وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مُنَٰفِقُونَۖ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلَى ٱلنِّفَاقِ لَا تَعۡلَمُهُمۡۖ نَحۡنُ نَعۡلَمُهُمۡۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيۡنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٖ
There are hypocrites among the Bedouins around you and among the townspeople of Madinah, steeped in hypocrisy. You do not know them; We know them, and We will punish them twice, then they shall be consigned to a great punishment.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 9:100-110
In the forgoing paragraph God has again classified “man” as in His Glorifying paragraph in the beginning He did: 1. Faithful on whom He has endowed bounties, misguided, those who are infidels including polytheists, atheists and in between. Here He has further subdivided misguided into four sections: weak minded may be insane, idiots, those who have not received guidance. 2. Hoping in God’s Decision on Reckoning Day: they may be further subdivided into (a) may be punished, (b) may be forgiven. 3. Those whose hearts were invited by obligations, etc. and those who have not been steady in faith. 4. Sinful Shias. In another Division according to Divine Lights, Division stands as under: (a) The faithful to enter paradise without any suffering in hell. (b) The infidels inclusive of hypocrites to permanently reside in hell of various grades, as per intensity of crime. (c) The weak minded, whose fate shall be decided on Reckoning Day. (d) Those condemned to hell punishment. (e) Those who have been cognizant of their sins. If their virtues exceed their vices, they shall be forgiven, else shall suffer temporary punishment in hell and transition period, after death and before Reckoning Day. (f) Men of reefs over the bridge having sins equal to virtues to be redeemed under intercession of Divine Lights.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:101
[Pooya/Ali Commentary 9:101]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:101
تفسیر
قرآن مجید بحث کا رخ دوبارہ منافقین کی طرف موڑ رہا ہے فرمایا گیا ہے : ان لوگوں کے درمیان جو تمہارے شہر ( مدینہ) کے اطراف میں ہیں ایک گروہ منافقین کا موجود ہے (وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِنْ الْاٴَعْرَابِ مُنَافِقُونَ )۔ یعنی صرف داخلی منافقین پر توجہ نہ رکھو بلکہ ہوشیا ر رہ کر باہر کے منافقین پر بھی نگاہ رکھو ۔ان کی خطر ناک کار گذاریوں پر نظر رکھو اور ان پر بھی ۔ لفظ ” اعراب “ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے عام طور بادیہ نشین عروبوں کے لئے بولاجاتا ہے ۔ پھر مزید فرمایا گیا ہے : خود مدینہ میں اور اس شہر کے رہنے والوں میں ایک گروہ ان لوگوں کا ہے کہ جن کا نفاق سرکشی کی حد تک پہنچا ہوا ہے اور وہ اس کے سخت پابند ہیں اور اس میں تجربہ کار ہیں ( وَمِنْ اٴَھْلِ الْمَدِینَةِ مَرَدُوا عَلَی النِّفَاقِ )۔ ” مردودا“ مادہ ”مرد“ ( بر وزن ”سرد“) سے ہے اس کا مطلب ہے مطلق طغیان سر کشی او ربے گانگی ۔ اصل میں یہ ”بر ہنگی“ اور ”تجرد“ کے معنی میں آیا ہے ۔ اسی بنا پر جن لڑکوں کے چہروں پر بال نہ اگے ہوں انھیں ”امرد“ کہتے ہیں ۔” شجرة مرداء “ ایسے درخت کو کہتے ہیں جس پربالکل پتے نہ ہوں اور ”مارد“ ایسے شخص کو کہتے ہیں جو اطاعت حکم سے بالکل نکل گیا ہو۔ بعض مفسرین اور اہل لغت نے اس مادہ کا ایک معنی ”تمرین “ بھی بیان کیا ہے ((” تاج العروس اور” قاموس“میں بھی اس کا ایک معنی ”تمرین “ ذکر ہوا ہے )۔ یہ شاید اس بناء پر ہو کہ کسی چیز سے مطلق تجرد او رمکمل خروج بغیر تمرین کے ممکن ہیں نہیں ۔ بہر حال یہ منافقین حق و حقیقت سے اس قدر عاری اور اپنے کام میں اتنے ماہر ہیں کہ وہ اپنے آپ کو سچے مسلمانوں میں اس طرح شامل رکھتے ہیں کہ کسی کو ان کے منافق ہونے کا پتہ نہیں ۔ داخلی اور خارجی منافقین کے بارے میں تعبیر کا یہ فرق جو زیرنظر آیت میں دکھائی دیتاہے گویا اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ داخلی منافق اپنے کام میں زیادہ ماہر ہیں لہٰذا وہ طبعاً زشیادہ خطر ناک ہیں اور مسلمانوں کو چاہئیے کہ ان پر کڑی نظر رکھیں اگر چہ خارجی منافقین سے بھی غافل نہیں رہنا چاہئیے۔ اسی لئے اس کے بعد بلا فاصلہ فرمایا گیا ہے : تم انھیں نہیں پہچانتے لیکن ہم انھیں پہچانتے ہیں ( لاَتَعْلَمھُمْ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ )۔البتہ یہ پیغمبر کے عمومی علم کی طرف اشارہ ہے مگر یہ اس بات کے منافی نہیںکہ وحی اور تعلیم الہٰی کے ذریعے آپ ان کے اسرار سے پوری طرح واقف تھے ۔ آیت کے آخر میں اس گروہ کےلئے سزا اور سخت عذاب کو یوں بیان کیا گیا ہے : ہم عنقریب انھیں دو مرتبہ عذاب دیں گے اور اس کے بعد و ہ ایک عذاب عظیم کی طرف بھیجے جائیں گے (سَنُعَذِّبُھُمْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّونَ إِلَی عَذَابٍ عَظِیم)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ” عذاب عظیم “روز قیامت کے عذاب اور سزاوٴں کی طرف اشارہ ہے لیکن یہ کہ اس سے پہلے دو عذابوں کا جو ذکر ہے اس سے کیامراد ہے اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے او رانھوں نے بہت سے احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن زیادہ تر معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک عذاب وہی اجتماعی سزا جو ان کی رسوائی اور ان کے اسرار منکشف ہو جانے کے بعد تمام معاشرتی وقار اور اہمیت کھو جانے کی صورت میں ہو گا اس کا ذکر شاید گذشتہ آیا ت میں موجود ہے اور بعض احادیث میں بھی آیا ہے کہ جب ان لوگوں کا معاملہ خطر ناک مراحل تک پہنچ جا تا تو رسول اللہ ان کا تعارف کروادیتے یہاں تک کہ انھیں مسجد سے بھی نکال دیتے ۔ ان کے لئے دوسری سزا اور عذاب وہی ہے جس کی طرف سورہ ٴ انفال کی آیہ۵۰ میں اشارہ ہو چکا ہے ۔ جہاں فرما یا گیا ہے : ولو تریٰ اذیتوفی الذین کفروا الملآئکة یضربون وجوھھم و ادبار ھم الخ اگرتو کافر وںکو اس وقت دیکھے جب موت کے فرشتے ان کی جان لے رہے ہوں کہ کس طرح فرشتے ان کے چہروں اور پشتوں پر ماررہے ہیں او رانھیں سزا دے رہے تو تجھے ان کی حالت پر افسوس ہو گا - یہ احتمال بھی ہے کہ دوسرا عذاب اندرونی اذیت او رروحانی سزا اور تکلیف کی طرف اشارہ ہو کہ جو مسلمانوں کی ہر طرف سے کامیابی کے زیر اثر انھیں پہنچتی ہے ۔ ۱۰۲۔ وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِھِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَیِّئًا عَسَی اللهُ اٴَنْ یَتُوبَ عَلَیْھِمْ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ۔ ترجمہ ۱۰۲۔ اور دوسرے گروہ نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہے اور صالح اور غیر صالح اعمال کو آپس میں ملادیا ہے امید ہے خدا ان کی توبہ کرلے۔ اللہ غفور و رحیم ہے ۔