وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ إِنِّي لَأَظُنُّكَ يَامُوسَى مَسْحُورًا
Certainly We gave Moses nine manifest signs. So ask the Children of Israel. When he came to them, Pharaoh said to him, ‘O Moses, indeed I think you are bewitched.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:101
[Pooya/Ali Commentary 17:101] (see commentary for verse 90)
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 17:101-111
1. Couplet 105 repeated by a sick person down with fever cures him of it. 2. Reading of the text if results in weeping, forecasts guidance. 3. Prayers are to be uttered (morning and evening in audible tone) the rest little louder than whispering.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:101-104
ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے
ان نشانیوں کے باوجود وہ ایمان نہ لائے پہلے کی چند آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ مشرکین، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیسے عجیب و غریب تقاضے کرتے تھے ۔ خود ان کی اپنی باتوں سے ظاہر تھا کہ ان کا مقصد تلاش حق نہیں ہے بلکہ وہ رسول اللہ کے سامنے ہٹ دھرمی اور عذر تراشی کا مظاہرہ کرتے تھے ۔ زیر بحث آیات میں درحقیقت گزشتہ امتوں کی تاریخ سے اسی صورتِ حال کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے ۔ ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ امتوں کی تاریخ سے اسی صورتِ حال کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے ۔ ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے کیسے کیسے معجزات دیکھے مگر پھر بھی بہانے تراشے اور انکار کا راستہ ترک نہ کیا ۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: ہم نے موسیٰ کو نو آیات اور واضح نشانیاں دیں (وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسیٰ تِسْعَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ)۔ یہ نو آیتیں کیا تھیں اس سلسلے میں ہم اسی بحث کے آخر میں گفتگو کریں گے ۔ مزید تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: تیرے مخالفین اگر اس بات کا بھی انکار کردیں تو اتمام حجت کے لیے ”بنی اسرائیل سے پوچھ لوکہ جب ہی نشانیاں ان کے پاس آئیں تو کیا صورتِ حال تھی“( فَاسْاٴلْ بَنِی إِسْرَائِیلَ إِذْ جَائَھُمْ)۔ لیکن مغرور سرکش اور جابر فرعون نے نہ صرف ان کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کیا بلکہ موسی(علیه السلام)ٰ کو جادوگر یا دیوانہ ہونے کا الزام دیا اور کہا: اے موسیٰ! میرا گمان ہے کہ تو جادو گر ہے یا دیوانہ (فَقَالَ لَہُ فِرْعَوْنُ إِنِّی لَاٴَظُنُّکَ یَامُوسیٰ مَسْحُورًا)۔ ” مَسْحُورًا“کے معنی کے حوالے سے مفسرین نے دو تفسیریں کی ہیں: بعض نے اسے ساحر و جادو گرکے معنی میں لیا ہے اور اس کے لیے قرآن حکیم کی ان آیات کو شاہد کے طور پر پیش کیا ہے جو کہتی ہیں کہ فرعون اور اس کے حواری ہر کہیں انہیں ساحر ہونے کا الزام دیا کرتے تھے ۔ اور اسم مفعول کہ جو فاعل کے معنی میں آیا ہے لغت عرب میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں مثلاً”مشئوم“”شائم“کے معنی میں (یعنی وہ شخص جو بدبختی کا باعث ہو)اور”میمون“”یامن“کے معنی میں (یعنی وہ شخص جو خوش بختی کا باعث ہو)۔ جبکہ بعض دیگر مفسرین نے ” مَسْحُور“کو اسی مفعول کے معنی میں لیا ہے یعنی وہ شخص جس پر جادو نے اثر کیا ہو ۔جیسا کہ سورہ ذاریات کی آیہ ۳۹ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کو جادو کا الزام بھی دیا اور جنوں کا بھی ۔ بہرحال مستکبرین کا ہمیشہ یہ طریقہ رہا ہے کہ نظام بدلنے کے لیے مردان حق کی جدو جہد کو سبو تاژ کرنے کے لیے اس طرح کا پراپیگنڈا کیا کرتے تھے ۔ مردان حق جب فاسد معاشرے کے خلاف قیام کرتے اور معجزات پیش کرتے تو یہ لوگ کبھی انہیں جادو گر کہتے اور کبھی دیوانہ تاکہ ساتدہ لوح لوگوں کو بھٹکا سکیں اور انہیں انبیاء کے پاس سے دور کرسکیں ۔ اس ناروا تہمت پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سکوت نہیں کیا اور پورے اعتماد اور یقین سے کہا: اے فرعون! تو خوب جانتا ہے کہ ان نور بخش آیات کو آسمانوں اور زمین کے رب کے علاوہ کسی نے نازل نہیں کیا ( قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا اٴَنزَلَ ہَؤُلَاء إِلاَّ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ بَصَائِرَ)۔ لہٰذا تو علم و آگہی کے باوجود حقائق کا انکار کرتا ہے ۔ تو اچھی طرح سے جانتا ہے کہ یہ معجزات و آیات خدا کی طرف سے ہیں اور مجھے بھی علم ہے کہ تو جانتا ہے ۔ یہ ”بَصَائِر“ہیں، آشکار و واضح دلائل۔ کہ جن کے ذریعے لوگ راہِ حق تلاش کرلیتے ہیں اور جادہ حق کو طے کرنے کے لیے جن سے بصیرت حاصل کرتے ہیں لہٰذا تو چونکہ شناختِ حق کا باوجود انکار کرتا ہے اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ آخر کار تو ہلاک ہوکر رہے گا ( وَإِنِّی لَاٴَظُنُّکَ یَافِرْعَوْنُ مَثْبُورًا)۔ ”مَثْبُور“”ثْبُور“کے مادہ سے ہلاکت کے معنی میں ہے ۔ فرعون چونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دندان شکن دلائل کی تاب نہیں لاسکتا تھا لہٰذا اس نے اسی چیز کا سہارا لیا کہ جس کا ہر دور میں بے منطق طاغوت سہارا لیتے آئے ہیں ۔ ”اس نے ارادہ کرلیا کہ انہیں اس علاقے سے باہر نکال دے گا لیکن ہم نے اسے اور اس کے سب ساتھیوں کو غرق کردیا“ ( فَاٴَرَادَ اٴَنْ یَسْتَفِزَّھُمْ مِنَ الْاٴَرْضِ فَاٴَغْرَقْنَاہُ وَمَنْ مَعَہُ جَمِیعًا)۔ ”یستفز“”استفزار“کے مادہ سے زور اور سختی کے ساتھ باہر دھکیلنے کے معنی میں ہے ۔ اس عظیم کامیابی کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا: (مصر و شام کے)اس علاقے میں رہو سہو (وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِہِ لِبَنِی إِسْرَائِیلَ اسْکُنُوا الْاٴَرْضَ)۔ لیکن جب وعدہ آخرت کا وقت آپہنچے گا تو ہم تم سب کو میزان حساب کے پاس اکٹھا حاضر کریں گے ( فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِکُمْ لَفِیفًا)۔ ”لَفِیف“”لَفِ“کے مادہ سے پیچ و خم دینے کے معنی میں ہے اور یہاں وہ لوگ مراد ہیں کہ جو ایک وسرے کے ساتھ بالکل اس طرح گھُلے ملے ہوں کہ ان کی انفرادیت اور قبیلہ نہ پہنچانا جاتا ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:101-104
سوره اسراء / آیه 101 - 104
۱۰۱ وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسیٰ تِسْعَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ فَاسْاٴلْ بَنِی إِسْرَائِیلَ إِذْ جَائَھُمْ فَقَالَ لَہُ فِرْعَوْنُ إِنِّی لَاٴَظُنُّکَ یَامُوسیٰ مَسْحُورًا ۱۰۲ قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا اٴَنزَلَ ہَؤُلَاء إِلاَّ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ بَصَائِرَ وَإِنِّی لَاٴَظُنُّکَ یَافِرْعَوْنُ مَثْبُورًا ۱۰۳ فَاٴَرَادَ اٴَنْ یَسْتَفِزَّھُمْ مِنَ الْاٴَرْضِ فَاٴَغْرَقْنَاہُ وَمَنْ مَعَہُ جَمِیعًا ۱۰۴ وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِہِ لِبَنِی إِسْرَائِیلَ اسْکُنُوا الْاٴَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِکُمْ لَفِیفًا ترجمہ ۱۰۱۔ ہم نے موسیٰ کو نو واضح معجزات عطا کیے ۔ اب تم بنی اسرائیل سے پوچھ لوکہ جس وقت یہ (نو معجزات)ان کی مدد کے لیے آئے (تو ان کی کیا حالت تھی) اور فرعون کہنے لگا: اے موسیٰ ! مجھے تو یہ گمان ہے کہ تو پاگل ہے (یا ساحر ہے)۔ ۱۰۲۔ اس نے جواب دیا: دلوں کو ورشن کرنے کے لیے یہ معجزات رب السماوات والارض کے سوا کسی نے نہیں بھیجے اور اے فرعون ! میں سمجھتا ہوں کہ تو نابود ہوجائے گا ۔ ۱۰۳۔ اس (فرعون نے)ارادہ کرلیا کہ زمین سے ان سب کی بیخ کنی کردے گا لیکن ہم نے اسے اور اس کے سب ساتھیوں کو غرق کردیا ۔ ۱۰۴۔ اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا: (مصر و شام کے)اس علاقے میں رہو سہو لیکن جب وعدہ آخرت کا وقت پورا ہوجائے گا ہم تم سب کو اکٹھا (اس عدالت میں)لا کھڑا کریں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:101-104
۴۔ ”وعدالاٰخرة“سے کیا مراد ہے؟
۴۔ ”وعدالاٰخرة“سے کیا مراد ہے؟ ”وعدالاٰخرة“زیر بحث آیات میں دارَ آخرت کے معنی میں ہے؟ اس سوال کا جواب ظاہراً مثبت ہے کیونکہ ”جئنا بکم لفیفاً“(یعنی ہم تمہیں اکٹھے ایک دوسرے سے ملے جلے ہوئے لائیں گے)اس امر کے لیے قرینہ ہے ۔ لیکن بعض بزرگ مفسرین نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ ”وعدالاٰخرة“اس سورہ کے آغاز کی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ: اللہ نے بنی اسرائیل سے دوکامیابیوں اور دوشکستوں کا وعدہ کیا تھا ۔ ایک کو ”وعدا اولیٰ“اور دوسری کو ”وعدالاٰخرة“کہا گیا ہے ۔ مگر ”جئنا بکم لفیفاً“کی طرف توجہ کی جائے تو یہ احتمال بہت ہی بعید معلوم ہوتا ہے (غور کیجیے)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:101-104
۳۔ آیت میں ”ارض“سے کیا مراد ہے؟
۳۔ آیت میں ”ارض“سے کیا مراد ہے؟ زیر نظر آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ دشمن پر کامیابی کے بعد اب تم اس زمین پر رہو سہو جس کے بارے میں تم سے عہد لیا گیا ہے ۔ کیا اس سے مراد مصر کی سرزمین ہے؟ (قبل کی آیت میں یہی لفظ مصر کی سرزمین کے لیے آیا ہے ۔ مذکورہ آیت کہتی ہے کہ فرعون انہیں اس زمین سے نکالتا چاہتا تھا اور دوسری آیات بھی کہتی ہیں کہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے وارث ہوئے)۔ یا پھر کیا ”ارض“یہاں فلسطین کی مقدس سرزمین کی طرف اشارہ ہے؟ کیونکہ اس واقعے کے بعد بنی اسرائیل فلسطین کی طرف گئے اور انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اس سرزمنی میں داخل ہوں ۔ ہم بعید نہیں سمجھتے کہ یہاں دونوں علاقے مراد ہوں کیونکہ قرآن کے مطابق بنی اسرائیل آلِ فرعون کی زمینوں کے بھی وارث ہوئے اور سرزمنی فلسطین کے بھی مالک بنے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:101-104
۲۔ کیا سوال کرنے والے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم تھے؟
۲۔ کیا سوال کرنے والے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم تھے؟ زیر بحث آیات کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ نبی اسرائیل سے حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے نو معجزات کے بارے میں سوال کریں کہ آلِ فرعون نے کس طرح سے معجزات دیکھنے کے باوجود بہانے بنائے اور حضرت موسیٰ(علیه السلام) کی حقانیت قبول نہ کی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسی صاحب علم و عقل ہستی کو ایسے سوال کی ضرورت نہ تھی، سمجھتے ہیں کہ سوال کرنے کے لیے دوسرے مخاطبین کو حکمدیا گیا تھا ۔ لیکن ۔اگر ہم اس امر کی طرف توجہ کریں کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو یہ سوال اپنے لیے نہیں کرنا تھا بلکہ اس لیے تھا کہ مشرکین یہ بات مان لیں لہٰذا اس میں کوئی مانع نہیں کہ سوال خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہوتا کہ مشرکین جان لیں کہ اگر پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم ان کے طرح طرح کے تقاضے قبول نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تقاضے حق طلبی کے لیے نہ تھے بلکہ ہٹ دھرمی ، تعصب اور عناد پر مبنی تھے جس کی مثال حضرت موسیٰ اور فرعون کے واقعے میں موجود ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:101-104
