وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ عُزَيۡرٌ ٱبۡنُ ٱللَّهِ وَقَالَتِ ٱلنَّصَٰرَى ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ ٱللَّهِۖ ذَٰلِكَ قَوۡلُهُم بِأَفۡوَٰهِهِمۡۖ يُضَٰهِـُٔونَ قَوۡلَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبۡلُۚ قَٰتَلَهُمُ ٱللَّهُۖ أَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ
The Jews say, ‘Ezra is the son of Allah,’ and the Christians say, ‘Christ is the son of Allah.’ That is an opinion that they mouth, imitating the opinions of the faithless of former times. May Allah assail them, where do they stray?!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:30
[Pooya/Ali Commentary 9:30] In these verses the corrupted and distorted beliefs of the Jews and the Christians have been pointed out, because of which they have been grouped with idolaters in the preceding verse. Please refer to the commentary of Ali Imran: 64.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 9:30-37
In this paragraph there is a prognostication of coming of the 12th Light in the future when he will put down all religions, except Islam, and is Resurrection of the Christian faith, actually Jesus will follow the 12th Divine Light and periods thereof will vary. This was the first (schism) novelty in religions – whereby a holy monthly was made legal to fight for them and the other was rendered holy to suit personal choice and complete the number of holy months. Schisms are disliked in Islam and have been the cause of decay. Crusade against the Divine Light was legalized by the so-called Muslims when this month was illegal for fight even by infidels.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
چند قابل توجہ نکات
عربی زبان میں ”عزیر“ انہی کو کہا جاتا ہے جو یہودیوں کی لغت میں ”عزرا“ کہلاتے ہیں، عرب چونکہ جب غیر زبان کا کوئی نام اپناتے ہیں تو عام طور پر اس میں تبدیلی کردیتے ہیں، خصوصاً اظہار محبت کے لئے اسے صیغہٴ تصغیر میں بدل لیتے ہیں، ”عزرا“ کو بھی ”عزیر“ میں تبدیل کیا گیا ہے ہے جیسا کہ ”عیسیٰ“ کے اصل نام کو جو دراصل ”یسوع“ تھا اور ”یحییٰ“ کو جوکہ ”یوحنا“ تھا بدل دیا ۔(۱) بہرحال عزیر یا عزرا یہودیوں کی تاریخ میں ایک خاص حیثیت رکھتے ہیں یہاں تک کہ ان میں سے بعض ملت وقوم کی بنیا اور اس کی جمعیت کی تاریخ کی درخشنگی کی نسبت ان کی طرف دیتے ہیں، درحقیقت حضرت عزیر نے اس دین کی بڑی خدمت کی ہے کیونکہ بخت النصر کے واقعہ میں جو بابل کا بادشاہ تھا یہودیوں کی کیفیت اس کے ہاتھوں درہم برہم ہوگئی، ان کے شہر بخت النصر کی فوج کے ہاتھ آگئے، ان کا عبادت خانہ ویران ہوگیا اور ان کی کتاب تورات جلادی گئی ۔ ان کے مرد قتل کردیئے گئے اور ان کی عورتیں اور بچے قید کرکے بابل کی طرف منتقل کردیئے گئے اور وہ تقریباً ایک سو سال وہیں رہے ۔ پھر جب ایران کے بادشاہ کورش نے بابل فتح کیا تو عزرا جو اس وقت کے یہودیوں کے ایک سردار اور بزرگ تھے اس کے پاس آئے اور اسے ان کے بارے میں سفارش کی، کورس نے ان سے موافقت کی کہ یہودی اپنے شہروں کی طرف پلٹ جائیں اور نئے سرے سے تورات لکھی جائے، اسی بناپر ان کا حد سے زیادہ احترام کرتے ہیں ۔(2) اسی امر کے سبب یہودیوں کے ایک گروہ نے انھیں ”ابن الله“ (الله کا بیٹا) کا لقب دیا، اگرچہ بعض روایات سے مثلاً احتجاج طبرسی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ لقب حضرت عزیر کے احترام کے طور پر استعمال کرتے تھے لیکن اسی روایت میں ہے کہ جب پیغمبر اسلام نے ان سے پوچھا کہ اگر تم نے حضرت عزیر کا ان عظیم خدمات کی وجہ سے کرتے ہو اور اس بناء پر انھیں اس نام سے پکارتے ہو تو پھر یہ لقب حضرت موسیٰ کو کیوں نہیں دیتے جبکہ انھوں نے حضرت عزیر کی نسبت تمھاری بہت زیادہ خدمت کی ہے تو وہ اس کا کوئی جواب نے دے سکے اور نہ ہی اس کا کوئی جواب تھا ۔(3) بہرحال اس نام سے بعض لوگوں کے اذہان میں احترام سے بالاتر صورت ہوگئی اور جیسا کہ عوام کی روش ہے کہ اس سے اپنی فطرت کے مطابق حقیقی مفہوم لیتے تھے اور انھیں واقعاً خدا کا بیٹا خیال کرتے تھے کیونکہ ایک تو حضرت عزیر نے انھیں دربدر کی زندگی سے نجات دی تھی اور دوسرا تورات لکھ کر ان کے دین کو ایک نئی زندگی بخشی تھی، البتہ ان سب کا یہ عقیدہ نہ تھا لیکن قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ خصوصیت سے جو پیغمبر اسلام کے زمانے میں تھا کی یہی طرز فکر تھی یہی وجہ ہے کہ کسی تاریخ میں یہ نہیں ہے کہ انھوں نے زیرِ بحث آیت کو سن کر اس سے انکار کیا ہو یا انھوں نے کوئی آواز بلند کی ہو اگر ایسا نہ ہوتا تو یقیناً وہ کوئی ردِّ عمل ظاہر کرتے ۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے کہ آج یہودیوں میں ایسا عقیدہ موجود نہیں ہے اور کوئی شخص حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا نہیں سمجھتا تو پھر قرآن نے کیوں اس کی نسبت ان کی طرف دی ہے؟ اس کی وضاحت یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ تمام یہودی ایسا عقیدہ رکھتے ہوں البتہ یہ مسلم ہے کہ آیات قرآن نزول کے وقت یہودیوں میں ایسے عقائد رکھنے والے موجود تھے، اس کی دلیل یہ ہے کہ کبھی کسی نے مذکورہ نسبت کا انکار نہیں کیا صرف روایات کے مطابق اس کی توجیہ کی جاتی تھی اور حضرت عزیر کو ابن الله کہنے کو ایک طرح کا احترام قرار دیتے تھے ۔ اس لئے کہ جب پیغمبر اسلام نے یہ اعتراض کیا کہ کیا پھر ایسا ہی احترام حضرت موسیٰ کے بارے میں کیوں نہیں کرتے تو وہ جواب سے عاجز ہوجاتے تھے ۔ بہرکیف جب کسی عقیدے کی نسبت کسی قوک کی طرف دی جائے توضروری نہیں کہ اس کے تمام افراد اس سے متفق ہوں بلکہ اگر ایک قابلِ توجہ تعداد ایسا عقیدہ رکھتی ہو تو کافی ہے ۔ ۱۔ جیساکہ عربی مباحث میں آیا ہے کہ تصغیر سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کو چھوٹی نوع کو بیان کرنے کے لئے اس کے اصل صیغہ سے ایک خاص صیغہ بنایا جاتا ے مثلاً ”رجل“ (مرد) کی تصغیر ”رجیل“ (چھوٹا مرد) ہے البتہ بعض اوقات اس کا لفظ استعمال چھوٹے ہونے کے لحاظ سے نہیں ہوتا بلکہ اس شخص یا چیز سے اظہار محبت کے لئے ہوتا ہے جیساکہ انسان اپنے بیٹے سے اظہار محبت کرتا ہے ۔ 2۔ المیزان، ج۹، ص۲۵۳ اور المنار، ج۱۰، ص۳۲۲. 3۔ نور الثقلین، ج۲، ص۲۰۵
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
اہل کتاب کی بت پرستی
گذشتہ آیات میں مشرکین کے سلسلے میں بحث تھی ۔ یہ بتایا گیا تھا کہ ان کا معاہدہ منسوخ ہوچکا ہے اور کہا گیا تھا کہ ضروری ہے کہ مذہبِ بت پرستی کی بساط الٹ دی جائے ۔ پھر اہلِ کتاب کی کیفیت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ وہ چند شرائط کے ماتحت مسلمانوں کے ساتھ مصالحت آمیز زندگی بسر کرسکتے ہیں اور اگر یہ صورت نہ ہو تو پھر ان کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا تھا ۔ زیرِ بحث آیات میں اہلِ کتاب خصوصاً یہود ونصاریٰ کی مشرکین اور بت پرستوں سے جو مشابہت پائی جاتی ہے اسے بیان کیا گیا ہے تاکہ واضح ہوجائے کہ اگر اہلِ کتاب کے بارے میں بھی کسی حد تک سخت گیری عمل میں لائی گئی ہے تو وہ بھی توحید سے ان کے انحراف، ایک طرح سے ”عقیدہ میں شرک“ اور ایک لحاظ سے ”عبادت میں شرک“ کی وجہ سے ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہودیوں نے کہا ہے عزیر خدا کا بیٹا ہے (وَقَالَتْ الْیَھُودُ عُزَیْرٌ ابْنُ اللهِ) اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح خدا بیٹا ہے (وَقَالَتْ النَّصَاریٰ الْمَسِیحُ ابْنُ اللهِ) ۔ یہ ایسی بات ہے جو وہ صرف زبان سے کہتے ہیں جبکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں (ذٰلِکَ قَوْلُھُمْ بِاٴَفْوَاہِھِمْ) ۔ ان کی گفتگو گذشتہ مشرکین کی گفتار سے مشاہت رکھتی ہے (یُضَاہِئُونَ قَوْلَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَبْلُ) ۔ خدا انھیں قتل کرے، اپنی لعنت میں گرفتار کرے اور اپنی رحمت سے دور کرے، وہ کس طرح کا جھوٹ بولتے ہیں اور حقائق میں تحریف کرتے ہیں (قَاتَلَھُمْ اللهُ اٴَنَّی یُؤْفَکُونَ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
