فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ
As for man, whenever his Lord tests him, and grants him honour, and blesses him, he says, ‘My Lord has honoured me.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 89:15
[Pooya/Ali Commentary 89:15] Allah tries man by prosperity and distress. In prosperity, instead of showing humility and kindness, selfish and petty men become arrogant and forget Allah; and in distress, instead of relying upon patience and faith, they put false values on the worldly possessions and become resentful, envious and spiteful.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 89:15-20
اس دن بیدار ہوں گے کہ جب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہو گا ۔
ان مذمتوں کے بعد جو گزشتہ آیات میں سر کشی کرنے والوں ، دنیا پرستوں اور دوسروں کے حقوق پر ہاتھ صاف کرنے والوں کی ہوئی تھیں ، ان آیات میں انہیں خطرے سے آگاہ کرتا ہے کہ آخر کار قیامت آنے والی ہے اور حساب و کتاب اور جزا و سزا کا مرحلہ در پیش ہے ۔ ضروری ہے کہ آ پ خود کو اس کے لئے تیار کریں۔ پہلے فرماتا ہے : ایسا نہیں ہے جیسا وہ گمان کرتے ہیں ( حساب و کتاب نہیں ہے اور اگر خدا نے انہیں مال دیا ہے تو ان کے احترام و اکرام کی وجہ سے دیاہے ، نہ کہ آزمائش و امتحان کے لئے ( کلّا) ۔ جس وقت زمین کوٹ کوٹ کرریزہ ریزہ کردی جائے گی ( اذا دکت الارض دکا ً دکاً) دک اصل میں نرم و صاف زمین کے معنی میں ہے ۔ پھر اونچی جگہ اور عمارتوں کے لئے کوٹنے اور ریزہ ریزہ کرنے اور صاف کرنے پر اطلاق ہواہے ۔ ” دکان“ اس جگہ کو کہتے ہیں جو صاف اور نشیب و فراز کے بغیر ہو۔ ” دکہ“ (چبوترا ) اس اونچی جگہ کو کہتے ہیں جسے بیٹھنے کے لئے صاف اور تیار کرتے ہیں ۔ ” دک “ کی تکرار مندرجہ بالا آیت میں تاکید کے لئے ہے ۔ مجمو عی طور پر یہ تاکید دنیا کے اختتام اور قیامت کے آغاز کے زلزلوں اور جھنجوڑ دینے والے حوادث کی طرف اشارہ ہے ۔ موجودات میں اس قسم کا تزلزل رونما ہوگا کہ پہاڑ ریزہ ریزہ اور زمینیں ہموار ہو جائیں گی ، جیسا کہ سورہ طٰہٰ کی آیت ۱۰۵ سے ۱۰۷ تک آیاہے : ( و یسئلونک عن الجبال فقل ینسفھا ربی نسفاً فیذرھا قاعاً صفصفاً لاتریٰ فیھا عوجاً ولا امتاً) تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دے میرا پر وردگار انہیں بر باد کردے گا اور اس کے بعد زمین کو صاف و ہموار اور بے آب و گیاہ کردے گا ، اس طرح کہ تو اس میں کسی طرح کا نشیب و فراز نہیں دیکھے گا۔ قیامت کے پہلے مرحلہ کے اختتام ، یعنی اس جہاں کی ویرانی کے بعد ، دوسرا مرحلہ شروع ہوگا ۔ سارے انسان زندہ ہو جائیں گے اور عدالت الہٰی میں ظاہر ہوں گے ۔ اس وقت تیرے پروردگار کا فرمان آن پہنچے گا۔ فرشتے صف در صف حاضر ہو ںگے ( و جاء ربک و الملک صفاً صفاً) ۔ محشر میں موجود لوگوںکا محاصرہ کرلیں اور فرمانِ حق کے اجراء کے لئے آمادہ ہوں گے ۔ یہ تصویر کشی اس عظیم دن کی عظمت اور عدالت کے چنگل سے انسان کے فرار کرنے کی توانائی نہ ہونے کی ہے ۔ جاء ربک ) ” تیرا پر وردگار آئے گا “ کی تعبیر اس حقیقت کا کنایہ ہے کہ مخلوقات کے حساب و کتاب کا فرمان پہنچے گا ۔ یا پھر خدا کی عظمت کی علامتوں کا ظہور مراد ہے ، یا پر وردگار کے ظہور سے مراد اس دن اس کی معرفت کا ظہور ہے ، اس طرح سے کہ کسی شخص کےلئے انکار کی گنجائش باقی نہیں رہے گی ۔ گویا سب لوگ اپنی آنکھوں سے اس کی ذاتِ بے مثال کے جمال کامشاہدہ کریں گے۔ بہر حال مسلم ہے کہ خدا کا آنا ، اس لفظ کے حقیقی معنی جن کا لازمہ جسم ہے اور کسی مکان میں منتقل ہونا ہے ، کوئی امکان نہیں رکھتے اور وہ مراد نہیں رہی اس لئے کہ خدا جسم اور خواصِ جسم سے مبراہے ۔ ۱ یہی مفہوم بڑی صراحت کے ساتھ ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا سے منقول ہے ۔ ۲ اس تفسیر کی شاہد سورہ نحل کی آیت ۳۳ ہے جس میں فرماتا ہے : ( ھل ینظرون الاَّ تاٴتیھم الملائکة اٴو یاٴتی امر ربک)کیاوہ اس کے علاوہ توقع رکھتے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آئیں یا تیرے پر وردگار کا امر آن پہنچے ؟ صفاً صفا کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ ملائکہ محشر میں مختلف صفوں میں وارد ہوں گے ۔ احتما ل ہے کہ ہر آسمان کے فرشتے ایک الگ صف میں حاضر ہوں گے اور اہل محشر کے گرد گھیرا ڈال دیں گے اس کے بعد فرماتاہے : ” اوراس دن جہنم کو لے آئیں گے ، اس دن انسان متذکرہوگا لیکن اس کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا“ ( وجیء یومئذ بجھنم یومئذیتذکر الانسان و انّی لہ الذکریٰ )۔ اس تعبیر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہنم جلانے کے قابل ہے اور اسے لاکر مجرموںکے قریب کردیا جائے گا، جیسا کہ جنت کے بارے میں بھی سورہ شعراء کی آیت ۹۰ میںہم پڑھتے ہیں ( و ازلفت الجنة للمتقین) جنت پرہیزگاروں کے نزدیک کردی جائے گی ۔ اگر مفسرین مائل ہیں کہ ان الفاظ کو مجازی معنوں پر محمول کریں اور جنت و جہنم کے نیکو کاروں اور بد کاروں کے سامنے ظہور کا کنایہ سمجھیں ، لیکن اس خلاف ظاہر کے لئے ہمارے پاس کوئی دیل نہیں ہے ۔ بلکہ بہتر ہے کہ انہیں اس کے ظاہر پر چھوڑ دیا جائے، اس لئے کہ عرصہٴ محشر کی حقیقتیں ہم پرمکمل طور پر واضح نہیں ہیں اوروہاں کے حالات ہماری دنیا کے حالات سے بہت مختلف ہیں ۔ پھر اس کا کوئی مانع نہیں ہے کہ اس روز دوزخ و جنت کو اسن کی جگہ سے ہٹائیں گے ۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے ہمیں ملتا ہے کہ جس وقت مندرجہ بالا آیت ( ( وجیء یومئذ بجھنم )نازل ہوئی تو آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہوگیا ۔ یہ حالت اصحاب پر گراں گزری ۔ وہ حضرت علی علیہ السلام کے پاس آئے اور ماجرا بیان کیا۔ حضرت علی علیہ السلام آئے اور پیغمبر اسلام کے دونوں شانوںکے دمیان بوسہ دیا اور کہا: ” اے خدا کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ۔ کیا حادثہ رونما ہواہے “؟ آپ نے فرمایا!” جبرائیل آئے تھے اور یہ آیت تلاوت کی ہے “۔ حضرت علی علیہ السلام کہتے ہیں :” میں نے عرض کیا کس طرح جہنم کو لے آئیں گے “؟ فرمایا: ” ستر ہزار فرشتے ستر ہزار مہاروں کے ذریعہ اسے کھینچ کر لائیں گے او روہ سر کشی کی حالت میں ہوگی ۔ اگر اس کو چھوڑ دیں تو وہ سب کو آگ لگادے گی ، پھر میں جہنم کے سامنے کھڑا ہو جاوٴں گا اور وہ کہے گی : اے محمد مجھے آپ سے کو ئی سر و کار نہیں ہے ۔ خدا نے آپ کا جسم مجھ پر حرام کیا ہے “۔ اس دن ہر شخص اپنی فکر میں ہوگا لیکن جناب سید المرسلین کہیں گے :” رب امتی رب امتی “( پروردگار میری امت ، میری امت، )۔ ۳ جی ہاں ! جب مجرم انسان ان مناظر کو کو دیکھے گا تو ہل جائے گا اور غم و اندوہ میں ڈوب جائے گا ، اپنے ماضی پر نگاہ ڈالے گا اور اپنے اعمال سے سخت پشیمان ہوگا ،لیکن یہ پشیمانی اس کو کوئی فائدہ نہ دے گی ، انسان آرزو کرے گا کہ واپس پلٹ جائے اور اپنے تاریک ماضی کی تلافی کرے ، لیکن واپسی کے در وازے بالکل بند ہوں گے وہ چاہے گا کہ توبہ کرے لیکن توبہ کا زمانہ ختم ہو گیا ہوگا وہ چاہے گا کہ اعمال صالح بجالائے تاکہ اپنے برے اعمال کی تلافی کر سکے ، لیکن اعمال کا دفتر بند ہو چکا ہو گا ، یہ وہ مقام ہے جہاں اس کی فریاد بلند ہو گی او روہ کہے گا :” اے کاش ! میں نے اپنی زندگی کے لئے اعمال ِ صالح بھیجے ہوتے “ (یقول یا لیتنی قدمت لحیاتی ) ۔ قابل توجہ یہ ہے کہ یہ نہیں کہے گا کہ اپنی آخرت کی زندگی کے لئے ، بلکہ کہے گا اپنی زندگی کے لئے ، گو یازندگی کا لفظ آخرت کی زندگی کے علاوہ کسی اور زندگی کے لئے موزوں نہیں ہے ، اور جلدی گزرنے والی ، انواع و اقسام کے مصائب کی آمیزش رکھنے والی دنیا وی زندگی شمار ہی نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ سورہ عنکبوت کی آیت ۶۴ میں ہم پڑھتے ہیں ( وما ھٰذا الحیوة الدنیا لھو لعب و انّ الدار الاٰخرة لھی الحیوان لوکانوا یعلمون ) ” یہ دنیا کی زندگی کھیل کود اور لہو لعب کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور حقیقی زندگی آخرت کی زندگی ہے اگر تم جانتے ہو“۔ جی ہاں ! وہ لوگ جنہوں نے یتیموں کامال کھایا ، بھوکوں کے منہ لقمہ نہیں دیا ، ان کا مال و میراث غارت کیا اور مال ِ دنیا کی محبت نے ان کے دل کو مسخر کر رکھا تھا، وہ اس دن آرزو کریں گے کہ کاش کو ئی چیز آخرت کی زندگی کے لئے ، جو حقیقی اور جاودان زندگی ہے ، ہم نے آگے بھیجی ہوئی ، لیکن یہ آرزو بے نتیجہ ہو گی ۔ اس کے بعد دو مختصر جملوں میں ا س دن کے عذاب کے شدت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتاہے : ” اس دن خدا اس قسم کی سزا دے گا کہ اس جیسی سزا کوئی بھی نہیں دے سکے گا “ ( فیو مئذٍ لایعذب عذابہ احد) ۔ جی ہاں! یہ سرکش جو اپنی قوت کے وقت بد ترین جرائم اور گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں ، اس دن ان کو اس قسم کی سزا ملے گی جو اس سے پہلے کسی کو نہیں ملی ہوگی ، جیسا کہ نیکو کار اس قسم کی جز ا پائیں گے جو کسی کے خیال و گمان میں بھی نہیں گزری ہوگی ، اس لئے کہ خدا ارحم الراحمین بھی ہے اور اشد العاقبین بھی ۔ نیز اس دن کوئی بھی خدا کی طرح کسی کو قیدو بند کی سزا نہیں دے گا ۔ ( ولا یوثق وثاقہ احد)۔نہ اس کی قید بند و زنجیر کی کوئی مثال ہے ، نہ اس کے عذاب کی کو ئی مثل و نظیر ہے ۔ ایسا کیوں نہ ہو جبکہ انہوں نے اس دنیا میں خدا کے مظلوم بندوں کو جتنا ان سے ممکن تھا قید و بند میں رکھا اور ان کو سخت تکالیف پہچائیں ۔ ۲۷۔ یا ایتھا النفس المطمئنة ۔ ۲۸۔ ارجعیٓ اِلیٰ ربک راضیةً مرضیةً۔ ۲۹۔ فادخلی فی عبادی ۔ ۳۰۔ و ادخُلی جنّتی۔ تر جمہ ۲۷۔ تو اے سکون و اطمینان یافتہ نفس ۔ ۲۸۔ اپنے پروردگار کی طرف پلٹ جا ، اس حالت میں کہ تو بھی اس سے راضی ہے اور وہ بھی تجھ سے راضی ہے ۔ ۲۹۔ اور میرے بندوں کی صف میں داخل ہو جا ۔ ۳۰ ۔ اور میری جنت میں واردہو جا ۔ ۱۔ فخر رازی اپنی تفسیر میں کہتا ہے کہ آیت میں کچھ محذوف ہو سکتا ہے کہ لفظ امر یا قہر جلائل آیات یا ظہور معرفت ہو۔ دوسرے مفسرین نے بھی ان چار الفاظ میں سے خصوصاً پہلے لفظ کو تقدیر آیت کے عنوان سے بیان کیا ہے ۔ ۲۔ تفسیر المیزان ، جلد ۲۰ ص ۴۱۶۔ ۳۔مجمع البیان ، جلد، ۱۰ ،ص ۴۸۳۔ ان معنی کے قریب نیز تفسیر در المنثور میں آیا ہے ، المیزان کی نقل کے مطابق جلد،۲۰، ص ۴۱۵۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 89:15-20
نہ اس کی نعمت کے ملنے پر غرور کرو او رنہ سلب نعمت پر مایوس ہو
گزشتہ آیات کے بعد جو سر کشی کرنے والوں کو خبر دار کر رہی تھیں اور انہیں خدا کے عذاب سے ڈرارہی تھیں ، زیر بحث آیات میں مسئلہ امتحان کو پیش کرتا ہے جو ثواب اور عقاب الہٰی کا معیار ہے اور انسانی زندگی کا اہم مسئلہ شمار ہوتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے : لیکن انسان ، جس وقت اس کا پر وردگار اور اس کی آزمائش کے لئے اس کا اکرام کرے اور نعمت بخشے ، تومغرور ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے پر وردگار نے مجھے عزت دی ہے ( فاما الانسان اذا ما ابتلاہ ربہ فاکرمہ و نعمہ فیقول ربی اکرمن) وہ نہیں جانتا کہ خدا ئی آز مائش کبھی نعمت کے ذریعہ اور کبھی انواع و اقسام کی مصیبتوں کے ذریعہ ہوتی ہے ۔ نہ نعمت کا حصول سببِ غرور بننا چاہئیے اور نہ مصائب مایوسی او رناامیدی کا سبب بنیں ۔ لیکن یہ کم ظرف انسان دونوں حالتوں میں مقصد آزمائش کو بھول جاتا ہے ، نعمت کے ملنے کے وقت اس طرح خیال کرتا ہے کہ وہ مقرب بارگاہ خدا ہو گیا او ریہ نعمت اس قرب کی دلیل ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ابتداء میں کہتا ہے کہ خدا اسے مورد اکرام قرار دیتا ہے ۔ لیکن آیت کے ذیل میں ہے کہ انسان خود کو مورد اکرام خدا دیکھتا ہے ۔ اس کی مذمت ہورہی ہے ۔ یہ اس بناء پر ہے کہ پہلا اکرام انعام ہی کے معنی میں ہے اور دوسرا اکرام بار گاہ خدا کے قرب کے معنی میںہے ، لیکن جس وقت امتحان لینے کے لئے اس کی روزی تنگ کردیتا ہے تو مایوس ہوجاتا ہے اور کہتا ہے : ” میرے پروردگار نے مجھے ذیل و خوار کر دیا ہے “ ( و اما اذا ماابتلاہ فقدر علیہ رزقہ فیقول اھانن)ناامیدی اسے ہر طرف سے گھیر لیتی ہے اور وہ اپنے پروردگار سے رنجیدہ و ناخوش ہوجاتا ہے ۔ وہ اس سے غافل ہے کہ یہ سب چیزیں تو اس کی آزمائش اور امتحان کے ذرائع ہیں ۔ وہ امتحان جو انسان کی پر ورش اور ارتقاء کی رمز ہے او ر اس کے استحقاقِ ثواب کا سبب اور مخالفت کی صورت میں استحقاقِ عذاب کاباعث ہے ۔ یہ دونوں آیتیں خبر دار کرتی ہیں کہ نہ تو نعمت کا ورودتقرب خدا کی دلیل ہے اور نہ اس کا سلب ہوجانا حق سے دوری کی دلیل ۔ یہ تو امتحان کی مختلف صورتیں ہیں کہ خدا اپنی حکمت کے مطابق ہر گروہ کی کسی چیز سے آز مائش کرتاہے۔ یہ کم ظرف انسان ہیں کہ جو کبھی مغرور ہو جاتے ہیں اور کبھی مایوس ہو جاتے ہیں ۔ سورہ حٰم سجدہ کی آیت ۵۱ میں بھی آیاہے : ( و اذا انعمنا علی الانسان اعرض و ناٰ بجانبہ و اذا مسہ الشر فذودعا ء عریض)۔ جس وقت ہم کسی انسان کو نعمت دیتے ہیں تو وہ روگردانی کرتا ہے اور تکبر کرے کے حق سے دور ہو جاتا ہے ، لیکن جب اسے تھوڑی سی تکلیف پہنچے توہمیشہ دعا کرتا ہے اور بے تابی دکھاتا ہے ۔ اسی سورہ ہود کی آیت ۹ میں آیاہے ( ولئن اذقنا الا نسان منا رحمة ثم نزعنا ھا منہ انہ لیٴوس کفور )۔ جس وقت ہم انسان کو رحمت کا ذائقہ چکھائیں اور اسے چھین لیں تو ناامید و ناشکرا ہو جاتاہے ۔ یہ دونوں آیتیں علاوہ اس کے کہ خدا کی آزمائش کے مسئلہ کو مختلف طریقوں سے بیان کرتی ہیں ، یہ نتیجہ بھی بخشتی ہیں کہ نعمت سے بہرہ ور ہونا یا اس سے محروم ہونا قربِ خدا یا دوری پر وردگار کی دلیل نہیں ہے ، بلکہ ہمیشہ اور ہر جگہ ایمان و تقویٰ کا معیار ہے ۔ کتنے پیغمبر تھے جو اس دنیا میں انواع و اقسام کے مصائب میں مبتلا رہے ۔ ان کے مقابلہ میں کتنے کافر تھے جو گونا گون نعمتوں سے بہرہ مند تھے ۔ دنیا کی زندگی کا مزاج و طبیعت یہی ہے ۔ اس آیت کے ضمن میں پروردگار ِ عالم ابتلائات اور درد ناک حوادث کے فلسفہ کی طرف ایک سر بستہ اور جمالی اشارہ بھی کرتا ہے ۔ اس کے بعد ان اعمال کی تشریح کرتا ہے جو خدا سے دوری اور عذاب الہٰی کے چنگل میں پھنسنے کا موجب ہیں ۔ فرماتا ہے : ” ایسا نہیں ہے جیسا تم خیال کرتے ہو ( کہ تمہارے اموال پر وردگار کے نزدیک تمہارے قرب منزلت کی دلیل ہیں ، بلکہ تمہارے اعما ل تو تمہاری خدا سے دوری کی کیفیت کو بیان کرتے ہیں )” تم تو یتیموں کا احترام نہیں کرتے“ ( کلّا بل لا تکرمون الیتیم ) ۔ ” اور ایک دوسرے کو فقراء و مساکین کو کھانا کھلانے کا شوق نہیں دلاتے“۔ ( ولا تحاضّون علیٰ طعام المسکین )۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یتیموں کو کھانا کھلانے کی بات نہیں کرتا، بلکہ اکرام و احترام کی بات کرتا ہے۔ اس کے لئے یتیموں کے سلسلہ میں صرف بھوک کا مسئلہ در پیش نہیں ہوتا بلکہ اسے احترام سے محرومی کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور وہ یہ احساس کرنے لگتا ہے کہ چونکہ اس کا باپ مرگیاہے ، لہٰذا وہ ذلیل و خوار ہوگیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کی عزت کی جائے تاکہ وہ باپ کے نہ ہونے کا احساس نہ کرے۔ اسی لئے اسلامی روایات میں یتیموں سے محبت اور ان پر نوازش کرنے کے مسئلہ کو ایک خاص اہمیت دی گئی ہے ، ایک حدیث میںامام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ ( مامن عبد یمسح یدہ علی راٴس یتیم رحمة لہ الاَّ اعطاہ اللہ بکل شعرہ نوراً یوم القیامة) کوئی شخص کسی یتیم کے سر پر دست شفقت نہیں پھیرتا مگر یہ کہ خدا ان بالوں کی تعداد کے برابر جو اس کے ہاتھ کے نیچے آتے ہیں، قیامت میں اسے نور بخشے گا۔ ۱ سورہ ضحیٰ کی آیت ۹ میں بھی آیاہے ( فاما الیتیم فلاتقھر ) ” باقی رہا یتیم تو اسے مورد قہر و تحقیر قرار نہ دے“ یہ بالکل اس چیز کے مقابلہ میں ہے جو ایمان و اخلاق سے دور کل کے دور جاہلیت کے معاشرہ کی طرح آج کے معاشرہ میں بھی رواج رکھتی ہے کہ یتیموں کے مال کو مختلف حیلوں اور بہانوں سے اپنی ملکیت بنایاجاتا ہے اور اس یتیم کو اس طرح تنہا چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ باپ کی غیر موجود گی کا دکھ تلخ ترین شکل میں محسوس کرتا ہے ۔ جو کچھ ہم نے کہا اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یتیموں کا اکرام ان کے مال کی حفاظت تک محدود نہیں ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے خیال کیاہے ، بلکہ اس کے ایک واضح ، صاف اور وسیع معنی ہیں جو مال کی حفاظت اور دوسرے امور دونوں کے متقاضی ہیں ۔ ” تحاضون “ ۲ کاجملہ حض کے مادہ سے تحریص وترغیب کے معنی میں ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ صرف مسکین کو کھانا کھلانا ہی کافی نہیں ہے ، بلکہ لوگ ایک دوسرے کو اس کار خیر کے سلسلہ میں شوق دلائیں تاکہ یہ طریق ِ کار معاشرہ کی فضا میں وسعت پیداکرے تعجب کی بات یہ ہے کہ سورہ حاقہ کی آیت ۳۳۔ ۳۴،میں اس موضوع کو خدا وند ِ عظیم پر ایمان نہ لانے کے برابر بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :( انہ کان لایوٴمن با للہ العظیم و الا یحض علی طعام المسکین ) وہ خدا ئے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا اور دوسروں کو مسکین کو کھانا کھلانے کا شوق نہیں دلاتا۔۳ اس کے بعد اس کے تیسرے غلط کام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں موردِ مذمت و ملامت قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے : ” تم میراث کو ( حلال و حرام طریقہ سے جمع کرکے کھاجاتے ہو۔