وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
They say, ‘When will this promise be fulfilled, should you be truthful?’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 10:48
[Pooya/Ali Commentary 10:48] Refer to the commentary of Araf: 187 and 188.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:48-52
چند اہم نکات
۱۔ قرآنی آیت سے غلط استدلال : جیساکہ سورہ اعراف کی آیہ ۳۴ کے ذیل میں ہم نے کہا ہے کہ ہمارے زمانے کے بعض دین ساز لوگوں نے ”لکل امة اجل “ جیسی آیات سے جو قرآن میں دو مرتبہ آئی ہے ، پیغمبر اسلام کی خاتمیت کی نفی کے لئے استدلال کیا ہے اور یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ہر دین و مذہب آخر کار ختم ہو جاتا ہے او راپنی جگہ دوسرے کو دے دیتا ہے حالانکہ لفظ ” امت “ گروہ اور جماعت کے معنی میں ہے نہ کہ مذہب کے معنی میں خصوصاً ایک مذہب کے پیرو کار ۔ ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ قانون ِ موت و حیات افراد سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ملتوں اور گروہوں پر بھی یہ قانون حاوی ہے ، اور جب وہ ظلم و گناہ اختیار کریں گے تو ختم ہو جائیں گے ، خصوصاً زیر بحث آیت سے پہلے اور بعد کی آیات کی طرف توجہ سے یہ حقیقت واضح پر ثابت ہ وجاتی ہے کہ یہاں کسی مذہب کے منسوخ ہونے سے متعلق گفتگو نہیں ہے بلکہ نزول عذاب اور ایک گروہ و ملت کے نابود اور ختم ہو جانے کے بارے میں ہے کیونکہ قبل و بعد کی دونوں آیات دنیاوی عذاب اور سزا کے بارے میں بات کررہی ہیں ۔ ۲۔ دنیا میں مسلمانوں کے لئے سزا : مندرجہ بالا آیات کی طرف توجہ کرنے سے یہ سوال پید اہوتا ہے کہ کیا مسلمانوں کے معاشرے بھی اس دنیامیںسزا و عذاب میں گرفتار ہو ں گے ؟ اس سوال کا جواب ہاں میں ہے کیونکہ ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ امت دنیا وی عذاب سے مستثنیٰ ہے بلکہ یہ قانون تمام امتوں اور ملتوں کے بارے میں ہے اور جو ہم نے بعض آیا ِ قرآن ( مثلاً انفال ۳۳) میں پڑھا ہے کہ خدا اس امت کو سز انہیں دے گا وہ دو میں سے ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے پہلی پیغمبر اکرم کا امت میں موجود ہونا اور دوسری استغفار اور گناہ سے توبہ کرنا ۔ لہٰذا یہ فرمان غیرمشروط ہے ۔ ۳۔ نزول اعذاب کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی : مندرجہ باآیات دو بارہ اس حقیقت کو تاکید کرتی ہیں کہ نزول ِ عذاب کے وقت توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں او ر عذاب کے وقت کی پشیمانی بے فائدہ ہے ۔ اس کی دلیل بھی واضح ہے اور وہ یہ کہ اس حالت میں توبہ اجباری اور اضطراری صورت میں ہوگی اور ایسی توبہ کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہوتی ۔ ۵۳۔وَیَسْتَنْبِئُونَکَ اٴَحَقّ ھُوَ قُلْ إِی وَرَبِّی إِنَّہُ لَحَقٌّ وَمَا اٴَنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ۔ ۵۴۔ وَلَوْ اٴَنَّ لِکُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاٴَرْضِ لَافْتَدَتْ بِہِ وَاٴَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاٴَوْا الْعَذَابَ وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ وَھُمْ لاَیُظْلَمُونَ ۔ ۵۵۔ اٴَلاَإِنَّ لِلَّہِ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ اٴَلاَإِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَھُمْ لاَیَعْلَمُونَ ۔ ۵۶۔ھُوَ یُحْیِ وَیُمِیتُ وَإِلَیْہِ تُرْجَعُونَ۔ ترجمہ ۵۳۔ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا وہ ( خدائی سزا والا وعدہ ) حق ہے ؟ کہہ دو خدا کی قسم یقینا حق ہے اور تم اس سے بچ نہیں سکتے ۔ ۵۴۔ اور جس نے ظلم کیا ہے اگر وہ تمام کچھ جو روئے پر ہے اس کے اختیار میں ہو تو وہ ( سب کچھ عذاب کے خوف سے ) اپنی نجات کے لئے دے گا اور جب عذاب کے دیکھے گا تو (پشیمان ہو گا لیکن ) اپنی پشیمانی کو چھپائے گا ( کہ کہیں زیادہ سوار نہ ہو ) اور ان کے درمیان عدل سے فیصلہ ہو گا او ران پر ظلم و ستم نہیں ہوگا ۔ ۵۵۔ آگاہ ہو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ خدا کا ہے ۔ آگاہ رہو کہ خد اکا وعدہ حق ہے ۔ ۵۶۔ وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جاوٴ گے ۔ ۱- جو کچھ ہم نے سطور بالا میںکہا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ زیر نظر قضیہ شرطیہ پر مشتمل ہے جس کی شرط ذکر ہوئی ہے اور جزا مقدر ہے ، او ر” ماذا یستعجل منہ المجرمون “ ایک مستقل جملہ ہے ۔ آیت کی تقدیر اسی طرح ہے : ( اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ اٴَتَاکُمْ عَذَابُہُ بَیَاتًا اٴَوْ نھَارًا کنتم تقدرون علی دفعہ او تعدونہ امرا محالا فاذا کان الامر کذٰلک ماذا یستعجل منہ المجرمون ) ۔ یعنی کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر تم رات یا دن کے وقت عذاب آجائے تو تم اسے روکنے کی قدرت رکھتے ہو یا اسے امر محال سمجھتے ہو۔ جب معاملہ ایسا ہے تو پھر مجرمین آخر کس طرح اس کی تعجیل چاہتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:48-52
خدائی سزا میرے ہاتھ میں نہیں ہے
منکرین حق کو عذاب اور سزا کی تہدیدوں کے بعد اب ان آیات میں پہلے تو ان کی تکذیب اور تمسخر بھری بات بیان کی گئی ہے : وہ کہتے ہیں کہ عذاب کے بارے میں تم جو وعدہ کرتے ہواگر سچ ہوتو وہ کب ہے ؟ (وَیَقُولُونَ مَتَی ھَذَا الْوَعْدُ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ ) ۔ یقینا یہ باتیں پیغمبر اسلام کے زمانے کے مشرکین کرتے تھے ۔ کیونکہ بعد والی آیات جس میں پیغمبر اکرم کا جواب موجود ہے اس امر پر شاہد ہے ۔ بہر حال اس طرح سے وہ پیغمبر کی تہدوں کے بارے میں اپنی اعتنائی کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے اور جو افراد ان تہدیدوں کی وجہ سے متزلزل ہو گئے تھے ان کے قوت قلب اور سکون ِ فکر کا سامان کرنا چاہتے تھے ۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ پیغمبر اکرم کو حکم دیتا ہے کہ انھیں چند طریقوں سے جواب دیں ۔ پہلا یہ کہ فرماتا ہے :ان سے کہہ دو کہ ان کام کا وقت اور وعدہ گاہ میرے اختیار میں نہیں ہے ۔ میں اپنے لئے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں ، چہ جائیکہ تمہارے لئے ، مگر جو کچھ خدا چاہے ۔ اور جو وہ ارادہ کرے ( قُلْ لاَاٴَمْلِکُ لِنَفْسِی ضَرًّا وَلاَنَفْعًا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ) ۔میں تو صرف اس کا بھیجا ہوا اور پیغمبرہوں نزول عذاب کے لئے وعدہ گاہ کا وقت کا تعین اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ جب میں اپنے بارے میں نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں تو تمہارے بارے میں بدرجہ اولیٰ نہیں ہو ں گا ۔ یہاں در حقیقت توحید افعالی کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی اس عالم میں تمام چیزوں کی باز گشت خدا کی طرف ہے ۔ ہر کام اسی کی طرف سے ہے کہ جو اپنی حکمت سے مومنین کو کامیابی عطا کرتا ہے او روہی ہے جو منحرفین کو اپنے عدل سے سزا دیتا ہے ْ واضح ہے کہ یہ اس بات کے منافی نہیں کہ اللہ نے ہمیں قدرت و طاقت دی ہے کہ جس کے ذریعے ہم اپنے بعض منافع اور نقصا نات کے مالک ہیں اور اپنی سر نوشت کے بارے میں ہم ارادہ کرسکتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ آیت مالکیت بالذات کی نفی کرتی ہے نہ کہ مالکیت بالغیر کی اور ” الا ماشاء اللہ “ اس کے لئے واضح قرینہ ہے ۔ یہاں سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس آیت سے جو بعض متعصب افراد مثلاً مولف المنار نے پیغمبر سے توسل کے جواز کی نفی کا مطلب لیا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ اگر توسل سے مراد یہ ہو کہ ہم پیغمبر اکرم کو بالذات صاحبِ قدرت اور مالک ِ سود و زیاں سمجھیں تو مسلم ہے کہ یہ شرک ہے او رکوئی مسلمان یہ عقیدہ نہیں رکھ سکتا او راگر یہ مالکیت خد اکی طرف سے ہو اور ” الاّ ماشاء اللہ “ کے مفہوم کے مطابق ہو تو اس میں کوئی مانع نہیں ہے اور یہ عین ایمان و توحید ہے ۔ مذکورہ موٴلف نے اس نکتے سے غفلت کی وجہ سے طویل بحثوں سے اپنا او راپنے قارئیں کا وقت جائع کیا ہے ۔ افسوس سے کہنا پڑ تا ہے کہ اس کی تفسیر تمام تر خصوصیات کے باوجود اس میں اشتباہات بہت زیادہ ہیں ۔ جن کا سر چشمہ تعصب کو سمجھا جا سکتا ہے ۔ دوسرا یہ کہ فرماتا ہے : ہر قوم او رجمیعت کے لئے ایک معین زمانہ او راجل ہے جن ان کی اجل آجاتی ہے تو وہ اس میں نہ ایک گھڑی تاخیر کرسکتے ہیں نہ گھڑی بھر کے لئے آگے بڑھ سکتے ہیں ( لِکُلِّ اٴُمَّةٍ اٴَجَلٌ إِذَا جَاءَ اٴَجَلُھُمْ فَلاَیَسْتَاٴْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَیَسْتَقْدِمُونَ) ۔ دوسرے لفظوں میںکوئی قو م وم ملت جب راہ حق سے منحرف ہو تو اپنے اعمال کے نتیجے میں خدا کی سزا سے محفوظ نہیں رہ سکتی ۔ جب لوگ ایسے راستوں پر چل پڑیں اور آفرینش کے قطعی قوانین سے انحراف کریں تو اپنے مسائل کھو بیٹھتے ہیں اور آخر کار قعر مذلت میں جا گر تے ہیں تاریخ ِ عالم ایسے لوگوں کی مثالوں میں بھری پڑی ہے ۔ مشرکین جو عذاب الہٰی کے آنے میں تعجیل کا تقاضا کرتے تھے ، درحقیقت انھیں خبر داری کرتا ہے کہ وہ بلا وجہ جلدی نہ کریں ، جب وقت آئے گاتو اس عذاب میں لمحہ بھر کی تاخیر و تقدیم نہیں ہو گی ۔ ضمنی طور پر متوجہ رہنا چاہئیے کہ لفظ ” ساعت “ کبھی لحظہ اور لمحہ کے لئے آتا ہے او رکبھی زمانے کی تھوڑی سی مدت کے لئے آتا ہے اگر چہ آج کل رات دن کے چوبیسویں حصہ ( ایک گھنٹہ ) کو ” ساعت“ کہتے ہیں ۔ تیسرا جواب اگلی آیت میں پیش کرتے ہوئے کہتا ہے : ان سے کہہ دو کہ اگر رات یا دن کے وقت پر وردگار کا عذاب تم پر آجائے تو یہ کوئی غیر ممکن بات نہیں ہے ، کیا تم اس ناگہانی عذاب کو دو کرسکتے ہو ۔( قُلْ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ اٴَتَاکُمْ عَذَابُہُ بَیَاتًا اٴَوْ نھَارًا ) ۔ ان حالات میں مجرم اور گنہ گار آکر کیوں جلدی کرتے ہیں ( مَاذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْہُ الْمُجْرِمُونَ ) ۔۱ بعض نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ ” ماذا یستعجل “ جزائے شرط ہے ، بہت بعید ہے ۔ ( غر کیجئے گا ) ۔ دوسرے لفظوں میں ان جسور مجرموں کو انزولِ عذاب کا یقین ہے تو کم از کم اس کا احتمال تو انھیں ہے ہی کہ اچانک عذاب ان کے پیچھے آجائے ۔ ان کے پاس اس کے لئے کیا بندو سبت ، ضمانت اور دلیل ہے کہ پیغمبر کی تہدید یں بالکل وقوعپذیر نہیں ہوں گی۔ عقل مند انسان کو ایسے احتمال ِ ضرر کی صورت میں بھی کچھ نہ کچھ احتیاط کرنا چاہیئے اور اس سر ڈرنا چاہئیے ۔ ایسا ہی مفہوم دیگر تعبیرات کی صورت میں قرآن کی سدوسری آیات میں میں موجودہے : مثلاً: افامنھم ان یخسف بکم جانب البر او یرسل علیکم حاصباً ثم لا تجدو ا لکم وکیلاً ۔ کیاتم اس سے مامون ہو کہ خدا تمہیں زمین کے کسی حصہ میں اندر سمادے ( یعنی تم زمین میں دھنس جاوٴ) یا تم پر آسمان سے سنگریزے برسائے اور پھر تم اپنے لئے کوئی نگہبان نہ پاوٴ۔ ( بنی اسرائیل ۶۸) یہ وہی چیز ہے جسے علم کلام اور علم اصول میں ” لزوم دفع ضرر محتمل “ کہاجاتا ہے ۔ چوتھا جواب اس سے بعد والی آیت میں دیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے : اگر تم گمان کرتے ہو کہ نزول عذاب کے وقت ایمان لاوٴگے تمہارا ایمان قبول کر لیا جائے گا تو یہ خیال باطل ہے ( اٴَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ آمَنْتُمْ بِہِ ) ۔ کیونکہ نزول عذاب کے بعد توبہ کے در وازے تم پر بند ہو جائےں گے اور پھر ایمان لانے کا ذرہ بھر اثر بھی نہ ہوگا ۔ بلکہ ” تم سے کہا جائے گا کہ اب ایمان لارہے ہو جب کہ پہلے تم تمسخر اور تکذیب کرتے ہوئے عذاب کے لئے تعجیل کرتے تھے (اٴَالْآنَ وَقَدْ کُنْتُمْ بِہِ تَسْتَعْجِلُونَ ) ۔ یہ ان کی دنیاوی سزا ہے ” پھر روز قیامت جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ، ان سے کہا جائے گا ابدی اور ہمیشہ کا عذاب چکھو“( ثُمَّ قِیلَ لِلَّذِینَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ ) ۔ کیا جو کچھ تم نے انجام دیا ہے تمہیں اس کے سوا سزا دی جائے گی ( ھَلْ تُجْزَوْنَ إِلاَّ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُونَ) ۔ یہ در حقیقت تمہارے ہی اعمال ہیں جو تمہیں دامن گیر ہوئے ہیں ، وہی تمہارے سامنے مجسم ہو ئے ہیں اور وہی تمہیں ہمیشہ تکلیف و آزار پہنچاتے ہیں ۔