وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
If the people of the towns had been faithful and Godwary, We would have opened to them blessings from the heaven and the earth. But they denied; so We seized them because of what they used to earn.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:96
[Pooya/Ali Commentary 7:96] (see commentary for verse 94)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:96-100
ایک سوال اور اس کا جواب
مذکورہ بالا آیت کے آخر میں ایک جملہ ہے جس میں ارشاد ہوتا ہے: جو شخص گھاٹے میں ہے اس کے سوا کوئی بھی اپنے کو خدا کی (انتقامی)تدبیر اور سزا سے امان میں نہیں سمجھتا، یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ جملہ پیغمبروں، پیشواؤں اور صالحین کے لئے بھی ہے یا نہیں؟ بعض کا خیال ہے کہ لوگ اس حکم سے خارج ہیں اور مذکورہ بالا آیت صرف گنہگارون کے لئے ہے لیکن اس آیت کا ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم عمومی ہے جو سب کو اپنے دائرہ میں لئے ہوئے ہے کیوں کہ تمام پیغمبر اور ائمہ معصومین صلوات اللہ علیہم اجمعین ہمیشہ اپنے اعمال کے ناظر ونگراں رہے کہ مباد ا ان سے کوئی لغزش صادر ہوجائے کیوں کہ ہم معلوم ہے کہ ان کے معصوم ہونے کہ یہ معنی نہیں ہیں کہ کبھی ان سے کوئی مخالفت نہیں ہوسکتی(۱) بلکہ وہ اپنے ایمان اور ارادہ کی قوت سے اور اپنے اختیار اور الٰہی مدد کے ذریعے خطاؤں اور لغزشوں سے محفوظ ہیں، جب کہ وہ ترک اولیٰ سے ڈرا کرتے تھے اور اس سے ڈرا کرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی اس ذمہ داری کو ادا نہ کرسکیںجو خدا نے ان کے دوش پر رکھی ہے یہی وجہ ہے کہ سورہٴ انعام کی آیت ۱۵ میں ہے: <قُلْ إِنِّی اٴَخَافُ إِنْ عَصَیْتُ رَبِّی عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیمٍ کہو میں اس سے ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے اللہ کی نافرمانی کی تو میں روز عظیم کے عذاب میں گرفتار ہوجاؤں گا ۔ جو روایتیں آیہ مذکورہ کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس بات کی تاکید کرتی ہیں جو ہم نے بیان کی ہے، صفوان جمال کہتے ہیںکہ ایک روز میں امام جعفر صادق علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا، میں نے سنا کہ آپ (علیه السلام) کہہ رہے تھے: ”اللّٰھمَّ لاتوٴمنی مکرک ۔ثم جھر۔ فقال: <فَلَایَاٴْمَنُ مَکْرَ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ“۔ خدایا! مجھے اپنی تدبیر سے مطمئن نہ کر ،پھر اس کے بعد آپ (علیه السلام) نے بلند آوازسے اس آیت کی تلاوت فرمائی ”فَلَایَاٴْمَنُ مَکْرَ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ“ نیز نہج ا لبلاغہ میں ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: لاتاٴمنن علی خیر ھذا الامة عذاب اللہ لقول اللہ سبحانہ <فَلَایَاٴْمَنُ مَکْرَ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ۔ یعنی حتی کہ اس امت کے نیک لوگوں پر بھی الٰہی سزا سے مطمئن ومامون نہ ہونا کیوں کہ خداوند کریم فرماتا ہے: ”فَلَایَاٴْمَنُ مَکْرَ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ“(2) در حقیقت خدا کی سزا سے مطمئن ومامون نہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ یہ شخص اپنی ذمہ داریوں کے ادا نہ کرنے یا ان میں کوتاہی واقع ہونے سے ڈرتا ہے، یہ خوف اور اس کے ساتھ ہی اس کی رحمت کی امید دونوں ساتھ ساتھ اور برابر سے مومن میں دل میں پائی جانا چاہئیں، انہی دونوں کے توزان کی وجہ سے ہر قسم کی مثبت جدوجہد جاری رہتی ہے اور یہ وہی چیز ہے جسے روایات میں ” خوف رجاء“ کہا گیا اور یہ کہا گیا ہے کہ باایمان افرا د ہمیشہ ان دو کے درمیان رہتے ہیں، اس کے بر خلاف زیاں کار مجرم اس طرح کیفر الٰہی کو بھلا بیٹھتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو نہایت مطمئن اور امن وامان میں سمجھتے ہیں ۔ اس کے بعد والی آیت میں ایک مرتبہ پھر اقوم موجودہ کو بیدار کرنے اور پچھلی قوموں کے واقعات سے عبرت حاصل کرنے کے لئے قرآن فرماتا ہے: آیا وہ لوگ جو گذشتہ قوموں کی زمینوں کے وارث بنے ہیں اور ان کے ٹھکانوں پر آباد ہوئے ہیں، پچھلی قوموں کے واقعات سے بیدار نہ ہوں گے؟ اگر ہم چاہیں تو ان کو بھی ان گناہوں کی وجہ سے ہلاک کردیں اور جو حال ہم پچھلی قوموں کا کیا ان کا بھی وہی حال کردیں ( اٴَوَلَمْ یَھْدِ لِلَّذِینَ یَرِثُونَ الْاٴَرْضَ مِنْ بَعْدِ اٴَھْلِھَا اٴَنْ لَوْ نَشَاءُ اٴَصَبْنَاھُمْ بِذُنُوبِھِمْ ) ۔ ”اور یہ بھی ہم کر سکتے ہیں کہ ان کو زندہ باقی رکھیں اور گناہوں کے اندر غوطہ ور ہونے کی وجہ سے “ ان سے ہم ادراک وشعور اور حق وباطل کی تمیز سلب کرلیں جس کے نتیجہ میں امن حقائق کو سننے کی صلاحیت باقی نہیں رہے گی، وہ کسی نصیحت کو نہ سن سکیں گے، اپنے زندگی میں حیران وپریشان رہیں گے (وَنَطْبَعُ عَلیٰ قُلُوبِھِمْ فَھُمْ لَایَسْمَعُون) ۔ خدا ان لوگوں سے کس طرح ان کے ادراک و شعور اور سوجھ بوجھ کو سلب کرلیتا ہے، تفسیر نمونہ کی جلد اول سورہٴ بقرہ کی آیت ۷ کے ذیل ہم اس کو تفصیل سے لکھ چکے ہیں ۔ ۱۰۱تِلْکَ الْقُریٰ نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اٴَنْبَائِھَا وَلَقَدْ جَائَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَمَا کَانُوا لِیُؤْمِنُوا بِمَا کَذَّبُوا مِنْ قَبْلُ کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللهُ عَلیