وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا
By the [angelic] emissaries sent successively,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 77:1
[Pooya/Ali Commentary 77:1] Aqa Mahdi Puya says: Mursalat, in addition to the winds sent forth, refers to all the communicating agencies who convey the divine blessings and grace to the created beings in various stages and realms, such as prophets, angels and other conscious and unconscious functionaries in the activity of communication. The winds are an important factor in governing the physical world. They bring the blessings of rain and fertility (Hijr: 22 and Rum: 48). They scatter seeds far and wide, separate chaff from grains, and clear pollution from the environment. There are innumerable benefits for mankind as well as other creatures in the blowing of the winds. They not only come on beneficent errands of mercy but also as violent tornadoes, uprooting and destroying, charged with the wrath of Allah to punish or to give a warning. Verses 5 and 6, as Aqa Puya has suggested, also refer to prophets and messengers of Allah. The prophets have followed one another, the verses, of the Quran came, one after another, to provide guidance for man's spiritual salvation. They uprooted the spiritually decadent human society. They sorted out believers and disbelievers in the path of Allah.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 77:1-40
Please do not forget insistent orders of Divine Lights are “prayers.” It is allged modern manwas not opposed to religion but was indifferent to it. He did not deny the existence of God, but did not want to bother about Him due to self-will. With the aid of science and technology, modern man though he could make the world a happy place (what about the Future State, when shall be a decisive vitory)? (See paragraph two of Moral at the end). Although it is agreed p ractically, on all hands, fundamental unity of all religions, and supreme ideal of life was the realization of God, yet they are ignorant, which various cults then propagated, have now been tampered with, and as subsequent Divine Lights came, pointed out these deviations from the original Divine Intentions. Last, faith, which is not going to be replaced anymore, and is universally applicable only, is valid until Dooms Day, appeal through Divine Lights to the living public, setting aside their passion and projecting aggression passionately (as non is authorized by God to put forth any directive appeal to the public to adhere and old mutilated cult, excep the Divine Lights on the basis of Final faith, they are now propagatging).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 77:1-15
خدا کے وعدے حق ہیں- وائے ہے تکزیب کرنے والوں کے لیے