۳۔ ”یاٴبیٰ“ کا مفہوم:
”یاٴبیٰ“ مادہٴ ”اباء “ سے ہے اس کا مطلب ہے سختی سے کسی چیز سے روکنا اور منع کرنا، یہ تعبیر دینِ اسلام کی تکمیل اور پیش رفت کے لئے پروردگار کے حتمی ارادے اور مشیت کا ثبوت دیتی ہے اور اس دین کے مستقبل کے بارے میں تمام مسلمانوں کو ایک ولولہ اور امید دلاتی ہے، اگر مسلمان واقعی اور حقیقی مسلمان ہوں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
۲۔ نور خدا کو بجھانے کی مساعی کا دو مرتبہ ذکر:
نورِ خدا کو بجھانے کی کوششوں کا ذکر قرآن میں دو مواقع پر آیا ہے ۔ ایک زیرِ بحث آیت میں اور دوسرا سورہٴ صف کی آیہ۱۸ میں، دونوں مقامات پر یہ بات دشمنانِ اسلام کی مساعی پر تنقید کے طور پر ہے لیکن ان دونوں آیات میں تھوڑا سا فرق نظر آتا ہے، زیر بحث آیت میں ہے: ”یریدون اٴن یطفئوا“ جبکہ سورہٴ صف میں ہے: ”یریدون لیطفئوا“ تعبیر کا یہ فرق یقیناً کسی نکتے کی طرف اشارہ ہے، مفردات میں راغب ان دونوں تعبیرات کے فرق کی وضاحت کے سلسلے میں کہتا ہے کہ پہلی آیت میں بغیر مقدمہ ووسیلہ کے بجھانے کی طرف اشارہ ہے لیکن دوسری آیت میں مقدمات واسباب کے ذریعے بجھانے کی طرف اشارہ ہے، یعنی وہ اسباب کے بغیر یا پورے وسائل کے ساتھ نورِ حق کو بجھانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
۱۔ نور سے تشبیہ:
اس آیت میں دینِ خدا، قرآن اور تعلیمات اسلامی کو نور اور روشنی سے تشبیہ دی گئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ نور زندگی، حرکت، نشو ونما اور روئے زمین پر آبادیکا سرچشمہ اور ہر قسم کے حُسن وزیبائی کا منشاء ہے ۔ اسلام بھی تحرک آفرین دین ہے اور انسانی معاشرے کوو تکامل و ارتقا کی راہ میں آگے لے جاتا ہے اور ہر خیر ووبرکت کا منبع ہے، دشمنوں کی کاوشوں کو بھی پھونکوں سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ بات کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ انسان نورِ آفتاب کی طرح روشنی کو پھونکوں سے بجھانے کی کوشش کرے اور ان کی کوششوں کے حقیر اور ناچیز ہونے کی تصویر کشی کے لئے اس سے عمدہ اور رساتر تعبیر نظر نہیں آتی، درحقیقت حضرتِ حق کے لئے بے پایاں ارادے اور لامتناہی قدرت کے مقابلے میں عاجز وناتواں مخلوق کی کوششیں اس سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
ایک اصلاحی درس
قران مجید مندرجہ بالا آیت میں اپنے پیروکاروں کو ایک بہت ہی قیمتی درس دیتا ہے اور توحید کا ایک اعلیٰ ترین مفہوم اس سلسلے میں دلنشین کرواتا ہے اور کہتا ہے کہ کوئی مسلمان یہ حق نہیں رکھتا کہ کسی انسان کی بلاشرط اطاعت قبول کرلے کیونکہ یہ کام اس کی پرستش کے مساوی ہے، تمام اطاعتیں اطاعتِ الٰہی میں محدود ہونا چاہئیں اور حکم انسانی کی پیروی اس وقت تک ہی جائز ہے جب تک قوانینِ خداوندی کے مخالفت نہ ہو چاہے حکم دینے والا انسان کیسا ہی کیوں نہ ہو اور کتنا ہی بلند مقام کیوں نہ رکھتا ہو۔ ایسا اس لئے ہے کہ بلاشرط اطاعت عبادت کے مساوی ہے اور بت پرستی اور عبودیت کی ایک شکل ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے مسلمان اس اہم اسلامی حکم سے دور ہونے اور انسانی بت بنالینے کی وجہ سے تفرقہ بازی، پراگندگی، استعمار اور استثمار کا شکار ہوگئے ہیں، جب تک یہ بت نہیں توڑے جائیں گے اور انھیں دور نہ کیا جائے گا اس وقت تک بے سروسامانیاں اور پریشانیاں برطرف نہیں ہوسکتیں ۔ اصولی طور پر ایسی بت پرستی زمانہ جاہلیت کی بت پرستی کہ جس میں پتھر اور لکڑی کے سامنے سجدہ کیا جاتا تھا سے زیادہ خطرناک ہے ۔ کیونکہ وہ بے روح بت اپنے پجاریوں کا کبھی استعمال نہیں کرتے تھے، لیکن انسان جب بتوں کی جگہ لیتے ہیں تو وہ اپنی خود غرضی کی بناء پر اپنے پیروکاروں کو اپنی قید کی زنجیروں میں جکڑ لیتے ہیں اور انھیں ہر طرح کی پستی اور بدبختی میں مبتلا کرتے ہیں ۔ زیرِ بحث آیات میں سے تیسری میں قرآن نے یہودیوں اور عیسائیوں یا تمام مخالفینِ اسلام یہاں تک کہ مشرکین کی بھی جان توڑ اور بے نتیجہ کوششوں کو ایک جاذب نظر تشبیہ کے پیرائے میں بیان کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ چاہتے ہیں کہ اپنی پھونکوں سے نورِ خدا کو خاموش کردیں لیکن خدا کا ارادہ ہے کہ اس نورِ الٰہی کو اس طرح وسیع اور کامل کردے یہاں تک کہ وہ تمام دنیا پر چھاجائے اور تمام لوگ اس کے سائے سے مستفید ہوں اگرچہ کافروں کو یہ ناپسند ہے (یُرِیدُونَ اٴَنْ یُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِاٴَفْوَاہِھِمْ وَیَاٴْبَی اللهُ إِلاَّ اٴَنْ یُتِمَّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
۴۔ ”قاتلھم الله“ کا مفہوم
”قاتلھم الله“ گرچہ اصل میں اس معنی میں ہے کہ خدا ان سے جنگ کرے یا خدا انھیں قتل کردے لیکن جیسا کہ طبرسی نے ”مجمع البیان“ میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ جملہ لعنت سے کنایہ ہے یعنی خدا انھیں اپنی رحمت سے دُور رکھے ۔ اگلی آیت میں (اعتقادی شرک کے مقابلے میں) ان کے عملی شرک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، دوسروں لفظوں میں ”شرک درعبادت“ کی نشاندہی کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: یہود ونصاریٰ نے پروردگار کے مقابلے میں اپن علماء اور راہبوں کو اپنا خدا قرار دیا (اتَّخَذُوا اٴَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اٴَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ) ۔ نیزمسیح ابن مریم کو بھی مرتبہٴ الوہیت پر فائز مانا (وَالْمَسِیحَ ابْنَ مَرْیَمَ) ۔ ”اٴحبار“ ”حبر“ کی جمع ہیں اور ”رھبان“”راھب“ کی جمع ہے ”حبر“ عالم ودانشمند کو کہتے ہیں اور راہب ایسے شخص کو کہتے ہیں جس نے ترکِ دنیا کے طور پر دیر گرجے میں سکونت اختیار کررکھی ہو اور مشغول عبادت رہتا ہو۔ کیا یہود ونصاریٰ اپنے پیشواوٴں کی عبادت کرتے تھے اس میں شک نہیں ہے کہ یہود ونصاریٰ اپنے علماء اور راہبوں کو سجدہ نہیں کرتے تھے اور نہ ان کے لئے نماز، روزہ یا دیگر عبادات انجام دیتے تھے لیکن چونکہ انھوں نے غیرمشروط طور پر اپنے آپ کو ان کی اطاعت میں دے رکھا تھا یہاں تک کہ حکمِ خدا کے خلاف بھی جو احکام وہ دیتے تھے انھیں واجب العمل سمجھتے تھے ۔ اس اندھی اور غیر منطقی پیروی کو خدا نے عبادت سے تعبیر کیا ہے ۔ امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں یہ معنی بیان کیا گیا ہے ۔ انھوں نے فرمایا: اٴما والله ماصا موالھم ولاصلوا ولٰکنھم احلوا لھم حراما وحرموا علیھم حلالاً فاتبعوھم وعبدوھم من حیث لایشعرون. خدا کی قسم! وہ (یہود ونصاریٰ) اپنے پیشواوٴں کے لئے روزہ نماز نہیں بجالاتے لیکن ان کے پیشواوٴں نے ان کے لئے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کیا اور انھوں نے اسے قبول کرلیا، ان کی پیروی کی اور توجہ کئے بغیر ان کی پرستش کی ۔