فَإِذَا جَاءَتِ الطَّامَّةُ الْكُبْرَى
When the Greatest Catastrophe befalls
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 79:34
[Pooya/Ali Commentary 79:34] As said in verse 14, on the day of judgement man will be fully aware of what he used to strive for in the life of the world. He will not only remember every detail of his deeds but also clearly see the fire of punishment. The eternal punishment will be given to those who had wilfully and persistently disobeyed Allah and transgressed all bounds. The punishment will not touch those who had repented and have been forgiven; and those who are guilty of minor sins through human frailty, their good deeds will be weighed in the balance against their bad deeds. Those who feared the punishment, paid heed to Allah's warnings and restrained their souls from lust, will dwell in paradise.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 79:34-41
سورہ نازعات آیہ 34 تا 41
(34) فَاِذَا جَآءَتِ الطَّـآمَّةُ الْكُبْـرٰى (35) يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰى (36) وَبُرِّزَتِ الْجَحِـيْـمُ لِمَنْ يَّرٰى (37) فَاَمَّا مَنْ طَغٰى (38) وَاٰثَـرَ الْحَيَاةَ الـدُّنْيَا (39) فَاِنَّ الْجَحِـيْمَ هِىَ الْمَاْوٰى (40) وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْـهَـوٰى (41) فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِىَ الْمَاْوٰى ترجمہ (34) جس وقت وہ عظیم حادثہ رونما ہوگا ۔ (35) تو اسی دن انسان اپنی کوششوں کو یاد کرنے لگے گا۔ (36) اور جہنم ہر دیکھنے والے کے لیے آشکار ہو جائے گا۔ (37) لیکن جب شخض نے سرکشی کی ہے۔ (38) اور اس نے دنیا کی زندگی کو مقدم رکھا۔ (39) یقینًا جہنم اس کا ٹھکانہ ہے۔ (40) اور جو شخص اپنے پروردگار کے مرتبہ سے واقف تھا اور اس نے اپنے نفس کو ہوا و ہوس سے روکا۔ (41) جنت اس کی جگہ ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 79:34-41
1- مقام رب کیاہے
1- مقام رب کیاہے قابل توجہ یہ ہے کہ زیر بحث آیات میں فرماتا ہے : "جو شخص اپنے پروردگار کے مقام سے ڈرے "یہ نہیں فرماتا: "جو اپنے پروردگار سے ڈرے" یہ کہ مقام سے کیا مراد ہے اس سلسلہ میں متعد تفاسیر ہیں۔ 1- اس پہلی تفسیر یہ ہے کہ اس مقام سے مراد مختلف مواقف قیامت ہیں جن میں انسان بارگاه خداوندی ۔----------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر نورالثقلین ، جلد 5ص 506 حدیث 43- ۔------------------------------------------------------------- میں حساب کتاب کے لیے ٹھہرے گا۔ اس تفسیر کی بنا پر "مقام ربه" کے معنی (مقامه عند ربه) انسان کا بارگاہ خدا میں کھڑا ہونا ہیں۔ 2۔ مراد خدا کا علم اور تمام بندوں کے بارے میں اس کا مقام مراقبت و نگهبانی ہے جیسا کہ سورہ رعد کی آیت 33 میں آیا ہے (افمن هو قائم على كل نفس بما كسبت) کیا وہ جو سب کے سروں پر کھڑا ہے اور سب کے اعمال کا نگہبان ہے اس شخص کی طرح ہے جو صفت نہیں رکھتا۔ اس تفسیر کی دوسری شا ہد وہ حدیث ہے جو امام جعفر صادق سے منقول ہے (من علم ان الله يراه و اسمع ما لقول والعلم ما يعلمه من خير او شرنيجزه ذالک عن القبيح من الاعمال فذالك ما الذي خاف مقام ربه ونهى النفس عن الهوٰی) جوشخص جانتا ہے کہ خدا اسے دیکھتا ہے اور جو کچھ یہ کہتا ہے اسے وہ سنتا ہے اور جو خیروشر یہ انجام دیتا ہے اس سے وہ آگاہ ہے اور یہ توجہ اسے قبیح اعمال سے روکتی ہے، وہ ایسا شخص ہے جو اپنے پروردگار کے مقام سے خائف ہے اور اس نے اپنے آپ کو ہواۓ نفس سے باز رکھا ہے۔ 3- مراد اس کا مقام عدالت ہے۔ اس لیے کہ اس کی ذات مقدس خوف کا سبب نہیں ہے خوف اس کی عدالت کا ہے اور حقیقت میں یہ خوف اس کے عدل کے ساتھ اپنے اعمال کے موازنہ سے محسوس ہوتا ہے جیسا کہ مجرم لوگ ایک عادل قاضی کو دیکھ کر لرزنے لگتے ہیں اورحکمہ عدالت کا نام سن کر ان کو وحشت ہو نے لگتی ہے جبکہ بے گناہ شخص نے اس سے خوف کھاتا ہے اور نہ اسے وحشت ہوتی ہے۔ ان تینوں تفسیروں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے لہذا ممکن ہے کہ یہ سب معانی آیت میں موجود ہوں.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 79:34-41
وہ جو اپنے نفس کو هوا و هوس سے باز رکهیں
تفسیر وہ جو اپنے نفس کو هوا و هوس سے باز رکهیں اس اشارہ کے اور جوگزشتہ آیات میں معار کے لش دلائل کے بارے میں گئے گزرا زیر بحث آیات میں قیامت ، اس میں خدا سے ڈرنے والوں اور ہوائے نفس کے پرستاروں کی سرنوشت کی طرف رجوع کرتے ہوئے فرماتا ہے : جس وقت وہ عظیم حادثہ رونما ہوگا تو نیکوکاروں اور بدکاروں میں سے ہر ایک اپنے اعمال کی جزا کوپہنچنے گا (فاذا جاوت الطامة الكبرٰی)۔ ؎1 "طامة" "طم" (بروزن فن) کے مادہ سے پر کرنے کے معنوں میں آتا ہے اور وہ چیز جو اعلٰی ہو اسے "طامة" کہتے ہیں اسی لیے سخت حوادث اور عظیم مصائب و مشکلات سے پر ہیں ان پربھی طامۃ کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہاں قیامت کی طرف اشارہ ہے جو ہولناک حوادث سےپُر ہے، اس کی انتہائی توصیت کے ساتھ اس بے مثال حادثہ کی اہمیت و عظمت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تاکید کرتے ہوئے فرماتاہے: ۔ "یہ عظیم حادثہ جس وقت وقوع پذیر ہوگا سب کے سب خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں گے اور انسان اپنی کوشش اور اپنے اعمال کو خواہ وہ اچھے ہوں یا برے، یا د کرے گا"۔ (يوم بتذكر الانسان ما سعٰی). لیکن اعمال کا یہ یاد کرنا انہیں فائدہ نہ دے گا۔ اگر انسان دنیا کی طرف واپس لوٹنے اور گزشتہ اعمال کی تلافی کرنے کے لیے مہلت طلب کرے گا تو اسے اجازت نہیں ملے گی اور اس مطالبہ کے جواب میں کلا کہیں گے۔ اگر توبہ کرے گا اور اپنے اعمال بد کی معافی مانگے گا تو کوئی فائده نہ پہنچنے گا کیونکہ توبہ کے دروازے بند ہو چکے ہوں گے لہذا سوائے آہ کرنے کے اور افسوس کرنے کے کوئی اور چارہ کار نہ ہوگا اور بقول قرآن اگر وہ دونوں باتوں کو دانتوں سے بھی ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 "اذا" شرطیہ ہے اور اس کی جزا بعض مفسرین کے بقول بعد والی آیات میں (فاها من طغى .... واما من خاف مقام ربه) آتی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اس کی جزا کو اس طرح محزف کیا جائے اور بعد والی آیات سے معلوم ہوتی ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے " فاذا جاءت الطامة الكبرى يجزكل انسان بما عمل"۔ بعض نے یہ احتمال بھی پیش کیا ہے کہ اس کی جزا يوم يتذكر الانسان سے معلوم ہوتی ہے لیکن یہ احتمال بعید ہے۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کاٹیں گے تو گوئی فائدہ نہ ہوگا۔ "ويوم يعض الظالم على يديه" (فرقان - 27)۔ توجہ کرنی چاہیئے کہ يتذکر فعل مضارع ہے اور عام طور پر استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی اس روزانسان اپنے اعمال کومسلسل یاد کرے گا۔ یہ اس بنا پرکہ اس روز انسان کی روح اور اس کے قلب کے آگے سے پردے اٹھ جائیں گے اور تمام پوشیدہ حقائق پر آشکار ہو جائیں گے ۔ اس کے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے: "اس دن جہنم ہر دیکھنے والے کے لیے آشکار ہو گا" (وبرزت الجحيم لمن یرٰی) جہنم اس وقت بھی موجودہے، بلکہ سورہ عنکبوت کی آیت 54 (وان جهنم لمحيطه بالکافرین کے مطابق کا فروں کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے لیکن عالمی دنیا کے پردے اس کی روایت سے مانع ہیں ۔ وہ دن جو ہر چیز کے شکار ہونے کا دن ہوگا، اسی روز جسم ہر چیز سے زیادہ آشکار ہوگا ۔ "لمن یرٰی" کا جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ جہنم اس دن اس قدر آشکار ہو گا کہ ہر شخص بلا استثناء اسے دیکھے گا ۔ وہ کسی سے مخفی نہ ہوگا ، نہ اچھے لوگوں سے نہ برے لوگوں سے کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ یہ جملہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اس دن چشم بینا رکھتے ہوں گے کیونکہ سورہ طٰہٰ کی آیت 124 کے مطابق بعض لوگ اس دن نابینا محشور ہوں گے (ونحشره يوم القيامة اعمٰی) لیکن پہلے معنی جھنیں تمام مفسرین نے قبول کیا ہے زیادہ مناسب نظر آتے ہیں ، اس لیے کہ جہنم بدکاروں کے لیے خود عذاب ہے کئی گُنی سزاہے اور ایک گروہ کا محشر میں نابینا ہونا ممکن ہے بعض مواقف میں ہونہ کہ تمام مواقف میں۔ ؎1 باقی رہا وہ شخص جو سرکشی کرے (فاما من طغٰی). اور دنیاوی زندگی کی ہر چیز پر قدم رکھے ۔ (واثر الحياة الدنيا) - تو یقینًا جہنم اس کی جگہ اور ملجا و مادیٰ ہے (فان الجحيم في المادٰی) ۔ ؎2 پہلے جملے میں ان کے عقیدہ کے خراب ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے اس لیے کہ طغیانی وسرکشی اپنے آپ کو بڑا سمجھنے سے پیدا ہوتی ہے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنا خدا کی معرفت نہ ہونے کی بنا پر ہوتا ہے۔ جو شخص خدا کو اس کی عظمت کے ساتھ پہچان لے تو وہ اپنے آپ کو بہت خفیف اور چھوٹا دیکھے گا اور کبھی بھی جاوۂ عبودیت سے انحراف نہیں کرے گا۔ دوسرا جملہ ان کے عملی فساد کی طرف اشارہ ہے اس لیے کہ طغیان و سرکشی سبب بنتے ہیں کہ دنیا کی عجلد ختم ہو جانے والی لذتوں اور اس کی چمک دمک کو زیادہ قیمتی سمجھے اور ہر چیز پرانھیں ترجیح دے۔ ۔------------------------------------------------------------------------ ؎1 اس سلسلہ میں مزید وضاحت جلد13 ص 330 سوره طٰہٰ کی آیت 124 اکے ذیل میں ہوچکی ہے۔ ؎2 آیت میں محذوف ہے اور تقدیر میں هي المأوى له يا هي مأواہ ہے اور ضمیر وضاحت کی بنا پر حزف ہوتی ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------- یہ دونوں درحقیقت ایک دوسرے کے علت و معلول ہیں ، طغیان اور عقیدہ کا خراب ہونا فساد عمل اور دنیاکی ناپائیدار زندگی کو ہر چیز پر ترجیح دینے کا سرچشمہ ہے۔ آخر کار یہ دونوں جہنم کی جلا دینے والی آگ ہیں۔ حضرت علیؑ ایک حدیث میں فرماتے ہیں (ومن طغٰی ضل علٰى عمل بلا حجة) وشخض سرکشی کرے وہ گمراہ ہو جائے گا اور ایسے اعمال کرے گا جن کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی۔ ؎1 یہ چیز خود کو بڑا سمجھانے سے پیدا ہوتی ہے کہ انسان اس طرح اپنی تمام خواہشات کو بغیرکسی منطقی دلیل قبول کر لیتا ہے اور اس کے لیے اوج کا قائل ہوتا ہے۔ اس کے بعد جنتیوں کے اوصاف کو مختصر اور بہت ہی پرمعنی جملوں میں پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے اور باقی رہا وہ شخص جو اپنے پروردگار کے مرتبہ سے ڈرے اور نفس کو ہوا و ہوس سے روکے... (و اما من خاف مقام ربه ونهى النفس عن الهوٰی)۔ "تو اس کا ٹھانہ جنت ہے "(فان لجنة هي الماوٰی) جی ہاں جنتی ہونے کی پہلی شرط خوف ہے جو معرفت سے پیدا ہو پروردگار کے مقام کو پہچاننا اور اس کے فرمان کی مخالفت سے ڈرنا۔ دوسری شرط جو حقیقت میں پہلی شرط کا نتیجہ اور معرفت و خوف کے درخت کا ثمر ہے، وہ یہ ہے کہ ہوائے نفس کو زیر تسلط رکھا جا ئے اور اسے سرکشی نہ کرنے دی جائے، اس لیے کہ ہوائے نفس تمام گناہوں مفاسد اور بدبختیوں کا سر چشمہ ہے، یہ بدترین اور قابل نفرت بت ہے جسے معبود بنا لیا گیا ہے۔ (ابغض اله عبد علٰى وجه الارض الهٰوی) یہاں تک کہ وجود انسان میں شیطان کے نفوذ کا ذریعہ بھی ہوائے نفس ہے. کو زیر تسلط رکھا جائے اور اسے سرکشی نہ کرنے دی جائے، اس لیے کہ ہوائے نفس ، اگر یہ اندرونی شیطان اور بیرونی شیطان ہم آہنگ نہ ہوں اور اند روفی شیطان اس پر دروازه نہ کھولیں تو اس کا وارو ہونا ممکن نہیں ہوتا جیسا کہ قرآن کہتا ہے (ان عبادی ليس لك عليهم سلطان الامن اتبعك من الغاوين(۔ "تجھے کبھی بھی میرے بندوں پر تسلط حاصل نہ ہو گا مگر وہ گمراہ جو تیر کی پیروی کرتے ہیں (حجر/ 42)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 79:34-41
3- صرف دو گروه
3- صرف دو گروه مندرجہ بالا آیات میں دو گروہوں کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ دنیا پرست طغیان وسرکشی کرنے والے اور صاحب تقوٰی خدا کا خوف کرنے والے۔ پہلے گروہ کی دائمی جگہ جہنم اور دوسرے گروہ کی جادوانی جائے سکونت جنت بنائی گئی ہے البتہ یہاں ایک تیسرا گروہ بھی ہے۔ وہ مومنین جو عمل کے لحاظ سے کچھ کوتاہیوں کا شکار ہیں، اگر خدا انہیں معاف کرے تو وہ جنت والے گروہ سے ملحق ہوجائیں گے اور اگر معافی نہ ملے تو دوزخ میں جائیں گے لیکن ان کا ٹھکانہ وہاں نہیں ہو گا ۔ مندرجہ بالا آیات میں ان کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 79:34-41