تفسیر خدا کے وعدے حق ہیں، واۓ ہے تکذیب کرنے والوں کے لیے اس سورہ کے آغاز میں مقدمہ کے طور پر پانچ آیات میں پانچ قسمیں آئی ہیں، جن کے معنی کی تفسیر میں بہت اختلاف ہے۔ فرمایاہے:"قسم ہے ان کی جو پے درپے بھیجے جاتے ہے"۔(وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا)۔ ؎1 ــــــــــــــــــــــــــــــــــ "اور ان کی جو طوفانون اور تیز آندھی کی طرح حرکت جرتے ہیں"۔(فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ "اور قسم ہے ان کی جو پھیلاتے اور منتشر کرتے ہیں"۔(وَالنَّاشِرَاتِ نَشْرًا )۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ "اور انکی جو جدا کرتے ہیں"۔(فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا )۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ "اور ان کی جو بیدار کرنے والی آیات القاء کرتے ہیں"۔(فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا )۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــ "اتمام حجت یاڈرانے کے لیے"۔(عُذْرًا اَوْ نُذْرًا )۔ ؎2 اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان سربستہ قسموں کا ـــــــــ جو اہم مسائل کی خبر دیتی ہیں ــــــــــ مفہوم کیا ہے؟ یہاں تین مشہور تفسرین ہیں۔ 1- یہ پانچوں کی پانچوں قسمیں "آندھیوں اور طوفانوں" کی طرف اشارہ ہیں، جن کا طبعیات کے بہت سے مسائل میں ایک مؤثر نقش ہے، اس قول کی بناء پر ان آیات کا مفہوم اس طرح ہوگا: قسم ہے ان ہواؤں کی جو پے درپے چلتی ہیں۔ اور قسم ہے ان طوفانوں کی جو تیزی کے ساتھ چلتی ہیں۔ اور قسم ہے ان کی جو بادلوں کو پھیلاتی اوت منتشر کرتی ہیں اور بارش کے حیات بخش قطرات کو ان کے درمیان سے خشک سرزمینوں لی طرف بھیجتی ہیں۔ اور قسم ہےان کی جو بادلوں کو بارش برسانے کے بعد پراگندہ کردیتی ہیں ۔ اور قسم ہے ان ہواؤں کی جو اس پروگرام کے ساتھ انسانوں کو خدا کی یاد میں مصروف کر دیتی ہیں۔ (بعض نے "فالعاصفات عصفًا" کو عذاب کے طوفانوں کی طرف بھی اشارہ سمجھا ہے، جو حیات بخش ہواؤں کی مدِمقابل ہیں کہ وہ بھی اپنی نوعیت میں تذکرے اور بیداری کا سبب ہیں)۔ 2- یہ تمام قسمیں "آسمانی فرشتوں" کی طرف اشارہ ہیں، یعنی قسم ہے ین فرشتوں کی جو پے درپے انبیاء کی طرف بھیجے جاتےہیں ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "عرف" یکے بعد دیگرے اور پےدرپے کے معنی میں آیا ہے اور اصل میں "گھوڑے کے گردن کے بالوں" کے معنی میں ہے جو ایک دوسرے پر پڑے ہوتے ہیں اور بعض اوقات اس کی "اچھی اور جانے پہچانے کام" کے معنی کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ ؎2 "عذرًا اونذرًا" پر نصب (زیر) کا اعراب مفعول لاجلہ کی بناء پر ہے اور بعض نے اسے حال سمجھا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ زیادہ فرشتے جو جانے پہچانے اور مشہور پروگراموں کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں۔ اور قسم ہے ان کی جو طافانوں کی طرح پوری سرعت اور تیزی کے ساتھ اپنے کاموں کے پیچھے جاتے ہیں۔ اور ان کی جو آسمانی کتابون کی آیات کو پیغمبروں کے سامنے کھولتے اور نشر کرتے ہیں۔ اور ان کی جو اس عمل کے ساتھ حق کو باطل سے جدا کرتے ہیں۔ اور ان کی جو حق تعالٰی کے ذکر اور اس کے احکام کو انبیاء پر القاء کرتے ہیں۔ 3- پہلی اور دوسری قسم "ہواؤں اور طوفانون" کے بارے میں ہے، اور تیسری، چھوتھی اور پانچویں قسم فرشتوں کے ذریعہ حق تعالٰی کی آیات کی نشرواشاعت کے بارے میں اور پھر حق کو باطل سے جدا کرنے اور اس کے بعد اتمامِ حجت اور انزار کے مقصد سے خدا کے ذکر اور اس کے احکام کو ہیغمبروں پر القاء کے بارے میں ہے۔ وہ چیز جو تیسری تفسیر پر شاید بن سکتی ہے، اولاً آیات میں "واو" کے ذریعہ ان دو قسم کی قسموں کی جدائی ہے۔ جبکہ باقی کا "فاء" کے ذریعہ عطف ہوا ہے جو ان کے ارتباط اور تعلق کی نشانی ہے۔ ثانیاً ـــــــ جیسا کہ ہم دیکھیں گے ــــــــــــ یہ تمام قسمیں ایک ہی مطلب کے لیے ہیں ، جو ساتویں آیت میں بیان ہوا ہے، یعنی قیامت و معاد کی حقانیت و واقیعت، اور ہم جانتے ہیں کہ قیامت کے قریب ایک عظیم تغیر عالم میں پیدا ہوگا، ایک طرف تو شدید طوفان، آندھیاں، زلزلے اور ہلا دینے والے حوادث ہوں گے، اور اس کے بعد دوسری طرف عدلِ الیٰہی کی عدالت اور دادگاہ قائم ہوگی، جہاں فرشتے اعمال ناموں کو پھیلائیں گے اور نشر کریں گے، اور مومنین اور کفار کی صفوں کو جدا کردیں گے اور اس سلسلہ میں حکم الہی کا لاقاء کریں گے۔ اگر اوپر والی پانچ قسمیں اس تفسیر کے مطابق بیان ہوں تو مقسم بہ یعنی وہ چیز جس کے لیے قسم کھائی گئی ہے، مناسب ہوگی اور آخری تفسیر کو اس لحاظ سے برتری حاصل ہے۔ "فالملقیات ذکرًا" کے جملہ میں ذکر یا تو ان علوم و معارف کے معنی میں ہے جو انبیاء کو القاء ہوۓ ہیں ، یا ان آیات کے معنی میں ہے جو ان پر نازل ہوئی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ آیاتِ قرآنی میں خود قرآن کو بھی "ذکر" سے تعبیر کیا گیا ہے، جیسا کہ سورہ حجر کی آیہ 6 میں آیا ہے، "وَقَالُوْا يَآ اَيُّـهَا الَّـذِىْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الـذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُـوْنٌ " ــــــــــــ "(دشمن) کہتے تھے، اے وہ کہ جس پر ذکر نازل ہوا ہے، تو تو دیوانہ ہے"! "الملقیات" کی تعبیر جمع کی صارت میں ہے ، حالانکہ وحی کے فرشتہ یعنی جبرئیل ایک سے زیادہ نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات قرآنی آیات کے نزول کے لیے فرشتوں کے بہت سے گروہ جبئیل کے ہمراہ ہوتے تھے سورہ عبس کی آیہ 15 میں بھی یہ آیا ہے "بایدی سفرہ" یعنی قرآنی آیات خدا کے سفیروں (فرشتوں) کے ہاتھ پیغمبر اسلامؐ پر نازل ہوئی ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ قسمیں کس مقصد کے لیے ہین، بعد والی آیت میں اس معنی سے پردہ اٹھاتے ہوۓ کہتا ہے:"جو کچھ تمھیں وعدہ دیا جاتا ہے، وہ واقع ہو کر رہے گا"۔(اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِــعٌ )۔ بعث ونشور،ثواب و عقاب، حساب و جزا سب حق ہے اور ان میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ بعض نے اسے خدا کے تمام وعدوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے، چاہے وہ نیکیوں سے وعدے ہوں یا بدوں سے، دنیا میں ہوں یہا آخرت میں ، لیکن بعد والی آیات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مراد وعدۂ قیامت ہے۔ ؎1 اگرچہ اس آیت میں مسئلہ معاد پر کوئی استدلال نہیں ہوا ہے ، اوع صرف دعوے پر قناعت کی گئی ہے۔ لیکن مطلب کی عدگی یہ ہے کہ گزشتہ قسموں میں ایسے مطالب آۓ ہیں ، جو خود معاد اور قیامت کے دلائل ہیں، منجملہ ان کے مردہ زمینون کا بارشوں کے نزول کے ذریعہ زندہ ہونا، جو خود معاد کے منظر کا نمونہ ہے دوسرے پیغمبروں پر خدائی احکام و تکالیف کا نزول اور رسولوں کا بھیجنا ، جس کا معاد کے بغیر کوئی مفہوم نہیں ہے، خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیامت کا وعدہ قطعی و یقینی ہے۔ اس مطلب کی نظیر سورہ ذریات کی آیہ 23 میں بھی آئی ہے : خدا فرماتا ہے: "فَوَ رَبِّ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اِنَّهٝ لَحَقٌّ " "آسمان کے پروردگار کی قسم تمھاری روزی حق ہے"۔ "رب" کی قسم !جو پروردگار کی ربوبیت اور عالمِ خلقت میں اس کی تدبیر کی طرف اشارہ ہے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ بندوں کو روزی کے بغیر نہ چھوڑے ۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس موجود دن کی نشانیوں کو بیانکرتے ہوۓ فرماتا ہے: "یہ موجود دن اس وقت آن پہنچے گا ، جب ستارے صفحہ آسمان سے محو اور تاریک ہوجائیں گے"۔(فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ )۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ "اور آسمان(کے ستارے) پھٹ جائیں گے"۔(وَاِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْ )۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ "اور جب پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے"۔(وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ )۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ "طمست" "طمس" (بروزن شمس) کے مادے سے کسی چیز کے آثار کو محو اور زائل کرنے کے معنی میں ہے، اور یہاں ممکن ہے ستاروں کی روشنی کے محو ہونے کی طرف اشارہ ہو، یا ان کے ریزہ ریزہ ہوکر بکھر جانے کی طرف، لیکن پہیل تفسیر زیادہ مناسب ہے، جیسا کہ سورہ تکویر کی آیہ 2 میں آیا ہے : وا اذا الجموم انکدرت :"جب ستارے تاریک ہو جائیں گے "۔ اور "نفست" "نسف" (بروزن حزف) کے مادہ سے ۔ اصل میں غذا کے دانوں کو چھلنی میں ڈال کر ہلانے کے معنی میں ہے، تاکہ چھلکہ دانہ سے الگ ہو جاۓ اور یہاں پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہونے اور پھر ہوا میں بکھرجانے کے معنی میں ہے۔ اصولی طور پر قرآن کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جہان کا اختتام بہت ہی ہولناک اور سرکوبی کرنے والے حوادث کے ایک سلسلہ کے ساتھ ہوگا، اس طور پر کہ اس کے نظام کو کلی طور پر پراگندہ کردےگا، اور عالمِآخرت ایک نئے نظام کے ساتھ اس کی جگہ لے لےگا۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "فاء" کا عطف بھی اسی مطلب کی تائید کرتا ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہ حوادث اتنے عجیب و غریب اور وحشت ناک ہوں گے کہ کسی بیان کے ساتھ ان کی وضاحت نہیں ہوسکتی، کیا وہ حوادث جو پہاڑوں کو اپنی جگہ سے اکھڑ پھینکیں گے اوت انھیں اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرائیں گے کہ وہ گردوغبار میں تبدیل ہوجائیں گے، اور دھنکی ہوئی اون کی صورت اختیار کر لیں گے، قابلِ تعارف ہیں۔ بعض مفسرین کے تعبیر کے مطابق یہ حوادث اتنے عظیم ہوں گے، کہ وہ عظیم ترین زلزلے جنھیں انسان نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے، ان کے مقابلہ میں ایسے ہوں گے کیسے کے چھوٹے چھوٹے پٹاخے ـــــــــــــ جنھیں بچے کھیلتے ہوۓ چلاتے ہیں ـــــــــ بہت بڑے ایٹم بم کے کے مقابلہ میں۔ بہرحال یہ قرآنی تعبیریں نظام ہاۓ آخرت اور دنیا کے نظاموں میں بہت زیادہ فرق کی دلیل ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــ اور اس کے بعد قیامت کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ مزید کہتا ہے: "اور یہ اس وقت کی بات ہے جب پیغمبروں کے لیے وقت معین ہوگا، کہ وہ اپنی اپنی باری پر آئیں ، اور اپنی امتون کے بارے میں شہادت دیں"۔(وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ )۔ ؎1 جیسا کہ سورہ اعراف کی آیہ 6 میں آیاہے،(فَلَـنَسْاَلَنَّ الَّـذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْـهِـمْ وَلَـنَسْاَلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ )۔ "ہم ان لوگوں سئ بھی سوال کریں گے جن کی طرف رسول بھجے گئے تھے اور رسولوں سے بھی سوال کریں گے"۔ اس کے بعد مزید کہتا پے:"امتوں کے لیے ان رسولوں کی شہادت اور ان کی گواہی کو کس دن کے لیے تاخیر میں ڈالا گیا ہے"۔(لِاَيِّ يَوْمٍ اُجِّلَتْ )۔ ؎2 ـــــــــــــــــــــــ "جدئی کے دن کے لیے"۔(لِيَوْمِ الْفَصْلِ)۔ حق سے باطل کی جدائی کا دن ، مومنین کی صفوں کا کفروں کی صفوں سے جدا ہونے کا دن ، اور نیکوکاروں کے بدکاروں سے جدا ہونے کا دن ، اور سب کے بارے میں حق تعالٰی کی مطلق وضادت اور انصاف کا دن۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "اقتت" اصل میں "وقت" کے مادہ سے "وقتت" تھا، جس میں واو مضموم ہمزہ کے ساتھ تبدیل ہوگئی اور یہ پروردگار کے رسولوں کے لیے "توقیت وقت" کے معنی میں ہے اور یہ معلوم ہے کہ وقت خود ان کیلیے معین نہیں ہوگا، بلکہ ان کے عمل یعنی ان کی شہادت کے لیے معین ہوگا ، لہزا بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آیت میں مقدر ہے۔ ؎2 اس تفسیر کے مطابق "اجلت" لی ضمیر انبیاء ورسل کی شہادت کی طرف لوٹتی ہے، جو گزشتہ آیت سے معلوم ہوتی ہے، لیکن بعض نے یہ بھی کہا ہے یہ ان تمام امور کی طرف لوٹتی ہے جو انبیاء اور ان اخبار سے مربوط ہیں، جو انھوں نے ثواب و عقاب اور قیامت وغیرہ کے حوادث کے بارے میں دیئے ہیں ، اور بعض نے ان تمام امور کی طرف اشارہ بھی سمجھا ہے جو گزشتہ آیات میں آۓ ہیں، مثلاً ستاروں کا تاریک ہونا وغیرہ ....... لیکن واضح ہےکہ پہلی تفسیرزیادہ مناسب ہےکیونکہ آیت میں ضمیرکا مرجع اس کےساتھ متصل ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہ سوال و جواب اس دن کی عظمت کے بیان کے لیے ہے ۔ اور اس کے بارے میں کیسی معنی خیز اور منہ بولےی تعبیر ہوئی ہے ، "جدائی کا دن"۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــ اس کے بعد اس دن کی عظمت کے بیان کے لیے فرماتا ہے، "تو کیا جانے کہ یوم الفصل اور جدائیوں کا دن کیا ہے؟"۔(وَمَآ اَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ)۔ جہاں پیغمبر اس وسیع و عریض علم، اور ان تیز بین نگاہوں کے باوجود ـــــــــــ جو اسرار غیب کا مشاہدہ کرتی تھیں ـــــــــــــ اس دن کی عظمت کے لبادہ و جہات کو ٹھیک طرح سے نہ جانتے ہو تا باقی لوگوں کی ذمہ داری واضح ہے اور جیسا کہ ہم نے بارہا بیان کیا ہے، قیامت کے تمام باعظمت اسرار کا ادراک کرنا، ہم قفسِ دنیا کے قیدیوں کے لیے ممکن نہیں ہے، ہم تو صرف دور سے ان کا ایک سایہ سا دیلکھتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــ اور آخری زیر بحث آیت میں ، اس دن کی تکذیب کرنے والوں کو بہت سختی کے ساتھ تہدید کرتے ہوۓ فرماتا ہے:"واۓ ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے"۔(وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَـذِّبِيْنَ )۔ "ویل" کی بعض نے "ہلاکت" کے معنی میں، بعض نے "انواع و اقسام کے عزاب" کے معنی میں، اور بعض نے "جہنم کی ایک پُر عزاب وادی" کے معنی میں تفسیر کی ہے۔ یہ لفظ عام طور پر افسوس ناک حوادثات کے بار میں استعمال ہوتا ہپے اور یہاں قیامت کے دن کی تکذیب کرنے والوں کی دردناک سرنوشت کی حکایت کرتا ہے۔ ؎1 یہاں مکزبین سے مراد وہ لوگ ہیں جو قیامت کی تکذیب کرتے ہیں، اور ہم جانتے ہیں کہ جو شخص قیامت اور خدا کی دادگاہِ عدل اور حساب و جزا پر ایمان نہ رکھتا ہو، وہ آسانی کے ساتھ ہر قسم کے گناہ اور ظلم و فساد کا مرتکب ہوسکتا ہے، لیکن اس دن پر ایمانِ راسخ ، انسان کو ذمہ داری ، احساس ، مسئولیت ،تقوٰی اور پرہیزگاری بخشتز ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎1 "ویل" کے معنی کے سلسلہ میں مزید وضاحت اور اس کا "دیس" اور "دہج" کے ساتھ فرق جلد 22 صفحہ 403 سورہ ذاریات کی آیہ 60 کے ذیل میں آیا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 77:1-15
آیت 1 تا 15