(1) ایک اور حدیث میں ہے: عدی بن حاتم کہتا ہے: میں رسول الله کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ صلیب میری گردن میں تھی ۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: اے عدی! یہ بت اپنی گردن سے اتاردو۔ میں نے ایسا ہی کیا، پھر میں آپ کے مزید قریب گیا تو میں نے سُنا کہ آپ یہ آیت تلاوت کررہے تھے: اتَّخَذُوا اٴَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ.... جب آپ نے آیت تمام کی تو میں نے عرض کیا: ہم کبھی اپنے پیشواوٴں کی پرستش نہیں کرتے، آپ نے فرمایا: کیا ایسا نہیں ہے کہ وہ حلالِ خدا کو حرام اور حرامِ خدا کو حلال کرتے ہیں اور تم ان کی پیروی کرتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں ایسا ہی ہے، اس پر آپ نے فرمایا: یہی ان کی عبادت ہے ۔(2) اس امر کی دلیل واضح ہے کہ کیونکہ قانون بنانا خدا کا کام ہے اور اس کے علاوہ کوئی حق نہیں رکھتا کہ کوئی چیز لوگوں کے لئے حلال یا حرام کرے اور اسے قانون قرار دے، جو کام لوگ کرسکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ وہ قوانین کو کشف کریں اور جہاں ضرورت ہو مصادیق پر ان کی تطبیق کریں ۔ اس لئے اگر کوئی شخص قوانین الٰہی کے خلاف قانون بنائے اور کوئی اسے باقاعدہ مان لے اور بلا چون وچرا اسے قبول کرلے تو گویا وہ غیر خدا کے لئے خدا کے مقام کا قائل ہوا ہے اور یہ ایک طرح کا عملی شرک اوربت پرستی ہے اور دوسرے لفظوں میں غیر خدا کی عبادت ہے ۔ قرائن سے نتیجہ نکلتا ہے کہ یہود ونصاریٰ اپنے پیشواوٴں کے لئے اس قسم کے اختیارات کے قائل تھے کہ وہ بعض اوقات قوانینِ الٰہی میں جہاں مصلحت دیکھیں تبدیلی کردیں اور اب بھی گناہ بخشنے کا طریقہ عیسائیوں میں رائج ہے ۔ وہ پادری کے سامنے گناہ کا اعتراف کرلیں تو وہ کہتا ہے: میں نے بخش دیا ۔(3) دوسرا نکتہ یہ ہے کہ عیسائی کی طرف سے حضرت عیسی(ع) کی پرستش اور یہودیوں کی طرف سے اپنے پیشواوٴں کی پرستش کی نوعیت میں فرق ہے، عیسائی حقیقتاً حضرت مسیح(ع) کو خدا کا بیٹا سمجھتے تھے جبکہ یہودی اپنے پیشواوٴں کی غیرمشروط اطاعت کی وجہ سے ان کی عبادت کرتے تھے ۔ لہٰذا مندرجہ بالا آیت نے بھی اس فرق کو ملحوظ رکھا ہے اور ان کا حساب ایک دوسرے سے الگ رکھا ہے ۔ آیت کہتی ہے: اتَّخَذُوا اٴَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اٴَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ پھر حضرت مسیح(ع) کا ذکر جدا کیا گیا ہے: وَالْمَسِیحَ ابْنَ مَرْیَمَ یہ صورت نشاندہی کرتی ہے کہ قرآنی تعبیرات میں ہر طرح کی باریکیوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ آخر میں اس معاملے کی تاکید کی گئی ہے کہ یہ سب انسان پرستیاں بدعت اور جعلی مسائل میں سے ہیں اور کبھی بھی ان کا حکم نہیں دیا گیا کہ اپنے لئے ایک خدا بنالو بلکہ انھیں حکم دیا گیا ہے کہ صرف ایک تنہا خدا کی پرستش کرو (وَمَا اٴُمِرُوا إِلاَّ لِیَعْبُدُوا إِلَھًا وَاحِدًا) ۔ وہ معبود کہ جس کے علاوہ کوئی بھی پرستش کے لائق نہیں (لَاإِلَہَ إِلاَّ ھُوَ) ۔ وہ معبود جو منزہ ہے اس سے جسے اس کا شریک قرار دیتے ہیں (سُبْحَانَہُ عَمَّا یُشْرِکُونَ) ۔ 1۔ مجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں اور نور الثقلین، ج۲، ص۲۰۹. 2۔ مجمع البیان مذکورہ آیت کے ذیل میں. 3۔ تفسیر نمونہ جلد دوم میں اہلِ کتاب کی انسان پرستی کے بار ے میں ہم نے کچھ وضاحتیں کی ہیں (دیکھئے: صفحہ۳۸۹، اردو ترجمہ).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
۳۔ یہ خرافات دوسروں سے اخذ کئے گئے
مندرجہ بالا آیت میں قرآن مجید کہتا ہے کہ وہ ان کجرویوں میں گذشتہ بت پرستوں کی طرح ہیں اور ان سے شاہت رکھتے ہیں ۔ وہ بعض خداوٴں کو باپ اور بعض کو خدا کا بیٹا یہاں تک کہ بعض کو ماں خدا اور بیوی خدا جانتے تھے، ہندوستان، چین اور قدیم مصر کے بت پرستوں کے اصولِ عقائد میں ایسے ہی افکار دکھائی دیتے ہیں، یہی افکار بعد ازاں یہودیوں اور عیسائیوں میں داخل ہوگئے تو گویا انھوں نے ان میں بت پرستوں ہی کی تقلید کی ہے ۔ دورِ حاضر میں بعض محققین اس فکر میں ہیں کہ عہدین (تورات، انجیل اور ان سے متعلق کتب) کے مندرجہات کا بدھ مذہب اور برہمنوں سے موازنہ کیا جائے اور ان کتب کے مضامین کی جڑیں اُن کے عقائد میں تلاش کی جائیں اور یہ بات دیکھی جاسکتی ہے کہ انجیل اور تورات کے بہت سے معارف بدھ مذہب اور برہمنوں کے خرافات پر منطبق ہوتے ہیں یہاں تک کہ بہت سے واقعات وحکایات جو انجیل میں ہیں بعینہ وہی ہیں کہ جو ان دو مذہب میں نظر آتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
۱۔ عزیر کون ہیں؟
عیسائیوں کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ وہ حضرت عیسی(ع) کو خدا کا حقیقی بیٹا سمجھتے تھے اور اس کا نام صرف احترام کے طور پر نہیں بلکہ حقیقی معنی میں ان پر اطلاق کرتے ہیں اور صراحت سے اپنی کتابوں میں کہتے ہیں کہ مسیح کے علاوہ اس کا حقیقی معنی کسی اور پر اطلاق جائز نہیں اور جیسا کہ ہم (جلد دوم صفحہ۱۷۶تا۱۸۴ اردو ترجمہ میں) کہہ چکے ہیں کہ حضرت مسیح(ع) نے کبھی اس قسم کا دعویٰ نہیں کیا ، وہ تو اپنا تعارف صرف خدا کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہونے کی حیثیت سے کرواتے تھے اور اصولاً اس کی کوئی وجہ نہیں کہ باپ بیٹے کا رابطہ جو کہ عالم مادہ اور عالم ممکنات کے ساتھ مربوط ہے وہ خدا اور کسی شخص کے درمیان موجود ہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
۲۔ مسیح(ع) خدا کے بیٹے نہ تھے
عیسائیوں کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ وہ حضرت عیسی(ع) کو خدا کا حقیقی بیٹا سمجھتے تھے اور اس کا نام صرف احترام کے طور پر نہیں بلکہ حقیقی معنی میں ان پر اطلاق کرتے ہیں اور صراحت سے اپنی کتابوں میں کہتے ہیں کہ مسیح کے علاوہ اس کا حقیقی معنی کسی اور پر اطلاق جائز نہیں اور جیسا کہ ہم (جلد دوم صفحہ۱۷۶تا۱۸۴ اردو ترجمہ میں) کہہ چکے ہیں کہ حضرت مسیح(ع) نے کبھی اس قسم کا دعویٰ نہیں کیا ، وہ تو اپنا تعارف صرف خدا کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہونے کی حیثیت سے کرواتے تھے اور اصولاً اس کی کوئی وجہ نہیں کہ باپ بیٹے کا رابطہ جو کہ عالم مادہ اور عالم ممکنات کے ساتھ مربوط ہے وہ خدا اور کسی شخص کے درمیان موجود ہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
تیسرا فلسفہ: خراب ماحول کا مقابلہ
حضرت مہدی(ع) کے انتظار کا ایک اور اثر ماحول کے مفاسد میںگھل مل جانا اور برائیوں کے سامنے ہتھیا نہ ڈالنا ہے ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب کوئی برائی عام ہو جاتی ہے اور سب کو گھیر لیتی ہے ،اکثریت یا جماعت کا ایک بڑا حصہ اس کی طرف چلا جاتا ہے تو بعض اوقات نیک لوگ ایک سخت قسم کی نفسیاتی تنگی میں پھنس جاتے ہیں اس گھٹن میں وہ اصلاح سے مایوس ہو جاتے ہیں،بعض اوقات وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اب پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے اور اب اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہی، اب اپنے آپ کو پاک رکھنے کی کوشش اور جدوجہد فضول ہے ،ممکن ہے ایسی ناامیدی اور مایوسی آہستہ آہستہ انہیں برائی اور ماحول کی ہمرنگی کی طرف کھیچ لے جائے اور وہ اپنے آپ کو ایک صالح اقلیت کے طور پر فاسد اکثریت کے مقابلے میں محفوظ نہ رکھ سکیں اور دوسروں کے رنگ میں نہ رنگے جانے کو رسوائی کا سبب سمجھیں ۔ تنہا جو چیزان میں امید کی روح پھوک سکتی ہے ،انہیں مقابلے اور کھڑے رہنے کی دعوت دے سکتی ہے اور انہیں فاسد ماخول میں گھل مل جانے سے روک سکتی ہے،۔