپنے خارجی وجود کی مقدار کے مطابق ہیں، لہٰذا انہیںتو جگہ چاہیئے خود انہیں کے برابر اور انہی کی مقدار کے مطابق، اور ہم جانتے ہیں کہ دماغ کے خلیے اس سے کہیں چھوٹیں ہیں کہ انہیں اسی مقدار کے مطابق اس پر منعکس کیا جاسکتا ہے، مختصر یہ کہ وہ ذہنی نقشوں کو ہم ان کے ذہن کے مطابق تصور کرتے ہیں اور یہ بڑی تصویر چھوٹے سے خلیوں میں منعکس نہیں ہوسکتی لہٰذا ان کے لئے کسی جگہ کی ضرورت ہے، یہی سے ہم سَیلوں سے مافوق ایک حقیقی وجود کا سراغ پاتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:85
۱۔ روح کے خارجی پہلو
۱۔ روح کے خارجی پہلو: پہلا سوال جو مادیین سے کیا جاسکتا ہے یہ ہے کہ روح کے افکار وآثار دماغ کے طبیعیاتی کیمیائی Physico Chemicanخواص ہیں تو پھر دماغ، مادہ، دل اور جگر وغیرہ کے کاموں میں کوئی اصولی فرق نہیں ہونا چاہیئے ۔ مثلاً مادہ کا کام طبیعیاتی اور کیمیائی کار کردگی کا مرکب ہے ، مادہ اپنی خاص حرکات کے ذریعے اور تیزابوں کے ترشح سے غذا کو ہضم اور بدن میں اس کے جذب کے لئے تیار کرتا ہے ،اسی طرح جیسا کہ کہا گیا ہے لعابِ دہن کا کام طبیعیاتی اور کیمیائی عمل کی ترکیب ہے حالانکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ روح کے کام ان سب سے مختلف ہیں ۔ بدن کی تمام مشینریوں کے کام ایک دوسرے سے تھوڑی بہت مشابہت رکھتے ہیں لیکن دماغ کی کیفیت استثنائی ہے، تمام مشینریوں کے کام داخلی پہلو رکھتے ہیں جب کہ روح سے ظاہر ہونے والے کام خارجی پہلو رکھتے ہیں اور ہمیں ہمارے وجود سے باہر کی کیفیت سے آگاہ کرتے ہیں ۔ اس گفتگو کی وضاحت کے لئے چند نکات کی طرف توجہ کرنا چاہیئے : پہلا یہ کہ ہمارے وجود سے باہر کوئی جہان ہے یا نہیں؟مسلم ہے کہ باہر بھی کوئی جہان ہے، آیڈیالسٹ حضرات ldealistsخارجی جہان کے وجود کا انکار کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہے بس ہم ہی ہیں اور ہمارے تصورات اور خارجی جہان بالکل ان مناطر کی طرح ہیں کہ جنہیں ہم عالمِ خواب میں دیکھتے ہیں اور سب کچھ تصورات ہی ہیں اور کچھ نہیں ۔ یہ لوگ سخت غلطی پر ہیں ، ہم نے متعلقہ بحث میں ان کے اشتباہ کو ثابت کیا ہے کہ کس طرح آیڈیا لسٹ عمل میں رئلیسٹ (Realists) ہوجاتے ہیں اور جو کچھ وہ کتابی دنیا میں سوچتے ہیں اسے کوچہ وبازار اور عام زندگی کے ماحول میں قدم رکھتے ہی بھول جاتے ہیں ۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ کیاہم اپنے وجود سے باہر کے جہان سے آگاہ ہیں یا نہیں؟ یقینا اس سولا کا جواب بھی محبت ہے کیونکہ ہم اپنے وجود سے باہر کے جہان کے بارے میں بہت سا علم وآگاہی رکھتے ہیں اور ان موجودات کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں کہ جو ہمارے آس پاس سے بہت دُور ہیں ۔ اس وقت یہ سوال پیدا ہو گا کہ خارجی جہان ہمارے وجود میں آسکتا ہے؟ مسلم ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا بلکہ اس کا نقشہ ہمارے پاس ہے اور ہم واقع نمائی کی خاصیت سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے وجود سے باہر کے جہان کو معلوم کرسکتے ہیں، یہ واقع نمائی دماغ کے صرف طبیعیاتی کیمیائی Physico Chemicalعمل کے خواص نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ خواص بیرونی دنیا کے بارے میں ہمارے تاثیرات کی پیداوار ہیں یعنی ان کے معلول ہیں، جیسے غذا ہمارے معدے پر اثر چھوڑتی ہے تو کیا غذا کے معدے پر تاثیر اس کا طبیعیاتی وکیمیائی فعل وانفعال سبب بن سکتا ہے کہ معدہ غذا کے بارے میں آگاہی رکھتا ہو، تو پھر کس طرح ہمارا دماغ اپنے سے باہر کی دنیا سے با خبر ہوسکتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں خارجی اور عینی موجودات سے آگاہی کے لئے ان پر ایک قسم کا احاطہ ضروری ہے اور یہ احاطہ کرنا دماغ کے سَیلوں کا کام نہیںہے، دماغ کے سیل تو صرف خارج سے متاثر ہوتے ہیں اور یہ تاثیر بدن کی مشینوں کی طرح ہے کہ جو خارجی کیفیت سے ان پر مرتب ہوتا ہے، یہ ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ اگر خارجی جہان سے متاثر ہونا خارج کے بارے میں آگاہی کی دلیل ہوتا تو پھر ضروری تھا ہم اپنے معدے اور زبان کے ذریعے بھی آگاہی حاصل کرتے حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ مختصر یہ کہ ہمارے ادراکات کی استثنائی کیفیت اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں کوئی اور حقیقت چھپی ہوئی ہے کی جس کا نظام طبیعیاتی اور کیمیائی نظام سے بالکل مختلف ہے(غور کیجئے گا)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:85
