خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
Take charity from their possessions to cleanse them and purify them thereby, and bless them. Indeed your blessing is a comfort to them, and Allah is all-hearing, all-knowing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:103
[Pooya/Ali Commentary 9:103] (see commentary for verse 102)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:103-105
زکوٰة فرد او رمعاشرے کو پا ک کرتی ہے
پہلی زیر نظر آیت میں ایک اہم اسلامی حکم یعنی زکوٰة کی طرف اشارہ ہوا ہے اور رسول اللہ کو ایک عمومی قانون کے طور پر حکم دیا گیا ہے کہ ان کے اموال سے صد قہ یعنی زکوٰة وصول کرو (مِنْ اٴَمْوَالِھمْ صَدَقَةً )۔ لفظ ”من “ جو تبعیض کے لئے ہے نشاندہی کرتا ہے کہ زکوٰة مال کا ایک حصہ ہوتا ہے پورا مال نہیں اور نہ ہی اس کا پورا حصہ زکوٰة قرار پاتا ہے ۔ اس کے بعد زکوٰة کے اخلاقی ، نفسیاتی اور اجتماعی فلسفہ کے دو پہلو وٴں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اس طرح سے تو انھیں پا ک کرتا ہے اور نشو و نما دیتا ہے ( تُطَھِّرُہُمْ وَتُزَکیھِمْ بِھَا )۔ انھی اخلاقی رذائل، دنیا پرستی او ربخل سے پاک کرتا ہے اور انسان دوسری ، سخاوت اور دوسروں کے حقوق کی پاسداری کے لئے نشو و نما دیتا ہے ۔ اس سے قطع نظر معاشرے کے ایک طبقے کی محرومیت سے جو خرابیاں ، افلاس ، گناہ اور طبقاتی تفاوت جنم لیتی ہے ۔ اسے الہٰی فریضہ انجام دے کر ختم کرو اورمعاشرے کو ان آلودگیوں سے پا ک کردو ۔ علاوہ بر این اجتماعی وابستگی ، نمو ، اقتصادی پیش رفت ایسے ہی کاموں سے ہوتی ہے اس بناء پر زکوٰة کا حکم ایک طرف سے معاشرے اور فرد کو پاک کرتا ہے اور دوسری طرف انسانوں میں فضیلت کے بیج کی نشو و نما کرتا ہے ۔ نیز معاشرے کی پیش رفت کا سبب بھی ہے اور زکوٰة کے بارے میں پیش کی جا سکنے والی یہ بہترین تعبیر ہے یعنی ایک طرف سے یہ آلودگیوں کو دھو ڈالتی ہے دوسری طرف ارتقاء و تکامل کا ذریعہ ہے ۔ آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیاہے کہ ” تطھرھم“کافاعل زکوٰة ہو اور ” تزکیھم“ کا فاعل پیغمبر اکرم ہوں ۔ اس بناء پر آیت کا معنی یہ ہوگا کہ زکوٰة انھیں پاک کرتی ہے اور اس کے ذریعے تو ان کی نشو ونما کرتاہے لیکن زیادہ ظاہر یہی معلوم ہوتاہے کہ دونوں کا فاعل ذات ِ پیغمبر ہے ۔ جیسا کہ ہم نے ابتداء میں معنی کیاہے اگر چہ نتیجہ کے لحاظ سے ان دونوں تعبیروں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے ۺ جس وقت وہ زکوٰة ادا کریں تو ان کے لئے دعا کرو اور ان پر درود بھج دو( وَصَلِّ عَلَیھِمْ )۔ یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ واجب ذمہ داریاں ادا کرنے پر بھی لوگوں کی قدر دانی کی جانا چاہئیے اور خصوصیت سے معنوی اور نفسیاتی طریقے سے انھیں تشویق دلانی چاہئیے لہٰذ اروایات میں ہے کہ جب رسول اللہ کی خدمت میں زکوٰة لے کر آتے تھے تو آپ ”اللھم صل علیھم “ کہہ کر ان کے لئے دعا کرتے تھے ۔ بعد میں مزید فرمایا گیا ہے : تمہارا یہ دعا کرنا اور درود بھیجنا ان کے قلبی سکو کا سر مایہ ہے (إِنَّ صَلَاتَکَ سَکَنٌ لَھُمْ )۔ کیونکہ اس دعا سے ان کے قلب و روح پر رحمت ِ الہٰی کا نزول ہوتا ہے اور وہ اسے محسوس کرتے ہیں علاوہ ازیں رسول اللہ یا ان کے جانشین لوگوں کی جو قدر دانی کرتے ہیں اور ان کے مال کی زکوٰة لیتے ہیں تو انھیں ایک قسم کا روحانی اور فکری سکون پہنچاتے ہیں یعنی اگر ظاہراً وہ ایک چیز دے بیٹھے ہیں تو اس سے بہتر چیز انھوں نے حاصل کی ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ہم نے آج تک نہیں سنا کہ مالیات پر مامور افراد کی ذمہ داری ہو کہ وہ لوگوں کا شکریہ ادا کریں لیکن یہ ایک مستحب حکم اسلامی لائحہ عمل میں موجود انسانی اقدار کے گہرے احترام کو واضح کرتا ہے ۔ آیت کے آخر میں گذشتہ بحث کی مناسبت سے ارشاد ہو تاہے : خدا سننے والا اور جاننے والا ہے ( وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ)۔وہ پیغمبر کی دعا بھی سنتا ہے اور زکوٰة دینے والوں کی نیت کو بھی جانتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:103-105
شان ِ نزول
بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ مندرجہ بالا آیت جنگ تبوک سے واپس رہ جانے والے تین اشخاص ہلال بن امیہ ، مرارہ بن ربیع اور کعب بن مالک کے بارے میں ہے ۔ کہ جن کی پشیمانی کی تشریح اور توبہ کی کیفیت اسی سورہ کی آیہ ۱۱۸ کے ذیل میں آئے گی۔ کچھ اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت بعض کفار کے بارے میں ہے جنھوں نے مسلمانوں کے خلاف مختلف جنگو ںمیں عظیم شخصیتوں مثلاً سید الشہداء حضرت حمزہ اور ایسے دیگر افراد کو شہید کیا تھا ۔ اس کے بعد وہ شرک سے دستبردار ہو گئے اور دین اسلام کی طرف آگئے۔ تفسیر اس آیت میں ایک اور گنہ گار کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ ان لوگوں کا انجام صحیح طور پر واضح نہیں ہے نہ تووہ ایسے ہیں کہ رحمت الہٰی کے مستحق سمجھے جائیں اورنہ ایسے ہیں کہ ان کی بخشش سے بالکل مایوس ہو جا ئے لہٰذا قرآن ان کے بارے میں کہتا ہے : ایک اور گروہ کا معاملہ فرمانِ خد اپر موقوف ہے یا وہ انھیں سزا دے گا اور یا ان کی توبہ قبول کرلے گا (وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِاٴَمْرِ اللهِ إِمَّا یُعَذِّبُھُمْ وَإِمَّا یَتُوبُ عَلَیْھِمْ )۔ ” مرجون “ کا مادہ ” ارجاء“ سے ہے ۔ یہ تاخیر اور توقف کے معنی میں ہے ۔اصل میں یہ ”رجاء “ سے لیا گیا ہے ۔جس کا معنی امید ہے ۔اس لحاظ سے کہ بعض اوقات انسان کسی کام کو کسی ہدف کے ماتحت تاخیر میں ڈال دیتا ہے یہ لفظ تاخیر کے معنی میں آیا ہے لیکن ایسی تاخیر جس میں امید شامل ہو ۔ حقیقت میں یہ لوگ نہ تو ایسے پا ک مضبوط ایمان اور نیک اعمال کے مالک ہیں کہ انھیں سعادت مند اور اہل نجات سمجھا جاسکے اور نہ ہی ایسے آلودہ اور منحرف ہیں کہ ان کے رخ پر سرخ خط کھینچ دی اجائے اور انھیں بد بخت سمجھ لیا جائے یہاں تک کہ ( ان کے روحانی مقام و مرتبہ کے مطابق ) لطف ِ الہٰی ان کے بارے میں فیصلہ کرے گا ۔ آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے کہ خدا ان کے ساتھ حساب کتاب کے بغیر کو ئی سلوک نہیں کرے گا ۔ بلکہ علم و حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی ان سے سلوک کرے گا کیونکہ ”خد اعلیم وحکیم ہے “(وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:103-105
