يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ جَٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡۚ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ
O Prophet! Wage jihad against the faithless and the hypocrites, and be severe with them. Their refuge shall be hell, and it is an evil destination.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:73
[Pooya/Ali Commentary 9:73] The order is to strive hard against the disbelievers and the hypocrites with arms as well as with words and arguments. Aqa Mahdi Puya says: Here and in verse 9 of Tahrim the Holy Prophet has been commanded to fight against the hypocrites as was being done against the disbelievers, but no war was waged against the hypocrites during the lifetime of the Holy Prophet, nor in the times of the first three rulers. The order did not remain unattended, but was carried out by Ali as the Holy Prophet's true successor (see introduction of this surah to know that the command of Allah could only be carried out by the Holy Prophet himself or by one who was from him) in fulfilment of his prophecy that Ali would fight and destroy the nakithin (oath breakers), qasitin (deviators) and mariqin (apostates).
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 9:73-80
(a) God has commanded waging of war against infidels in company of hypocrites (so long as these hypocrites openly did not enter into war with the prophet and for reasons given heretofore) and as the Prophet, in his lifetime, did not wage war with hypocrites and as the Prophet had said in favour of Ali, “Your fight is my fight” and in favour of Hussain, in similar terms and both these immaculate Divine Lights, after passing away of the Prophet, had to fight against the Kufis and Sham Muslims who were hypocrites, alike infidels, having actually faced their religious leaders. They (Ali and his son Hussain) thus fulfilled the Prophet’s trust, being his true Khalifas. (b) This was exposed by God when Ali was made the Prophet’s successor in the valley of Khum, seven of the hypocrites, viz. Abu Bakr, Omar, Abdur Rahman ibn Auf, Sa‘ad ibn Abi Vakas, Abu Obaide ibn Jarrah, Salim Maula, and Ibn Hazifa ibn Abi Shoea, swore in the Holy Sanctuary of Mecca. They would not let the Khilafat go to the Hashamite dynasty and later they plotted to kill the Prophet on his return from Tabuk in the Valley of Akbah, and this private talk was revealed by God to the Prophet who called upon them to explain, and they denied it. (c) This is a case of how love for power and wealth converts man into a hypocrite who shall never be forgiven.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:73
کافروں اور منافقوں سے جنگ
آخر کا اس آیت میں کافروں او رمنافقوں کے مقابلے میں شدت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اے پیغمبر ! کفار ومنافقین کے ساتھ جہاد کرو(یَااٴَیّھَا النَّبِیُّ جَا ھد الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ )۔” اور ان کے مقابلے میں سخت اور شدید طریقہ اختیار کرو “ ( وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ )۔ یہ تو ان کی بنیادی سزا ہے اور آخرت میں ان کے رہنے کی جگہ دوزخ ہے ۔ جو بد ترین انجام اور برا ٹھکانا ہے (وَمَاٴْوَاہُمْ جَہَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیرُ )۔ البتہ کافروں کے مقابلے میں جہاد کا طور طریقہ تو بالکل واضح ہے اور وہ ہر پہلو سے جہاد ہے ۔ خصوصاً مسلح جہاد ۔ لیکن منافقوں سے جہاد کے طریقوں میں اختلاف ہے ۔ کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ رسول اکرم منافقوں سے مسلح جہاد نہیں کرتے تھے ۔ کیونکہ منافق وہ شخص ہے جو ظاہری طور پر مسلمانوں میں صف میں ہو اور بظاہر تمام آثار اسلام ک اپابند ہو۔ اگر چہ باطنی طور پر اسلامی احکام کی خلاف ورزی کرتا ہو۔ چنانچہ ہم بہت سے لوگوں کو جانتے ہیں کہ وہ ایمان ِ حقیقی نہیں رکھتے لیکن کیونکہ وہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اس لئے ہم ان سے غیر مسلموں کا سا بر توٴ نہیں کرسکتے۔ بنا بریں جس طرح اسلامی روایات اورمفسرین کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے منافقوں سے جہاد کرنے سے مراد اور طرح کی جنگ ہے جو مسلح جنگ کے علا و ہ ہے ۔ مثلاً مذمت ، سر زنش ،تہدید اور انھیں رسوا کرنا ۔ شاید ”و اغلظ علیھم “ اسی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ ہاں آیت کی تفسیر میںیہ احتمال بھی ہے کہ جب تک منافقوںکی حقیقت اور ان کے خفیہ منصوبے منظر عام پر نہ آجائیں ان کے بارے میں مسلمانوں سے متعلق احکام پر عمل کیا جائے گا ۔ لیکن جب ان کی حالت اچھی طرح معلوم ہو جائے تو پھر ان پر کفار حربی کا حکم لاگو ہوجائے گا اور اس صورت میں ان سے مسلح جنگ بھی کی جا سکتی ہے ۔ لیکن جو بات اس احتمال کو کمزور کرتی ہے وہ ہے کہ اس حالت میں ” منافق“ کے لفظ کا اطلاق اس پر درست نہیں ہے ۔ بلکہ اب وہ کافر حربی کی صف میں ہے جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ منافق وہ ہے جس کا ظاہر اسلام ہو اور باطن کفر ۔ ۷۴۔ یَحْلِفُونَ بِاللهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا کَلِمَةَ الْکُفْرِ وَکَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِھِمْ وَھَمُّوا بِمَا لَمْ یَنَالُوا وَمَا نَقَمُوا إِلاَّ اٴَنْ اٴَغْنَاھُمْ اللهُ وَرَسُولُہُ مِنْ فَضْلِہِ فَإِنْ یَتُوبُوا یَکُنْ خَیْرًا لھُمْ وَإِنْ یَتَوَلَّوْا یُعَذِّبْھُمْ اللهُ عَذَابًا اٴَلِیمًا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَھُمْ فِی الْاٴَرْضِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیر۔ ترجمہ ۷۴۔منافق خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ( پیغمبر کے پس پشت) انھوں نے ( تکلیف وہ )باتیں نہیں کیں ۔ حالانکہ یقینا انھوں نے کفر آمیز باتیں کی ہیں او راسلام لانے کے بعد وہ کافر ہو گئے اور انھوں نے ( ایک خطر ناک کام کا) ارادہ کیا تھا جسے وہ نہ کرسکے وہ صرف اس بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ خدا اور اس کے رسول نے صرف اپنے فضل ( اور کرم ) سے بے نیاز کردیا ہے ( اس کے باوجود ) اگر وہ تو بہ کرلیں تو ان کے لئے بہتر ہے ، اور اگر وہ منہ موڑتے ہیں تو خدا انھیں دنیا و آخرت میں دردناک سزا دے گا اور وہ روئے زمین پر نہ کوئی ولی و حامی رکھتے ہیں اور نہ ہی یار و مدد گار ۔