وہ ہے مکمل اصلاح کی امید ۔صرف یہی صورت ہے کہ جس میں وہ اپنی پاکیزگی کی حفاظت کرسکتے ہیں اور دوسروں کی اصلاح کی جد وجہد جاری رکھ سکتے ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی قوانین میں بخشش سے مایوسی کو بہے بڑا گناہ شمار کیا گیا ہے ۔ہوسکتا ہے کہ با سمجھ اور بے خبر افرادتعجب کریں کہ رحمت خدا سے مایوسی کو اس قدر اہمیت کیوں دی گئی ہے، یہاں تک کہ بہت سے گناہوں سے اسے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے ۔ تو اس کا فلسفہ در حقیقت یہی ہے کہ رحمت خدا سے مایوس گنہگار کو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ وہ تلافی کی فکر کرے یا کم از کم گناہ کو جاری رکھنے سے دستبردار ہوجائے اور اس کی منطق یہ ہے کہ اب جب پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے تو چاہے ایک قد کے برابر ہو چاہے سو قد کے برابر ہو ۔وہ سوچتا ہے کہ میں دنیا میں رسوا ہوچکا ہوں، اب دنیا کا غم فضول ہے ۔ سیاہی سے بڑھ کر کوئی رنگ نہیں ، آخر جہنم ہے، میں تو ابھی سے اسے اپنے لئے خرید چکا ہوں، اب دوسری کسی چیز سے کیاڈروں، اسی طرح کی دیگر باتیں اسے گناہ کے راستے پر باقی رکھتی ہیں ۔ مگر۔ جب اس کے لئے امید کا دریچہ کھلا ہو، عفو الٰہی کی امید ہو اور موجود کیفیت کے بدل جانے کی توقع ہو، تو اس کی زندگی میںایک طرح کا میدان پیدا ہوگا جو اسے راہ گناہ سے لوٹ آنے اور پاکیزگی و اصلاح کی طرف واپسی کی دعوت دے گا، یہی وجہ ہے کہ فاسد افراد کی اصلاح کے لئے امید کو ہمیشہ ایک موثر تربیتی عامل سمجھا گیا ہے، اسی طرح وہ نیک افراد جو خراب ماحول میں گفتار ہیں، امید کے بغیر اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھ سکتے ۔ خلاصہ یہ کہ دنیا جس قدر فاسد اور خراب ہوگی مصلح کے ظہور کے انتظار میں امید بڑھے گی جومعتقدین پر زایدہ روحانی اثر ڈالے گی، برائی اور خرابی کے طاقتور موجوں کے مقابلے میں یہ امید ان کی حفاظت کرے گی اور وہ نہ صرف ماحول کے دامن فساد کی وسعت سے مایوس نہیں ہوں گے بلکہ وعدہ وصل چوں شد نزدیکآتش عشق تیز تر گردد یعنی ۔ وعدہ وصل کا لمحہ جوں جوں نزدیک آیا، آتش عشق تیز تر ہوگئی ۔ اس کے مطابق مقصد انہیں قریب تر نظر آئے گا اور بربرائی جنگ کرنے میں ان کی کوشش یا اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد میں اضافہ ہوگا اور مزید شوق و ولولہ پیدا ہوگا ۔ گذشتہ مباحث سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انتظار جمود کا باعث صرف اس صورت میں بنتا ہے جب اس کے مفہوم کو مسخ کردیا جائے یا اس میں تحریف کردی جائے جیسا کہ مخالفین کے ایک گروہ نے اس میں تحریف کردی ہے اور موافقین کے ایک گروہ نے اسے مسخ کردیا ہے لیکن اگر اس کے حقیقی مفہوم میں افراد اور معاشرہ اس پر عمل کرے تو انتظار تربیت، خود سازی، تحرک اور امید کا ایک اہم عامل اور داعی ثابت ہوگا ۔ قیام مہدی(ع) کے بارے میں واضح مدارک میں سے ایک یہ آیت ہے: وعد اللّٰہ الذین اٰمنوا منکم وعملوا الصالحٰت لیستخلفنھم فی الارض۔ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں سے خدا نے وعدہ کیا ہے کہ روئے زمین کی حکومت ان کے قبضے میںدے ۔ اس آیت کے ذیل میں اسلام کے ہادیوں سے منقول ہے کہ: ھو القائم واصحابہ۔ ( یعنی یہ جن سے خدا نے وعدہ کیا ہے )وہ قائم(حضرت مہدی(ع)) اور آپ کے اصحاب ہیں ۔(1) ایک اور حدیث میں ہے: نزلت فی المھدی(ع)۔ یعنی ۔ یہ آیت حضرت مہدی(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔ اس آیت میں حضرت مہدی (ع) اور ان کے یاروانصار کا تعرف اس عنوان سے کروایا گیا ہے: الذین آمنوا منکم وعملوا الصٰلحٰت. یعنی ۔ وہ جو تم میں سے ایمان لے آئے اور انھوں نے نیک عمل کئے ۔ لہٰذا اس عالم انقلاب کا قائم ہونا اور عالم وجود میں آنا ایک مستحکم ایمان کے بغیر جو ہر قسم کے ضعف ، کمزوری اور ناتوانی کو دور کردے کے بغیر ممکن نہیں، نیز نیک اعمال جو اصلاح عالم کا راستہ کھول دیں، کے بغیر بھی ممکن نہیں، اور وہ لوگ جو اسے پروگرام کے انتظار میں ہیں انہیں اپنی آگاہی، علم اور ایمان کی سطح بھی بلند کرنا ہوگی اور اپنے اعمال کی اصلاح کی کوشش بھی کرنا ہوگی، صرف وہی لوگ ایسی حکومت میں ہم قدم اور ہمکام ہونے کی خوشخبری کے مستحق ہیں ناکہ وہ لوگ جو ظلم وستم کا ساتھ دیں اور نہ ہی وہ جو ایمان اور عمل صالح سے بیگانہ ہوں اور نہ ڈرپوک اور بزدل لوگ جو ایمان کی کمزوری کی وجہ سے ہر چیز سے یہاں تک کہ اپنے سائے سے بھی سکوت اختیار کئے ہوئے ہیں اور ان سے مقابلے کی کچھ بھی کوشش نہیں کرتے ۔ یہ ہے قیام مہدی (ع) کے انتظار کا معاشرے میں تعمیری اور اصلاحی اثر۔ ۳۴ یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّ کَثِیرًا مِنَ الْاٴَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ لَیَاٴْکُلُونَ اٴَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ وَالَّذِینَ یَکْنِزُونَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَایُنفِقُونَھَا فِی سَبِیلِ اللهِ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اٴَلِیمٍ۔ ۳۵ یَوْمَ یُحْمَی عَلَیْھَا فِی نَارِ جَھَنَّمَ فَتُکْوَی بِھَا جِبَاہُھُمْ وَجُنُوبُھُمْ وَظُھُورُھُمْ ھٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاٴَنفُسِکُمْ فَذُوقُوا مَا کُنتُمْ تَکْنِزُونَ۔ ترجمہ ۳۴۔اے ایمان والوں!(اہل کتاب کے) بہت سے علماء اور راہب لوگوں کا مال باطل طور پر رکھتے ہیں اور (انہیں) خدا کی راہ سے روکتے ہیں اور وہ جو سونا چاندی کا خزانہ جمع کرکے (اور چھپا کر) رکھتے ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب ناک کی بشارت دے دو۔ ۳۵۔اس روز کہ جب انہیں آتش جہنم میں گرم کیا جائے گا اور جلایا جائے گا پس ان کے چہروں، پہلووں اور پشتوں کو داغا جائے گا (اور انہیں کہا جائے گا کہ) یہ وہی چیز ہے کہ جسے تم نے اپنے لئے جمع کیا تھاپس چکھواس چیز کو جسے اپنے لئے تم نے ذخیرہ کیا تھا ۔ 1۔بحارالانوارطبع قدیم،ج۱۳،ص۱۴۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
دوسرا فلسفہ :اجتماعی کاوشیں
سچے انتظارکرنے والوں کی ساتھ ساتھ یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ فقط اپنی اصلاح نہ کریںبلکہ ایک دوسرے کے حالات پر بھی نظر رکھیں اور اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کی بھی کوشش کریں کیوں نکہ جس عظیم اور بھاری پروگرام کی تکمیل کے وہ منتظر ہیں انفرادی نہیں بلکہ ایساپروگرام ہے جس میں تمام عناصرانقلاب کو شرکت کرنا ہوگی لہٰذا کام گروہی اور اجتماعی صورت میں ہونا چاہیے مساعی اور کاوشیں ہم آہنگ ہونا چاہئیں،اس ہم آہنگی کی گہرای اور وسعت اس عالمی انقلاب کے پروگرام کی عظمت کے مطابق ہونا چاہیے کہ جس کا وہ انتظار کر رہے ہیں ۔ ایک اجتماعی اور وسیع جنگ کے میدان میں کوئی شخص دوسروں کے حال سے غافل نہیں رہ سکتا بلکہ اس کی ذمہ داری ہے،کہ کمزوری کا کوئی نقطہ اسے جہاں نظر آئے اس کی اصلاح کرے اور جو بھی نقصان زدہ جگہ ہو اس کی مرمت کرے اور کمزور حصے کو تقویت پہنچائے کیوں کہ میدان جنگ میں موجود تمام مجاہدین کی فعال اور ہم آہنگ شرکت کے بغیر ایسے پروگرام کو عملی شکل دینا ممکن نہیں ہے ۔ لہٰذاحقیقی انتظار کرنے والے نہ صرف اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی بھی اصلاح کریں ۔ یہ ہے ایک عالمی مصلح کے قیام کے انتظار کا ایک اور تعمیری اور تربیتی اثر اور یہ ہے فلسفہ ان تمام فضیلتوں کا جو ایک سچے انتظار کرنے والے کے لیے شمار کی گئی ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