ایک اور گروہ فر مان خدا سے نکل گیا ۔
مخفی تمام اعمال کے بارے میں ہے اور اس میں شک نہیں کہ ان تمام سے آگاہی معمول کے طریق سے ممکن نہیں ہے ۔ دوسرے لفظوں میں آیت کے کا آخری حصہ تمام اعمال کی جزا کے بارے میں ہے ۔ اس لئے آغاز بھی خدا ، رسول او رمومنین کی تمام اعمال سے آگاہی سے متعلق ہے ۔ ایک آگاہی کا مرحلہ ہے اور دوسرا جزاء کا اور بات دونوں میں ایک ہی موضوع سے متعلق ہے ۔ تیسرا یہ کہ ” مومنین “ کا ذکر اسی صورت میں صحیح ہے کہ مراد سب اعمال ہوں اور غیر معمولی طریقوں سے معلوم ہوں ۔ ورنہ جو اعمال آشکار اور واضح ہیں وہ تومومنین اور غیرمومنین سب دیکھتے ہیں ۔ یہاں سے ضمنی طور پر یہ نکتہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں مومنین سے مراد سب صاحب ایمان افراد نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کچھ مخصوص افراد ہیں جو حکم خدا سے اسرار غیبی سے آگاہ ہیں یعنی رسول اللہ کے حقیقی جا نشین ۔ ایک اہم نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہئیے یہ ہے کہ جس طرح پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ اعمال کے پیش ہونے کا مسئلہ اس کے معتقدین کے لئے بہت زیادہ تربیتی اثر رکھتا ہے کیونکہ جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ خدا جوکہ ہر جگہ میرے ساتھ ہے اس کے علاوہ پیغمبر اکرم اور ہمارے محبوب پیشوا ہر روز یا ہر ہفتے میرے ہر عمل سے چاہے وہ اچھا ہو یا برا آگاہ ہو جاتے ہیں تو بلا شبہ ہم زیادہ احتیاط کریں گے اور اپنے اعمال کی طرف متوجہ رہیں گے بالکل اسی طرح جیسے کسی ادارے میں کام کرنے والوں کو معلوم ہو کہ ہر روز ہر ہفتے ان کے تمام پوری تفصیل سے اعلیٰ افسروں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور وہ ان سب سے باخبر ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے کاموں کو بڑی توجہ سے انجام دیں گے ۔ ۲۔ کیا روئیت یہاں دیکھنے کے معنی میں ہے ؟ بعض مفسرین میں مشہور ہے کہ ” فسیری اللہ عملکم “ میں روئیت معرفت کے معنی میں ہے نہ کہ علم کے معنی میں کیونکہ اس کا ایک سے زیادہ مفعول نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ اگر روئیت علم کے معنی میں ہوتو اس کے دو مفعول چاہئیے ہو ں گے ۔ لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کہ روئیت کو اس کے اصل معنی میں لیا جائے یعنی محسوسات کا مشاہدہ نہ کہ علم یا معرفت ۔ یہ بات خدا کے بارے میں تو جو ہر جگہ حاضر و ناضر ہے اور تمام محسوسات پر احاطہ رکھتا ہے قابل، بحث نہیں لیکن پیغمبر اور آئمہ (ع) کے متعلق بھی کوئی مانع نہیں کہ وہ خود اعمال کو دیکھیں کہ جب ان کے سامنے پیش ہو ں کوینکہ ہم جانتے ہیں کہ انسانی امعلا فانی نہیں ہیں بلکہ قیامت تک باقی رہیں گے ۔ ۳۔ عنقریب خدا اعمال دیکھے گا “ سے کیا مراد ہے : اس میں شک نہیں کہ خدا اعمال سے پہلے ہیں ان سے آگاہ ہے اور یہ جو آیت میں ”فسیری اللہ “ یعنی عنقریب تمہارے اعمال دیکھے گا “ آیا ہے ، یہ اعمال کی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جو ان کے وجو د اور تحقیق کے بعد ہو گی ۔ ۱۰۶۔وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِاٴَمْرِ اللهِ إِمَّا یُعَذِّبُھُمْ وَإِمَّا یَتُوبُ عَلَیْھِمْ وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ۔ ترجمہ ۱۰۶۔ ایک اور گروہ فر مان خدا سے نکل گیا ۔ وہ تو انھیں سزا دے گا اور یا ان کی توبہ قبول کرلے گا (جس کے وہ لائق ہو ں گے) خدا دانا اور حکیم ہے ۔ 1 اصول کافی جلد ۱ ص ۱۷۱ ( باب عرض الاعمال ) 2۔ تفسیر برہان جلد ۲ ص ۱۵۸۔ 3۔ اصول کافی جلد ۱ ص ۱۷۱ ( باب عرض الاعمال )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:103-105
چند اہم نکات
۱۔ قبول کی گئی زکوٰة : گزشتہ آیات کے بارے میں جو شان ِ نزول ہم نے ذکر کی ہے اس سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ یہ آیت ان آیا ت سے قریبی تعلق رکھتی ہے جن کا ربط ابو لبابہ اور اس کے ساتھیوں کی توبہ کے واقعہ سے ہے کیونکہ وہ اپنی تو بہ قبول ہونے کے شکرانے پر اپنا سب مال رسول اللہ کی خدمت میں لے آئے اور آپ نے ان کے مال میں سے کچھ حصہ لے لیا لیکن یہ شان ِ نزول ا س کے منافی نہیں کہ آیت زکوٰة کے بارے میں ایک عمومی حکم رکھتی ہو او ریہ جو بعض مفسرین نے ان دونوں کے درمیان تضاد و خیال کیا ہے درست نہیں ہے جیسا کہ ہم نھے باقی آیات اور ان کی شان ، نزول کے بارے میں کئی مرتبہ کہا ہے ۔ ایک ہی سوال باقی رہ جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس روایت کے مطابق رسول اللہ نے ابو لبابہ اور اس کے ساتھیوں کے مال میں سے ایک تہائی حصہ قبول کیا تھا جب کہ زکوٰة کی مقدار کسی مقام پر بھی ۳/۱نہیں ہے ۔ گندم، جو ، خرما اور کشمش میں دسواں حصہ ہوتا ہے اور کبھی بیسواں ۔ سونا اور چاندی میں ڈھائی ( ۲/۱ ۔۲) فیصد زکوٰة ہوتی ہے اور گائے ، گوسفند اور اونٹ میں بھی زکوٰة کی مقدار ایک تہائی نہیں بنتی۔ لیکن اس سوال کا یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ نے ان کے اموال میں سے ایک حصہ زکوٰة کے طور پر اور باقی ان کے گناہوں کے کفارے پر وصول کیا اس بناء پر آپ نے ان سے واجب زکوٰة لی اور کچھ مقدارانھیں گناہوں سے پاک کرنے کے لئے قبول کی جس کی کل مقداران کے اموال کا ۳/۱ حصہ بنتی ہے ۔ ۲۔ ”خذ“کا مفہوم : اس کا معنی ہے ”لے لو“ یہ حکم اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اسلامی حکومت کا سر براہ لوگوں سے زکوٰةلے سکتا ہے نہ یہ کہ وہ منتظر رہے کہ اگر لوگ چاہیں تو ادا کریں اور اگر نہ چاہیں تونہ کریں ۔ ۳۔ ”صل علیھم “ کے حکم کی عمومیت :” صل علیھم “ اگر چہ رسول اللہ سے خطاب ہے مگر واضح ہے کہ یہ ایک کلی اور عمومی حکم ہے ( کیونکہ کلی قانون یہ ہے کہ پیغمبر کی خصوصیات کو دلیل خاص کا ذریعہ ہو نا چاہئیے )۔ لہٰذا بیت المال کے ذمہ دار اور نگران ہر زمانے میں زکوٰة دینے والوں کو ” اللھم صلی علیھم “ کہہ کر دعا دے سکتے ہیں ۔ اس کے باوجود اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ اہل سنت میں سے کچھ متعصب افراد آلِ نبی پر درود و صلٰوة کو بالکل جائز نہیں سمجھتے یعنی اگر کوئی کہے ” اللھم صلی علی ٓعلی امیر المومنین “ یا ” صلی علی فاطمة الزھرآء “ تو اسے ممنوع شمار کرتے ہیں ۔ 2 حالانکہ ایسی دعا ممنوع ہونے کے لئے دلیل کی ضرورت ہے نہ کہ جواز کے لئے دلیل کی احتیاج ہے ۔ علاوہ ازیں جیسا کہ سطور بالا میں ہے قرآن صراحت سے اجازت دیتا ہے کہ عام افراد کے بارے میں ایسی دعا کی جائے ،چہ جائیکہ اہل بیت رسول ، ،جانشینان ، پیغمبر اور اولیاء ِ الٰہی کے لئے ۔ لیکن کیا کیا جاسلتا ہے کہ بعض اوقات تعصبات قرآنی آیات بھی سمجھنے نہیں دیتے ۔ بعض گنہ گار مثلاً جنگ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے رسول اللہ سے اصرار کرتے تھے کہ آپ ان کی تو بہ قبول کرلیں ۔ اس سلسلے میں زیر بحث دوسری آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ تو قبول کرنا رسول کا کام نہیں ہے ” کیا وہ جانتے نہیں کہ خدا ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے ( اٴَلَمْ یَعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِہِ )۔وہ نہ فقط توبہ قبو ل کرنے والا ہے بلکہ زکوٰة یادوسرے صدقات جوگناہ کے کفارہ کے طورپر یا پروردگار کے تقرب کے لئے دئیے جاتے ہیں وہ بھی خدا ہی لیتا ہے ( وَیَاٴْخُذُ الصَّدَقَاتِ )۔ اس میں شک نہیں کہ زکوٰة و صدقات پیغمبر ، امام او رمسلمانوں کے پیشوا وصول کرتے ہیں یا مستحق افراد لیتے ہیں ۔ بہر صورت بظاہر ان سے یہ چیزیں خد ا نہیں لیتا ۔ لیکن چونکہ پیغمبر اور ہادیان ِ بر حق کا ہاتھ خد اکا ہاتھ ہے ( اس لئے کہ وہ خدا کے نمائدے ہیں ) تو گویا خدا ہی ان صدقات کو وصول کرتا ہے اس طرح ضرورت مند بندے جو خدا کی اجازت او رفرمان سے ایسی مدد قبول کرتے ہیں در حقیقت اسی کے نمائندے ہیں اس طرح ان کا ہاتھ بھی خدا ہی کا ہاتھ ہے یہ ایک انتہائی لطیف چیز ہے جو زکوٰة کے اس اسلامی حکم کی عظمت و شکوہ کی تصویر کشی کرتی ہے ۔ اس عظیم خدائی فریضہ کی ادائیگی کے لئے مسلمانوں کو شوق دلانے کے علاوہ اس طرح سے انھیں خبر دار کیا گیا ہے کہ وہ زکوٰةو صدقات ادا کرنے میں انتہائی ادب و احترام ملحوظ نظر رکھیں کیونکہ لینے والا خدا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کوتاہ فکری سے یہ تصور کرلیا جائے کہ ضرورت مند شخص کی تحقیر و تذلیل میں کوئی حرج نہیں یا اسے اس طرح زکوٰة دی جائے کہ اس کی شخصیت مجروح ہو بلکہ اس کے بر عکس چاہئیے کہ یہ انکساری کے ساتھ اپنے ولی نعمت کے سامنے ادب کے اظہار کے ساتھ زکوٰة اس کے مستحق تک پہنچائی جائے ۔ رسول اکرم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ان الصدقة تقع فی ید اللہ قبل ان تصل الیٰ ید السآئل صدقہ حاجت مند کے ہاتھ میں جانے سے پہلے خدا کے ہاتھ میں پہنچتا ہے ۔ دوسری حدیث میں امام سجاد (ع) سے منقول ہے : ان الصدقة لاتقع فی ید العبد حتیٰ تقع فی ید الرب صدقہ بندے کے ہاتھ میں اس وقت تک نہیں پہنچتا جب تک کہ پہلے پروردگار کے ہاتھ میں نہ جائے ( پہلے خدا کے ہاتھ میں جاتا ہے پھر بندے کے ہاتھ میں جاتا ہے )3 یہاں تک کہ ایک روایت میں ہے: اس بندے کے تمام اعمال فرشتے اپنی تحویل میں لے لیتے ہیں سوائے صدقہ کے کہ جو براہ ِراست خدا کے ہاتھ میں جاتا ہے ۔ 4 یہی مضمون جو مختلف تعبیروں کے ساتھ ہم نے روایات اہل بیت (ع)میں پڑھا ہے اہل سنت کے طرق سے بھی ایک اور تعبیر کے ساتھ نقل ہوا ہے ۔ صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ما تصدق احد کم بصدقة من کسب حلال طیب ولاتقبل اللہ الا الطیب الا اخذھا الرحمن بیمینہ و ان کانت تمرة فتربوا فی کف الرحمن حتیٰ تکون اعظم من الجبل ۔ تم میں سے کوئی شخص حلال کمائی میں سے صدقہ نہیں دے گا - اور البتہ خدا حلال کے علاوہ قبول نہیں کرت- مگر یہ کہ خدا اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لے گا ۔ اگر خرمے کا ایک دانہ ہو ۔ پھر وہ خدا کے دست قدرت میں بڑھنا شروع ہو گایہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جائے گا ۔ 5 یہ حدیث معنی خیز تشبیہات او رکنایہ جات سے معمور ہے ۔ اس سے اسلامی تعلیمات میں انسانی خد مت اور حاجت مندوں کی مدد کی بہت زیادہ اہمیت واضح ہو تی ہے ۔ احادیث میں اس ضمن میں کئی ایک اور تعبیرات بھی آئی جو بڑی جاذب ِ نظر اور اہم ہیں ۔ ان میں مکتب اسلام کے پرورش یافتہ افراد کو حاجت مندوں کو مدد دیتے ہوئے ایسا منکر بنا کر پیش کیا گیا ہے گویا ھاجت مندوں نے مدد قبول کرکے ان پر احسان کیا ہے اور انھیں اعزاز و افتخار سے نوازا ہے ۔ مثلاً بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آئمہ معصومین بعض اوقات حاجت مند کو صدقہ دینے سے پہلے احترام اور تعظیم کی علامت کے طور پر اپنے ہاتھ کا بوسہ لیتے یا یہ کہ پہلے وہ مال حاجت مند کو دے دیتے پھر اسے لے کر بوسہ لیتے اور سونگھتے پھر اسے واپس کردیتے چونکہ وہ دستِ خدا کے رو برو ہوتے تھے لیکن وہ لوگ ان تعلیمات سے کس قدر دور ہیں کہ جو اپنے ضرورت مند بھائیوں یا بہنوں کی تھوڑی سی مدد کرتے ہوئے ان کی تذلیل کرتے ہیں یا ان سے سختی یا بے اعتنائی سے پیش آتے ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض اوقات بے ادبی سے ان کی طرف پھینکتے ہیں ۔ البتہ جیسا کہ اپنے مقام پر ہم نے کہا ہے کہ اسلام اپنی پور ے اسلامی معاشرے میں کوئی فقیر اورحاجت مند نہ رہے لیکن اس میں شک نہیں کہ ہر معاشرے میں کچھ آبرو مند و ناتواں، ننھے یتیم اور بیمار وغیرہ ہوتے ہیں جو کمانے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ ضروری ہے کہ بیت المال او رمتمکن افراد کے ذریعے انتہائی ادب و احترام سے ان کی ضروریات کو پورا کیا جائے ۔ آیت کے آخر میں زیادہ تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے : خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے (وَاٴَنَّ اللهَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ) ۔ توبہ اور اس کی تلافی جیسا کہ قرآن مجید کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ توبہ گناہ پر صرف ندامت اور پشیمانی کانام نہیں بلکہ ضروری ہے کہ ندامت کے ساتھ ساتھ اصلاح اور تلافی بھی شامل ہو۔ ممکن ہے یہ تلافی بھی شامل ہو ۔ ممکن ہے یہ تلافی ضرورت مندوں کی بلا عوض امداد کی صورت میں ہو جیساکہ مندرجہ بالا آیات میں اور ابو لبابہ کے واقعہ میں ہم نے پڑھا ہے ۔ اس میں کوئی فرق نہیں کہ گناہ مالی امور سے متعلق ہو یا کسی اور سے متعلق ، جیسا کہ ہم جنگ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں کے مسئلہ میں پڑھ چکے ہیں ۔ در حقیقت مقصد یہ ہے کہ گناہ سے آلودہ روح کو نیک ، صالح او رشائستہ عمل سے دھو یا جائے اور اسے پاک کیا جائے اور پہلی اور فطری پاکیز گی کو لوٹا یا جائے۔ بعد والی آیت میں گذشتہ مباحث کے بارے میں نئی شکل میں تاکید کی گئی ہے ۔ پیغمبر اکرم کو حکم دیا گیا ہے کہ تمام لوگوں کو اس امر کی تبلیغ کریں اور کہیں کہ اپنے اعمال او رذمہ دار یاں انجام دو او رجان لو کہ خدا ، اس کا رسول اور مومنین تمہارے اعمال کو دیکھیں گے ( وَقُلْ اعْمَلُوا فَسَیَرَی اللهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُہُ وَالْمُؤْمِنُونَ )۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ کوئی تصور نہ کرے کہ اگر وہ کسی خلوت کے مقام پر یا کسی جماعت کے اندر کوئی عمل انجام دیتا ہے تو وہ علم خدا کی نگاہ سے اوجھل رہ جاتا ہے بلکہ خدا کے علاوہ وہ پیغمبر او رمومنین بھی اس سے آگاہ ہیں ۔ اس حقیقت کی طرف توجہ اور اس پر ایمان اعمال اور نیتوں کے پا ک رہنے کے لئے بہت موٴثر ہے عام طور پر اگر انسان یہ احساس کرکہ اسے ایک آدمی دیکھ رہا ہے تو وہ اپنی کیفیت ایسی بنالے گا کہ جو قابل اعتراض نہ ہو چہ جائیکہ اسے یہ احساس ہو کہ خدا و رسول او رمومنین اس کے اعمال سے باخبر ہیں ۔ عنقریب تم ایسی ہستی کی طرف لوٹ جاوٴ گے جو مخفی اور آشکار سے آگاہ ہے اور وہ تمہیں تمہارے عمل کی خبر دے گا اور اس کے مطابق جزا دے گا (وَسَتُرَدُّونَ إِلَی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ)۔ ۱۔ مجمع البیان ، زیربحث آیے کے ذیل میں ۔ 2۔ان لوگوں کی ایل بیت رسالت سے دشمنی اس حد تک ہے کہ آنحضرت کے لئے بھی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہتے ہیں اور ” صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم “ نہیں کہتے ۔ جب کہ رسول اللہ نے خود آل کے ذکر کے بغیر صلوٰت کو ” دم کٹی صلوات“ قرار دیا ہے ۔ کدا وند عالم مسلمانوں کو عظلمت اہل ِ بیت (ع) کا اقرار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ( مترجم ) 3 ۔ تفسیر صافی زیر بحث آیت کے ذیل میں بحوالہ تفسیر عیاشی ۔ 4۔ تفسیر بر ہان زی بحث آیت کے ذیل میں بحوالہ تفسیر عیاشی ۔ 5۔ تفسیر المنار ج ۱۱ ص ۳۳ ( یہ حدیث طرق اہلِ بیت سے امام صادق علیہ السلام سے بھی نقل ہوئی ہے ۔ بحار الانوار ج۹۶ ص ۱۴۳ طبع جدید کی طرف رجوع فرمائیں )