وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
[There are] others who have confessed to their sins, having mixed up righteous conduct with other that was evil. Maybe Allah will accept their repentance. Indeed Allah is all-forgiving, all-merciful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:102
[Pooya/Ali Commentary 9:102] To condemn those, who did not go with the Holy Prophet on the expedition of Tabuk, several verses were revealed when he returned to Madina, because of which Abu Lababa Ansari and two other companions from among the ansar, certain of receiving punishment from Allah, tied themselves to the pillars of the masjid and said that they would continue to remain tied to pillars unto death until the Holy Prophet himself untied them as a gesture of forgiveness. The Holy Prophet untied them only when this verse was sent down to him. On being loosed those three persons presented the Holy Prophet with gifts which he refused saying that he could not accept anything from them unless he received Allah's command. Then verse 103 was revealed. Aqa Mahdi Puya says: The Holy Prophet's prayer has been stated to be a source of security and assurance to those who pay zakat, khums and sadaqas, therefore there must be his representative, divinely commissioned like him, in all times, in every age, to pray for those who spend in the way of Allah as ordained by Him. Verse 104 confirms that it is Allah who receives alms and accepts repentance (when the Holy Prophet or his successor prays and recommends)-through the Holy Prophet or his appointed representatives and successors.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:102
توبہ کرنے والے
گزشتہ آیت میں مدینہ داخلی اور خارجی منافقین کی کیفیت بتائی گئی تھی ان یہاں ایک گناہگار مسلمان گروہ کی طرف اشارہ کیا گیاہے انھوں نے توبہ کی اور اپنے برے اعمال کی تلافی کے لئے اقدام کیا ۔ ارشاد ہوتا ہے : ان میں سے ایک گروہ نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے ( وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِھِمْ)اور انھوں نے اچھے اور برے اعمال کو آپس میں ملا دیا ہے ( خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَیِّئًا )۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : امید ہے خدا ان کی توبہ قبول کرلے اور اپنی رحمت ان کی طرف پلٹا دے (عَسَی اللهُ اٴَنْ یَتُوبَ عَلَیْھِمْ )۔” کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے “ اور وسیع و عریض رحمت کا مالک ہے (إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ مندرجہ بالا آیت میں ”عسیٰ“کی تعبیر آئی ہے یہ عموماً کامیابی اور ناکامی کے اکٹھے احتمال کے مواقع پر آتی ہے یہ شاید اس بناء پر ہے کہ انھیں امید و بیم اور خوف ورجاء کے درمیان رکھا جائے کیونکہ یہ دونوں کیفیتیں تکامل اور ارتقاء او ر تربیت کا ذریعہ ہیں ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ”عسیٰ “ کی تعبیر اس طرف اشارہ ہو کہ توبہ ، ندامت اور پشیمانی کے علاوہ انھیں دیگر شرائط کو بھی پورا کرنا چاہئیے اور اپنے نیک اعمال کے ذریعے گذشتہ کی تلافی کرنا چاہئیے ۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ کہ آیت اللہ کو غیران و رحمت کے ذکر سے مکمل کیا گیا ہے ، اس میں امید کا پہلو غالب ہے ۔ یہ با ت بھی واضح ہے کہ آیت اگر چہ ابو لبابہ کے بارے میں یا جنگ ِ تبوک کے دیگر متخلفین کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس سے آیت کا وسیع معنی محدود نہیں ہو جاتا بلکہ آیت ان تمام افراد کا احاطہ کئے ہوئے ہے جو نیک وبد اعمال کو خلط ملط کر دیتے ہیں اور پھر اپنے برے اعمال پر پشیمان ہوتے ہیںض اسی لئے بعض علماء سے منقول ہے انھوں نے کہا ہے کہ مندرجہ بالا آیت نہایت امید بخش آیات ِ قرآن میں سے ہے کہ جس نے گنہ گاروں کے لئے کئی دروازے کھول دئیے ہیں اورتوبہ کرنے والوں کو اپنی طرف دعوت دی ہے ۔ ۱۰۳۔ خُذْ مِنْ اٴَمْوَالِھمْ صَدَقَةً تُطَھِّرُہُمْ وَتُزَکیھِمْ بِھَا وَصَلِّ عَلَیھِمْ إِنَّ صَلَاتَکَ سَکَنٌ لَھُمْ وَاللهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ۔ ۱۰۴۔ اٴَلَمْ یَعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِہِ وَیَاٴْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَاٴَنَّ اللهَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ ۔ ۱۰۵۔ وَقُلْ اعْمَلُوا فَسَیَرَی اللهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُہُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إِلَی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ۔ ترجمہ ۱۰۳ ۔ انکے اموال سے صدقہ ( زکوٰة ) لے لوتاکہ انھیں اس کے ذریعے پا کرو اور ان کی تربیت کرو اور ( زکوٰة لیتے وقت ) انھیں دعا دو کیونکہ تمہاری دعا ان کے سکون کا باعث ہے اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ ۱۰۴۔ کیاوپہ جانتے نہیں کہ صرف خدا ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے اور خدا ہی توبہ قبول کرنے والا مہر بان ہے ۔ ۱۰۵۔ کہہ دو ! عمل کر و خدا، اس کا رسول او رمومنین تمہارے عمل کو دیکھتے ہیں اور عنقریب اس کی طرف لوٹ کر جاوٴ گے کہ جو پنہاں اور آشکار کو جانتا ہے اور تمہیں اس چیز کی خبر دے گا جو کچھ تم کرتے ہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:102
شان ِ نزول
زیر نظر آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں کئی روایات نقل ہوئی ہیں ان میں سے اکثر میں ابو لبابہ انصاری کانام ملتا ہے ۔ ایک روایت کے مطابق اس نے دو یاکچھ اصحاب پیغمبر کے ساتھ مل کر جنگ تبوک میں شر کت نہ کی لیکن جب ان افراد نے وہ آیات سنیں جو متخلفین کی مذمت میں نازل ہوئی تھیں تو بہت پریشان او رپشیمان ہوئے اور اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں کے ساتھ باندھ دیا۔ رسول اللہ نے ان کے بارے میں استفسار کیا۔ آپ کو بتایا گیا کہ انھوں نے قسم کھائی ہے کہ اپانے آپ کو ستونوں سے نہیں چھڑائیں گے جب تک کہ خود رسول اللہ آکر انھیں نہ چھوڑ دیں ۔رسول اللہ نے فرمایا کہ میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ یہ کام نہیں کروں گا مگر یہ کہ خدا مجھے اس کی اجازت دے ۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نا زل ہوئی اور خدا نے ان کی توبہ قبول کی ۔ اس پر رسول اللہ نے آکرانھیں مسجد کے ستونوں سے کھول دیا ۔ اس کے شکرانے کے طور پر انھوں نے اپنا سار امال رسول اللہ کی خدمت میں پیش کردیا اور عرض کیا یہ وہی مال و اسباب ہے جس سے دل بستگی کی خاطر ہم نے شریک جہاد ہونے سے گریز کیا تھا ۔ یہ سب کچھ ہم سے قبول کرکے راہِ خدا میں خرچ کیجئے۔ پیغمبر اکرم نے فرمایا :ابھی تک اس کے بارے میں مجھ پرکوئی حکم نازل نہیں ہوا ۔ تھوڑی ہی دیر گذری تھی کہ بعد والی آیت نازل ہوئی او رآپ کو حکم دیا گیا کہ ان کے اموال میں سے کچھ حصہ لے لیں او ربعض روایات کے مطابق تیسرا حصہ قبول کرنے کاحکم ہوا۔ کچھ اور روایات میں ہے کہ مندرجہ بالاآیت ابولبابہ کے بارے میں بنی قریظہ کے واقعہ کے سلسلہ میں ہے قریظہ یہودی تھے انھوں نے ابو لبابہ سے مشورہ کیا کہ کیا ہم پیغمبر کا فیصلہ مان لیں یانہ ۔ اس نے کہا کہ اگر تم نے ان کا فیصلہ مان لیا تو آنحضرت (ع) تم سب کے سر اڑادیں گے ۔ اس کے بعد ابولبابہ اپنی اس بات پر پشیمان ہو ا اور توبہ کی اور اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا۔ اس کے بعد مندرجہ بالا آیت نازل ہو ئی اور خدا تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کرلی۔ ۱ ۱۔ مجمع البیان اور دیگر تفاسیر ۔