انتظار کا مفہوم
لفظ”انتظار“ ایسے شخص کی کیفیت پر بولا جاتا ہے جو موجودہ حالت سے پریشان ہو اور اس سے بہتر کیفیت کے ایجاد کرنے میں لگا ہو ، مثلا وہ بیمار جو صحت کے انتظار میں یا وہ باپ جو سفر پر گئے ہوئے بیٹے کے انتظار میں، بیمار بیماری پر پریشان اور دکھی ہوتا ہے اور باپ بیٹے کے فراق میں پریشان ہوتا ہے ، دونوں بہتر حالت کی کوشش میں ہوتے ہیں، اسی طرح وہ تاجر جو کاروبار کی بدحالی پر پریشان ہو اور اقتصادی بحران کے خاتمے کے انتظار میں ہو، ایسے تاجر کی دو ھالتیں ہوتی ہیں ایک موجودہ حالت پر پریشانی اور ناپسندیدگی اور دوسرا بہتر حالت کے لئے کوشش ۔ اس بنا پر حضرت مہدی(ع) کی عادلانہ حکومت اور عالمی مصلح کے قیام کا انتظار بھی دو عناصر کا مرکب ہے، ۱۔ ”نفی“ کا عنصر اور دوسرا”اثبات“ کا عنصر، منفی عنصر جوجودہ حالت کی نا پسندیدگی ہے اورمثبت عنصر بہتر اور اچھی حالت کی آرزو ہے ۔ اب اگر یہ دونوں پہلو روح انسانی میں اتر جائیں تو دو قسم کے وسیع اعمال کا سرچشمہ بن جائیں گے، ان دو قسم کے اعمال میں ایک طرف تو ظلم و فساد کے عوامل سے ہر طرح کا تعلق ترک کرنا ہے یہاں تک کہ ان سے مقابلہ اور جنگ کرنا ہے اور دوسری طرف خود سازی، اپنی مدد آپ اور عوام کی واحد عالمی حکومت کی تشکیل کے لئے جسمانی اور روحانی طور پر تیاری کرنا ہے، اور اگر ہم اچھی طرح غور کریں تو دیکھیں گے کہ اس کے دونوں حصے اصلاح کن ، تربیت کنندہ اور تحرک، آگاہی اور بیداری کے عوامل ہیں ۔ ”انتظار“ کے حقیقی اور اصلی مفہوم کی طرف توجہ کریں تو مندرجہ بالا متعددروایات میں جو انتظار کی جزا اور نتیجہ بتایا گیا ہے وہ اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے اور سمجھ آتا ہے کہ کس طرح حقیقی انتظار کرنے والے کبھی ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جو مہدی (ع) کے کیمپ میں یا ان کے پرچم کے نیچے یا اس شخص کی طرح قرار پاتے ہیں جو راہ خدامیں تلوار چلائے یا جو اپنے خون میں غلطاں ہو اور یا جو شہید ہوجائے، کیا یہ حق و عدالت کی راہ کے مختلف مراحل اور مجاہدہ کے مخلتف درجات کی طرف اشارہ نہیں ہے کہ جو مختلف لوگوں کو ان کی تیاری اور انتظار کے درجے کی مناسبت سے حاصل ہوتے ہیں، یعنی جس طرح راہ خدا کے مجاہدین کی فداکاری اور اس کے نتیجہ و اثر کے مختلف درجے ہوتے ہیں اسی طرح انتظار کے خودسازی اور آمادگی کے بھی بالکل مختلف درجے ہوتے ہیں”مقدمات“ اور نتائج کے لحاظ سے ان کی ایک دوسرے سے مشابہت ہوتی ہے دونوں جہاد ہیں، دونوں کے لئے تیاری اور خود سازی کی ضرورت ہے، جو شخص ایسی حکومت کے قائد کے کیمپ میں ہوں یعنی ایک عالمی حکومت کے فوجی مرکز میں ہو وہ ایک غافل اور جاہل شخص نہیں ہوسکتا اور نہ وہ لاابالی پن کا مظاہرہ کرسکتا ہے، ایسے مرکز میں ہرکوئی نہیں آسکتا، یہ جگہ تو ان افراد کے لئے ہے جو حقیقتاً اس حیثیت، مقام اور اہمیت کی لیاقت اور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اسی طرح جس شخص کے ہاتھ میں ہتھیار ہو اور وہ اس قائد انقلاب کے سامنے اس کی صلح و آشتی اور عادلانہ حکومت کے مخالفین سے جنگ کرے تو اس میں روحانی اور فکری جنگی لحاظ سے پوری آمادگی اور تیاری ہونا چاہئے ۔ ظہور مہدی(ع) کے انتظار کے حقیقی اثرات سے مزید آگاہی کے لئے حسب ذیل وضاحت کی طرف توجہ کریں: انتظار۔ یعنی بھرپور تیاری میں اگر ظالم اور ستمگر ہوں تو کیسے ممکن ہے اس شخص کا انتظار کروں کہ جس کی تلوار ستمگروں کے خون سے سیراب ہوگی، میں اگر گناہ آلود اور ناپاک ہوں تو میں کیوں کر ایسا انقلاب کا منتظر ہوں گا جس کا پہلا شعلہ ناپاک لوگوں کے دامن کو لپکے گا، وہ لشکر جو ایک عظیم جہاد کے انتظار میں ہے وہ اپنے سپاہیوں کی جنگی تربیت کو آخری حد تک پہنچائے گا اوران میںانقلاب کی روح پھونک دے گا اور کمزوری کے ہر نقطے کی اصلاح کرے گا ۔ کیوں کہانتظار کی کیفیت ہمیشہ اس ہدف اور مقصد کے مطابق ہوتی ہے جس کے ہم انتظار میں ہوتے ہیں ۔ ایک عام مسافر کے آنے کا انتظار ۔ ایک بہت ہی عزیز دوست کے لوٹ آنے کا انتظار۔ درخت سے پھلوں کے اتارنے کے موسم کا انتظار۔ فصل کی کٹائی کے سمے کا انتظار۔ ان میں سے ہر انتظار میں ایک طرح کی آمادہ گی اور تیاری شامل ہوتی ہے ۔ مہمان کے لئے گھر کو تیار کرنا پڑتا ہے، اس کی پذیرائی اور خدمت کے ذرائع مہیا کرنا پڑتے ہیں ۔ پھل اتارنے اور فصل کاٹنے کے لئے ضروری سازوسامان، درانتی اور متعلقہ مشین وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے جو فراہم کرنا پڑتی ہے ۔ اب غور کریں کہ وہ جو ایک عظیم عالمی مصلح کے قیام کا انتظار کررہے ہیں وہ درحقیقت صورت حال کو یکسر پلٹ دینے والے انقلاب اور ایک تحول کا انتظار کررہے ہیں کہ جو پوری انسانی تاریخ میں سب سے بڑا اور سب سے بنیادی انسانی انقلاب ہوگا ۔ وہ انقلاب کہ جو گذشتہ انقلابوں کے برعکس علاقائی نہیں ہوگا بلکہ ہمہ گیر اور سب کے لئے ہوگا اور انسانی زندگی کے تمام پہلوو-ں پر محیط ہوگا ۔ وہ انقلاب سیاسی ، ثقافتی، اقتصادی اور اخلاقی ہر حوالے سے انقلاب ہوگا ۔ پہلا فلسفہ: انسان سازی اس قسم کا تحول ہر چیز سے پہلے آمادہ اور تیار عنصر کا محتاج اور انسانی قدروقیمت کا حامل ہے، اسے ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو پوری دنیام ین وسیع اصلاحات کابھاری بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکیں ۔ پہلی منزل میں اس عظیم پروگرام کو عملی شکل دینے میں تعاون کرنے کی فکر اور آگاہی کی سطح بلند کرنے کی ضرورت ہے اور روحانی فکری آمادگی کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ تنگ نظری، کوتاہ بینی، کج فکری، حسد،بچگانہ اور غیر عقلانہ اختلافات اور ہر قسم کا نفاق و انتشار حقیقی انتظار کرنے والوں کے شایان شان نہیں ۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ حقیقی انتظار کرنے والا اس قسم کے اہم پروگرام کا فقط تماشائی ہرگز نہیں ہوسکتا، اسے چاہئے کہ وہ ابھی سے حتمی طور پر انقلابیوں کی صف میں شامل ہوجائے، اس انقلاب کے نتائج پر ایمان اسے ہر گزاجازت نہیں دیتا کہ وہ مخالفین کی صف میں کھڑا ہو، دوسری طرف موافقین کی صف میں کھڑا ہونے کے لئے بھی پاک اعمال، پاکہزہ روح، کافی دلیری اور آگاہی کی ضرورت ہے ۔ میں اگر فاسد، خراب اور نادرست ہوں تو ایسے نظام کے ایام کو کیسے یاد کرسکتا ہوںجس میں فاسد، خراب اور نادرست افراد کی کوئی حیثیت نہ ہوگی بلکہ وہ تو اس میں ٹھکرا دئےے جائیں گے اور قابل نفرت ہوں گے ۔ کیا یہ انتظار فکر وروح اور جسم وجان کی پاکیزگی کے لئے کافی نہیں ۔ وہ لشکر جو آزادی بخش جہاد کے انتظار میں وقت گزار رہاہے یقینا مکمل طور پر آمادہ اور تیار ہوگا، وہ ہتھیار جو ایسے میدان جنگ کے لئے مناسب اور ضروری ہے اسے مہیا رکھے گا، ایسا لشکر ضرور مورچہ بند رہے گا، اپنے افراد کی تیاریوں میں اضافہ کرتا رہے گا اور اپنے فوجیوں کے دلوں کو مضبوط کرے گا اور ایسے جہاد اور مقابلے کے لئے اپنے ہر سپاہی کے دل میں عشق اور شوق زندہ رکھے گا، جو لشکر اس طرح سے تیار نہ ہو وہ کبھی منتظر نہیں رہ سکتااور اگر تیار رہنے کا دعویٰ کرے توجھوٹ ہے ۔ ایک عالمی مصلح اور مربی کا انتظار تمام جہانوں کی مکمل فکری، اخلاقی، مادی اور روحانی اصلاح کی آمادگی کا مفہوم رکھتا ہے، اب آپ سوچئے کہ ایسی آمادگی اور انتظار کس قدر انسان ساز اور تربیت کنندہ ہے ۔ تمام روئے زمین کے اصلاح اور تمام مظالم اور خرابیوں کا خاتمہ کوئی مزاق نہیں اور نہ یہ کوئی آسان کام ہے، ایسے عظیم مقصد کی تیاری اس کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے، یعنی تیاری بھی اس پروگرام کی گہرائی اور گیرائی کے مطابق ہوناچاہے، ایسے انقلاب کو پایہ تکمیل تک پہونچانے کے لئے عظیم مصمم اردوں والے، بہت قوی اور شکت ناپذیر، انتہائی باز، بلند نظر، پوری طرح تیار اور گہری نگاہ رکھنے والے لوگوں کی ضرورت ہے ۔ ایسے مقصد کے لئے خودسازی اور اپنی عمیق ترین تربیت کی ضرورت ہے، ایسے ہدف کے لئے بہت سے اخلاقی، فکری اور اجتماعی منصبوں پر عمل درآمدانہ گزیر ہے ۔ یہ ہے حقیقی انتظار کا مفہوم تو کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ ایسا انتظار انسان ساز اور اصلاح کنندہ نہیں ہے؟
