وَمِنۡهُم مَّن يَلۡمِزُكَ فِي ٱلصَّدَقَٰتِ فَإِنۡ أُعۡطُواْ مِنۡهَا رَضُواْ وَإِن لَّمۡ يُعۡطَوۡاْ مِنۡهَآ إِذَا هُمۡ يَسۡخَطُونَ
There are some of them who blame you regarding [the distribution of] the charities: if they are given from them, they are pleased, but if they are not given from them, behold, they are displeased.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:58
[Pooya/Ali Commentary 9:58] On the authority of Bukhari, Nisa-i and other traditionists, it has been reported in Tafsir Durr al Manthur that while the Holy Prophet was distributing some spoils of war a man from the Banu Tamim, Dhul Khuyasarah, came and said: "O Messenger of Allah, please do justice." The Holy Prophet replied: "Woe to you. Who would do justice if I am doing injustice?" Umar bin Khattab said: "O Messenger of Allah, give me permission to kill him." The Holy Prophet said: "Leave him alone. There are men like him among you whose observance of prayers and fasting will make you feel small, but one day they will go out of the faith as an arrow leaves the bow. They are called mariqin. There will be discord among the Muslims and these men will revolt under the leadership of a man with one breast like a woman." Abu Sayeed Khudhri says: "When Ali killed such people in the battle of Naharwan, I was with him. I saw the slain body of the man described by the Holy Prophet lying on the ground."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:58-59
بے منطق خود غرض افراد
مندرجہ بالا پہلی آیت میں منافقین کی ایک اور حالت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ وہ ہرگز اپنے حق پر راضی نہیں ہوتے اور ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ بیت المال سے اور عمومی منافع سے جتنا ہوسکے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں، چاہئے مستحق ہوں یا نہ ہوں، ان کی دوستی اور دشمنی اسی مہر کے ارد گرد گھومتی ہے، جو شخص ان کی جیب بھر دے اس پر راضی ہیں اورجو شخص دعدالت کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہیں دوسرے کا حق نہ دے تو اس سے ناراض ہوجاتے ہیں، حق وعدالت کا ان کی لغت میں کوئی مفہوم نہیں ہے اور اگر کوئی مفہوم ہے تو ان کی نظر میں عادل وہ شخص ہے جو انہیں زیادہ سے زیادہ دے اور ظالم ان کی نظرمیں وہ شخص ہے جو دوسروں کا حق ان سے لے لے، دوسرے لفظوں میں ان میںہر طرح کے اجتماعی شعور کا فقدان ہے اور وہ صرف انفرادی حوالے سے سوچتے ہیں اور صرف اپنی ہی مفادات پیش نظر رکھتے ہیں اور وہ تمام چیزوں کو صرف زاوےے سے دیکھتے ہیں، لہٰذا فرمایا گیاہے:” ان میں سے بعض صدقات کی تقسیم کے معاملے میں تم پر عیب لگاتے اور اعتراض کرتے ہیں“ اور کہتے ہیں کہ آپ نے عدالت کو ملحوظ نظر سے نہیں رکھا (وَمِنْھُمْ مَنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ )، لیکن حقیقت میں اس طرح ہے کہ وہ اپنے مفادات پر نظر رکھتے ہیں ”اگر انہیں کچھ حصہ دے دیا جائے تو راضی اور خوش ہیں “ اور تمہیں عدالت کرنے والا سمجھتے ہیں چاہے وہ استحقاق نہ رکھتے ہوں(فَإِنْ اٴُعْطُوا مِنْھَا رَضُوا)، ”لیکن اگر کوئی چیز انہیں نہ دی جائے تو سیخ پا اور ناراض ہوجاتے ہیں“ اور تم پر بے عدالتی کی تہمت لگاتے ہیں( وَإِنْ لَمْ یُعْطَوْا مِنْھَا إِذَا ھُمْ یَسْخَطُونَ)، لیکن اگر وہ اپنے حق پر راضہ ہوجائیں اور جو کچھ خدا اور اس کا پیغمبر انہیں دیتا ہے اس پر راضی رہیں اور کہیں کہ یہی ہمارے لئے کافی ہے اگر مزید ضرورت پڑی تو خدا اور پیغمبر اپنے فضل وکرم سے عنقریب ہم پر بخشش کریں گے، ہم صرف اسی کی رضا چاہتے ہیں اور اس سے خواہش کرتے ہیں کہ ہمیں لوگوں کے مال سے بے نیاز کردے اگر وہ ایسے کریں تو ان کے فائدے میں ہے( وَلَوْ اٴَنَّھُمْ رَضُوا مَا آتَاھُمْ اللهُ وَرَسُولُہُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ سَیُؤْتِینَا اللهُ مِنْ فَضْلِہِ وَرَسُولُہُ إِنَّا إِلَی اللهِ رَاغِبُون) ۔ آج کے مسلمان معاشروں میں ایسے لوگ کیا آج کل اسلامی معاشروں میں اس قسم کے لوگ نہیں پائے جاتے؟ کیا تمام لوگ اپنے جائز حق پر قانع ہیں؟ اور جو انہیں ان کے حق کے مطابق دے کیا سب لوگ اسے عدالت پیشہ سمجھتے ہیں؟ یقینا ان سوالات کا جواب منفی ہے، انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ابھی بھی بہت سے ایسے افراد ہیں جو حق اور عدالت کا میعار صرف اپنے ذاتی مفادات کو سمجھتے ہیں اور اپنے حقوق پر قناعت نہیں کرتے، اگر کوئی سب کو خصوصامحروم لوگوں کو ان کا جائز حق دینا چاہے تو ایسے افراد شور مچانا شروع کردیتے ہیں لہٰذا ضرورت نہیں کہ منافقین کی پہچان کے لئے صفحات تاریخ ہی کی ورق گردانی کی جائے، ایک نگاہ اپنے گرد وپیش پر ڈال لیں بلکہ ہم اپنے اوپر ہی نظر ڈال لیں تو اپنی اور دوسروں کی کیفیت معلوم ہوجائے گی ۔ پروردگارا: روح ایمان ہم میں زندہ کردے،شیطانی فکر اور نفاق ہم میں سے محو کردے اورہمیں توفیق عطا فرما کہ اپنے آپ کو اس طرح آراستہ کریں کہ صرف اپنے حق پر قناعت کریں نہ دوسروں پر ظلم کریں اور ناہی دوسرے کے حقوق غصب کرنے کو عدالت سمجھیں، ہمیشہ عدالت خواہاں رہیں اور عدالت کا اجراکریں ۔