۴۔ روح کے مظاہر مادی کیفیات کی مانند نہیں
۴۔ روح کے مظاہر مادی کیفیات کی مانندنہیں : ایک اور دلیل جو ہمیں استقلالِ روح اور اس کے غیر مادی ہونے کی طرف رہنمائی کرسکتی ہے یہ ہے کہ مظاہرِ روح میں کچھ خواص وکیفیات ایسی دکھائی دیتی ہیں جو مادی موجودات کے خواص وکیفیات سے کوئی مشابہت نہیں رکھتی، کیونکہ : اولاً موجودات کے لئے زمانہ درکار اور وہ تدریجی پہلو رکھتے ہیں ۔ ثانیاً وقت اور زمانے کے ساتھ ساتھ اورکہنہ اور فرسودہ ہوجاتے ہیں ۔ ثالثا ان کا متعدد اجزاء میں تجزیہ کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن ذہنی موجودات اس میں پیدا ہونے والی چیزوں میں یہ آثارو خواص نہیں ہیں، ہم موجودہ جہان جیسا ایک جہان اپنے ذہن میں ترسیم کرسکتے ہیں ، بغیر اس کے کہ زمانہ گزرے اور اس کے لئے تدریجی پہلو کی ضرورت ہو ۔ اس سے قطع نظر، وہ مناظر کہ مثلاً جو بچپن میں لڑائی ہو آخر عمر تک چلتی رہے جو بچپن میں ہمارے صفحہ ذہن پر نقش ہوگئے تھے زمانہ گزرنے کے باوجود پرانے اور فرسودہ نہیں ہوتے اور ان کی شکل اسی طرح محفوظ ہوتی ہے، ہوسکتا ہے انسان کو دماغ کہنہ ہوگیا ہو لیکن اس کہنگی سے وہ گھر کے جس کا نقشہ بیس سال قبل ہمارے ذہن میں ثبت ہوا تھا اسی طرح رہتا ہے، اس میں ایک طرح کا ثبات رہتا ہے کہ جو ماورائے مادہ جہان کی خاصیت ہے ۔ نقشوں اور تصویروں کے بارے میں ہماری روح عجیب وغریب صلاحیت رکھتی ہے، ہم لمحہ بھر میں کسی تمہید کے بغیر ہر قسم کا نقشہ اپنے ذہن میں کھنیچ سکتے ہیں، مثلاً آسمانی کرے ، کہکشائیں یا زمینی موجودات دریا، پہاڑ وغیرہ ان سب کا تصور ہمارے ذہن میں آنِ واحد میں ابھر سکتا ہے، یہ خاصیت ایک مادی موجودکی نہیں ہے بلکہ مافوق مادہ موجود کی نشانی ہے ۔ اس کے علاوہ ہم جانتے ہیں کہ اس میں شک نہیںکہ4=2+2کی مساوات میں مساوات کی ہر طرف کو ہم جزو جزو کرسکتے ہیں، یعنی ۲ کا تجزیہ کریں یا چار کا لیکن اس مساوات کا تجزیہ نہیں کر سکتے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ مساوات2 آدھے رکھتی ہے اور ہر آدھا دوسرے آدھے کے غیرہے، مساوات کا ایک ہی مفہوم ہے کو قابلِ تجزیہ نہیں ہے ، یعنی4=2+2یا ہے ہے نہیں اسے دو نیم ہرگز نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا اس قسم کے ذہنی مفاہیم قابلِ تقسیم وتجزیہ نہیں ہیں اسی بناء پر وہ مادی نہیں ہوسکتے کیونکہ اگر وہ مادی ہوتے تو ان کا تجزیہ ہوسکتا اور انہیں تقسیم کیا جاسکتا ، یہی وجہ ہے کہ ہماری روح جو ایسے غیرمادی مفاہیم کا مرکز ہے مادی نہیںہوسکتی اس لئے وہ مافوق مادہ ہے (غور کیجئے گا)۔(1) ۱۔ کتاب ”معاد وجہان پس از مرگ“ کے حصہ ”استدلالِ روح“ کی تلخیص ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:85
روح کی اصالت واستقلال
روح کی اصالت واستقلال علم ، انسان کی تاریک شاہد ہے کہ روح، اس کی ساخت اور اس کے اسرار آمیز خصوصیات کا مسئلہ ہمیشہ علماء کے غور وفکر کا عنوان رہا ہے، ہر عالم نے اپنی بساط بھر کوشش کی ہے کہ روح کی وادی اسرار میں قدم رکھے، یہی وجہ ہے کہ روح کے بارے میں علماء کے نظریات بہت زیادہ اور متنوع ہیں، ہوسکتا ہے ہمارآج کا علم بلکہ آئندہ آنے والوں کا علم بھی روح کے تمام اسرار ورموز تک پہنچنے کے لئے کافی نہ ہو اگرچہ ہماری روح اس دنیا کی ہر چیز سے ہمارے قریب تر ہے اگرچہ اس کا گوہر ہر چیز سے بالکل مختلف ہے جس سے ہمیں اس عالمِ مادہ میں سابقہ پڑتا ہے ۔ اس پر زیادہ تعجب بھی نہیں کرنا چاہیئے کہ ہم اس عجوبہ روزگار اور ما فوقِ مادہ مخلوق کے اسرارو حقیقت تک نہیں پہنچ سکے، بہرحال یہ صورت حال اِس سے مانع نہیں ہے کہ ہم روح کے دور سے نظر آنے والے منظر کو عقل کی تیز بین نگاہ سے دیکھ سکیں، اس پر حکم فرما اصول اور عمومی نظام سے آگاہی حاصل کر سکیں، اس سلسلے میں اہم ترین روح کی اصالت واستقلال کا مسئلہ، جسے جاننا چاہیئے ۔ مادہ پرست روح کو مادی اور دماغ کے مادی خواص اور نسوں کے خلیوںNerveCellsمیں سے سمجھتے ہیں ان کی نظر میں روح اس کے علاوہ کچھ نہیں، ہم یہاں زیادہ تر اسی نکتے پر بحث کریں گے بقائے روح کی بحث اور تجرد کامل یا تجرد مکتبی کی گفتگو کا انحصار اسی مسئلہ پر ہے، لیکن پہلے اس نکتے کا ذکر ضروری ہے کہ انسانی بدن سے روح کا تعلق ایسا نہیں جیسا بعض نے گمان کر رکھاہے، روح نے بدن میں حلول نہیں کر رکھا اور نہ یہ مشک میں ہوا کی طرح انسانی جسم میں موجود ہے، بلکہ بدن اور روح کے مابین ایک قسم کا ارتباط ہے اور یہ ارتباط روح کی بدن پر حاکمیت ، تصرف اور اس کی تدبیر کی بنیاد پر ہے، بعض نے اس ارتباط کو لفظ اور معنی کے ما بین تعلق سے تشبیہ دی ہے، جب ہم استقلالِ روح کے مسئلہ پر بحث کریں گے، بات بھی واضح ہوجائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان پتھر اور لکڑی سے مختلف ہے کیونکہ ہم اچھی طرح سے محسوس کرتے ہیں کہ ہم بے جان موجودات بلکہ نباتات سے بھی مختلف ہیں، ہم سوچتے ہیں، ارادہ کرتے ہیں، محبت اور نفرت کرتے ہیں وغیرہ۔ لیکن پتھر اور نباتات میں یہ احساسات نہیں ہیں، لہٰذا ہمارے اور ان کے درمیان ایک اصولی فرق موجود ہے اور اس کی وجہ روحِ انسانی ہے ۔ مادہ پرست یا کوئی اور نفس اور روح کے وجود کے منکر نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ علمِ نفسیات Psychology اور Psychoanalism کو ایک مثبت علم سمجھتے ہیں، یہ دونوں علم اگرچہ کئی ایک جہات سے اپنے ابتدائی مراحل طے کررہے ہیں تاہم دنیا کی بری سے بڑی یونیورسٹیوں میں اساتذہ اور طلبہ اس بارے میں مطالعہ وتحقیق میں مصروف ہیں ۔ جیسا کہ ہم دیکھے گے کہ نفس اور روح دو الگ الگ حقائق نہیں ہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف مراحل ہیں، جہاں جسم سے روح کے ارتباط کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے اور ان دونوں کی متقابل تاثیر بیان ہوتی ہے وہاں”نفس“ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور جیاں جسم سے الگ روح سے ظاہر ہونے والے اثرات پر گفتگو ہوتی ہے وہاں لفظ”روح“ استعمال ہوتا ہے،خلاصہ یہ کہ کوئی شخص انکار نہیںکرتا کہ ہم میں روح اور نفس کے نام کی ایک حقیقت موجود نہیں ہے ۔ اب دیکھناہے کہ مادہ پرستوں(Materialists)اور ماوراء الطبیعت کے فلاسفہ اور روحیوں(Spirtulists)کے درمیان جنگ کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ علماء الہیون اور فلاسفہ روحیوں کا نظریہ ہے کہ جس مواد سے انسانی جسم بنتا ہے اس کے علاوہ اس میں ایک اور حقیقت اور گوہر مخفی ہے کہ جو مادہ نہیں ہے لیکن انسانی بدن بلاواسطہ ان کے زیرِاثر ہے، دوسرے لفظوںمیں روح ایک ماوراء الطبیعاتی (Metaphysical) حقیقت ہے، اس کی ساخت اور فعالیت مادی دنیا کی ساخت اور فعالیت سے مختلف ہے، یہ ٹھیک ہے کہ یہ ہمیشہ مادی سے مربوط رہتی ہے لیکن یہ خودمادہ یا خاصیتِ مادہ نہیں ہے ۔ان کے مد مقابل مادیت کے فلاسفہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے وجود میں روح نام کے مادہ کے علاوہ کوئی مستقل وجود نہیں اور مادہ سے ہٹ کر روح نام کی کوئی چیز نہیں جو کچھ ہے یہی مادہ جسمانی ہے اور یا اس کے طبیعیاتی اور کیمیائی Physical and chemicalآثار ہیں ۔ہمارے اندر دماغ اور اعصاب کے نام کی ایک مشینری ہے کہ جو ہماری زندگی کے اعمال کا ایک اہم حصہ ہے اور یہ بھی مادی بدن کی مشینریوں کی طرح ہے اور مادی قوانین کے تحت کام کرتی ہے ۔ ہماری زبان کے نیچے کچھ غدود ہیں جنہیں غدود ہائے بزاقSliva Glands(۱)کہا جاتا ہے، یہ طبیعیاتی عمل بھی کرتی ہیں اور کیمیائی بھی ، جس وقت غذا منہ میں لی جاتی ہے تو یہ خود کار کنویں (۲)خودبخود کام شروع کردیتے ہیں، یہ حساب کے اس قدر ماہر ہیں کہ پانی کی بالکل اتنی مقدار جتنی غذا کو چبانے اور نرم کرنے کے لئے ضروری ہے اس پر چھڑکتے ہیں، پانی والی غذا، کم پانی والی غذا یا خشک غذا، ہر ایک اپنی ضرورت کے مطابق آبِ دہان سے اپنا حصہ لیتی ہے ۔ تیزابی مواد، خصوصاً جس وقت زیادہ سخت ہوں ان غدودوں کی کار کردگی بڑھا دیتا ہے تاکہ اسے زیادہ مقدار میں پانی ملے اور یہ خوب پتلا ہوجائے اور معدے کی دیواروں کو نقصان نہ پہنچے ۔ جس وقت انسان غذا کو نگل لیتا ہے ان کنوؤں کا عمل خودبخود رک جاتا ہے، مختصر یہ کہ ان ابلنے والے چشموں پرایک عجیب وغریب نظام حکم فرماہے، ایسا نظام کہ اگر اس کا توازن بگڑ جائے یا ہمیشہ لعابِ دہن ہمارے منہ سے گرتا رہے یا پھر ہماری زبان اور حلق کسی قدر خشک ہوجائے تو لقمہ ہمارے حلق میں پھنس جائے ۔ یہ لعابِ دہن کا طبیعیاتی کام ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس کا زیادہ اہم کام کیمیائی ہے، اس میں مختلف طرح کا مواد مخلوط ہوتا ہے اور یہ غذا سے مل کر نئی ترکیب کو جنم دیتا ہے جس سے معدے کی زحمت کم ہوجا تی ہے ۔ مادہ پرست(Materialists)کہتے ہیں کہ ہمارے اعصاب اور مغز کا سلسلہ لعابِ دہن کے غدودوں کی مانند ہے اور یہ اسی طرح کے طبیعیاتی اور کیمیائی عمل کا حامل ہے کہ جسے مجموعی طور پر طبیعیاتی کیمیائی Chemical Physicoکہا جاتا ہے اور یہی طبیعیاتی کیمیائی فعالیتیں ہیں جنہیں ہم آثار، روح یا روح کہتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب ہم سوچ رہے ہوتے ہیں تو ایک خاص برقی سلسلہ ہمارے دماغ سے اٹھتا ہے، دورِ حاضر میں مشینوں کے ذریعے ان لہروں کو کاغذ پر ثبت کردیا جاتا ہے خصوصاً نفسیاتی بیماریوں کے ہسپتالوں میں ان لہروں کے مطالعے سے نفسیاتی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کیا جاتا ہے، ہمارے دماغ کی فیزیکلPhysicalفعالیت ہے ۔ ۱۔لعاب دہن کی غدودیں ۔ ۲۔Artesiens اس کے علاوہ غور فکر کرتے وقت اور نفسیاتی فعالیت کے موقع پر ہمارے دماغ کی سیل Cellsایک کیمیائی فعالیت بھی کرتے ہیںلہٰذا روح اور آثار روح ہمارے دماغ اور اعصاب کے خلیوں کی کیمیائی فعل وانفعالات کے طبیعیاتی خواص کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے ۔ اس بحث میں مادیین یہ نتیجہ نکالتے ہیں : ۱۔ جیسے لعابِ دہن کے غدودوں کی فعالیت اور ان کے مختصر اثرات بدن سے پہلے نہ تھے اور نہ اس کے بعد ہوں گے اسی طرح ہماری روح کی کار کردگی بھی دماغ اور اعصاب کی مشینری کے پیدا ہونے سے وجود میں آتی ہے اور اس کے مرنے سے مر جاتی ہے ۔ ۲۔ روح جسم کے خواص میں سے ہے، لہٰذا وہ مادی شے ہے اور ماورائے طبیعت کا پہلو نہیں رکھتی ۔ ۳۔ روح پر بھی وہی قوانین حکم فرما ہیں جو جسم پرحکومت کرتے ہیں ۔ ۴۔ روح بدن کے بغیر کوئی مستقل وجود نہیں رکھتی اور نہ ہی رکھ سکتی ہے ۔ روح کے عدم استقلال پر مادیین کے دلائل مادیین کا نظریہ ہے کہ روح وفکر اور روح کے تمام آثار مادی ہیں یعنی دماغ اور اعصاب کے خلیوں کی طبیعیاتی اور کیمیائی خواص ہیں انہوں نے اپنے دعویٰ کے اثبات کے لئے کچھ شوہد پیش کئے ہیںمثلاً: ۱۔ آسانی سے نشانددہی کی جاسکتی ہے کہ مراکز کا ایک حصہ یا اعصاب کا ایک سلسلہ بیکار ہوجائے تو آثار روح کا ایک حصہ معطل ہوجاتا ہے(۱)مثلاً تجربہ کیا گیاہے کہ کبوتر کے مغز کا ایک خاص حصہ الگ کرلیا جائے تو کبوتر مرتا نہیں لیکن اس کی معلومات کا بہت سا حصہ ختم ہوجا تا ہے، اگر اسے غذا کھلائیں تو کھاتا ہے اور ہضم کرتا ہے اور اگر کھلائیں نہیں صرف دانہ اس کے سامنے ڈال دیں تو نہیں کھاتا اور بھولک سے مرجاتا ہے ۔ اسی طرح اگر انسان کے دماغ پر کچھ ضربیں لگائی جائیں یا بعض بیماریوں کی وجہ سے اس کے دماغ کا کچھ حصہ بیکار ہوجائے تو دیکھا گیا ہے کہ انسان کو بہت سی چیزیں بھول جاتی ہیں ۔ کچھ عرصہ ہوا ہم نے جرائد اور اخبار میں پڑھا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان کو اہواز کے قریب ایک حادثہ پیش آیا اس حادثے میں اس کے دماگ پر ضرب آئی، وہ اپنی زندگی کے تمام گزشتہ واقعات بھول گیا یہاں تک کہ وہ اپنے ماں باپ تک کو نہیں پہچانتا تھا، اسے اس کے گھر لے جایا گیا، وہ اسی گھر میں میں پلا بڑھا تھا مگر وہ وہاں اپنے آپ کو بالکل اجنبی محسوس کر رہا تھا ۔ ایسے وقعات نشاندہی کرتے ہیں کہ دماغ کے خلیوں کی فعالیت اور آثارِ روح کے درمیان ایک قریبی ربط ہے ۔ ۱۔ Phycholgyاز ڈاکٹر ارانی ،ص۲۳۔ ۲۔ غور وفکر کرتے وقت دماغ کی سطح پر مادی تغیرات زیادہ ہوتے ہیں، دماغ زیادہ غذا لیتا ہے، اور فاسفورسPhuphorusواپس کرتا ہے، سوتے وقت جب کہ دماغ فکری کام نہیں کرتا تھوڑی غذا لیتا ہے ، یہ امر آثارِ فکری کے مادی ہونے کی دلیل ہے ۔(5) ۳۔ مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ غور وفکر کرنے والوں کے دماغ کا وزن عام لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے، اوسطاً مَردوں کے دماغ کا وزن ۱۴۰۰ گرام ہوتا ہے اور عورتوں کے دماغ کا وزن اوسطاً اس سے کچھ کم ہوتا ہے، یہ امر بھی نشاندہی کرتا ہے کہ روح مادی شے ہے ۔ ۴۔اگر قوائے فکری اور مظاہر ِ روح ، روح کی ایک مستقل وجود ہونے کی دلیل ہیں تو یہ بات ہمیں حیوانات کے لئے بھی ماننا چاہیئے کیونکہ وہ بھی اپنی حد تک ادراک رکھتے ہیں ۔ مختصر یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہماری روح موجود مستقل نہیں ہے اور انسان شناسی کے علم نے جو ترقی کی ہے وہ بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہے ۔ ان دلائل سے یہ مجموعی نتیجہ نکلتا ہے کہ انسانی اورحیوانی فزیالوجیHuman and physcologyکی ترقی اور وسعت روزبروز اس حقیقت کو زیادہ واضح کررہی ہے کہ آثار روح اور دماغی خلیوں کے درمیان قریبی تعلق ہے ۔ مادی استدلال کے کمزور پہلو اس استدلال میں مادیین کو ایک بہت بڑا اشتباہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے آلات کار کو کام کا فاعل سمجھا ہے ۔ یہ واضح کرنے کے لئے کہ انہوں نے آلات کو فاعل کیسے سمجھے لیا ہے اجازت دیجئے کہ ہم ایک مثال پیش کریں، اس مثال پر غور کیجئے گا: گیلیلیوکے بعد آسمانوں کی وضع وکیفیت کے مطالعہ میں ایک انقلاب پیدا ہواہے، اطالوی گیلیلیوایک عینک ساز کی مدد سے ایک چھوٹی سی دور بین بنانے میں کامیاب ہوگیا ، وہ اس پر بہت خوش ہوا، جب اس نے رات کے وقت اس کی مدد سے آسمانی ستاروں کا مطالعہ شروع کیا تو اسے حیرت انگیز منظر معلوم ہوا، ایسا منظر اس سے پہلے کسی انسان نے نہیں دیکھا تھا، اس نے سمجھا کہ مَیں نے ایک اہم انکشاف کیا ہے، اس طرح اس دن کے بعد انسان عالمِ بالا کے اسرار کا مطالعہ کرنے کے قابل ہوگیا ۔ اس وقت تک انسان ایک ایسے پروانے کی طرح تھا کہ جس نے فقط اپنے ارد گرد کی چند شاخیں دیکھی تھیں، لیکن جب اس نے دُور بین کے ذریعے جھانکا تو اسے فطرت کا ایک عظیم جنگل دکھائی دیا ۔ اس سلسلے میں ترقی وکمال جاری رہا یہاں تک کہ ستاروں کو دیکھنے کے لئے بڑی بڑی دُور بینیں ایجادہو گئیں، کہ جن کے عدس کا قطر پانچ میٹر یا اس سے بھی زیادہ تھا، انہیں پہاڑوں کی ایسی بلند چوٹیوں پر نصب کیا گیا کہ جو صاف وشفاف ہوا کے اعتبار سے مناسب تھیں، ایسی ایسی دُوربینیں بنیں کہ جو کئی منزلہ عمارت کے برابر تھیں، ان کے ذریعے انسان کو عالمِ بالا میں کئی جہان دکھائی دئےے، ایسے ایسے جہان کہ عام نظر سے انسان کو ہزاروںحصہ بھی نظر نہ آتا تھا ۔ اب آپ سوچیں کہ اگر ایک دن ٹیکنا لوجی اتنی ترقی کر جائے کہ انسان ایسی دُور بین بنالے کہ جس کے عدس کا قطر ایک سو میتر کے برابر ہو اور جس کا سازوسامان اور وسعت ایک شہر کی مانند ہو تو ہم پر کتنے جہان منکشف ہوجائیں گے ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ دُور بینیں ہم سے لے لی جائیں تو یقینی طور پر آسمان کے بارے میں ہماری معلومات اور مشاہدات کا ایک حصہ معطل ہوجائے گا لیکن کیا حقیقی طور پر دیکھنے والے ہم ہیں یا دُور بینیں؟ کیا ٹیلی سکوپ ہمارے لئے آلاتِ کار ہیں یا خود فاعل ِکار اور خود دیکھنے والی؟ دماغ کے بارے میں بھی کوئی شخص انکار نہیں کرتا کہ دماغ کی سیلCellsکے بغیر غور وفکر نہیں کیا جاسکتا لیکن کیا دماغ روح کے کام کا آلہ ہے یا خود روح؟؟ مختصر یہ کہ مادیین نے جو تمام تر دلائل پیش کئے ہیں وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ دماغ کے سیل اور ہمارے ادراک کے درمیان ربط موجود ہے لیکن ان میں سے کوئی دلیل یہ ثابت نہیں کرتی کہ دماغ خود غور وفکر کرتا ہے نا کہ ادراک کا آلہ ہے(غور کیجئے گا) یہاں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مردے اگر کچھ نہیں سمجھتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ روح کا بدن سے ربط ختم ہوگیا ہے نہ یہ کہ روح فنا ہوگئی ہے، یہ بات بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی بحری یا ہوئی جہاز کا وائر لیس خراب ہوجائے اور وہ ساحل یا ائیرپوٹ سے رابطہ نہ کرسکے کیونکہ کہ رابطے کا ذریعہ منقطع ہوگیا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:85
۲۔ وحدت شخصیت
۲۔وحدت شخصیت : استقلالِ روح کے بارے میں جو دوسری دلیل ذکر کی جاسکتی ہے وہ انسان کی پوری زندگی میں وحدت ِ شخصیت کا مسئلہ ہے ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ہم ہر چیز میں شک وتردد رکھتے ہیں تب بھی اس بات میں شک نہیں رکھتے کہ ”ہم وجود رکھتے ہیں“۔ ”مَیں ہوں “اور اپنی ہستی کے بارے میں مجھے کوئی شک نہیں ہے اوراپنے وجود کے بارے میں میرا علم حضوری ہے حصولی نہیں یعنی میں اپنے آپ کے سامنے حاضر ہوں اور اپنے آپ سے جدا نہیں ہوں ۔ بہرحال اپنے آپ سے آگاہی ہماری واضح تعین معلومات میں سے ہے اور اس کے لئے کسی استدلال کی احتیاج نہیں، مشہور فرانسی فلسفی ڈیکارٹ نے اپنے وجود کے لئے جو معروف استدلال کی ہے وہ یہ ہے : مَیں سوچ رہا ہوں پس مَیں ہوں ۔ یہ ایک اضافی اور غیر صحیح استدلال نظر آتا ہے کیونکہ اس نے اپنے وجود کو ثابت کرنے سے پہلے دو مرتبہ اپنے وجود کا اعتراف کیاہے ، ایک مرتبہ”مَیں“ کہہ کر اور دوسری مرتبہ ”رہا ہوں“ کہہ کر ۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو یہ ”مَیں“ابتدائے عمر سے آخر عمر تک ایک اکائی سے زیادہ نہیں ہے، آج کا ”مَیں“وہی کل کا ”مَیں“ ،وہی بیس سال پہلے کا”مَیں“، بچپن سے لے کر اب تک ایک شخص سے زیادہ کچھ نہیں ہے،”مَیں“ وہی شخص ہوں کہ جو پہلے تھا اور آخرعمر تک یہی شخص رہوں گا ناکہ کوئی اور شخص، البتہ ”مَیں“ نے تعلیم حاصل کی اور ”مَیں“پڑھا لکھا ہوگیا،”مَیں“نے کمال وترقی کی منزل طے کی اور پھر بھی کروں گا لیکن پھر میں ”مَیں“ کوئی دوسرا آدمی نہیںہوگیا ، لہٰذا سب لوگ ابتدائے عمر سے لے کر آخر عمر تک مجھے ایک ہی آدمی جانتے ہیں ،میرا ایک ہی نام ہے اور وہی اسی شخص کا شناختی کارڈ وغیرہ ۔ ہم سوچیں اور دیکھیں کہ یہ موجود واحد کی جس میں ہماری ساری عمر پوشیدہ ہے کیا ہے؟ کیا یہ ہمارے بدن کے ذرات اور اور خلیوں یا دماغی سَیلوں اور ان کے فعل وانفعالات کا مجموعہ ہے ؟یہ دور ہماری زندگی میں بارہا بدلتے رہتے ہیں ، اور تقریباً ہر سات سال کے بعد ایک مرتبہ تمام سَیل بدل جاتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایک روز وشب میں ہمارے بدن کے لاکھوں سَیل مرتے ہیں اور ان کی جگہ نئے سَیل لیتے ہیں، جیسے کسی پران عمارت کی پرانی اینٹیں نکلتے رہیں اور ان کی جگہ نئی اینٹیں لگاتے رہیں تو ایک عرصے بعد یہ عمارت بالکل بدل جائے گی اگرچہ عوم لوگوں کو اس کا اندازہ نہ ہو، جیسے کسی ایک بڑے تالاب کا پانی ایک تالاب سے نکلتا رہتا ہے اور دوسری طرف سے تازہ پانی داخل ہوتا رہتا ہے، واضح ہے کچھ عرصے بعد سارا پانی بدل جائے گا اگرچہ ظاہر میں افراد توجہ نہ کریں اور اسے پہلے والا ہی سمجھتے رہیں ۔ کلی طور پر ہر موجود جو غذا کو حاصل کرتا ہے اور غذا کا مصرف رکھتا ہے اس کی تعمیرِ نو کا سلسلہ جاری رہے گا اور وہ بدل جائے گا ۔ لہٰذا ایک ستر سالہ انسان کے تما اجزائے بدن تقریباً دس مرتبہ بدل چکے ہوتے ہیں، اگر ہم مادیین کی طرح انسان کو وہی جسم اور وہی داماغ واعصاب اور وہی اس کے طبیعیاتی وکیمیائی خواص سمجھیں تو یہ ”مَیں“ تو ستر سال کی عمر میں دس مرتبہ بدل چکا ہوں گا اور یہ وہی پہلے والا شخص نہیں ہوں گا حالانکہ کوئی عقل اس بات کو قبول نہیں کرے گی ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مادی اجزاء کی بجائے کوئی اور ایک واحد ثابت حقیقت ہے جو ساری عمر میں موجود رہتی ہے کہ یہ جو مادی اجزاء کی طرح بدلتی نہیں اور وہی دراصل بنیاد وجود ہے، وہی ہماری شخصیت کی وحدت کا عامل وباعث ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:85
روح کیاہے؟
روح کیاہے؟ گزشتہ آیات کے بعد ۔ اب مشرکین یا اہلِ کتاب کے بعض اہم سوالات کے جوابات دئےے جارہے ہیں ۔ ارشادہوتا ہے :تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو :روح میرے رب کے فرمان میںسے ہے اور تمہیں بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے( وَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّی وَمَا اٴُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیلاً)۔ گزشتہ اور موجودہ دَور کے عظیم مفسرین نے”روح “ کے معنی اور اس آیت کی تفسیر کے بارے میں بہت کچھ کہا، ہم پہلے لغت کے حوالے سے ”روح “ کے معنی کے بارے میں بات کریں گے، اس کے بعد قرآن میں یہ لفظ جہاں جہاں آیاہے اسے دیکھیں گے اور اس سلسلے میں وارد شدہ روایات بیان کریں گے ۔ ۱۔ لغت کے حوالے سے: لُغت کے لحاظ سے ” روح“ در اصل ”نفس“ اور ”دوڑنے“ کے معنی میںہے ، بعض نے تصریح کی ہے کہ ”روح“ اور ”ریح“(ہوا)ایک ہی معنی سے مشتق ہیں اور روحِ انسان کہ جو مستقل اور مجرد گوہر ہے اسے اس نام سے اس لئے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ تحرک، حیات آفرینی اور ظاہر نہ ہونے کے لحاظ سے نفس اور ہوا کی طرح ہے ۔ ۲۔ قرآنی آیات کے حوالے سے: قرآن حکیم میں یہ لفظ مختلف اور متنوع صورت میں آیاہے ۔ کبھی یہ لفظ انبیاء ومرسلین کو ان کی رسالت کی انجام دہی میں تقویت پہنچانے والی روحِ مقدس کے بارے میں آیاہے،مثلاً سورہٴ بقرہ کی آیہ ۲۵۳میں ہے: <وَآتَیْنَا عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنَاتِ وَاٴَیَّدْنَاہُ بِرُوحِ الْقُدُس ہم نے عیسیٰ کو واضح دلائل دئےے اور روح القدس کے ذریعے اسے تقویت بخشی۔ کبھی یہ لفظ مومنین کو تقویت بخشنے والی اللہ کی روحانی ومعنوی قوت کے مفہوم میں آیا ہے، جیسا کہ سورہ مجادلہ کی آیہ ۲۲میں ہے: <اٴُوْلٰئِکَ کَتَبَ فِی قُلُوبِھِمْ الْإِیمَانَ وَاٴَیَّدَھُمْ بِرُوحٍ مِنْہُ وہ ایسے لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان لکھ دیا ہے اور روح کے ذریعے انہیں تقویت بخشی ہے ۔ اور کبھی وحی کے خاص فرشتے کے مفہوم میں یہ لفظ استعمال ہوئے: ”امین“ کے لفظ سے اس کی توصیف کی گئی ہے مثلاً سورہ شوریٰ کی آیہ ۱۹۳۔۱۹۴میں ہے: <نَزَلَ بِہِ الرُّوحُ الْاٴَمِینُ ، عَلیٰ قَلْبِکَ لِتَکُونَ مِنَ الْمُنذِرِین۔ یہ قرآن روح الامین نے تیرے دل پر اتارا ہے تاکہ تُو ڈرانے والوں میں سے ہو ۔ کبھی یہ لفظ خدا کے خاص فرشتوں میں سے ایک عظیم فرشتے یا فرشتوں سے برتر ایک مخلوق کے معنی میں آیا ہے، مثلاً: < تَنَزَّلُ الْمَلَائِکَةُ وَالرُّوحُ فِیھَا بِإِذْنِ رَبِّھِمْ مِنْ کُلِّ اٴَمْر شبِ قدر میں ملائکہ اور روح اپنے پروردگار کے امر کے ساتھ تقدیرِ امور کے لئے نازل ہوتے ہیں(قدر:۴) نیز سورہ نباء کی آیہ ۳۸ میں بھی ہے: <یَوْمَ یَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِکَةُ صَفًّا روزِ قیامت روح اور ملائکہ ایک ہی صف میں قیام کریں گے ۔ کبھی یہ لفظ قرآن اور وحی آسمانی کے معنی میں آیاہے،مثلاً < وَکَذٰلِکَ اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ رُوحًا مِنْ اٴَمْرِنَا اور اسی طرح ہم نے تیری طرف روح کووحی کیا کہ جو ہمارے امر میں سے ہیں(شوریٰ: ۵۲) کبھی یہ لفظ روحِ انسانی کے معنی میں آیا ہے جیسا کہ خلقتِ آدم سے متعلق آیات میں ہے: < ثُمَّ سَوَّاہُ وَنَفَخَ فِیہِ مِنْ رُوحِہ۔ اس کے بعد خلقتِ آدم کو نظام بخشا اور اس میں اپنی روح پھونکی(سجدہ:۹) اسی طرح سورہٴ حجر کی آیہ ۲۹ میں ہے <فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِنْ رُوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِین پس ہم نے خلقتِ آدم کو عملی صورت دے دی اور اس میں اپنی روح پھونک دی تو اس کے لئے سجدہ کرو ۔