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
انتظار ظہور مہدی (ع) کے تربیت کنندہ اثرات
گذشتہ بحث میں ہم جان چکے ہیں کہ یہ عقیدہ اسلامی تعلیمات میں کوئی وارداتی پہلو نہیںرکھتا بلکہ ان بہت زیادہ قطعی ویقینی امور میں سے ہے جو بانی اسلام سے بالذات لئے گئے ہیں اور سب اسلامی مکاتب ومذاہب اس سلسلے میں متفق ہیں اور اس کے بارے میں احادیث متواتر ہیں ۔ اب ہم موجودہ اسلامی معاشروں کی کیفیت میں اس انتظار کے اثرات کی طرف آتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا اس قسم کے ظہورپر ایمان انسان کو خواب و خیال کی دنیا میں لے جاتا ہے کہ جس سے وہ اپنی موجودہ حیثیت سے غافل ہوجاتا ہے اور ہر قسم کے حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے یا یہ کہ واقعا یہ عقیدہ ایک قسم کے قیام اور فرد اور معاشرے کی تربیت کی دعوت ہے؟ کیا یہ عقیدہ تحرک کا باعث ہے یا جمود کا؟ اور کیا یہ عقیدہ مسئولیت ذمہ داری کا احساس ابھارتا ہے یا ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے سے فرار کا باعث بنتا ہے؟ خلاصہ یہ کہ کیا یہ فکری صلاحیتوں کو شل کردینے والی چیز ہے یا بیدار کرنے والی؟ ان سوالات کی وضاحت ورتحقیق سے پہلے ایک نکتے کہ طرف پوری توجہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ بہت زیادہ اصلاح کنندہ قانون اور اعلیٰ ترین مفاہیم جب جاہل، نالائق اور غلط فائدہ اٹھانے والے افراد کے ہاتھ چڑھ جائیں تو ہوسکتا ہے کہ وہ انہیں اس طرح مسخ کردیں کہ وہ اصلی مقصد کے بالکل خلاف نتیجہ پیدا کریں اور وہ ان کے ہدف سے الٹ راہ پر چل نکلیں، ایسے امور کی بہت سی مثالیں اور نمونے موجود ہیں اور مسئلہ انتظار کے ساتھ بھی جیسا کہ ہم دیکھیں گے یہی سلوک ہوا ہے ۔ بہرحال ہر قسم کے اشتباہ سے بچنے کے لئے ہم بقول”باید آب را ازسرچشمہ گرفت“(یعنی پانی خودسر چشمہ سے حاصل کرنا چاہیے)اس موضوع کو بھی سر چشمہ سے حاصل کرتے ہیں تاکہ راستے کی نہروں اور کھایوں کی آلود گی سے بچایا جاسکے، یعنی ہم ”انتظار“ کی بحث میں براہ راست اسلام کے اصلی متون کو تلاش کریں گے اور ان مختلف روایات پر بحث کریں گے جو مختلف لب ولہجہ میں مسئلہ انتظارکی تاکید کرتی ہیں تاکہ اصلہ مقصد اور ہدف تک پہنچ سکیں ۔ اب نہایت غور سے ان چند روایات کی طرف توجہ کیجئے: ۱۔ کسی امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو ہادیان برحق کی ولایت رکھاہے اور حکومت حق کے ظہور کے انتظار میں رہتا ہے اور اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے ۔ امام (ع) نے جواب میں فرمایا: ھوبمنزلة من کان مع القائم فی فسطاطہ۔ ثم سکت ھنیئة ۔ ثم قال: ھوکمن کان مع رسول اللّٰہ۔ وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس رہبر انقلاب کے خیمے میں(اس کی فوج کے سپاہیوں میں )ہو ۔ پھر آپ(ع) نے کچھ توقف کیا، پھر فرمایا: اسی شخص کی طرح ہے جو پیغمبر اسلام کے ساتھ (ان کے معرکوں میں )شریک ہو۔(1) بعینہ یہی مضمون بہت سی روایات میں مختلف تعبیرات کے ساتھ منقول ہے ۔ ۲۔بعض روایات میں یہ عبارت آئی ہے: بمنزلة الضارب بسیفہ فی سبیل اللّٰہ یعنی ،وہ اس شخص کی طرح ہے جو راہ خدا میں شمشیر زن ہو۔ ۳ ۔بعض روایات میں عبارت یوں ہے: کمن قارع مع رسول اللّٰہ بسیفہ۔ یعنی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو رسول خدا کے ساتھ ہو کر دشمن کے دفاع پر تلوار مارے ۔ ۴۔ بعض دیگر روایات میں ہے: بمنزلة من کان قائدا تحت لواء القائم۔ یعنی وہ اس شخص کی طرح ہے جو قائم(مہدی)کے پرچم تلے ہو۔ ۵۔ بعض دوسری روایات میں ہے: بمنزلة المجاھد بین یدی رسول اللہ۔ یعنی، وہ اس شخص کی طرح ہے جو رسول اللہ کی موجود گی میں جہاد کرے ۔ ۶۔ بعض روایاتم یں ہے: بمنزلة من استشھد مع رسول اللّٰہ ۔ یعنی، وہ اس شخص کی طرح ہے جوپیغمبر کی معیت میں شہید ہو۔ ان چھ روایات میں ظہور مہدی (ع) کے انتظار کے بارے میںسات تشبیہیں آئی ہیں، ان سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ایک طرف ان کا رابطہ اور مشابہت مسئلہ انتظار سے ہے اور دوسری طر ف اس انتظار کا تعلق دشمن کے ساتھ جہاد اور مقابلے کی آخری صورت سے ہے (غور کیجئے گا ) ۔ ۷۔ کئی ایک روایات میں ایسی حکومت کے انتظار کو بلند ترین عبادات میںسے شمار کیا گیا ہے، یہ مضمون رسول اللہ سے مروی بعض احادیث میں اور امیر المومنین حضرت علی (ع) کے بعض فرمودات میں نقل ہوا ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایاہے: افضل اعمال امتی انتظار الفرج من اللّٰہ عزوجل۔ میری امت کے افضل ترین اعمال میں سے ظہور کا انتظار کرنا ہے ۔(2) ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے: افضل العبادة انتظار الفرج۔ زیادہ فضیلت والی عبادت ظہور کا انتظار کرنا ہے ۔(3) یہ حدیث یہاں عمومی مفہوم رکھتی ہے، ”انتظار فرج“ کو یہاں چاہے وسیع معنی میں لیں یا عظیم عالمی مصلح کے ظہور کا انتظارسمجھیں ، دونوں صورتوں میں زیر بحث موضوع کے حوالے سے انتظار کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے ۔ یہ تمام تعبیریں اس بات کی ترجمانی کرتی ہیں کہ ایسے انقلاب کا انتظار ہمیشہ وسیع اور ہمہ گیر جہاد سے منسلک ہوتا ، اس بات کو نظر میں رکھنا چاہئے تاکہ انتظار کا مفہوم سمجھ کر ہم ان سب تعبیروں سے ایک نتیجہ اخذ کو سکیں ۔ 1-بحار الانوار،ج۱۳،ص۱۳۶(چاپ قدیم)بحوالہ محاسن برقی ۔ 2۔ بحارالانوار ، ج ۱۳،ص ۱۳۷،بحوالہ کافی ۔ 3۔ بحارالانوار ، ج ۱۳،ص ۱۳۶،بحوالہ کافی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
چند قابل توجہ نکات
۱۔ ہدایت اور دینِ حق سے کیا مراد ہے؟ یہ مندرجہ بالا آیت میں قرآن کہتا ہے: ”اٴَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْھُدیٰ وَدِینِ الْحَقِّ “ یہ گویا تمام ادیانِ عالم پر اسلام کی کامیابی کی دلیل کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جب پیغمبر اسلام کی دعوت کا مضمون اور متن مبنی بر ہدایت ہے اور عقل ہر مقام پر اس کی گواہی دے گی، نیز جب اصول وفروع حق کے موافق اور حق کے خواہاں ہیں تو ایسا دین فطری طور پر تمام ادیان پر کامیابی حاصل کرے گا ۔ ہندوستان کے ایک دانشور کے بارے میں مرقوم ہے کہ وہ یک مدت تک مختلف عالمی ادیان کا مطالعہ کرتا رہا اور ان کے بارے میں اس نے تحقیق کی اور آخرکار بہت زیادہ مطالعہ کرنے کے اس نے اسلام قبول کرلیا اور انگریزی زبان میں ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا: ”میں مسلمان کیوں ہوا“ اس میں اس نے تمام ادیان کے مقابلے میںاسلام کی خوبیاں واضح کی ہیں، اہم ترین امور جنھوں نے اس کی توجہ جذب کی ان میں سے ایک کے بارے میں وہ کہتا ہے: اسلام وہ واحد دین ہے جس کی تاریخ ثابت وبرقرار اور محفوظ ہے ۔ وہ تعجب کرتا ہے کہ یورپ نے ایک ایسا دین کیونکر اپنا رکھا ہے کہ جس میں اس کے لانے والے کو ایک انسان کے مقام سے بالاتر جاکر اسے اپنا خدا قرار دے لیا ہے جبکہ اس کی کوئی مستند اور قابلِ قبول تاریخ نہیں ہے ۔