وَإِن كَادُوا لَيَفْتِنُونَكَ عَنِ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهُ وَإِذًا لَّاتَّخَذُوكَ خَلِيلًا
They were about to beguile you from what Allah has revealed to you so that you may fabricate something other than that against Us, whereat they would have befriended you.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:73
[Pooya/Ali Commentary 17:73] Some of the pagans of Banu Saqif had pressed the Holy Prophet to allow them certain privileges as the terms of their submission to him; one of them was to allow them to worship their idols for one more year after which they would give up idolatry and become Muslims. Another version says that some of the pagans proposed to make him the absolute monarch of Arabia and offered him some of the most beautiful girls of the land in wedlock if he agreed to forsake his mission. The Holy Prophet replied: "If you put the sun in my right hand and the moon in my left hand I will not give up my mission, even if you threaten to kill me, or really kill me, until the truth prevails."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:73-75
سوره اسراء آیت 73 - 75
۷۳ وَإِنْ کَادُوا لَیَفْتِنُونَکَ عَنْ الَّذِی اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ لِتَفْتَرِی عَلَیْنَا غَیْرَہُ وَإِذًا لَاتَّخَذُوکَ خَلِیلًا ۷۴ وَلَوْلَااٴَنْ ثَبَّتْنَاکَ لَقَدْ کِدْتَ تَرْکَنُ إِلَیْھِمْ شَیْئًا قَلِیلًا ۷۵ إِذًا لَاٴَذَقْنَاکَ ضِعْفَ الْحَیَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَاتَجِدُ لَکَ عَلَیْنَا نَصِیرًا ترجمہ ۷۳۔ قریب تھا کہ ہم نے تجھے جو وحی کی ہے اس کے بارے میں (اپنے وسوسوں کے ذریعے)تجھے فریب دیں تاکہ تو اس کی بجائے کسی اور کی ہماری طرف نسبت دے اور اس صورت میں وہ تجھے اپنا دوست قرار دے لیں ۔ ۷۴۔ اگر ہم تجھے ثابت قدم نہ رکھتے (اور تو مقامِ عصمت کی وجہ سے انحراف سے محفوظ نہ ہوتا) تو قریب تھا کہ تو کچھ ان کی طرف مائل ہوجاتا ۔ ۷۵۔ اور اگر تو ایسا کرتا تو ہم تجھے (مشرکین کی نسبت) دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دوگنی سزا کا مزہ چکھاتے پھر ہمارے مقابلے میں تجھے کوئی مددگار نہ ملتا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:73-75
شان نزول
ان بحث انگیز آیات کے بارے میں مفسرین نے مختلف شان نزول نقل کی ہیں ۔ ان میں سے کچھ تو ایسی ہیں جو ان آیات کی تاریخ نزول سے مطابقت نہیں رکھتیں لیکن چونکہ بعض منحرف لوگوں نے انہیں دستاویز بنالیا ہے لہٰذا ہم ان سب کا ذکر کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں پانچ مختلف اقوال نقل کیے ہیں: ۱۔ قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: ہم تجھے اس وقت تک حجرِ اسود کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں دے سکتے جب تک کم از کم تو ہمارے خداؤں کو احترام کی نظر سے نہ دیکھے ۔ رسول اللہ نے دل میں خیال کیا کہ خدا تو جانتا ہے کہ میں ان بتوں سے متنفر ہوں لہٰذا اس میں کیا حرج ہے کہ میں ان کی طرف دیکھ لوں تاکہ یہ لوگ مجھے حجر اسود کو ہاتھ لگانے دیں ۔ اس مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کام سے منع کیا گیا ۔ ۲۔ قریش نے تجویز کیا : ہمارے خداؤں کو برا کہنا چھوڑدے ۔ ہمیں کم عق کہنے سے باز آجا اور ان حقیر غلاموں کو اپنے سے دور کردے کہ جن سے ہمیں بدبو آتی ہے تاکہ ہم تیری مجلس میں حاضر ہوں اور تیری باتیں سنیں ۔ اس امید پر کہ شاید یہ لوگ مسلمان ہوجائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے سوچا کہ (چاہے وقتی طور پر ہی سہی)ان کی بات مان لی جائے ۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور آپ کو اس کام سے روکا گیا ۔ ۳۔ رسول اللہ نے بتوں کو مسجد حرام سے نکال باہر پھینکا تو قریش نے تقاضا کیا کہ آپ اجازت دیں کہ جو بت خانہ کعبہ کے نزدیک کوہ مروہ پر تھا اسے وہیں رہنے دیا جائے ۔ پہلے تو پیغمبر اکرم صلی اللهعلیہ وآلہ وسلّمنے سیاسی مقاصد کے پیش نظر ارادہ کیا کہ ان کی بات مان لی جائے لیکن بعد ازاں اس ارادے کو ترک کریا اور حکم دیا کہ یہ بت بھی توڑدیا جائے ۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ ۴۔ ثقیف قبیلے کے کچھ نمائندے رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے عرض کیا: ہم آپ کی بیعت کرنے کو تیار ہیں لیکن ہماری تین شرطیں ہیں ۔ پہلی یہ کہ ہم نماز میں رکوع و سجود کے لیے نہیں جکھیں گے ۔دوسری یہ کہ ہم اپنے بتوں کو اپنے ہاتھ سے نہیں توڑیں گے بلکہ آپ خود توڑدیں ۔ تیسری یہ کہ آپ اجازت دیں کہ ”لات“ کو ایک سال تک باقی رہنے دیا جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا : وہ دین جس میں رکوع و سجود نہ ہو وہ کسی کام کا نہیں ۔رہا تمہارے بتوں کو تمہارے اپنے ہاتھ سے توڑنا تو اگر چاہوں تو اپنے ہاتھ سے توڑ دو اگر تمہارا دل یہ نہیں چاہتا تو ہم خود توڑ دیں گے ۔ رہی ”لات “کے بارے میں تمھاری بات تو مَیں تمھیں اس قسم کی اجازت نہیں دیتا ۔ اس موقع پر رسول الله کھڑے ہوگئے اور وضو کیا تو حضرت عمر نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور کہا: رسول کو کیوں اذیت دیتے ہو وہ ہرگز اجازت نہیں دیں گے کہ سر زمینِ عرب میں بُت باقی رہیں ۔ لیکن وہ لوگ یہی تقاضا کرتے رہے یہاں تک کہ مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں ۔ ۵۔ قبیلہٴ ”ثقیف“ کے چند نمائندے آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ وہ کہنے لگے: ہمیں ایک سال کے لئے اجازت دیجئے کہ لوگ بتوں کے لئے جو ہدیے اور تحفے لاتے ہیں وہ ہم لے لیں، اس کے بعد ہم خود بتوں کو توڑ دیں گے اور اسلام لے آئیں گے ۔ رسول الله اس سوچ میں تھے کہ بعض پہلووٴں کے پیش نظر انھیں یہ مہلت دے دیں کہ مذکورہ بالا آیت نازل ہوئیں اور اس امر سے شدّت کے ساتھ منع کیا گیا ۔ اِن کے علاوہ بھی اِن سے ملتی جلتی کچھ شانِ نزول نقل ہوئی ہیں لیکن شاید وضاحت کی ضرورت نہ ہو کہ ان میں سے اکثر کا غلط ہونا خود انھیں میں سے پوشیدہ ہے کیونکہ رسول الله کی خدمت میں قبائل کے نمائندوں کا آنا جانا اور آپ سے تقاضا کرنا یا بتوں کو مسجد الحرام سے باہر پھینکنا اور انھیں توڑنا یہ سب فتح مکہ کے بعد ہجرت کے آٹھویں سال کے واقعات ہیں جبکہ یہ سورت بنیادی طور پر ہجرت سے پہلے نازل ہوئی اور اس زمانے میں ظاہری طور پر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو ایسا اقتدار حاصل نہ تھا کہ مشرکین آپ کے سامنے ایسی انکساری کرتے ۔ اس سے قطع نظر بعض دیگر شانِ نزول کا بے بنیاد ہونا تفسیر کے ضمن میں پیش کی جانے والی توضیحات سے واضح ہوجائے گا ۔ تفسیر شرک کے لئے تھوڑے سے جھکاوٴ کی سزا گزشتہ آیات میں شرک اور مشرکین کے بارے میں بحث تھی، زیر نظر آیات میںم پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو خبر دار کیا گیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے وسوسوں سے بچیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ شرک وبت پرستی کے خلاف معرکے میں تھوڑی سی کمزوری پیدا ہوجائے لہٰذا ضروری ہے کہ مکمل قاطعیت کے ساتھ یہ معرکہ جاری ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے: قریب تھا کہ وسوسے تیرے دل پر اثر انداز ہوتے اور ہم نے جو تجھے وحی کی ہے اس کے بارے میں تجھے فریب دیتے تاکہ تُو اس کی بجائے کسی اور کی ہماری طرف نسبت ے اور پھر وہ تجھے اپنا دوست مان لیتے (وَإِنْ کَادُوا لَیَفْتِنُونَکَ عَنْ الَّذِی اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ لِتَفْتَرِی عَلَیْنَا غَیْرَہُ وَإِذًا لَاتَّخَذُوکَ خَلِیلًا )۔ اور اگر ہم تیرے دل کو حق وحقیقت پر ثابت قدم نہ رکھے ہوتے (اور نورِ عصمت کے باعث تُو ثابت قدم نہ ہوتا) تو قریب تھا کہ تُو تھوڑا سا ان پر اعتماد کرتا اور ان کی طرف مائل ہوجاتا (وَلَوْلَااٴَنْ ثَبَّتْنَاکََ لَقَدْ کِدْتَ تَرْکَنُ إِلَیْھِمْ شَیْئًا قَلِیلًا)۔ اور اگر تو ایسا کرلیتا تو ہم تجھے مشرکین کی دنیاوی اور اُخروی سزا سے دوگنی سزا چکھاتے اور پھر ہمارے مقابلے میں تیرا کوئی مددگار نہ ہوتا (إِذًا لَاٴَذَقْنَاکَ ضِعْفَ الْحَیَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَاتَجِدُ لَکَ عَلَیْنَا نَصِیرًا)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:73-75
۱۔ کیا یہ کشادہ دِلی تھی؟