۱۔ حضرت موسیٰ کے نو معجزات
۱۔ حضرت موسیٰ کے نو معجزات: قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بہت سے معجزوں کا ذکر آیا ہے ۔ مثلاً: ۱۔ آپ کا عصا بہت بڑے اژدھا میں تبدیل ہوگیا اور اس نے جادوگروں کے آلات کو نگل لیا ۔ جیسے کہ سورہ طٰہٰ کی آیت ۲۰ میں ہے: <فَاِذَا ہِیَ حَیَّةٌ تَسْعیٰ ۲۔ آپ کا دوسرا بڑا معجزہ ”یدبیضاء“کا تھا ۔آپ کا ہاتھ۔ اس طرح سے چمک اٹھا کہ جیسے کوئی منبع نور ہو ۔ <وَاضْمُمْ یَدَکَ إِلیٰ جَنَاحِکَ تَخْرُجْ بَیْضَاءَ مِنْ غَیْرِ سُوءٍ آیَةً اٴُخْریٰ ۔ اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں لے جاکر نکگالو تو تم دیکھو گے کہ کسی خرابی کے بغیر کیسا چمکتا دمکتا نکلتا ہے اںور یہ دوسرا معجزہ ہوگا ۔ (طٰہٰ ۔۲۲) ۳۔تباہ کن طوفان۔ آپ(علیه السلام) کا تیسرا اہم معجزہ تھا ۔ سورہٴ اعراف کی آیت ۱۳۳ میں ہے: < فَاٴَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ الطُّوفَانَ پس ان پر ہم نے طوفان بھیجا ۔ ۴۔ ٹڈی دل کہ جو ان کی فصلوں اور درختوں پر مسلط ہوگیا اور ان کے لیے آفت و مصیبت بن گیا ۔ <وَالْجَرَاد (اعراف۔۱۳۳) ۵۔نباتات پر آنے والی جووٴں کی آفت کہ جو غلّوں کو نابود کردیتی تھی: <وَالْقُمَّل (اعراف ۔۱۳۳) ۶۔ دریائے نیل سے نکلتے مینڈک کہ جن کی نسل اتنی بڑھی کہ فرعونیوں کی زندگی اجیرن ہوگئی: <وَالضَّفَادِع (اعراف ۔۱۳۳) ۷۔”دم“ یعنی خون کی مصیبت۔ انہیں خون کی نکسیر پھوٹنے لگی یا دریائے نیل کا پانی خون رنگ ہوگیا اور اس کی حالت ہوگئی کہ وہ پینے کے قابل رہانہ کھیتی باڑی کے ۔ <وَالدَّمَ آیَاتٍ مُفَصَّلَات (اعراف۔۱۳۳) ۸۔ دریا میں راستے بن گئے او ربنی اسرائیل ان میں سے گزر کر پار اتر گئے: <وَإِذْ فَرَقْنَا بِکُمْ الْبَحْرَ (بقرہ۔۵۰) ۹۔ بنی اسرائیل پر من و سلویٰ نازل ہوا ۔ اس کی تفصیل سورہ بقرہ کی آیہ ۵۷ کی تفسیر میں گزرچکی ہے ۔ قرآنی الفاظ میں: <وَاٴَنزَلْنَا عَلَیْکُمْ الْمَنَّ وَالسَّلْوَی (بقرہ ۔ ۵۷) ۱۰۔پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ۔ ارشاد قرآنی ہے: < فَقُلْنَا اضْرِبْ بِعَصَاکَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا ۔ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا عصا پتھر پر مارو پس اس میں سے بارہ چشمے جاری ہوگئے ۔(بقرہ۔۶۰) ۱۱۔پہاڑ کا ایک حصّہ الگ ہوکر سائبان کی طرح ان کے سروں پر آکھڑا ہوگیا ۔ <وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَھُمْ کَاٴَنَّہُ ظُلَّة اور جب ہم نے ان کے سروں پر پہاڑ کو اس طرح سے لٹکا دیا کہ جیسے سائبان ہو ۔(اعراف ۔۱۷۱) ۱۲۔ آلِ فرعون کو قحط اور خشک سالی نے آلیا ۔ یہ بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات میں سے تھا ۔ قرآن کہتا ہے: <وَلَقَدْ اٴَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِینَ وَنَقْصٍ مِنَ الثَّمَرَاتِ اور بے شک ہم نے آل فرعون کو برسوں تک قحط اور پھلوں کی کمی کے عذاب میں گرفتار کیے رکھا ۔(اعراف ۔۱۳۰)۔ ۱۳۔ اس مقتول کو پھر سے زندگی مل گئی کہ جس کا قتل بنی اسرائیل میں اختلاف کا باعث بن گیا تھا ۔ <فَقُلْنَا اضْرِبُوہُ بِبَعْضِھَا کَذٰلِکَ یُحْیِ اللهُ الْمَوْتیٰ ۔ پس ہم نے کہا: اس گائے کا کوئی ٹکڑالے کر اس کی لاش پر مارو ۔ یوں خدا مردے کو زندہ کرتا ہے ۔(بقرہ۔ ۷۳) ۱۴۔ بیابان میں بنی اسرائیل سخت گرمی میں مبتلا تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بادلوں کا سائباں عطا فرمادیا ۔ یہ بھی ایک معجزہ تھا ۔ ارشادِ الٰہی ہے: <وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمْ الْغَمَامَ اور ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کردیا ۔ (بقرہ۔ ۵۷) لیکن زیر نظر آیت میں تو نو آیات کا ذکر ہے ۔ اس سے پھر کون سے نو معجزات مراد ہیں؟ ان آیات میں جو تعبیرات آئی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں وہ معجزات مراد ہیں کہ جو فرعون اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں ظہور پذیر ہوئے نہ وہ کہ جو صرف بنی اسرائیل پر مربوط ہیں،مثلاً من و سلویٰ کا نزول، یتھر سے چشموں کا پھوٹنا وغیرہ۔ اگر غور کیا جائے تو سورہ اعراف میں بیان کیے گئے پانچ معجزات یعنی طوفان ، نباتاتی آفت، ٹڈی دل، مینڈک اور خون ہی خون نظر آنا، ان نو معجزات میں شامل ہیں ۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دومشہور معجزے یعنی عصاء اورید بیضابھی یقیناً ان میں شامل ہیں خصوصاً جبکہ سورہ نمل کی آیت ۱۰تا۱۲میں ان دو عظیم معجزوں کے ذکر کے بعد تسع آیات(نو آیات) کی تعبیر استعمال کی گئی ہے ۔ اس طرح یہ کل سات معجزے ہوئے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اور وہ کون سے معجزات ہیں؟ اس میں شک نہیں کہ فرعونیوں کی غرقابی اور اس قسم کے دیگر امور ان معجزات میں شامل نہیں ہوسکتے کیونکہ یہاں جن نو معجزات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان کا مقصد فرعونیوں کی ہدایت ہے نہ کہ ان کی نابودی۔ سورہٴ اعراف میں بہت سے معجزات کا ذکر ہے ۔ ان میں غور و خوض کیا جائے تو یہ دو معجزات خشک سالی اور مختلف پھلوں کا قحط ہے کیونکہ عصاٴ اورید بیضا کے معجزے کا ذکر کرنے کے بعد اورٹڈی دل و غیرہ مذکورہ پانچ معجزات سے پہلے فرمایا گیا ہے: <وَلَقَدْ اٴَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِینَ وَننَقْصٍ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُو ہم نے بنی اسرائیل کو خشک سالی اور مختلف قسم کے پھلوں کی کمی میں مبتلا کیا کہ شاید وہ بیدار ہوجائیں ۔(اعراف۔۱۳۰) ممکن ہے بعض یہ خیال کریںکہ خشک سالی پھلوں کی کمی سے الگ کوئی چیز نہیں ہے ۔ اس طرح یہ ایک ہی”آیت“شمار ہوگی لیکن جیسا کہ ہم سورہ اعراف کی اس آیت کی تفسیر میں بیان کرچکے ہیں کہ ہوسکتا ہے محدود خشک سالی سے درختوں پر تھوڑا اثر مرتب ہو لیکن خشک سالی جب طول کھینچ جائے تو اس درخت تباہ و برباد ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا پھلوں کی تباہی صرف خشک سالی سے نہیں ہوتی۔ اس ساری بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ جن نو معجزات کی طرف زیر بحث آیت میں اشارہ ہوا ہے وہ یہ ہیں: ۱۔ عصا ۲۔ یدبیضاء ۳۔ طوفان ۴۔ ٹڈی دَل ۵۔ ”قمل“نامی ایک نباتاتی آفت ۶۔ مینڈکوں کی کثرت ۷۔ خون ۸۔ خشک سالی ۹۔ پھلوں میں کمی سورہ اعراف کی مذکورہ آیات میں ان نو معجزات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے: یہ نو آیات دیکھ کر بھی جب وہ ایمان نہ لائے تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں غرقِ دریا کردیا کیونکہ انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی تھی اور ان سے غفلت برتی تھی۔(اعراف۔۱۳۶) ہمارے منابع حدیث میں اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں کچھ روایات نقل ہوئی ہیں لیکن ان روایات میں آپس میں اختلاف ہے ۔ لہٰذا انہیں فیصلے کے لیے معیار قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ان سے اطمینان ہوسکتا ہے ۔