وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا
We send down in the Quran that which is a cure and mercy for the faithful; and it increases the wrongdoers only in loss.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:82
[Pooya/Ali Commentary 17:82] Refer to the commentary of Yunus: 47.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:82
۳۔ ظالموں پر الٹا اثر کیوں ہوتا ہے ؟
۳۔ ظالموں پر الٹا اثر کیوں ہوتا ہے ؟ صرف اسی آیت میں نہیں بلکہ قرآن کی بہت سی دوسری آیات میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ دشمنانِ حق نور آیات ِ الٰہی سے اپنا قلب وروح منور کرنے کی بجائے اور اپنی تاریکیاں کم کرنے کی بجائے ان پر الٹا اثر لیتے ہیں، ان سے ان کی جہالت اور شقاوت میں اضافہ ہی ہوتا ہے ۔ یہ اس لئے ہے چونکہ کفر، ظلم اور نفاق کے باعث ان کا ضمیر ہی دوسری شکل اختیارکر چکا ہوتا ہے لہٰذا جہاں کہیں وہ نور ِ حق دیکھتے ہیں اس سے جنگ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور حق کے خلاف ان کی یہ معرکہ آرائی ان کی ناپاکیوں اور غلاظتوں میں اضافہ ہی کرتی ہے اور ان کے سرکشی کے جذبے اور قوی ہوجاتے ہیں ۔ ایک مقوی غذا اگر کسی عالمِ مجاہد اور دانشمندِ مبارز کودی جائے تو وہ اس سے تعلیم وتربیت یا راہِ خدا میں جہاد کے لئے قوت حاصل کرے گا لیکن یہی مقوی غذا اگر کسی ظالم کو دیں تو وہ زیادہ ظلم کے لئے اس سے استفادہ کرے گا، یہاں غذا میں فرق نہیں بلکہ مزاج اور طرزِ فکر میں اختلاف ہے قرآنی آیات بارش کے قطروں کی مانند ہیں، باغ میں یہ قطرے گل و لالہ اگاتے ہیں اور شور زمین میں خس وخاشاک ۔ لہٰذا قرآن سے استفادہ کے لئے پہلے آمادگی کی ضرورت ہے، استعدادِ قبولیت کی حاجت ہے، اصطلاح میں کہتے ہیں غافل کی فعالیت کے ساتھ ساتھ محل کی قابلیت بھی شرط ہے ۔ اسی بحث سے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ قرآن کے جو سبب ہدایت ہے وہ ان افراد کو ہدایت کیوں نہیں کرتا ۔کیونکہ ۔قرآن بلا شبہ گمراہوں کی ہدیات کا باعث، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ حق کی تلاش میں ہو ۔ لہٰذا وہ اسی جذبے سے دعوتِ قرآن کی طرف آئیں گے اور حق فہمی کے لئے اپنی عقل وفکر استعمال کریں گے ۔ لیکن ہٹ دھرم، متعصب اور سوگند کھائے ہوئے حق کے دشمن قرآن کی طرف سو فیصد منفی حالت میں آئیں گے، ظاہر ہے اس طرح وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھائیں گے بلکہ ان کے عناد اور کفر میں اضافہ ہوگا کیونکہ غلط عمل کے تکرار سے انسانی روح میں یہ اور گہرا ہوجاتاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:82
سوره اسراء / آیه 82
۸۲ وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ وَلَایَزِیدُ الظَّالِمِینَ إِلاَّ خَسَارًا ۔ ترجمہ آن نازل کرتے ہیں کہ جو مومنین کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور اس سے ستمگروں کے لئے نقصان وزیان کے سوا کچھ اضافہ نہیں ہوتا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:82
۱۔”من القرآن“ میں لفظ”من“ کا مفہوم