سورہ مرسلات بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ 1- وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا 2- فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا 3- وَالنَّاشِرَاتِ نَشْرًا 4- فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا 5- فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا 6- عُذْرًا اَوْ نُذْرًا 7- اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَوَاقِــعٌ 8- فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ 9- وَاِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتْ 10- وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ 11- وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ 12- لِاَيِّ يَوْمٍ اُجِّلَتْ 13- لِيَوْمِ الْفَصْلِ 14- وَمَآ اَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ 15- وَيْلٌ يَّوْمَئِذٍ لِّلْمُكَـذِّبِيْنَ ترجمہ 1- قسم ہے ان فرشتوں کی جنھیں پے درپے بھیجا جاتا ہے۔ 2- اور ان کی جو تیز ہوا کی طرح چلتے ہیں۔ 3- اور قسم ہے ان کی جو (بادلوں کو) پھیلاتے اور منتشر کرتے ہیں۔ 4- اور انکی جو جدا کرتے ہیں۔ 5- اور قسم ہے ان کی جو(خدا کی) بیدار کرنے والی آیات(انبیاء کی طرف) القاء کرتے ہیں۔ 6- اتمام حجت یا انزار کے لیے۔ 7- تمھیں جو کچھ (قیامت کے بارے میں) وعدہ دیا جاتا ہے، وہ وقوع پزیر ہوگا۔ 8- جب ستارے محو اور تاریک ہوجائیں گے۔ 9- اور آسمان(کے ستارے) پھٹ جائیں گے۔ 10- اور جب پہاڑ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے۔ 11- اور جب پیغمبروں کے لیے(شہادت دینے کے لیے) وقت کا تعین ہوگا۔ 12- یہ امر کس دن کے لیے تاخیر میں ڈالا گیا ہے؟۔ 13- (حق کی باطل سے) جدائی کے دن کے لیے۔ 14- تمھیں کیا معلوم ہے کہ جدائی کا دن کیا ہے؟ 15- واۓ ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 77:1-15
ان قسموں کا مظلب
ایک نکتہ ان قسموں کا مطلب! اوپر والی آیات میں پہلے ہواؤں اور طوفانوں کی قسم کھائی گئی ہے، اور یہ اس اہم اثر کی وجہ سے ہے جو وہ عالمِ خلقت میں رکھتی ہیں: بادلوں کو چلاتی ہیں ، اور پھر انھیں خشک اور مردہ زمینوں کی بلندی پر ایک دوسرے کے سات جوڑتی ہیں اور بارش برسانے کے بعد انھیں پراگندہ اور منتشر کر دیتی ہیں۔ نباتات کے بیجوں کو بکھیرتی ہیں، اور جنگلات اور چراگائیں وجود میں لاتی ہیں، بہت سے ہھولوں اور پھلوں کو بارور کرتی ہیں، اور حرارت و برورت کو زمین کے مختلف مقامات سے دوسرے مقامات کی طرف منتقل کرتی ہیں اور فضا میں اعتدال پیدا کرتی ہیں۔ زندہ اور اوکسیجن سے بری ہوئی ہوا کو کھیتوں اور صحراؤں سے شہروں کی طرف لے جاتی ہیں، اور گندی ہواؤں کو صاف کرنے کے لیے صحراؤں کی طرف لے جاتے ہیں۔ سمندورں کے پانی کو متلاطم اور مواج بناتی ہیں اور پانی کے اندر زندہ رہونے والی موجودات کے لیے پانی لو اوکسیجن سے پر کرتی ہیں ۔ہاں! ہوائیں اور باد ہانے نسیم، دنیا میں عظیم اور حیات بخش خدمات انجام دیتی ہیں۔ ان قسموں کا دوسرا حصہ جو فرشتوں کے ذریعہ نزولِ وحی کے پروگرام کی بات ہے ، وہ بھی عالمِ معنی میں اس نسیم سے مشابہ ہے، کو عالم مادہ میں چلتی ہے، فرشتے ، وحی کے کلمات کو ، جو بارش کے قطروں کی طرح زندہ کرنے والے ہوتے ہیں، خدا کے پیغمبروں کے دلوں پر نازل کرتے ہیں، اور تقوٰی و معارفِ الٰہی کے پھل اور پھول دلوں میں اگاتے ہیں، اس طرح خدا نے عالمِ مادہ کی تربیت کرنے والوں کی بھی اور عالم معنی کی تربیت کرنے والوں کی بھی قسم کھائی ہے۔ اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ تمام قسمیں اس دن کی واقعیت کے بیان کے لیے ہیں جس میں یہ تمام کوششیں ثمر بخش ہوں گی، جو قیامت کا دن اور یوم الفصل ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــ