وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَى بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَئُوسًا
When We bless man, he is disregardful and turns aside; but when an ill befalls him, he is despondent.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:83
[Pooya/Ali Commentary 17:83]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:83-84
سوره اسراء / آیه 83 - 84
۸۳ وَإِذَا اٴَنْعَمْنَا عَلَی الْإِنسَانِ اٴَعْرَضَ وَنَاٴَی بِجَانِبِہِ وَإِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ کَانَ یَئُوسًا ۔ ۸۴ قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلیٰ شَاکِلَتِہِ فَرَبُّکُمْ اٴَعْلَمُ بِمَنْ ھُوَ اٴَھْدیٰ سَبِیلًا ۔ ترجمہ ۸۳۔جس وقت ہم انسان کو کوئی نعمت بخشتے ہیں تو وہ (حق سے) منہ پھیرلیتا ہے اور تکبر کے عالم میں دور ہوجاتا ہے لیکن اگر اُسے کوئی چھوٹی سی برای پہنچتی ہے تو (ہر چیز )سے مایوس ہوجاتاہے ۔ ۸۴۔کہہ دو:ہرشخص اپنی روش(اور خُلق وعادت )کے مطابق عمل کرتا ہے جن کی روش زیادہ اچھی ہے تمہارا پروردگار انہیں بہتر طور پر پہچانتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:83-84
2- ”شاکلة“سے کیا مراد ہے؟
”شاکلة“سے کیا مراد ہے؟ ”شاکلة“ در اصل”شکل“ کے مادہ سے جانور کو لگام دینے کے معنی میں ہے ”شکال“ خود مہار کو کہتے ہیں اور چونکہ ہر انسان کو اس کی طبیعت ، جذبات اور عادتیں کسی خاص روےّے میں مقید کرددیتے ہیں لہٰذا اسے ”شاکلة“ کہتے ہیں، سوالات، ضروریات اور تمام مسائل کے لئے یہ جو لفظ” اشکال“ بولا جاتا ہے یہ بھی اس لحاظ سے ہے کہ یہ ایک لحاظ سے انسان کو مقید کردیتے ہیں ۔(۱) اس گفتگو سے ظاہر ہوا کہ”شاکلة“ کا مفہوم انسان کی ذاتی طبعیت کے لئے مخصوص نہیں، اسی لئے علامہ طبرسی مرحوم مجمع البیان میں اس کے دو معانی ذکر کئے ہیں: ۱۔ طبیعت وخلقت۔ ۲۔ طریقہ، مذہب اور سنت۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک انسان کو عمل کے لحاظ سے کسی طرح مقید کرتا ہے ۔ یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ لوگ کس قدر اشتباہ اور غلط فہمی میں مبتلا ہیں جو زیرِ بحث آیت کو صفاتِ ذات کی انسان پر حکومت اور جبر واکراہ کی دلیل خیال کرتے ہیں اور یہاں تک کہ تربیت وتزکیہ پر اعتماد نہیں رکھتے ۔ یہ طرزِ فکر مختلف سیاسی، معاشرتی اور نفسیاتی اسباب کے باعث پیدا ہوئی ہے ،اس سلسلے میں ہم نے جبر واختیارکی بحثوں میں وضاحت کی ہے ، بہت سی قوموں ادب میں یہ فکر غلاب نظر آتی ہے، لوگ اپنی کوتاہ اور غلط باتوں کی توجیہ کے لئے اس کا سہارا لیتے ہیں، یہ وہ خطرناک ترین نظریہ ہے جو معاشرے کو ذلت وخواری اور پسماندگی کی طرف کھینچ لے جاتا ہے اور سالہا سال یہ صدیوں تک کے لئے اسے اس پسماندگی کے گڑھے میں ڈالے رکھتا ہے ۔ ذیل کے اشعار اس طرزِ فکر کی کامل نمائندگی کرتے ہیں درختی کہ تلخ است اندر سرشت گرش بر نشانی بہ باغ بہشت واز جوی خلدش بہ ہنگام آب بہ بیخ انگبین ریزی وشہدناب سرانجام گوہر بہ کار آورد ہمان میوہ تلخۺ بار آورد یعنی۔ جس درخت کی سرشت میں ہی تلخی ہے اگر اسے جنت میں بھی لگا دیا جائے ۔ اور جنت سے اسے پانی دیتے وقت اس میں شہد ملا دیا جائے ۔ لیکن آخر کار اس کی سرشتاپنا کام دکھائے گی اور وہ جو پھل دے گا وہ کڑوا ہی ہوگا ۔ اگر تربیتی اور اجتماعی مسائل کی بنیاد بنیاد واقعاً اس منطق کو قرار دیا جائے تو تعلیم وتربیت کو لازمی طور پر فضول ماننا پڑے گا ۔ اسی بناء پر ہمارا عقیدہ ہے کہ مسلکِ جبر ہمیشہ استعماری حکومتوں کے ہاتھ میں ایک دستاویز اور حربے کے طور پر رہا ہے تاکہ وہ اس ذریعے سے کسی انقلابی تحریک کو روک سکیں اور جواں مرد انقلابیوںبیڑیاں پہنا سکیں ۔ مشہور جملہ ہے: الجبر والتشبیہ امویان والعدل والتوحید علویان عقیدہ جبر اور خدا کو موجودات کے ساتھ تشبیہ دینا بنی امیہ کے عقائد میں سے ہے اور عدل وتوحید کا عقیدہ مکتبِ علوی کی بنیاد ہے ۔ یہ جملہ بھی اس حقیقت کو بیان کرتا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے ”شاکلة“ ہر گز ذاتی تربیت کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی عادت، طریقہ، روش اور مذہب انسان کی زندگی کو ایک جہت اور سمت دے دے اسے ”شاکلة“ کہتے ہیں، اسی بنا پر عادات وسنن جنہیں اختیاری عمل کے تکرار سے انسان اپنا لیتا ہے اور اسی طرح عقائد ونظریات جو استدلال یا تاتعصب کی وجہ سے قبول کرلیتا ہے یہ سب انسانی زندگی پر گہرا ثر مرتب کرتے ہیں اور انہیں ”شاکلة“ کہا جاتا ہے ۔ اصولی طور پر انسانی ملکات وجذبات عموماًاختیاری ہوتے ہیں کیونکہ جب انسان کسی عمل کا رتکرار کرتا ہے تو اس کی پہلی اسٹیج کو ”حالت“ کہتے ہیں، دوسری کو ”عادت“ اور تیسری کو”ملکہ“یہ عمل آہستہ آہستہ تدریجی طورپر ہوتا ہے ، یہی ملکات ہیں جو انسان کے اعمال کو ایک خاص شکل دیتے ہیںاور اس کی راہِ حیات کو معین کرتے ہیں، حالانکہ یہ ملکات اختیاری عوامل سے پیدا ہوتے ہیں اور اختیاری عوامل ہی انہیں پروران چڑھاتے ہیں ۔ بعض روایت میں ”شاکلة“ سے ”نیت“ مراد لیا گیا ہے، اصول کافی میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت ہے، آپ (علیه السلام) فرماتے ہیں: النیة افضل من العمل الاوان النیة ھی العمل، ثم تلا قولہ عزل جل : ”قل کل یعمل علی شاکلة “ یعنی علی نیتہ۔ نیت عمل سے افضل ہے بلکہ اصلاً نیت ہی عمل ہے ۔ اس کے بعد آپ (علیه السلام) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: ”قل کل یعمل علی شاکلة “۔ اور ساتھ ہی فرمایا: ”شاکلة“ سے مراد نیت ہے ۔(2) اس تفسیر میں ایک جاذبِ نظر اور عمدہ نکتہ پنہاں ہے اور وہ یہ کہ انسان کی نیت کہ جو اس کے عقائد ونظریات سے ابھرتی ہے اسی سے اس کا عمل جنم لیتا ہے اور اصولاً خود نیت”شاکلة“کی ایک قسم ہے یعنی مقید کرنے والا امر ہے، اسی لئے بعض اوقات نیت ہی کو عمل قرار دیا گیا ہے اور کبھی اسے عمل سے برتر گردانا گیا ہے، کیونکہ بہرحال عمل وہی راستہ اختیارکرتا ہے جو نیت کی روش ہوتی ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا :کیا یہودیوں کی عبادت گاہوں اور نصاریٰ کے گرجوں میں نماز پڑھی جاسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا:ہاں تم ان میں نماز پڑھ سکتے ہو ۔ کسی نے پوچھا: اگر وہ ان میں نماز پڑھ رہے ہوں ہم پھر بھی ان میں نماز پڑھ لیں؟ فرمایا:ہاں ۔ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا کہ اللہ فرماتا ہے: ”قل کل یعمل علی شاکلةفربکم اعلم بمن ھو اھدی سبیلا ۔ اس کے بعد مزید فرمایا:تم اپنے قبلہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھو اور انہیں رہنے دو (وہ جو بھی کررہے ہو ں)۔(3) ۱۔ مفردات ازراغب ، مادہ ”شکل“ 2۔ نور الثقلین، ج۲ ص۱۱۴ 3۔ نور الثقلین، ج۳ ص۱۱۴
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:83-84
۱۔ تکبر اور مایوسی۔ دو خطرناک اخلاقی بیماریاں
۱۔ تکبر اور مایوسی۔ دو خطرناک اخلاقی بیماریاں ہم نے جملہ بار بار دوسروں سے سنا ہے یا ہم خود دوسروں سے کہتے ہیں:فلاں شخص اب خدا کا بندہ نہیں رہا کیونکہ اب وہ دولت مند ہوگیا ۔ نیز ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ جنہیں نئی نئی دولت ملتی ہے وہ خدا کو بھول جاتے ہیں لیکن جب یہ دولت جاتی رہتی ہے یا وہ مشکلات میں پھنستے ہیں تو ایسے مضطرب اور مایوس ہوتے ہیں کہ انسان کو یقین نہیں آتا کہ یہ وہی پہلے والے آدمی ہیں ۔ جی ہاں ! تمام کوتاہ فکر، بے ایمان اور کم ظرف لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے جب کہ اس کے برعکس دوستانِ خدا اور اولیاء اللہ کو حوادث درپیش ہوتے تو وہ ان سے نمٹنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، فرمانِ الٰہی کے سامنے ان کی حالت تنکے کی سی ہوتی ہے، انہیں ساری دنیا دے دیں تو وہ کھو نہیں جاتے اور ساری دنیا ان سے لے لو تو ان کی ماتھے پر شکن نہیں پڑتی۔ تعجب کی بات یہ ہے خود باختہ اور کم ظرف لوگ مشکل کے عالم میں خدا پرست بن جاتے ہیں اور فطرتِ الٰہی ان میں جاگ اٹھتی ہے اور وہ اپنے آپ میں واپس آجاتے ہیں لیکن ادھر طوفانِ مصیبت تھمتا ہے اور ادھر یہ ایسے بدلتے ہیں گویا انہوں نے ہرگز کبھی خدا کا نام سنا تک نہیں، قرآن نے انسان کی یہ حالت متعدد مقامات پر بیان کی ہے (مثلا یونس ۔۱۲،لقمان۔۳۲، فجر۔۱۴و۱۵، حم السجدہ۔۴۸و ۴۹)۔ یہ ایک بہت بڑی مصیبت ہے کیونکہ اس کے سبب انسان زندگی میں کبھی صحیح مقام حاصل نہیں کرسکتا، اس بیماری کا واحد علاج یہ ہے کہ انسان علم اور ایمان کے ذریعے اپنی سطح ِفکر بلند کرے، اپنے آپ کو مادیات کے چنگل سے نکالے اور اصلاحی وتعمیری زہد اختیار کرے ۔ ضمنی طور پر اس بیان سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ زیرِ بحث آیات میں ایسے افراد کو مشکلات میں ناامید کہا گیاہے جب کہ دوسری آیات (مثلا عنکبوت ۔۶۵) میں انہیں ”مخلصین لہ الدین“ کہا گیا ہے اور یہ جملہ تو خدا کی طرف سے انتہائی توجہ کی حکایت کرتا ہے ، یہ فرق کیوں ہے؟ اس کی وضاحت یہ ہے یہ دونوں حالتیں آپس میں کوئی تضاد نہیں رکھتی بلکہ ان میں سے ایک دوسری کی تمہید ہے ۔ایسے افراد کو جب مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو اپنی زندگی سے بالکل مایوس ہوجاتے ہیں اور یہی ناامیدی سبب بنتی ہے کہ ان کے چہرہ فطرت سے پردے ہٹ جاتے ہیں اور وہ بارگاہِ خداوندی کا رخ کرتے ہیں لیکن یہ اضطراری توجہ نہ ان کے لئے عزو شرف کا باعث ہے اور نہ ان کی بیداری کی دلیل ہے کیونکہ ادھر یہ مشکلات دور ہوتی ہیں اور ادھر یہ اپنی پہلی حالت پر لوٹ آتے ہیں وہی حالت جو اب ان کی فطرتِ ثانیہ بن چکی ہوتی ہے ۔ لیکن۔ اولیائے حق اور خدا کے سچے بندے مشکلات کو چہرہ دیکھ کر مایوس نہیں ہوجاتے بلکہ حوادث تو ان کی استقامت اور پامردی میں اضافہ کرتے ہیں، وہ خدا پر بھروسے اور اپنی خود اعتمادی باعث مشکلات پر گویا حملہ آور ہوتے ہیں کیونکہ یاس و ناامیدی کے لئے ان کی وجود میں کوئی گنجائش نہیں ہوتی، وہ خدا کو صرف مشکلات میں نہیں پہچانتے بلکہ ہر حالت میں اس کی یاد میں بسر کرتے ہیں اس کی پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کا نورِ رحمت ان کے دل پر سایہ فگن رہتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:83-84
ہر شخص اپنی فطرت کی راہ لیتا ہے
ہر شخص اپنی فطرت کی راہ لیتا ہے زیرِ نظر آیات سے غیر تربیت یافتہ انسانوں کی ایک نہایت گہری اخلاقی بیماری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ارشادہوتا ہے:جس وقت ہم انسان کو کوئی نعمت بخشتے ہیں تو (اس میں نخوت وغرور پیدا ہوجاتا ہے اور )وہ اپنے پروردگار سے منہ موڑ لیتا ہے اور عالم ِ تکبر میں اس سے دور ہوجاتا ہے(وَإِذَا اٴَنْعَمْنَا عَلَی الْإِنسَانِ اٴَعْرَضَ وَنَاٴَی بِجَانِبِہ) ۔ لیکن جب اس سے نعمت سلب کرلیتے ہیں، یہاں تک کہ اسے چھوٹی سی پریشانی لاحق ہوجاتی ہے تو سرتاپا اس پر ناامیدی چھا جاتی ہے (وَإِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ کَانَ یَئُوسًا)۔ ”اعرض“’اعراض“ کے مادہ سے منہ پھیرنے کے معنی میں ہے یہاں مراد اللہ اور حق سے منہ پھیرنا ہے ۔ ”نا“ ”نای“ (بروزن”رای“)کے مادہ سے دور ہونے کے معنی میں ہے، لفظ”بجانبہ“ کا اضافہ غرور وتکبر اوردشمنی کی وجہ سے ایک طرف ہوجانے کے معنی دیتا ہے ۔ اس پورے جملے سے معلوم ہوتاہے کہ بے ایمان لا کمزورایمان کے انسانوں کو جب نعمتیں میسر آتی ہیں تو ایسے مغرور ہوتے ہیں کہ منعم کو بالکل بھول جاتے ہیں ، نہ فقط بھول جاتے ہیں ، اس سے بے اعتنائی کرتے ہیں اس سے منہ موڈ لیتے ہیں اور عالمِ تکبر میں آجاتے ہیں ۔ ”مَسَّہُ الشَّر“ توڑی سی تکلیف اور پریشانی کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ اس قدر کم ظرف ہیں کہ ذرہ بھر پریشانی کی صورت میں ہمت ہار بیٹھتے ہیں اور سوچنے سمجھنے سے عاری ہوجاتی ہیں اور یاس و ناامیدی کے سائے ان کے پورے وجود پر چھا جاتے ہیں ۔ دوسری آیت میں رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی طرف روئے سخن ہے، ارشاد ہوتا ہے:کہہ دو:ہرشخص اپنی روش، خُلق اورعادت کے مطابق عمل کرتا ہے( قُلْ کُلٌّ یَعْمَلُ عَلیٰ شَاکِلَتِہ)۔ مومنین آیات قرآن سے شفا طلب کرتے ہیں اور رحمت کسب کرتے ہیں جب کہ ظالم وستمگر سوائے نقصان کے ان سے کچھ نہیں پاتے، کم ظرف انسان کہ جنہیں نعمت ملے تو مغرور ہوجاتے ہیں اور مشکل پڑے تو مایوس وبدحال ہوجاتے ہیں، یہ سب کچھ اپنی طبیعت اور مزاج کے مطابق کرتے ہیں، یہ طبیعت اور مزاج انسان کے بار بار کے عمل کے زیرِ اثربنتا ہے ۔ ایسی حالت میں خدا سب کے حالات پر شاہد وناظر ہے”جی ہاں!تمہارا رب ان لوگوں کی کیفیت سے زیادہ آگاہ ہے جن کی روش بہتر اور ہدایت کے اعتبار سے زیادہ پر بار ہے ( فَرَبُّکُمْ اٴَعْلَمُ بِمَنْ ھُوَ اٴَھْدیٰ سَبِیلًا)۔