(۱) اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زیرِ بحث آیت میں روح سے کیا مراد ہے، یہ کس روح کا تذکرہ ہے کہ جس کے بارے میں کچھ لوگوں نے رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سوال کیا ہے اور آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تمہیں تھوڑے سے علم کے سوا کچھ پتہ نہیں ۔ آیت کے داخلی وخارجی قرائن سے ایسا لگتاہے کہ سوال کرنے والوں نے انسان کی روح سے متعلق سوال کیا ہے، وہی عظیم روح کہ جو انسان کو حیوانات سے جدا کرتی ہے، جو ہمارا افضل ترین شرف ہے اور جو ہماری تمام تر طاقت اور فعالیت کا سرچشمہ ہے، جس کی مدد سے ہم زمین و آسمان کو اپنی جولان گاہ بنائے ہوئے ہیں، جس کے ذریعے ہم علمی اسرار کی گتھیاں سلجھاتے ہیں، جس کے ذریعے ہم موجودات کی گہرائیوں تک پہنچنے کا راستہ پاتے ہیں، چاہتے تھے کہ عالمِ آفرینش کے اس عجوبہ کی حقیقت معلوم کریں ۔ روح کی ساخت مادہ کی ساخت سے مختلف ہے، وہ اصول جو اس پر حاکم ہیں وہ حاکم اصولوں اور طبیعیاتی اور کیمیائی خواص سے مختلف ہیں لہٰذا پیغمبر اکرم صلی اللهعلیہ وآلہ وسلّم کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک مختصر اور پر معنی جملہ کہیں کہ:روح عالمِ امر میں سے ہے،یعنی اس کی خلقت اسرار آمیز ہے ۔ اس کے بعد اس بناء پر کہ انہیں اس جواب کا تعجب نہ ہو مزید فرمایا کہ تمہارا علم بہت ہی کم ہے، لہٰذا کونسے تعجب کی بات ہے کہ تم روح کے اسرار نہ جان سکو اگرچہ وہ ہر چیز کی نسبت تم سے زیادہ قریب ہے ۔ دس روایات کے حوالے سے : تفسیر عیاشی میں امام باقر (علیه السلام) اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (علیه السلام) نے آیہ ” وَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الرُّوح“ کی تفسیر کے سلسلے میں فرمایا: انما الروح خلق من خلقہ، لہ بصر وقوة وتایید، یجعلہ فی قلوب الرسل والموٴمنین۔ روح مخلوقاتِ خدا میں سے اور یہ بینائی قوت رکھتی ہے، خدا اسے انبیاء اور مومنین کے دلوں میں قرار دیتا ہے ۔(2) ایک اور حدیث انہیں دو بزرگوار ائمہ میں سے ایک سے منقول ہے، اس میں ہے: ھی من الملکوت من القدرة ۔ روح عالمِ ملکوت اور خدا کی قدرت میں سے ہے ۔(3) شیعہ اور سنی کتب کی متعدد روایات میں ہے کہ مشرکینِ قریش نے یہ سوال علماء اہلِ کتاب سے حاصل کیا، وہ اس کے ذریعے رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو آزمانا چاہتے تھے، ان سے کہا گیا تھا کہ اگر (محمد)نے روح کے بارے میں تمہیں بہت کچھ بتا دیا تو یہ اس کی عدمِ صداقت کی دلیل ہوگا، جب کہ آپ نے ایک مختصر اور پر معنی جواب دے کر انہیں حیران کردیا ۔ لیکن کچھ اور روایات جو طرقِ اہل بیت (علیه السلام) سے ہم تک پہنچی ہے ان میں روح کو ایک ایسی مخلوق بتایا گیا ہے کہ جو جبرئیل اور میکائیل سے افضل ہے اور جو انبیاء اور ائمہ کے ساتھ ہوتی ہے اور انہیں ان کے کام میں انحراف سے بازرکھتی ہے ۔(4) آیت کی تفسیر کے بارے میں جو کچھ ہم نے کہا ہے یہ روایات نہ فقط اس کے منافی نہیں ہیں بلکہ اس سے ہم ٓاہنگ ہیں کیونکہ انسانی روح کے مختلف درجے اور مراتب ہیں، انبیاء اور ائمہ کے مرتبہ غیر معمولی اور بہت بلندہے اور گناہ و خطا سے معصوم ہونا جس کے آثار میں سے ہے، نیز بہت زیادہ علم و آگاہی بھی اس کے آثار میں سے ہے اور مسلم ہے کہ روح کا یہ مرتبہ تمام فرشتوں سے افضل ہوگا یہاں تک کہ جبرئیل اور میکائیل سے بھی۔ (غور کیجئے گا) ۱۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ یہاں روح کی اضافت خدا کی طرف اظہارِ عظمت کے لئے ہے اور مراد یہ ہے کہ خدا نے انسانوں کو ایک عظیم اور الٰہی مقدس روح بخشی ہے ۔ 2و3۔ نورالثقلین، ج۳،ص ۲۱۶ 4۔ تفسیر نورالثقلین، ج۳،ص ۲۱۵
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:85
سوره اسراء / آیه 85
۸۵ وَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّی وَمَا اٴُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیلًا ۔ ترجمہ ۸۵۔تجھ سے ”روح “ کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دو : ”روح“ میرے رب کے امر میںسے ہے اور تمہیں تو بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے ۔