(1) وہ لوگ جنھوں نے اپنے سابقہ دین کو ترک کرکے اسلام قبول کیا ہے اگر ان کے اظہارات اور خیالات کا مطالعہ اور تحقیق کی جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اس دین کی انتہائی سادگی، اس کے مبنی بردلائل احکام، اس کے اصول وفروع کے استحکام اور اس کے پیش کردہ انسانی قوانین سے متاثر ہوئے ہیں اور انھوں نے دیکھا ہے کہ اس کے قوانین ومسائل ہر قسم کی بیہودگی سے پاک ہیں اور ان میں ”حق“ و ”ہدایت“ کا نور جلوہ گر ہے ۔ ۲۔ منطقی غلبہ یا طاقت کا غلبہ: اس سلسلہ میں کہ اسلام کس طرح تمام ادیان پر غلبہ حاصل کرے گا اور کامیاب ہوگا اور یہ کامیابی کس صورت میں ہوگی مفسّرین میں اختلاف ہے ۔ بعض اسے صرف منطقی واستدلالی کامیابی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا ہوچکا ہے کیونکہ منطق واستدلال کی نظر سے موجودہ ادیان کا اسلام سے کوئی موازنہ اور مقابلہ نہیں ہے ۔ لیکن لفظ ’اظہار“ جس کا مادہ ”لِیُظْھِرَہُ عَلَی الدِّینِ....“ میںبھی استعمال ہوا ہے، اگر اس کا قرآن کے دیگر مواقع پر مطالعہ کیا جائے اور جہاں جہاں یہ مادہ استعمال ہواہے اس کی تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ مادہ زیادہ ترجسمانی غلبہ اور ظاہری قدرت کے لئے آتا ہے، جیساکہ اصحابِ کہف کے واقعہ میں ہے: <إِنَّھُمْ إِنْ یَظْھَرُوا عَلَیْکُمْ یَرْجُمُوکُمْ اگر وہ (دقیانوس اور اس کا لشکر) تم پر غلبہ حاصل کرلیں تو تمھیں سنگسار کریں گے ۔(کہف/۲۰) نیز مشرکین کے بارے میں ہے: <کَیْفَ وَإِنْ یَظْھَرُوا عَلَیْکُمْ لَایَرْقُبُوا فِیکُمْ إِلًّا وَلَاذِمَّةً جب وہ تم پر غالب آجاتے ہیں تو رشتہ داری، قرابت اور عہدہ پیمان کا لحاظ نہیں کرتے ۔(توبہ/۸) بدیہی امر ہے کہ ایسے مواقع پر غلبہ منطقی نہیں ہوتا بلکہ عملی اور عینی ہوتا ہے ۔ بہرحال زیادہ صحیح یہ ہے کہ مذکورہ غلبہ اورکامیابی کو ہر قسم کا غلبہ سمجھا جائے کیونکہ یہ معنی مفہوم قرآن سے بھی زیادہ مطابقت رکھتا ہے کیونکہ وہاں مطلق طور پر غلبہ کا ذکر ہے یعنی ایک دن ایسا آئے گا جب اسلام منطق واستدلال کے لحاظ سے بھی اور ظاہری نفوذ اور حکومت کے حوالے سے بھی تمام ادیان عالم پر کامیابی حاصل کرے گا اور سب اس کے تحت شعاع اور زیرِ نگین ہوںگے ۔ ۳۔ قرآن اور قیامِ مہدی(ع): مندرجہ بالا آیت جو بعینہ انہی الفاظ کے ساتھ سورہٴ صف میں بھی آئی ہے اور کچھ فرق کے ساتھ اس کا تکرار سورہٴ فتح میں بھی ہوا ہے ایک اہم واقعہ کی خبر دیتی ہے، جس کی اہمیت اس تکرار کا سبب بنی ہے اور جو اسلام کے عالمگیر ہونے کی خبر دیتی ہے ۔ اگرچہ بعض مفسّرین نے زیرِ بحث آیت میں کامیابی کوایک علاقے کی اور محدود کامیابی کے معنی میں لیا ہے کہ جو رسول الله کے زمانے میں یا آپ کے بعد مسلمانوں کو حاصل ہوئی تھی لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیت میں کسی قسم کی قید اور شرط نہیں ہے اور یہ ہر لحاظ سے مطلق ہے لہٰذا کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس کے معنی کو محدود کریا جائے، آیت کا مفہوم اسلام کی تمام پہلووٴں سے تمام ادیانِ عالم پر کامیابی کی خبر دیتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرکار اسلام تمام کرہٴ زمین پر محیط ہوجائے گا اور تمام عالم پر کامیاب ہوگا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابھی تک ایسا نہیں ہوپایا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ خدا یہ حتمی وعدہ تدریجاً اور آہستہ آہستہ عملی شکل اختیار کررہا ہے، دنیا میں اسلام کی تیز رفتار ترقی، یورپ کے مختلف ممالک میں اسے باقاعدہ تسلیم کرلیا جانا، امریکہ اور افریقہ میں اس کا نفوذ، بہت سے دانشوروں اور غیر دانشوروں کا قبولِ اسلام اور اس کے دیگر عوامل نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام عالمی ہونے کی طرف قدم بڑھا رہا ہے، البتہ مختلف روایات جو منابع اسلامی میں وارد ہوئی ہیں ان کے مطابق اس پرورگرام کا تکامل اس وقت ہوگا جب حضرت مہدی علیہ السلام ظہور کریں گے اور اسلام کے عالمی پرورگرام کو تحقق بخشیں گے اور عالمی طور پر اسے نافذ کریں گے ۔ مرحوم طبرسی ”مجمع البیان“ میں امام محمد باقر علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں آپ(ع) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ان ذٰلک یوکن عند خرج المھدی فلایبقیٰ اٴحداً الّا اٴقر بمحمد (ص)اس آیت میں جو وعدہ کیا گیا ہے مہدی آلِ محمد کے ظہور کے وقت صورت پذیر ہوگا، اس دن کوئی خص روئے زمین میں نہیں ہوگا مگر یہ کہ وہ حضرت محمد کی حقانیت کا اقرار کرے گا ۔ نیز اسی تفسیر میں پیغمبر اسلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”لایبقیٰ علیٰ ظھر الاٴرض بیت مدر ولا وبرالا ادخلہ کلمة الاسلام “ دنیا میں کوئی بھی گھر جو پتھر اور مٹی کا، چادر اور خیمے کا اور اُون اور بالوں سے بنا ہو باقی نہیں رہے گا مگر یہ کہ خدا نامِ اسلام اس میں داخل کردے گا ۔ نیز صدوق کی کتاب اکمال الدین میں امام صادق علیہ السلام سے اس کی آیت کی تفسیر میں یوں منقول ہے: واللّٰہ ما نزل تاویلھا بعد ولا ینزل تاٴویلھا حتّیٰ یخرج القائم فاذا خرج القائم لم یبق کافر باللّٰہ العظیم (نورالثقلین،ج۲،ص ۲۱۱) خدا کی قسم اس آیت کے مضمون نے عملی صورت اختیار نہیں کی اور ایسا صرف اس زمانے میں ہوگا جب ”قائم“خروج کریں گے اور جب وہ قیام کریں گے تو ساری دنیا میںکوئی ایسا شخص باقی نہیں رہے گا جو خدا کا انکار کرے ۔ اسی مضمون کی اور احادیث بھی پیشوایان اسلام سے نقل ہوئی ہیں اور بعض مفسرین نے بھی اس آیت کے ذیل میں یہی تفسیر ذکر کی ہے لیکن یہ امر تعجب خیز ہے کہ المنار کے مولف نے نہ صرف یہ کہ اس تفسیر کو قبول نہیں کیا بلکہ حضرت مہدی (ع) کے بارے میں احادیث چونکہ زیر نظرآیت سے مناسبت رکھتی ہے اس لئے اس نے ان پر بحث تو کی ہے لیکن شیعوں سے اپنے مخصوص تعصب کی بنا ء بزدلانہ حملوں کے لئے کوئی دقیق فروگذاشت نہیں کیا اور حضرت مہدی (ع) سے مربوط احادیث کا سرے سے انکار کرتے ہوئے انہیں متضاد اور غیر قابل قبول قرار دے دیا ہے، اس کے گمان میں وجود مہدی (ع) کا عقیدہ صرف شیعوں سے یا جو شیعوں کی طرف ہیں انہی سے مربوط ہے، ان سب باتوں ست قطع نظر اس نے وجود مہدی(ع) کے عقیدے کو پسماندگی اور تنزل کا ایک عامل قرار دے دیا ہے ۔ اس صورت حال پیش نظر ہم مجبور ہیں کہ کچھ اختصارسے ظہور مہدی (ع) سے مربوط روایات کا ذکر کریں، نیز السامی معاشرے کی ترقی اور ظلم وجور کے خلاف قیام میں اس عقیدے کے اثرات پر بحث کریں تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ جب ایک دروازے سے تعصب داخل ہوتا ہے تو علم ودانش دوسرے دروازے سے بھاگ جاتے ہیں، اس بحث سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ مذکورہ مفسر اگرچہ اسلامی مسائل میں بہت معلومات رکھتاہے لیکن تعصب کے اس کمزور پہلو کی وجہ سے اس نے واضح حقائق کو کس طرح الٹی نظر سے دیکھا ہے ۔ ظہور مہدی (ع) اور اسلامی روایات اگر چہ سنی شیعہ علما ء نے بہت سی کتب میں قیام مہدی (ع) سے متعلق احادیث لکھی ہیں لیکن ہماری نظر میں کوئی چیز اس خط سے بڑھ کر گویا اور جچی تلی نہیں ہیں جو چند علماء حجاز نے ایک سائل کے جواب میں لکھا ہے لہٰذا ہم اس کا بعینہ ترجمہ قارئین محترم کی خدمت میں پیش کرتے ہیں لیکن پہلے ہم یہ بات یاد دلا دیں کہ قیام مہدی(ع) سے مربوط روایات ایسی ہیں کہ کسی اسلامی محقق نے چاہے وہ کسی گروہ اور مذہب کا پیرو کار ہو ان کے تواتر کا انکار نہیں کیا ۔ اب تک اس سلسلے میں بہت زیادہ کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور ان کے مولفین نے بالاتفاق عالمی مصلح یعنی حضرت مہدی (ع) سے مربوط احادیث کی صحت کو قبول کیا ہے ۔