2 - طغان اور دنیا پرستی کے درمیان ربط
2 - طغان اور دنیا پرستی کے درمیان ربط حقیقت میں مندرجہ بالا مختصر قسم کی آیات انسان کے اصول سعادت و شقاوت کی خوب صورت اور شائستہ طریقہ سے تصویرکشی کرتی ہیں اور یہ بتاتی ہیں کہ انسان کی شقاوت اس کی سرکشی اور دنیا پرستی میں ہے اور سعادت خوف خدا اور ترک ہوا و ہوس میں ہے۔ انبیاء و اولیاء کی تمام تعلیمات کا نچوڑ بھی یہی چیز ہے۔ ایک حدیث امیرالمومنین علیؑ سے منقول ہے: ۔ (ان اخوف ما اخاف عليكم اثنان اتباع الهوى و طول الامل فاما اتباع الهوى فیصد عن الحق واماطول الأمل فينسي الأخرة) - زیادہ ہولناک چیزیں جن کا مجھے تمہارے بارے میں خوف ہے وہ دو ہیں ہوائے نفس کی پیروی اورطویل آرزوئیں . ہوا و ہوس کی پیروی تو تمہیں حق سے روک دے گی اورطویل آرزوئیں آخرت کو فراموشی کے سپرد کر دیں گی۔ ؎1 ۔------------------------------------------------------------------------- ؎1 نہج البلاغیہ خطبہ 42 - ۔------------------------------------------------------------------ خواہش کی پرستش انسانی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اس کے برے اعمال کو اس کی نظر میں مزین کرکے پیش کرتی ہے اور تمیز کی حس ، جو اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور انسان و حیوان میں وجہ امتیازہے اس سے چھین لیتی ہے اور اس کو اپنی ذات میں مشغول رکھتی ہے۔ یہ وہی بات ہے جو حضرت یعقوبؑ جیسے روشن ضمیر پغمبر نے اپنے نالائق بیٹوں سے کہی تھی (بل سولت و لكم انفسکم امرًا) (یوسف / 18)۔ یہاں باتیں بہت سی ہیں بہتر ہے کہ ابلبیت علیهم السلام کی احادیث میں سے دو حدثوں کی طرف اشاره کرتے ہوئے جن میں سب کہنے کی باتیں کہی گئی ہیں ، ہم اس بحث کو ختم کریں۔ امام باقر فرماتے ہیں: الجنة محفوفة بالمکارہ والصبر فمن صبر على المكاره في الدنيا دخل الجنة وجهنم محفوفة باللذات والشهوات فمن اعطى نفسها لذتهاوشهوتها دخل النار : جنت پریشانیوں ، صبرو شکیبائی اور استقامت میں گھری ہوئی ہے جو شخص پریشانیوں کے مقابلے میں (اور خواہشات کو ترک کرنے میں )دنیا میں صبر و شکیبائی سے کام لے وہ جنت میں داخل ہو گا۔اور جہنم غیر شرعی لذتوں اور سرکش خواہشات میں گھری ہوئی ہے جو اپنے نفس کو ان لذتوں اور خواہشوں کے مقابلہ میں آزاد چھوڑ دے، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ ؎1 امام جعفرصادق فرماتے ہیں: لاتدع النفس و هواها فان هواهاني رداها وترك النفس وما تھوی واءها وکف النفس عمانتھوی دواء ها: نفس کو ہوا ہوس ساتھ کے نہ چھوڑ، اس لیے کہ بواۓ نفس کی موت کا سبب اور نفس کو اس کی ہوا کے مقابلہ میں آزاد چھوڑ دینا اس کی بیماری ہے اور اس کو ہوا وہوس سے روکنا اس کی دوا ہے۔ ؎ 2 نہ صرف جہنم خواہش کی پرستش کا نتیجہ ہے بلکہ دنیا کے جلانے والے جہنم مثلاً بد امنی، بدنظمی ،جنگیں ،خونریزیاں لڑائیاں وغیرہ بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------- ؎ 1 نورالثتقلين ، جلد 5 507 حدیث 46۔ ؎ 2 نورالثتقلين ، جلد 5 507 حدیث 45۔