۱۔ کیا یہ کشادہ دِلی تھی؟ بعض بہانہ سازوں میں انبیاء کے غیر معصوم ہونے کے بارے میں اپنے عقیدے کے لئے مندرجہ بالا آیات کو دستاویز بنانا چاہا ہے، وہ کہتے ہیںکہ ان آیات اور ان کے بارے میں منقول شانہائے نزول سے ظاہر ہوتا ہے کہ بُت پرستوں کے وسوسوں کے سامنے رسول الله نے کچھ میلان ظاہر کیا اور فوراً الله نے ان سے موٴاخذہ کیا ۔ لیکن زیرِ بحث آیات خود اس قدر واضح اور منھ بولتا ثبوت ہیں کہ اس طرز کے بطلان کے لئے ہمیں دیگر شواہد پیش کرنے سے بے نیاز کردیتی ہیں، زیرِ بحث دوسری آیت صراحت سے کہتی ہے: ”اگر ہم نے تجھے ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو قریب تھا کہ تُو اُن کی طرف مائل ہوجاتا“۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ”تثبیتِ الٰہی“ یعنی اللہ کی طرف سے ثباتِ قدم جسے ہم ”مقامِ عصمت“ سے تعبیر کرتے ہیں اس میلان میں رکاوٹ بن گیا نہ یہ کہ رسول اللہ مائل ہوچکے تھے اور خدا نے انہیں منع کیا اور ان کا مواخذہ کیا ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ پہلی اور دوسری آیت میں در حقیقت رسول الله کی دو مختلف حالتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، پہلی حالت کہ جو بشری اور ایک عم انسان کی حالت ہے، اس کی طرف پہلی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور یہ حالت ہے دشمنوں کے وسوں کی اثر اندازی خصوصاً جبکہ اس میلان میں ظاہراً مصلحتیں بھی دکھائی دیں، مثلاً اس میلان کے بغیر سردارانِ قریش کے اسلام لانے کی امید یا خونریزی اور زیادہ مشکلات سے بچت، ہر عام آدمی چاہے وہ جتنا بھی قوی ہو ایسے وسوسوں کی اثر خیزی کا احتمال ہوتا ہے ۔ لیکن دوسری آیت روحانی پہلو، عصمت ِ الٰہی اور پروردگارکا لطفِ خاص بیان کرتی ہے وہ لطفِ خاص کہ جو انبیاء اور خصوصاً پیغمبر اسلام کے بحرانی حالات کے شاملِ حال تھا ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ طبیعتِ بشری کی وجہ سے رسول ا للہ ﷺ ، ان وسوسوں کو قبول کرنے کے قریب تو ہوئے لیکن تائیدِ الٰہی نے انہیں بچا لیا اور ان کی حفاظت کی ۔ یہ بعینہ وہی تعبیر ہے جو سورہ یوسف میں ہے کہ انتہائی بحرانی لمحات میں برہان الٰہی نے ان کا رخ کیا اور اگر اس برھان کا مشاہدہ نہ ہوتا تو عزیزِ مصر کی بیوی کے انتہائی قوی وسوسوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے،قرآنی الفاظ میں ہے: <وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہِ وَھَمَّ بِھَا لَوْلَااٴَنْ رَاٴَی بُرْھَانَ رَبِّہِ کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّہُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِینَ(یوسف:۲۴) ہمارے نظرےے کے مطابق زیرِ بحث آیات نہ صرف یہ کہ نفی ِ عصمت کے لئے دلیل نہیں ہے بلکہ عصمت پر دلالت کرنے والی آیات میں سے ہیں کیونکہ مسلماً تثبیتِ الٰہی (افکار ومیلانات اور عملی اقدامات کے لحاظ سے خدا کی طرف سے ثباتِ قدم) صرف اسی موقع پر نہ تھا کیونکہ اس سے مشابہ مواقع پر بھی اس کی دلیل موجود ہے، لہٰذا یہ انبیاء اور ہادیانِ الٰہی کے معصوم ہونے پرایک شاہدِ زندہ ہے ۔ رہی تیسری آیت کہ جو یہ کہتی ہے :اگر تیرا میلان ان کی طرف ہوجا تا تو تجھے شدید عذاب ہوتا ۔ تو یہ اسی چیز کی دلیل ہے کہ عصمتِ انبیاء سے مربوط مباحث میں آئی ہے کہ ان کا معصوم ہونا اضطراری پہلو نہیں رکھتا بلکہ ایک قسم کی خود آگہی کے ساتھ ہے کہ جو اختیار اور ارادے کی آزادی کے ساتھ انجام پاتی ہے لہٰذا ایسی حالت میں ارتکابِ گناہ عقلاً محال نہیں ہے بلکہ آگہی وایمان کے اعلیٰ درجے کی وجہ سے عملاً یہ حضرات ہرگز گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے ، فرض کریں اگر وہ گناہ کرتے تو ان پر بھی کدائی عذاب ہوتا(غور کیجئے گا)۔(۱) ۱۔اس بات کی مزید تفصیل کتاب ”رہبران بزرگ“ میں پڑھیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:73-75
۲۔دوگنا عذاب کیوں؟
۲۔دوگنا عذاب کیوں؟ واضح ہے کہ علم وآگہی ، معرفت وایمان اور ایقان کے لحاظ سے انسان کا مقام جس قدر بلند ہوگا اس کے نیک اعمال اتنے ہی گہرے اور زیادہ قدر وقیمت کے ہوں گے ، ظاہر ہے ثواب وجزا بھی زیادہ ہوگی ، اسی بعض روایات میں ہے: ان الثواب علیٰ قدر العقل ثواب انسان کی عقل کے حساب سے دیا جائے گا ۔(۲) عذاب اور سزا بھی اسی نسبت سے ہوگی ، ایک اَن پڑھ ضعیف الایمان انسان گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا زیادہ غیر متوقع نہیں ہے لہٰذا اسے سزا بھی کم ملے گی لیکن اگر ایک با ایمان، صاحبِ علم جس کا ماضی روشن ہو وہ کوئی چھوٹا سا گناہ بھی انجام دے تو بہت تعجب ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ اس چھوٹے گناہ پر اس کی سزا عام اَن پڑھ آدمی کے گناہ کبیرہ کی سزا سے شدیدتر ہو اور سنگین تر ہو ۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی بیویوں کے بارے میں ہے: <یَانِسَاءَ النَّبِیِّ مَنْ یَاٴْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُبَیِّنَةٍ یُضَاعَفْ لَھَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللهِ یَسِیرًا (۳۰) وَمَنْ یَقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَرَسُولِہِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُؤْتِھَا اٴَجْرَھَا مَرَّتَیْنِ وَاٴَعْتَدْنَا لَھَا رِزْقًا کَرِیمًا اے نبی کی بیویوں! تم میں سے جو کوئی واضح بُرا اور ناپسندیدہ عمل انجام دے گی اس کے لئے دوگنا عذاب ہوگا اور کدا کے لئے یہ امر آسان ہے اور تم میں سے جو خدا اور اس کے رسول کے سامنے خضوع کرے گی اورعمل صالح انجام دے گی ہم اسے دوگنی جزا دیں گے اور اس کے لئے ہم نے آبرومندانہ رزق تیار کر رکھا ہے ۔(احزاب:۳۰،۳۱) روایات میں بھی ہے: یغفر للجاھل سبعون ذنباً قبل ان یغفر للعالم ذنب واحد۔(۱) خدا جاہل کے ستر گناہوں سے در گزر کردے گا اس سے پہلے کہ عالم کے ایک گناہ سے درگزر کرے ۔ مندرجہ بالا آیات بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں، یہ پیغمبر سے کہہ رہی ہیں کہ اگر تم نے شرک مشرکین کی طرف میلان کیا تو تمہاری دنیا وآخرت سزا دوگنی ہوگی۔ ۱۔اس بات کی مزید تفصیل کتاب ”رہبران بزرگ“ میں پڑھیں ۔ ۲۔اصول کافی ،ج۱،کتاب ”العقل والجہل“ ص ۹،حدیث ۸
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:73-75
۳۔”ضعف“ کا مفہوم
