وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ
Woe to the defrauders, who use short measures,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 83:1
[Pooya/Ali Commentary 83:1] Mutaffif is he who gives short measure, and short weight, thus cheating his fellow-men. Islam enjoins honesty and justice in all dealings. Do as you would like to be done by. Give in full what is due from you. When this surah was revealed the Holy Prophet went to the market place, recited it to the merchants and told them: "If giving less than due becomes a usual practice among a community, famine, drought and bad harvests afflict them as a punishment."
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 83:1-36
Bodily notes are sufficient. It may be pointed out, Divine Lights are created of the purest heavenly earth and heart of the faithful being similarly thereof. that is why the hearts of the faithful are inclined to them, and vice versa, transgressors being created of lowest earth and hearts of their followers being similarly thereof. Compare St. John 6:29: Jesus said, “This is the work of God – which ye believe on Him, whom He hath sent. And him that cometh to me I will, in no wise cast out. For I came down from Heaven, not to do mine will, but will of him who sent me.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 83:1-6
کم تولنے والوں پر وائے ہے
ان آیات میں ہر چیز سے پہلے کم تولنے والوں کو شدید عذاب کا مستحق ٹھہرا کر فرماتا ہے :” وائے ہے کم تولنے والوں پر “ ( ویل للمطففین )۔ یہ حقیقت میں خدا کی جانب سے ان ظالم ، ستمگر اور گندے لوگوں کے خلاف اعلان جنگ ہے جو بز دلوں کی طرح لوگوں کا حق پامال کرتے ہیں ۔ ” مطففین “ ۔ ” تطفیف“ کے مادہ سے اصل میں ” طف“ سے لیا گیا ہے جوکسی چیز کے کناروں کے معنی میں ہے اور یہ جو سر زمین کربلا کو وادیِ طف کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فرات کے کنارے پر واقع ہے ۔ اس کے بعد ہرکم چیز پر طفیف کا اطلاق ہوتاہے ۔ اسی طرح وہ پیمانہ جولبریز نہ ہو ، وہاں بھی یہی لفظ بولا جاتا ہے ۔ اس کے بعد یہ لفظ کم تولنے کےلئے استعمال ہوا ہے خواہ وہ کسی شکل و صورت کا ہو ۔ ” ویل “ یہاں شر، و غم اندوہ ، ہلاکت یا دردناک عذاب یا جہنم کی سخت جلانے والی وادی کے معنوں میں ہے عام طور پر یہ لفظ نفرین کرنے اور کسی چیز کی قباحت کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتاہے ، یا یہ کہ ایک مختصر سی تعبیر ہے جو بہت سے مفاہیم کو چاہتی ہے ۔ قابل توجہ یہ ہے کہ ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ خد انے لفظ ویل قرآن میں کسی شخص کے لئے استعمال نہیں کیا مگر یہ کہ اس کو کافر کہا ہے ( فویل للذین کفروا من مشھد یوم عظیم) ”وائے ہے کافروں پر عظیم دن کے مشاہدہ سے “۱ ( مریم ۔ ۳۷) اس روایت سے معلوم ہوتاہے کہ کم تولنے سے کفر کی بو آتی ہے ۔ اس کے بعدمطففین یعنی کم تولنے والوں کے کام کی تشریح کرتے ہوئے فرماتاہے :” وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے لئے تولتے ہیں تو اپنا حق مکمل طور پر وصول کرتے ہیں “ ( و الذین اذااکتالوا علی الناس یستوفون )۔ ۲ لیکن جب وہ چاہتے ہیں کہ دوسروں کے لئے تولیں تو کم تولتے ہیں ( و اذاکالوھم او وزنوھم یخسرون)۔ مفسرین کی ایک جماعت نے مندرجہ بالا آیات سے اس طرح استفادہ کیا ہے کہ مطفف سے مرادہ وہ شخص ہے جو خریدتے وقت اپناحق زیادہ لیتاہے اور بیچتے وقت مقابل کو اس کے حق سے کم دیتاہے ۔ اسی لئے خدا نے دونوں پہلووٴں کے پیش نظر ان پر ویل رکھی ہے ۔ لیکن یہ ایک اشارہ ہے اور غلط ہے کیونکہ ” یستوفون “ کا مفہوم یہ ہے کہ اپنا حق مکمل طو رپر وصول کرتے ہیں اور ایسا پہلو جس میں اپنے حق سے زیادہ لینے کی بات ہو اس عبارت میں موجود نہیں ہے اور یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ خد انے ان کی مذمت کی ہے ان دو حالتوں کے ایک دوسرے سے تقابل کی شکل میں ہے کہ خرید تے وقت پورا پورا حق لیتے ہیں اور بیچتے وقت کمی کرتے ہیں ۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح ہم کسی کی مذمت میں کہتے ہیں ” جب کسی سے اس کو کوئی چیز لینی ہوتی ہے تو وعدہ کے مطابق (جو وقت مقرر ہو عین اسی وقت ) لیتا ہے لیکن کسی کو کچھ دینا ہو تو مہینوں تاخیر کرتا ہے “۔ حالانکہ اپنی طلب کا وعدہ کے مطابق لینا کوئی بری با ت نہیں ہے ، لیکن ان دونوں کے تقابل کا جائزہ لینے کے نتیجے میں بری بات ہے ۔ قابل توجہ با ت یہ ہے کہ حق لینے کے معاملہ میں گفتگو کیل کے بارے میں ہے لیکن دینے کے معاملہ میں گفتگو کیل و وزن دونوں کے حوالے سے ہے ۔ تعبیر کا یہ فرق ہوسکتا ہے کہ ، ذیل کی دو وجوہ میں سے کسی ایک کی بناپر ہو :۔ پہلی وجہ یہ کہ خرید ار عام طور پر پہلے زمانے میں کیل سے استفادہ کرتے تھے اس لئے کہ بڑی ترازو جو زیادہ وزن تول سکے اس زمانے میں موجود لیکن بڑے پیمانہ آسانی سے مل سکتے تھے ۔ (”کر“ کے بارے میں بھی علماء نے کہا کہ یہ لفظ اصل میں ایک بڑے پیمانہ کا نام ہے ) بیچتے وقت وہ تھوک کا کا روبار کیل سے کرتے تھے اور وزن کے ذریعہ خوردہ فروشی کرتے تھے ۔ دوسرے یہ حق لینے کے وقت پیمانے سے زیادہ استفادہ مناسب ہے کیونکہ اس میںدھوکہ کا امکان بہت کم ہے ، لیکن کم تولنے کے لئے وزن کا ذریعہ زیادہ مفید ہوتا ہے اس لئے کہ اس میں دھوکہ دینے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالاآیات اگرچہ صرف کیل و وزن کے حوالے سے کم تولنے کی بات کرتی ہیں لیکن اس میں شک نہیں کہ آیت کا مفہوم وسیع ہے اور اس کا اطلاق کم تولنے کے سلسلہ میں ان چیزوں پر بھی ہے جن کا لین دین گن کرہوتاہے ۔ بلکہ یہ بھی بعید نہیں کہ آیت اپنے مفہوم کی گہرائی کے اعتبار سے موعودہ خد مت میںکمی کرنے کوبھی اپنے دامن میں سمیٹ لے ۔ مثال کے طور پر کوئی کاریگر یامزدور اپنا کام صحیح طو رپرمکمل نہیں کرتا تو وہ بھی مطففین کا مصداق ہے یعنی کم تولنے والوں کی صف میںہے ، جن کی یہ آیتیں سختی سے مذمت کررہی ہیں ۔ بعض مفسرین اس آیت کو اور زیادہ وسیع معانی کا حامل سمجھتے ہیں اور حدود خدا وندی سے ہر قسم کا تجاوز اور اجتماعی و اخلاقی روابط میں کمی کو بھی اس کے مفہوم میں شامل سمجھتے ہیں ۔ اگر چہ اس آیت کے الفاظ سے ان معانی کا استفادہ واضح نہیں ہے ، لیکن غیر مناسب بھی نہیں ہے ۔ اس لئے مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود سے منقول ہے کہ نماز میں ایک معقول پیمانہ ہے جو شخص اس کا کیل مکمل طو ر پر ادا کرے تو خدا ا س کا اجر مکمل دے گا اور جو شخص اس میں کمی کرے تو اس کے بارے میں وہی کچھ جاری ہوگا جو خدا نے مطففین یعنی کم تولنے والوں کے بارے میں فرمایاہے ۔ 3 اس کے بعدپروردگار عالم ایسے لوگوں کو تنبیہ یعنی استفہام ِ تو بیخی کے ذریعہ متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” کیا وہ باور نہیں کرتے کہ قبروں سے اٹھائے جائیں “( الا یظن اولٰئک انھم مبعوثون)۔ ”عظیم دن “ ( لیوم عظیم)۔ وہ دن جس کا حساب عذاب اور اس کی ہولناکی اور سب عظیم ہیں ۔ ” وہ دن جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اور رب العالمین کے بارہ گاہ میں حاضر ہو ںگے “۔ ( یوم یقوم الناس لرب العالمین )۔ یعنی وہ اگر قیامت کو باور کرتے اور جانتے کہ حساب کتاب ہو نا ہے اور تمام اعمال ایک عظیم عدالت میں محاکمہ کے لئے پیش ہوںگے جس شخص نے سوئی کی نوک کے برابراچھا یا برا کام کیا ہے اس کا نتیجہ وہ اس عظیم دن دیکھے گا ، پھر وہ کبھی اس قسم کا ظلم و ستم نہ کرتے اور لوگوںکے حقوق پامال نہ کرتے ۔ بہت سے مفسرین ” لظن“ کو جو ظن کے مادہ سے ہے یہاں یقین کے معنی میں سمجھتے ہیں ۔ اس تعبیر نظیر قرآن مجید میںموجود ہے ۔مثلا ً سورہ بقرہ کی آیت ۲۴۹( قال الذین یظنون انھم ملاقوا اللہ کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرةً باذن اللہ) جو مانتے تھے کہ خدا سے ملاقات کریں گے ( اور وہ قیامت کے دن پر بھروسہ رکھتے تھے ) ”انہوں نے کہاکہ چھوٹے گروہ تھے جو حکم خدا سے بڑے گروہ کے مقابلہ میں کامیاب ہوئے “ ( توجہ رکھیں کہ یہ آیت بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے بارے میں ہے جس نے ایمان و استقامت کا مختلف مراحل میں مظاہرہ کیا تھا ۔ اس بات کی شاہد و ناطق وہ حدیث ہے جو امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے آیہ ( الایظن اولٰئک انھم مبعوثون لیوم عظیم ) کی تفسیر میں فرمایا کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ( الیس یوقنون انھم مبعوثون)؟ کیا انھیں یقین نہیں ہے کہ وہ قبروں سے اٹھیں گے ؟4 انہی حضرت سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ظن کی دو قسمیں ہیں ، ظن تردید اور ظن یقین ۔ جو قرآن میں معاد اور قیامت کے بارے میں آیاہے وہ ظن یقین ہے اور جو کچھ دنیا کے بارے میں آیا ہے وہ ظن ِ شک ہے ۔ 5 ایک جماعت کی طرف سے یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ ظن سے یہاںمراد موجودہ دور کے مشہور معانی گمان کئے گئے ہیں جو اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کی جان او ر روح میں قیامت کی طرف توجہ کرنا اس طرح اثر کرتاہے کہ اگر کوئی شخص اس کا گمان بھی کرتاہو اور اس کو ایک دن کا احتما ل بھی ہو تو وہ برے کاموں سے اجتناب کرے چہ جائیکہ اس کا یقین رکھتا ہو۔ یہ وہی چیز ہے جو علماء کے درمیان دفع غرر مظنون یا دفع ضرر محتمل کے عنوان سے مشہور ہے ۔ اب اس بات کا مفہوم یہ ہوگا کہ یہ بے پروا ہ اور بے باک گناہگار نہ صرف یہ کہ قیامت کا یقین نہیں رکھتے ، بلکہ س کا گمان بھی نہیں رکھتے ،لیکن پہلی تفسیر ، ان وجوہ کی بناپر ، جو بیان کی گئی ہیں مقدم ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ لفظ ظن راغب کے مفردات کی رو سے اصل میں اس حالت کا نام ہے جو چند قرائن کے ہونے کی وجہ سے فکر انسانی کو حاصل ہوتی ہے اگر نشانیاں قوی ہوں تو علم و یقین لے آتی ہے اور اگر نشانیاں کمزور ہوں تو پھر وہ گمنا م کی حد سے آگے نہیں بڑھتی ۔ 6 اس بناپر مذکورہ لفظ ، ا س کے برخلاف جو ہمارے زمانہ میں مشہور ہے ، وسیع ،مفہوم رکھتا ہے جس میں علم اور گمان دونوں شامل ہیں اور دونوں کے لئے استعمال ہوتاہے ۔ ۱۔ اصول کافی مطابق نقل نو رالثقلین ، جلد۵ ، ص۵۲۷۔ ۲۔ یہاں علی الناس کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ لوگوں پر وہ کوئی حق رکھتے ہیں اور تقدیر اذا کالوا ما علی الناس تھی اور اصولاً ”کال علیہ“ وہاں کہا جاتاہے جہاں کیل کا مقصد حق لینا ہوتاہے باقی رہا ”کالہ“ اور” کال لہ“ اس جگہ سے مربوط ہے جہاں 3.مجمع البیان جلد 10 صقحه 252 4۔ تفسیر بر ہان ، جلد ۴ ، ص ۳۸۔ 5۔ نو ر الثقلین ، جلد ۵، ص۵۲۸۔ 6۔ مفردات، مادہ ظن۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 83:1-6
کم تولنا فساد فی الارض کا ایک سبب ہے
قرآن مجید کی آیات میں کئی مرتبہ کم تولنے کی مذمت کی گئی ۔ کبھی حضرت شعیب کے واقعہ میں جہاں وہ قوم کو خطاب کرکے کہتے ہیں ( اوفوا الکیل ولاتکونوا من المخسرین وزنو ا بالقسطاس المستقیم ولاتبخسوا الناس اشیاء ھم ولاتعثوا فی الارض مفسدین ) ”پیمانے کے حق کو ادا کرو اور دوسروںکو نقصان نہ پہنچاوٴ۔وزن صحیح ترازومیں کرو اور لوگوں کے حق میں کمی نہ کرو اور زمین میں فساد بر پا نہ کرو“۔ ( شعراء۔ ۱۸۱ تا ۱۸۳)۔ اس طرح وزن کرتے وقت اور چیز کو پیمانے سے ناپتے وقت تولنے کو اور انصاف کو نظر انداز کرنے کو فساد فی لارض بتا یا گیا ہے اور یہ کام اجتماعی مفاسد میں سے ایک ہے ۔ سورہ رحمن کی آیت ۷/۸ میں وزن کرتے وقت انصاف سے کام لینے کو عالم ہستی کے نظام تخلیق میں عدالت کار فرما ہے ، اس کے برابربر قرار دیا گیاہے ، فرماتاہے : ( و السماء رفعھا و وضع المیزان الاَّ تطغوا فی المیزان ) ” خد انے آسمان کو بلند کیا اورہر چیز میں میزان و حساب رکھا تاکہ تم وزن و حساب میں طغیان و سر کشی سے کام نہ لو “۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ناپ تول میں عدل کی رعایت کا مسئلہ کم اہم نہیں ہے بلکہ حقیقت میں اصل عدالت ہے اور سارے نظام ہستی پر حاکم نظم کلی ک ایک جز ہے ۔ اسی بناپر عظیم آئمہ اسلام نے اس مسئلہ کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے ، یہاں تک کہ اصبغ بن نباتہ کی مشہور روایت میں آیاہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی علیہ السلام سے سنا کہ آپ منبر پر فرمارہے تھے: ( یامعاشر التجار ! الفقہ ثم المتجر ) اے گروہ تجار پہلے فقہ کی تعلیم حاصل کرو اس کے بعد تجارت کرو “ ۔ اس بات کی امام نے تین بار تکرار کی اور اس کلام کے آخر میں فرمایا : ( التاجر و الفاجر فی النار الاَّ من اخذ الحق و اعطی الحق ) ” تجارت کرنے والافاجر ہے اور فاجر دوزخی ہے سوائے اس کے جو صرف اپنا حق لوگوں سے لے اور لوگوں کا حق ادا کرے “۔ ۱ ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس وقت امیر المومنین علی علیہ السلام کوفہ میں تھے تو آپ ہر روز صبح کے وقت کوفے کے بازاروں میں آتے اور ایک ایک بازار میں گشت کرتے اور تازیانہ آپ کے کاندھے پر ہوتا ہر بازار کے وسط میں کھڑے ہو جاتے اور بلند آواز سے کہتے اے گروہ تجار ! خدا سے ڈرو ۔ جس وقت حضرت علی علیہ السلام کی پکار کو سنتے جو کچھ تاجروںکے ہاتھوں میں ہوتا رکھ دیتے اور پورے خلوص کے ساتھ آ پ کی باتوں کو سنتے ۔ اس کے بعد آپ فرماتے : قدموا الاستخارة وتبرکوا بالسھولة و اقتربوا من المبتاعین و تزینوا بالحلم و تناھوا عن الیمین وجانبوا الکذب وتجافوا عن الظلم و انصفوا المظلومین ولا تقربوا الربا و اوفوا الکیل و المیزان ولا تبخسوا الناس اشیاء ھم و لاتعثوا فی الارض مفسدین ) ” خد اسے خیر طلب کرو اور لوگوں کے ساتھ معاملہ آسان کرکے بر کت چاہو اور خریداروں کے پاس جاوٴ ، حلم و برد باری کو اپنی زینت قرار دو، قسم کھانے سے پرہیز کرو ، جھوٹ بولنے سے اجتناب کرو ، ظلم سے بچو اور مظلوموں کا حق ظالموں سے لے کر دو ، سود کے قریب نہ جاوٴ، پیمانے اور وزن کے معاملہ میں پورے پورے انصاف سے کام لو ، لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور زمین میں باعث فسا د نہ بنا کرو ۔ اس طرح کہ آپ کوفہ کے بازاروں میں گردش کرتے ، اس کے بعد دار الامارة کی طرف پلٹ آتے اور لوگوں کی داد خواہی اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے بیٹھ جاتے ۔2 اور جیسا کہ ان آیات کی شان نزول میں بھی آیا ہے کہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں :” جو گروہ کم تولے گا خدا اس کی زراعت اس سے چھین لے گا اور اسے قحط سالی میں مبتلا کردے گا ، جو کچھ اوپر کہا گیا اس سے معلوم ہو تاہے کہ بعض گزشتہ اقوال کی بربادی اور ان پرعذاب نازل ہونے کے عامل یہ ہے کہ وہ کم تولتے تھے ۔ ان کا یہ اقدام ان کی اقتصادی بدحالی اور نزولِ عذاب خدا کا سبب بنا۔ یہاں تک اسلامی روایت میں آداب تجارت کے سلسلہ میں آیاہے کہ مومنین کے لئے بہتر ہے کہ پیمانے بھر تے اور وزن کرتے وقت زیادہ دیں او ر لیتے وقت اپنا حق کچھ کم لیں ( ( ان لوگوں کے کام کے بالکل بر عکس جن کی طرف مندرجہ بالا آیات میں اشارہ ہو اہے کہ وہ اپنا حق تو پورا پورا وصول کرتے تھے لیکن دوسروں کا حق کم دیتے تھے )3 دوسرے ، جیساکہ ہم نے اوپر والی آیت کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کم تولنے کا مسئلہ بعض مفسرین کے نظریہ کے مطابق وسیع معا نی کا حامل ہے ، جو ہر قسم کے اجتماعی و انفرادی اور خدا سے تعلق رکھنے والی ذمہ داریوں کے انجام دینے کے سلسلہ میں کمی ہو سکتی ہے ، اس کو بھی اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے ۔ ۷۔ کلّا ٓ اِنَّ کتٰب الفجّٓر لفی سجّینٍ ۔ ۸۔ وماَ ادرٰک ما سجِّینٌ۔ ۹۔ کتٰبٌ مرقومٌ۔ ۱۰۔ویلٌ یَّومَئِذٍ للمُکذِّبینَ۔ ترجمہ ۷۔ اس طرح نہیں ہے ( جیساکہ وہ قیامت کے بارے میں خیال کرتے ہیں ) یقینافاجروں کا نامہ اعمال سجّین میں ہے ۔ ۸۔ تو کیاجانے سجّین کیاہے ؟ ۹۔ رقم زدہ نامہ اور سرنوشت ہے۔ ۱۰۔ وائے ہے اس دن تکذیب کرنے والوں پر۔ ۱۔ کافی ، جلد۵ ، باب آداب التجارة حدیث۱۔ 2۔ کافی، باب آداب التجارة حدیث ۳ ( تھوڑے سے اختصار کے ساتھ ) 3۔وسائل الشیعہ ، جلد ۱۲ ، ابواب التجارة باب ۷ ، ص ۲۹۰ سے رجوع فرمائیے۔