ہم جانتے ہیں کہ لفظ ”مِن“ ایسے مواقع پر ایک حصہ کے مفہوم میں آتا ہے لیکن چونکہ شفا اور رحمت ہونا قرآن کے کسی ایک حصے سے مخصوص نہیں یہ تمام آیات قرآن کا قطعی اثر ہے لہٰذا بزرگ مفسرین نے لفظ ”مِن“ کو یہاں تبعیضیہ کی بجائے بیانیہ سمجھا ہے ۔ لیکن بعض نے یہ احتمال ذکر ہے ”مِن“ یہاں بھی تبعیض کے مفہوم میں ہے اور یہ قرآن کے تدریجی نزول کی طرف اشارہ ہے(خصوصا جب کہ ”ننزل“فعل مضارع ہے )اس صورت جملے کا معنی تقریباً یہ ہوگا:ہم قرآن نازل کرتے ہیں اور اس کا جو حصہ بھی نازل ہو وہ خود شفاء اور رحمت کا سبب ہے(غور کیجئے گا
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:82
قرآن شفا بخش نسخہ ہے
گزشتہ آیات میں توحید اور حق کے بارے میں گفتگو تھی نیز شرک اور باطل کے خلاف جد وجہد کے بارے میں بات تھی، زیرِ بحث آیت میں قرآن کی انتہائی اثر انگیزی اور تعمیری تاثیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:ہم قرآن نازل کرتے ہیں کہ جو مومنین کے لئے شفاء اور رحمت کا سبب ہے( وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِینَ )۔لیکن ظالم (جیساکہ ان کا ہمیشہ سے )وطیرہ ہے اس وسیلہ ہدایت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے) اس سے اپنی وزیان کاری میں اضافہ کے سوا کچھ نہ پائے گے (وَلَایَزِیدُ الظَّالِمِینَ إِلاَّ خَسَارًا)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:82
۴۔معاشرتی اور اخلاقی بیماریوں کے لئے ایک موثر دوا
۴۔معاشرتی اور اخلاقی بیماریوں کے لئے ایک موثر دوا اس میں شک نہیں کہ انسان کی روحانی واخلاقی بیماریاں اس کی جسمانی بیماریوں سے بہت مشابہت رکھتی ہیں، دونوں طرح کی بیماریاں انسانی کی دشمن ہیں دونوں کے لئے طبیب، علاج اور پرہیز کی ضرورت ہے، دونوں طرح کی بیماریاں ایک سے دوسرے کو لگ سکتی ہے، دونوں کا بنیادی سبب جاننا چاہییے اور دونوں کی اصل جڑ کو معلوم کرکے علاج کرنا چاہیئے ۔ دونوں طرح کی بیماریاں بعض اوقات ایسے مرحلے پر پہنچ جاتی ہیں کہ انسان کو لا علاج کر دیتی ہیں البتہ اکثر مواقع پریہ قابل علاج ہوتی ہے ۔ یہ کسی جاذب، عمدہ اور معنی آفرین تشبیہ ہے ۔ جی ہاں! قرآن حیات بخش نسخہ ہے ۔ ان کے لئے جو جہالت ، تکبر، حسد اور نفاق کے خلاف جہاد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں ۔ جی ہاں! قرآن شفا بخش دوا ہے ۔ زبوں حالیوں ، پس ماندگیوں ، بے اتفاقیوں اور بے بنیاد خطرات کے علاج کے لئے ۔ جی ہاں! قرآن شفا بخش علاج ہے ۔ اس کے لئے جو دنیا کے عشق میں مبتلا ہو، جو مادیات میں گھر گیا ہو اور جو شہوتوں کے سامنے بے بس ہوگیا ہو ۔ جی ہاں! قرآن آرام شفا بخش نسخہ ہے ۔ اس دنیا کے لئے جس کے ہر طرف جنگوں کی آگ بھڑک رہی ہو،اسلحے کے انباروں تلے جس کی کمر جھک گئی ہے، جس کے سب سے زیادہ اقتصادی وانسانی سرمائے کو جنگ اور اسلحے کے دیو اپنے قدموں تلے پامال کررہے ہیں ۔ جی ہاں! قرآن شفا بخش نسخہ ہے ۔ اس کے لئے جس کی خواہشوں اور ہوا ہوس کے تاریک پردے اس کے لئے قربِ الٰہی کے راستے میں حائل ہوگئے ہیں ۔ سورہ یونس کی آیت ۵۷میں ہے: <قَدْ جَائَتْکُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِی الصُّدُورِ ۔ یہ قرآن تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی شفا بن کر آیاہے ۔ سورہ فصلت کی آیت ۴۴ میں بھی ہے: <قُلْ ھُوَ لِلَّذِینَ آمَنُوا ھُدًی وَشِفَاءٌ ان سیاہ دل ہٹ دھرموں سے کہوکہ یہ قرآن اہل ایمان کے لئے ہداہت اور شفا کا سرچشمہ ہے حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں اپنی ایک گفتگو میں اس حقیقت کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا ہے : فاستشفوہ من ادوائکم واستعینوا بہ علی لاوائکم، فان فیہ شفاء من اکبر الداء، وھوالکفر والنفاق والغی والضلال۔ اس عظیم آسمانی کتاب سے اپنی بیماریوں کی شفا حاصل کرو ، اپنی مشکلات حاصل کرنے کے لئے اس سے مدد لو کیونکہ یہ وہ کتاب ہے جس میں سب سے بڑی بیماری کی شفا ہے، وہی بیماری جسے کفر، نفاق، گمراہی اور ضلالت کہتے ہیں ۔(۱) قرآن کے بارے میں ایک اور عبارت حضرت علی علیہ السلام ہی سے منقول ہے، آپ فرماتے ہیں: الا انّ فیہ علم ما یاٴتی والحدیث عن الماضی ودواء دائکم و نظم ما بینکم۔ آگاہ رہو کہ اس میں آئندہ کی خبریں اور علم ہے، اس میں گزشتہ قوموں کا ذکر ہے اس میں درد کی دوا ہے اور یہ تمہاری اجتماعی زندگی کو منظم کرنے کا پروگرام ہے ۔(۲) ایک اور مقام پر اسی بزرگ امام(علیه السلام) سے مروی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: وعلیکم بکتاب اللّٰہ فانہ الجبل المتین والنور المبین والشفاء النافع، والرای الناقع، والعصمة للمتمسک والنجاة للمتعلق، لایعوج فیقام، ولا یزیغ فستعتب، ولاتخلقة کثرة الردوولوج السمع، من قال بہ صدق ومن وعمل بہ سبق۔ کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھام لو کیونکہ یہ محکم رسی ہے ، نورِ مبین ہے ، شفا بخش اور بابرکت دوا ہے اور یہ وہ آبِ حیات ہے جو تشنہ گانِ حق کی پیاس بجھاتی ہے ، جو شخص اس سے وابستہ ہوجائے یہ اس کی حفاظت کرتی ہے، جو اس کا دامن تھام لے اسے نجاات بخشتی ہے، اس میں انحراف کے لئے کوئی راہ نہیں کہ اسے سیدھا کرنے کی ضرورت پڑے ، یہ کبھی خطا نہیں کرتی کہ اسے اپنے قاریوں سے عذر خواہی کرنا پڑے، اس کی تکرار سے کہنگی نہیں ہوتی اور اسے بار بار سُن کر کان ناراحت نہیں ہوتے (اسے جس قدر پڑھا جائے اس کی شیرینی اور دلپذیری اس قدر ہی بڑھتی رہتی ہے ) قرآن سے بات کرنے والے کو سچا جواب ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والا سب پر سبقت لے جائے گا ۔(3) یہ رسا اور منہ بولتی تعبیریں کہ جن کی نظیر پیغمبر ِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم، حضرت علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ ہدیٰ (علیه السلام) کے ارشادات میں کم نہیں، اچھی طرح ثابت کرتی ہیں کہ قرآن ایسا نسخہ ہے جس کے ذریعے تمام تر بد حالیاں دور ہوسکتی ہیں، یہ فرد اور معاشرے کو ہر طرح کی اخلاقی اور اجتماعی بیماریوں سے نجات دلانے کے لئے آیاہے ۔ اس حقیقت کے اثبات کے لئے بہترین دلیل زمانہ جاہلیت کے عربوں کا ابتدائی اسلام میں مکتبِ رسالت کے تربیت یافتہ گان سے موازنہ ہے، ہم نے دیکھا ہے کہ وہ خونخوار، جاہل اور نادان قوم کہ جسے سرتا پا طرح طرح کی اجتماعی اور اخلاقی بیماریوں نے گھیر رکھا تھا اس شفا بخش نسخے کی بدولت نہ صرف اس کا علاج ہوگیا بلکہ وہ اتنی بڑی طاقت بن کر ابھری کہ عالمی جابروں اور سُوپر طاقتوں نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دئےے ۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے دَورِ حاضر کے مسلمان فراموش کر چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں گرفتار ہیں کہ جس کے ہم اور آپ شاہد ہیں، آج مسلمان تفرقہ بازی اوراختلاف کا شکار ہیں، عالمی غارت گر طاقتیں ان کے وسائل اور دولت پر مسلط ہوچکی ہیں، آج ان کی تقدیر کا فیصلہ دوسرے کرتے ہیں، مختلف حوالوں سے غیروں سے ان کی وابستگیاں اور عدمِ استقلال نے انہیں کمزوری، زبوں حالی اور ذلت سے دو چار کردیا ہے ۔ وہ لوگ جن کے گھر میں شفا بخش نسخہ موجود ہو وہ اپنے علاج کے لئے ایسے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں کہ جو ان سے زیادہ بیمار ہوں ۔ ان کا انجام ایسا ہی ہوا کرتا ہے ۔ قرآن نہ صرف شفا بخشتا ہے بلکہ صحت یابی کے بعد نقاہت کے زمانے میں انہیں مختلف پیغامات کے ذریعے تقویت عطا کرتا ہے کیونکہ قرآن ”شفا“ اور ”رحمت“ ہے ۔ یہ بات لائق توجہ ہے کہ جسمانی بیماریوں کی دوائیں عموماً اعضاء بدن پر ناپسندیدہ اثرات چھوڑتی ہیں یہاں تک کہ ایک مشہور حدیث میں ہے: ”ما من دواء الا ویھیج داء“۔ کوئی ایسی دوائی نہیں کہ جو کسی دوسری بیماری کا سرچشمہ نہ ہو ۔(4) لیکن قرآن۔ وہ شفا بخش دوا ہے جو انسانی روح وفکر اور قلب ونظر پر ہرگز کوئی غیر مطلوب اثر مرتب نہیں کرتا، بلکہ اس کے برعکس یہ سارے کا سارا خیروبرکت ہے ۔ نہج البلاغہ کی ایک عبارت میں ہے: ”شفاء لاتخشی اسقامہ“۔ قرآن ایسی شفا بخش دوا ہے کہ جس سے کوئی بیماری پیدا نہیں ہوتی۔(5) اگر ہم ایک ماہ کے لئے بھی اس شفا بخش نسخے پر عمل کرنے کا عہد کریں اور اس عہد کی پاسداری کریں، اس کے حکم کو علم و آگاہی ، عدل وانصاف، تقویٰ وپرہیز گاری، اتحاد واخلاص اور فدا کاری وجانبازی میں اپنائیں تو ہم دیکھے گے کہ ہماری بد حالیاں خوشیوں میں بدل جائیں گی۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ یہ نسخہ۔ دوسرے نسخوں کی طرح اس وقت موثر ہوسکتا ہے جب اس پر عمل کیا جائے ورنہ کسی بہترین شفا بخش نسخے کو ہم ہزار بار پڑھیں ، سر پر رکھیں ، آنکھوں سے لگائیں اور اسے بوسے لیں، اس پر عمل نہ کریں تو اس سے ہمیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا ۔ ۱۔نہج البلاغہ، خطبہ ۱۷۶ ۲۔نہج البلاغہ، خطبہ۱۵۸ 3۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۶ 4۔سفینة البحار 5۔نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۸
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:82
۲۔”شفاء “اور ”رحمت“ میں فرق
۲۔”شفاء “اور ”رحمت“ میں فرق ہم جانتے ہیں کہ شفاء عام طور پر امراض ، عیوب اور نقائص کے مقابلے میں ہوتی ہے ،لہٰذا انسانوں کے لئے قرآن کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ فرد اور معاشرے کو فکری اور اخلاقی ہر طرح کی بیماریوں سے پاک کرتا ہے ۔ اس کے بعد ”رحمت“ کا مرحلہ آتا ہے ، یہ در اصل انسانی اخلاق ِ الٰہی کے سانچے میں ڈھالنے کا مرحلہ ہے، اس مرحلے میںقرآن انسانی وجود میں اعلی انسانی فضائل کے شگوفوں کی پیوند کاری کرتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں، شفاء، پاکسازی کی طرف اور ”رحمت“ تعمیرِ نو کی طرف اشارہ ہے یہ فلاسفہ اور عرفاء کی اصطلاح میں پہلے مقام”تخلیہ“ اور پھر مقام” تحلیہ“ کی طرف اشارہ ہے ۔