( و تاٴکلون التراث اکلاً لمّٓا) ۔ ۴ اس میں شک نہیں کہ اس مال کا کھانا ، جو شرعی میراث کے طور پر کسی شخص کو پہنچے ، برا نہیں ہے ۔ اس بناء پر مندرجہ بالاآیت میںاس کام کی مذمت ہوسکتا ہے کہ ذیل کے امور میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ ہو ۔ پہلی یہ کہ اپنے اور دوسروں کے حق کو جمع کرلیتا ہو، اس لئے کہ ” لم “ کا لفظ اصل میں جمع کے معنی میںہے اور بعض مفسریں مثلاً زمخشری نے کشاف میں خصوصیت سے اس کی حرام و حلال کے درمیان جمع کرنے سے تفسیر کی ہے ۔ خصوصاً زمانہ جاہلیت کے عربوں کی حالت یہ تھی کہ وہ عورتوں اور بچوں کو میراث سے محروم کردیتے تھے اور ان کا حق خود لے لیتے تھے ۔ ان کا نظریہ تھا کہ میراث انہیں ملنی چاہئیے جو جنگوں ہوں ( اس لئے ان کے ہاتھ جو اموال لگتے تھے ان میں سے بہت سے مال وہ ہوتے تھے جو غارتگری کے نتیجے میں حاصل ہوتے تھے ) لہٰذا وہ صرف ان لوگوں کو حقدار سمجھتے تھے جو غارتگری کے قابل ہوں ۔ دوسرے یہ کہ جب میراث تم تک پہنچتی ہے تو تم فقیر و مسکین ، عزیزوں اور رشتہ داروں اور معاشرہ کے محروم افراد پر بالکل خرچ نہیں کرتے اور جب تم میراث کے مال کے ساتھ ، جو بغیر کسی زحمت و تکلیف کے تمہارے ہاتھ آتا ہے ۔ اس طرح کرتے ہوتو یقین اپنے کمائے ہوئے مال کے بارے میں تو تم زیادہ بخیل اور سخت ہوگے ، جو بہت بڑا عیب ہے ۔ تیسرے یہ کہ میراث اور چھوٹے بچوں کے حقوق کھانا ہے ، اس لئے کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بے ایمان افراد ، اور وہ جو کسی قانون کے پابند نہیں ہوتے ، جب میراث کا مال ان کے ہاتھ لگ جائے تو وہ یتیم اور چھوٹے بچوں کا کوئی لحاظ نہیں کرتے اور چونکہ وہ یتیم اور چھوٹے بچے اپنے حقوق کی حفاظت نہیں کرسکتے ، لہٰذا بے ایمان لوگ اس مال سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ، یہ قبیح ترین شرمناک ترین گناہ ہے ۔ ان تینوں تفسیروں کے درمیان جمع بھی ممکن ہے ۔ 5 ” اور تم دولت و ثروت کو زیادہ عزیزرکھتے ہو“ ( و تحبون المال حباً جماً) 6 تم دنیا پرست اور مال و متاع ِ دنیا کے عاشق افراد ہو اور یقینا وہ شخص جو مالِ دنیاسے ایسا لگاوٴرکھے وہ اس کے جمع کرنے کے وقت جائز و ناجائز ،حلال و حرام کا خیال نہیں رکھتا ۔ اس قسم کا شخص حقوق الہٰی کو بالکل تسلیم نہیں کرتا ، یا ان میں کمی کا مرتکب ہوتا ہے ، جس شخص کو حب دنیا نے گھیر رکھا ہو، اس کے دل میں یاد خدا کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی ۔ اس طرح نعمت و بلا کے ذریعہ انسانوں کی آزمائش کے ذکر کے بعد چار ایسی اہم آزمائشوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جن کے بارے میں یہ مجرم گروہ ناکام ہو کر مردود ہوا تھا : یتیموں کے بارے میں یہ آز مائش ، مسکینوں کو کھانا کھلانے آزمائش ، میراث کے حصوں کی جائز و ناجائز طریقہ سے جمع کرنے کی آز مائش اور آخر میں بغیر کسی قید و شرط کے اموال جمع کرنے کی آزمائش ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ تمام آز مائشیں مالی پہلو رکھتی ہیں ، واقعی اگر کوئی شخص مالی آز مائشوں سے عہدہ بر آمد ہو جائے تو پھر اس کے لئے دوسری آزمائشیں آسان ہو جائیں گی ۔ یہ دنیا کا مال ہی ہے جو مشہو قول ” ایمان فلک دادہ بباد“ کے مطابق دنیا میں ایمان کو خراب کردیتا ہے ۔ آدم کے بیٹے کی عظیم ترین لغزشیں اسی شعبہ سے تعلق رکھتی ہیں ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو مال کے ایک حد تک تو امین ہیں ، لیکن جب ان کا پیمانہ پر ہوجائے اور وہ اس حد سے گزر جائیں تو شیطانی وسوسے انہیں خیانت کی طرف کھینچ کرلے جاتے ہیں۔ سچے مومنین وہ ہیں جو امانت اور صحتِ عمل کاخیال دوسروں کے واجب و مستحب حقوق کے سلسلہ میں مال کی ہر حد میں بغیر کسی قید و شرط کے رکھتے ہیں ۔ اس قسم کے افراد کو ایمان اور تقویٰ زیب نہیں دیتا ہے ۔ مختصر یہ کہ جو افراد ہر حالت میں اور مال کی ہر مقدار کے سلسلہ میں امتحان و آزمائش سے عہدہ برا ہو سکیں ، وہ قابل اعتماد ، متقی ، پر ہیز گار اور عمدہ شخصیت کے حامل ہوتے ہیں اور بہترین دوست و احباب شمار ہوسکتے ہیں ۔ وہ دوسرے معاملات میں بھی ( عام طور پر ) پاک اور عمدہ افراد ہوتے ہیں ۔ مندرجہ بالا آیات جو مالی آزمائشوں تک محدود ہیں وہ اسی وجہ سے ہیں ۔ ۲۱۔ کلا اذا دکت الارض دکاً دکاً۔ ۲۲۔ و جآء ربک و الملک صفاً صفاً۔ ۲۳۔ و جِایْ ٓءَ یومئذ بجھنم یومئذٍ یتذکر الانسان و انّٰی لہ الذکریٰ ۔ ۲۴۔ یقول یٰلیتنی قدمت لحیاتی۔ ۲۵۔ فیومئذٍ لایعذب عذابہٓ احدٌ۔ ۲۶۔ ولا یو ثق وثاقہٓ احدٌ۔ ترجمہ ۲۱۔ ایسانہیں ہے جیساکہ وہ خیال کرتے ہیں جس دن زمین کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائے گی ۔ ۲۲۔ اور تیرے پروردگار ک افرمان پہنچے گا اور ملائکہ صف بہ صف ہوں گے ۔ ۲۳۔ اور اس دن جہنم کو حاضر کریں ۔ جی ہاں ! اس دن انسان متذکرہ ہوگا، لیکن کیسا فائدہ اس لئے کہ یہ تذکراس کے لئے سود مند نہیں ہوگا ۔ ۲۴۔ وہ کہے گا کاش اس زندگی کے لئے میں نے کوئی چیز بھیجی ہوتی ۔ ۲۵۔ اس دن کوئی بھی اس جیسا عذاب نازل نہیں کرے گا۔ ۲۶۔ اور کوئی شخص اس کی طرح کسی کو قید و بند میں نہیں جکڑے گا۔ ۱۔ بحار الانوار، جلد ۱۵، ص ۱۲۰( چاپ قدیم )۔ ۲۔ تحاضون اصل میں تتحاضون تھا جس کی ایک تاء تخفیف کے لئے حذف ہوگئی ۔ ۳۔ طعام اس آیت میں اور زیر بحث آیت میں مصدر ی معنی رکھتا ہے اور اطعام( کھانا کھلانے ) کے معنی میں ہے ۔ ۴۔ ” لم “ کے معنی جمع کرنا ہیں اور کبھی ایسا جمع کرنا جس میں اصلاح کا مقصد بھی کا رفرماہو، اس کے معنی میں آتا ہے ۔ 5۔ تراث اصل میں وارث ( تراث ہی وزن پر )تھا اس کی واو تا میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ 6۔ جم جیساکہ مصباح اللغة اور مقاییس میں آیا ہے کہ کثیر اور فراوان کے معنی میں اور جمّہ بر وزن جبّہ سے کے آگے کے جمع شدہ بالوں کے معنی میں ہے ۔