عَفَا اللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ
May Allah excuse you! Why did you grant them leave [to stay behind] before those who told the truth were evident to you and you had ascertained the liars?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:43
[Pooya/Ali Commentary 9:43] Aqa Mahdi Puya says: Like verse 2 of Fat-h, the companions are addressed here through the Holy Prophet. The manner, mode and trend of expression is the same as in verse 1 of Tahrim or verse 68 of Anfal. The Holy Prophet had the option of giving permission (Nur: 62), and there was no prohibitory order prior to his action. He did not want to expose the hypocrites on his own, unless Allah condemns them as He does here and in other places.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 9:43-59
This entire paragraph has depicted full characteristics of hypocrites. 1. God wanted the actions of hypocrites had been manifested as “Abdullaibn Ubi” in ‘Ohod refused to get out of Medina on the Prophet’s suggestion, and proved his hypocrisy, if he had refused them not to accompany him to Tubuk against Greece being hot summer it would have been better. Thus God says, “Those, despite capability, asked their Prophet to keep themselves away from the crusade, are worldly hypocrites, who do not spend in the name of God except under threat, nor are sincere in praying, but sluggish, nor do they like the faithful doing charity.” Thus God leaves them to be stupefied, when they are insincere in there intentions. Their jog is to fan disaffection and discontent, whereby to upset the Prophet’s plans. They have, by such actions, rendered themselves condemned to hell, their apparent actions being rendered null and void. They are not pleased to see success attending you, and are bragging, if you are subjected to Divine trial, which, in case of the faithful, either leads to worldly prosperity or eternal paradise, and in case of infidels and hypocrites is worldly destruction or eternal condemnation by loss of life or going to hell. The faithful should believe whatever of calamity under trial they are destined, they are bound to face with cheer and patience, where in it is a proof of faith and a certificate of his having passed the Divine test, and excess of property and children with hypocrites, should not be a cause of anxiety for them as it is a forecast for coming disasters when their property will be wasted by their children and they shall meet terrible pangs of death at the hands of the angel of death. In time of severe trials of crusade, if they had accompanied, they would have hidden themselves as did his (Prophet’s) apparent close companions in Uhud who used to be Cabal frequently, whereas Ali was alone fighting against the infidels with Zulfikar, and the Prophet had lost two of his teeth having fallen in a pit, under (Gabriel’s Protection) they are ready to recover booty and feel sad at not receiving it. Suspicion and not certainty rues them. Compare notes on Couplet 13 a).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:43-45
کوشش کرو کہ منافقین کو پہچان لو
مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین کا ایک گروہ پیغمبر کے پاس آیا اور طرح طرح کے عذر وبہانے کرنے لگا، یہاں تک کہ قسم کھا کر انہوں نے اجازت چاہی کہ انہیں میدان تبوک میں شرکت سے معذور سمجھیں اور پیغمبر اکرم نے اس گروہ کو اجازت دے دی ۔ زیر بحث پہلی آیت میں خدا وند عالم اپنے پیغمبر کو تنبیہ کے انداز میں کہتا ہے: خدا نے تمہیں بخش دیا کہ تم نے انہیں جہاد میں شرکت سے رخصت کیوں دی (عَفَا اللهُ عَنْکَ لِمَ اٴَذِنتَ لَھُمْ)، کیوں ایسا نہ ہونے دیا کہ راست گو لوگ جھوٹوں سے ممتاز ہوجائیں اور تم ان کی کیفیت جان لیتے (حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْکَاذِبِینَ) ۔ اس بارے میں کہ مذکورہ تنبیہ جس کے ساتھ عفوالٰہی کا ذکر ہے اس بات کی دلیل ہے کیا یہ کوئی غلط کام تھا یاصرف کوئی ترک اولیٰ تھا یا کچھ نہ تھا اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے بعض نے تو ایسی تیزی دکھائی ہے کہ رسول اللہ کے مقام مقدس تک میں جسارت اور بے ادبی کی ہے اور یہاں تک کہ اس آیت کو آپ سے صدور گناہ کے امکان کی دلیل قرار دیا ہے ان لوگوں نے کم از کم اتنا ادب بھی ملحوظ نہیںرکھا جو خود خدائے عظیم اپنے پیغمبر کے بارے میں کیا ہے کہ پہلے ”عفو “ کی بات کی گئی ہے پھر تنبیہ کی گئی ہے اس طرح سے یہ لوگ عجیب گمراہی میں جاپڑے ہیں ۔ انصاف یہ ہے کہ اس آیت میں پیغمبر اکرم سے گناہ کے صدور کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے یہاں تک ظاہر آیت میں بھی ایسی کوئی دلیل نہیں کیوں کہ تمام قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ رسول اللہ چاہے انہیں اجازت دیتے یا نہ دیتے منافقین کا وہ گروہ جنگ تبوک میں شرکت نہ کرتا اور بالفرض شرکت کرتا بھی تو مسلمانوں کے کسی کام نہ آتا بلکہ ان کی مشکلات میں اضافہ ہی کرتا جیسا کہ بعد آیت میں ہے : لو خرجوا فیکم مازادواکم الّاخبالا اگر وہ تمہارے ساتھ چل پڑتے تو شر ، فساد، چغلخوری، سخن چینی اور نفاق پیدا کرنے کے سوا کچھ بھی نہ کرتے ( توبہ: ۴۷) اس لئے اگر پیغمبر اکرم نے انہیں اجازت دے دی تو مسلمانوں کا کائی مفاد ضائع نہیں ہو، صرف جو بات اس میں موجود تھی وہ یہ تھی جکہ اگر آپ انہیں اجازت نہ دیتے تو ان کی قلعی ذرا پہلے کھل جاتی اور لوگ پہلے ہی ان کی کیفیت سے آشنا ہوجاتے لیکن اس کام سے کوئی ارتکاب گناہ نہیں ہوا، شاید اسے فقط”ترک اولیٰ“ کہا جا سکے اس معنی میں کہ ان حالات میں اور منافقین کے قسم کھانے اور اصرار کرنے کی صورت میں پیغمبر اکرم کی طرف سے انہیں اجازت دینا اگرچہ کوئی برا کام نہ تھا مگر اذن نہ دینا اس سے بہتر تھا تاکہ یہ لوگ جلدی پہچانے جائیں ۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ تنبیہ اور مذکورہ خطاب کنایہ کے طور پر ہو، یہاں تک کہ ادس میں ترک اولیٰ بھی نہیں ہے بلکہ یہاں مراد یہ ہے کہ منافقین میں روح منافقت کو ایک لطیف سرائے میں کنایہ کی صورت میں بیان کیا جائے ۔ اس امر کو اس مثال میں واضح کیا جاسکتا ہے، فرض کیجئے ایک ظالم چاہتا ہے کہ آپ کے بیٹے کے منہ پر طمانچہ رسید کرے، آپ کا ایک دوست اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہت تو آپ کو نہ صرف اس کام پر دکھ نہیں ہوگا بلکہ آپ خوش بھی ہوں گے لیکن آپ ظالم کے باطن کی بدی ثابت کرنے کے لئے آپ غصے کے انداز میں اپنے دوست سے گیں کہ تم نے اسے چھوڑا کیوں نہیں کہ وہ طمانچہ مارتا تاکہ تمام لوگ اس سنگدل کو منافق کو پہچان لیتے، آپ کا مقصد اس بیان سے صرف اس کی سنگدلی اور نفاق کا اثبات ہے جب کہ ظاہرا یہ دفاع کرنے والے دوست کی سرزنش ہے ۔ اور بات جو آیت کی تفسیر میں باقی رہ جاتی ہے یہ ہے کہ کیا رسول اللہ منافقین کو نہیں پہچانتے تھے کہ خدا ئے تعالیٰ کہہ رہا ہے:چاہیئے یہ تھا کہ تم انہیں اجازت نہ دیتے تا کہ ان کی کیفیت تمہارے لئے واضح ہوجاتی ۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ پہلے تو پیغمبر اکرم معمول کے علم کے طریقے سے اس گروہ کی کیفیت سے آشنا نہیں تھے اور علم غیب موضوعات کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ معمول کے مدارک سے ان کی کیفیت واضح ہونا چاہیے ۔ دوسری بات یہ کہ مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ پیغمبر جان لیں بلکہ ہوسکتا ہے کہ مقصد یہ ہو کہ تمام مسلمان آگاہ ہوجائیں اگرچہ روی سخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے ۔ اس کے بعد مومنین اور منافقین کی نشانیوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ جو خدا اور روزآخر ت پر یقین رکھتے ہیں وہ اپنے مالوں اور اپنی جان سے راہ خدا میں کہاد کرنے سے تم سے کبھی رخصت نہیں چاہیں گے( لَایَسْتَاٴْذِنُکَ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ اٴَنْ یُجَاھِدُوا بِاٴَمْوَالِھِمْ وَاٴَنفُسِھِمْ) ۔ بلکہ جب فرمان جہاد صادر ہوگا بغیر لیت ولعل اور سستی کے اس کی طرف بھاگیں گے اور یہی خدا پر ایمان، اس کی طرف سے عائد ذمہ داریوں پر ایمان اور آخرت کی عدالت پر ایمان انہیں اس راہ کی طرف دعوت دیتا ہے ۔ یہ ایمان عذر تراشی اور بہانہ جوئی کی راہ ان کے سامنے بند کردیتا ہے ۔ خدا پرہزگاروں کو اچھی طرح سے پہچانتا ہے اور ان کی نیت اور اعمال سے مکمل طور پر آگاہ ہے( وَاللهُ عَلِیمٌ بِالْمُتَّقِینَ) ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: میدان جہاد میں شرکت نہ کرنے کی اجازت تم سے وہی لوگ طلب کرتے ہیں جو خدا اور روز جزا پر ایمان نہیں رکھتے (إِنَّمَا یَسْتَاٴْذِنُکَ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِر)، ان کے عدم ایمان ہی پر زور دیتے ہوئے مزید کہا گیا ہے: وہ ایسے لوگ ہیں جن کے دل مضطرب اور تردد میں گرفتار ہیں (وَارْتَابَتْ قُلُوبُھُمْ) ۔ لہٰذاوہ اس شک اور تردد کی بنا ء پر کبھی قدم آگے بڑھاتے ہیں اور کبھی پلٹ آتے ہیں اور ہمیشہ تحیر وسرگردانی میں رہتے ہیں اور اسی وجہ سے بہانے تراشنے اور پیغمبر سے اجازت حاصل کرنے کے منتظر رہتے ہیں (فَھُمْ فِی رَیْبِھِمْ یَتَرَدَّدُون) ۔ مندرجہ بالا صفات اگر چہ فعل مضارع کی صورت میں ذکر ہوئیں ہیں لیکن ان کا مقصد منافقین اور مومنین کی صفات وحالات بیان کرنا ہے اور اس میں ماضی ، حال اور مستقبل کا کوئی فرق نہیں ۔ بہرحال مومنین اپنے ایمان کے زیر سایہ عزم صمیم اور غیر متزلزل ارادہ رکھتے ہیں، انہوں نے راستے کو روشنی میں دیکھا ہے، ان کا مقصد واضح اور ہدف متعین ہے ، اسی بنا پر وہ عزم راسخ کے ساتھ بلاتردد سیدھے قدموں سے آگے کی طرف جاتے ہیں اور منافقین کا ہدف چوں کہ تارک اور غیر مشخص ہے وہ ھیرت وسرگردانی میں گرفتار ہیں اور وہ ہمیشہ ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے سے فرار کے لئے بہانے تراشتے رہتے ۔ یہ دونوں نشانیاں صدر اسلام اور میدان تبوک کے مومنین اور منافقین سے مخصوس نہیں ہیں بلکہ آج بھی شچے مومنین کو جھوٹے دعویداروں کی انہیں دو صفات کو دیکھ کر پہچانا جاسکتا ہے، مومن شجاع اور مصمم ارادے والا ہوتا پے اور منافق بزدل، ڈر پوک، متحیر اور بہانہ تراش ہوتا ہے ۔ ۴۶ وَلَوْ اٴَرَادُوا الْخُرُوجَ لَاٴَعَدُّوا لَہُ عُدَّةً وَلَکِنْ کَرِہَ اللهُ انْبِعَاثَھُمْ فَثَبَّطَھُمْ وَقِیلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقَاعِدِینَ ۴۷ لَوْ خَرَجُوا فِیکُمْ مَا زَادُوکُمْ إِلاَّ خَبَالًا وَلَاٴَوْضَعُوا خِلَالَکُمْ یَبْغُونَکُمْ الْفِتْنَةَ وَفِیکُمْ سَمَّاعُونَ لَھُمْ وَاللهُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِینَ ۴۸ لَقَدْ ابْتَغَوْا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوا لَکَ الْاٴُمُورَ حَتَّی جَاءَ الْحَقُّ وَظَھَرَ اٴَمْرُ اللهِ وَھُمْ کَارِھُونَ ترجمہ ۴۶۔ اگر وہ (سچ کہتے تھے اور ) چاہتے تھے (کہ میدان جہاد کی طرف) نکلیں تواس کے لئے وسیلہ فراہم کرتے لیکن خدا ان کے نکل پڑنے کو ناپسند کرتا تھا لہٰذا اپنی توفیق ان سے سلب کرلی اور انہیں (اس کام سے) روک لیا اور ان سے کہا گیا کہ قائدین (جو بچوں، بوڑھوں اور بیماروں پر مشتمل ہیں) کے ساتھ بیٹھیں رہو۔ ۴۷۔ اگر تمہارے ساتھ (میدان جہاد کی طرف) نکل پڑتے تو اس طرح وہ شک و تردد کے سوا تمہارے لئے کسی چیز کا اضافہ نی کرتے اور بہت جلدی تمہارے درمیان فتنہ انگیزی کرتے (اور تفرقہ اورنفاق پیدا کرتے) اور تمہارے درمیان (سست اور کمزور) افراد ہیں جو ان کی بات کو زیادہ قبول کرنے والے ہیں اور خدا ظالموں سے باخبر ہے ۔ ۴۸۔انہوں نے اس سے قبل بھی فتنہ انگیزی کے لئے اقدام کیا ہے اور تمہارے لئے کئی ایک کام دیگر گوں کئے ہیں (اور انہیں خراب کیا ہے) یہاں تک کہ حق آپہنچا اور خدا کا فرمان آشکار ہوا( اور تم کامیاب ہوگئے) جب کہ وہ اسے ناپسند کرتے تھے ۔