صرف معدودے چند افراد مثلا ابن خلدون اور احمد امین مصری نے ان اخبار و روایات کے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے صدور کے بارے میں شک و تردید کی ہے، البتہ ہمارے پاس ایسے قرائن موجود ہیں کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کام ابھارنے والی چیز ان اخبار کا ضعف نہیں تھا بلکہ ان کا خیال تھا کہ حضرت مہدی(ع) سے مربوط روایات ایسے مسائل پر مشتمل ہیں جن پر آسانی سے یقین نہیں کیا جاسکتایا اس بنا پر کہ وہ صحیح اور غیر صحیح روایات کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتے تھے یا انہیں ان کی تفسیر نہیں مل سکی، بہرحال ضروری ہے کہ پہلے اس مسائل میں اس جواب کو پیش کیا جائے جو”رابطہ عالم اسلامی“ کی طرف سے سامنے آیا ہے، جب کہ”رابطہ عالم اسلامی“عالم اسلام کے انتہائی سخت گیر افراد، یعنی وہابیوں پر مشتمل ہے، اس سے واضح ہوجائے گا کہ ظہور مہدی (ع) کا معاملہ ایسا ہے جس پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے،ہمارے نظرےے کے مطابق اس چھوٹے سے رسالہ میں ضروری مدارک کو اس طرح سے جمع کردیا گیا ہے کہ کسی شخص کو ان کے انکار کی جراٴت نہیںہے اور اگر سخت گیر وہابی حضرات نے اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیا ہے تو اس کی بھی وجہ اس کے ناقابل انکار مدارک ہی ہیں ۔ تقریبا ایک سال پہلے ابو محمد نامی ایک شخص نے کینیا سے ”رابطہ عالم اسلامی“ سے مہدی (ع) منتظر کے بارے میں سوال کیا، رابطہ کے سربراہ محمد الصالح القزاز نے اس کے جواب میں ضمنا تصریح کی ہے کہ ابن تیمیہ جو مذہب وہابی کابانی ہے نے بھی ظہور مہدی (ع) سے مربوط احادیث کو قبول کیا ہے ۔ مذکورہ رسالے کا متن حجاز کے دورحاضر کے پانچ مشہور علماء نے تیار کیا ہے، اس رسالے میں حضرت مہدی (ع) کے نام کی وضاحت کی گئی ہے اوران کے ظہور کا مقام مکہ بیان کیا گیا ہے، اس کے بعد لکھا گیا ہے: دنیا میں فتنہ وفساد کے ظہور اور کفر وظلم کے پھیل جانے پر خدا وند عالم اس (مہدی (ع))کے ذریعے دنیا کو عدل و انصاف سے اس طرح معمور کردے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی ۔ وہ ان بارہ خلفاء راشدین میں سے آخری ہے جن کے متعلق پیغمبر نے کتب صحاح میں خبر دی ہے ۔ مہدی (ع) سے مربوط احادیث بہت سے صحابہ نے پیغمبر سے نقل کی ہیں ان صحابہ میں سے عثمان بن عفان، علی ابن ابی طالب، طلحہ ابن عبیداللہ، عبدالرحمن ابن عوف، قرة بن اساس مزنی،عبداللہ ابن حارث، ابوہریرہ،حذیفہ بن یمان، جابر ابن عبداللہ ، ابو امامہ، عبداللہ ابن عمر، انس ابن مالک، عمران ابن حصین اور ام سلمہ شامل ہیں ۔ یہ افراد ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے روایات مہدی (ع) کو نقل کیا ہے اور ان کے علاوہ بھی بہت افراد موجود ہیں ۔ خود صحابہ سے بھی بہت سی باتیں منقول ہیں کہ جن میں ظہور مہدی(ع) سے متعلق گفتگو کی گئی ہے کہ جنہیں احادیث پیغمبر کے ہم پلہ قرار دیا جاسکتا ہے کیوں کہ یہ مسئلہ ایسے مسائل میں سے نہیں ہے کہ جس کے بارے میں اجتہاد کے ذریعے کچھ کہا جا سکے(لہٰذا ظاہر ہے کہ یہ باتیں بھی انھوں نے پیغمبر سے سن کر کی ہیں) ۔ مزید لکھا ہے: مذکورہ بالا احادیث جو پیغمبر سے نقل ہوئی ہے اور صحابہ کی گواہی جو یہاں حدیث کا حکم رکھتی ہے بہت سی مشہور اسلامی کتب اور احادیث کی بنیاد کتب میں آئی ہے چاہے وہ سنن و معاجم ہوں یا مسانید، ان میں سے سنن ابو داود، سنن ترمزی، ابن عمرو الدانی ، مسند احمد ،ابن یعلی وبزاز، صحیح حاکم، معاجم طبرانی کبیر ومتوسط، رویانی و دار قطنی اور ابو نعیم نے اخبار المہدی میں، خطیب نے تاریخ بغداد میں اور ابن مساکر نے تاریخ دمشق میں اور ان کے علاوہ دیگر علماء کی کتب میں یہ روایات موجود ہیں ۔ اس کے بعد مزید لکھا ہے: بعض علماء اسلام نے اس سلسلے میں مخصوص کتب تالیف کی ہیں جن میں ابو نعیم کی ”اخبار المہدی“ ، ابن حجر ہیثمی کی ”القول المختصر فی علامات المہدی المنتظر“،شوکانی کی”التوضیح فی تواتر ما جاء فی المنتظر والدجال والمسیح“، ادریس عراقی کی”المہدی“ اور ابو العباس ابن عبدالمومن کی” الوھم المکنون فی الرد علی ابن خلدون“ شامل ہیں ۔ اور آخری شخص جس نے اس سلسلے میں مفصل بحث کی ہے وہ اسلامی یونیور سٹی مدینہ کا سربراہ ہے جن نے مذکورہ یونیورسٹی کے مجلہ کے چند شماروںمیں اس مسئلے پر بحث کی ہے ۔ مزید لکھا ہے: قدیم اور جدید بزرگان اور علماء اسلام کی ایک جماعت نے بھی اپنی تحریروں میں تصریح کی ہے کہ مہدی کے سلسلے میں احادیث حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں(اور وہ کسی طرح سے قابل انکار نہیں ہیں )ان میں سے السخاوی نے کتاب”فتح المغیث“ میں، محمد ابن احمد سفاوینی نے ”شرح العقیدہ “ میں، ابوالحسن الابری نے”مناقب شافعی“ میں، ابن تیمیہ نے”کتاب فتاواش“ میں، سیوطی نے”الحاوی“ میں، ادریس عراقی نے مہدی (ع) کے بارے میں اپنی تالیف میں،شوکانی نے ”التوضیح فی تواتر ماجاء فی المنتظر“ میں، محمد جعفر کنانی نے ”نظم التناثر“ میں اور ابو العباس ابن عبدالمومن نے” الوھم المکنون “ میں تصریح کی ہے ۔ اس بحث کے آخر میں لکھا گیا ہے: صرف ابن خلدون ہے جس نے چاہا ہے کہ مہدی (ع) سے مربوط احادیث پر ایک بے بنیاد اور جعلی حدیث کے سہارے اعتراض کرے اور وہ جعلی حدیث ہے:لا مھدی الا عیسیٰ(مہدی عیسیٰ کے علاوہ کوئی نہیں)لیکن بزرگ ائمہ اور علماء اسلام نے اس کے قول کو رد کیا ہے ۔خصوصا ابن عبدالمومن نے تو اس کے نظریے کے خلاف ایک خصوصی کتاب لکھی ہے کہ جو تیس سال پہلے مشرق ومغرب میں پھیل چکی ہے ۔ حفاظ احادیث اور بزرگ علماء حدیث نے بھی تصریح کی ہے کہ مہدی (ع) کے بارے میں روایات ”صحیح“ اور ”حسن“ احادیث پر مشتمل ہیں اور ان کا مجموعہ متواتر ہے اس لئے ظہور مہدی کا اعتقاد رکھنا (ہرمسلمان پر واجب ہے) اور یہ اہل سنت والجماعت کے عقائد کا جز شمار ہوتا ہے اور سوائے نادان، جاہل یا بدعتی افراد کے اس کا کوئی انکار نہیں کرتا ۔ 1۔ المنار، ج۱۰، ص۳۸۹.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:30-33
اسلام کی عالمگیر حکومت
آخرکار زیرِ بحث آیت میں مسلمانوں کو اسلام کے عالمگیر ہونے کی بشارت دی گئی ہے، گذشتہ آیت کی بحث جس کا مقصد یہ ہے کہ دشمنانِ اسلام کی جان توڑ کوششیں بارآور نہیں ہوں گی، اس کی تکمیل کرتے ہوئے صراحت سے فرمایا گیا ہے: وہ ایسی ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام ادیان پر کامیابی اور غلبہ دے اگرچہ مشرکین اسے پسند نہیں کرتے (ھُوَ الَّذِی اٴَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْھُدیٰ وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ) ۔ ہدایت سے مراد روشن دلائل اور واضح براہین ہیں جو دین اسلام میں موجود ہیں اور دینِ حق سے مراد یہی دین ہے جس کے لئے اصول اور فروع حق ہیں، مختصر یہ ہے کہ اس کی تاریخ، اس کے مدارک اور اس کا حاصل سب حق ہے اور بلاشبہ وہ دین جس کے مضامین بھی حق ہیں اور جس کے دلائل، مدارک اور تاریخ سب روشن ہیں اسے آخرکار تمام ادیان پر غالب اور کامیاب ہونا چاہیے ۔ رفتارِ زمانہ، علم کی پیشرفت اور روابط کی آسانی کے ساتھ ساتھ زہریلے پراپیگنڈا کا پردہ ہٹتا جائے گا اور حقائق کا چہرہ آشکار ہوتا چلا جائے گا اور مخالفین حق اس کی راہ میں جو رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں وہ سب ختم ہوجائیں گی، یوں دینِ حق تمام جگہوں پر محیط ہوجائے گاچاہے حق کے دشمن نہ چاہیں اور چاہے اپنی مذموم حرکتوں سے باز نہ آئیں کیونکہ ان کی حرکتیں راہِ تاریخ کے خلاف ہیں اور سننِ آفرینش کی ضد ہیں ۔