۳۔”ضعف“ کا مفہوم اس نکتے کی طرف بھی پوری توجہ ضروری ہے کہ عربی زبان میں ”ضعف“ صرف دوگنا کے معنی میں نہیں ہے بلکہ دوگنا اور کئی گنا کے معنی میں ہے ۔ آٹھویں صدی کا مشہور لغت شناس فیروزہ آبادی کتاب”قاموس“ میں کہتا ہے: کبھی”ضعف فلان شی“ کہا جاتا ہے اور اس کا مطلب دوگنا یا تین گنا ہوتا ہے کیونکہ یہ لفظ لامحدود اضافے کے معنی میں آتا ہے ۔ اس بات کا شاہدیہ ہے کہ آیات قرآن میں ”حسنات“ کے بارے میں ہے: اِنْ تَکُ حَسَنَةً یُضَاعِفْھَا اگر عملِ حسنہ ہوتو خدا اسے کئی گنا کردیتا ہے ۔(نساء: ۴۰) اور کبھی قرآن کہتا ہے: <مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَہُ عَشْرُ اَمْثَالِھَا جو کوئی ایک نیکی انجام دے گا اسے اس کے دس گنا جزا ملے گی۔(انعام:۱۶۰) روایات اسلامی میں امام صادق علیہ السلام سے سورہ بقرہ کی آیہ ۱۶۱کی تفسیر میں مروی ہے: اذا احسن المومن عملہ ضاعف اللّٰہ عملہ بکل حسنة سبع ماٴة ضعف، وذالک قول اللّٰہ واللّٰہ یضاعف لمن یشائ جس وقت کوئی صاحب ِ ایمان کوئی نیک عمل انجام دیتا ہے تو اللہ ہر ایک عمل کے بدلے سات سو کا اضافہ کردیتا ہے اور خدا کے اس قول کا یہی مطلب ہے جس میں وہ فرماتا ہے : واللّٰہ یضاعف لمن یشائ خدا جس کے عمل کو چاہتا ہے کئی گنا کردیتا ہے ۔(3) لیکن یہ بات اس سے مانع نہیں کہ اس لفظ کے تثنیہ یعنی”ضاعفان“ یا ”ضاعفین“ کا معنی دوگناہ ہوتا ہے یا جس وقت اضافت کے ساتھ ہوتو تین گنا کا معنی ہوتا ہے مثلاً ہم کہیں”ضعف الواحد “(غور کیجئے گا) 3۔ تفسیر المیزان،ج۲ص ۴۲۴،بحوالہ تفسیر عیاشی
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:73-75
4۔ ”اذاً لا تخذوک خلیلا“ کی تفسیر
4۔ ”اذاً لا تخذوک خلیلا“ کی تفسیر مفسرین میں اس کا یہ معنی مشہور ہے: ”اگر تُو مشرکین کی خواہشات کی طرف مائل ہوتا تو تجھے اپنا دوست قرار دیتے“۔ لیکن بعض نے یہ احتمال ظاہر کیاہے کہ اس جملے کے معنی یہ ہے:”اگر تُو مشرکین کی خواہشات کی طرف مائل ہوتا تو وہ تجھے فقیر اور اپنا نیازمند قرار دیتے “۔ پہلی صورت میں ”خلیل“ ”خلہ“ (بروزن ”قلہ“)سے دوست کے معنی میںہے ۔ دوسری صورت میں خلیل“ ”خلہ“ (بروزن ”غَلہ“)نیاز مند وفقیر کے معنی میںہے ۔ لیکن واضح ہے کہ صحیح وہی پہلی تفسیر ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:73-75
۵۔ خدایا ! ہمیں ہمارے سپرد نہ کر
۵۔ خدایا ! ہمیں ہمارے سپرد نہ کر منابع اسلامی میں ہے کہ جس وقت زیرِ نظر آیات نازل ہوئیں تو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا: ”اللھم لاتکلنی الیٰ نفسی طرفة عین ابدا“۔ خدایا! مجھے پلک چھپکنے کے برابر بھی میرے اپنے سپرد نہ کر ۔ رسول اللہ کی یہ معنی خیز دعا ہم سب کو اہم درس دیتی ہے اور وہ یہ کہ ہمیں ہرحالت میں خدا کی بارگاہ میں پناہ لینی چاہییے اور اس کے لطف وکرم کا سہارا لینا چاہیئے کیونکہ معصوم انبیاء بھی اس کی مدد کے بغیر لغزشوں سے محفوظ نہیں رہ سکتے تھے چہ جائیکہ ہم کو جو شیطانی وسوسوں میں گھِرے رہتے ہیں ۔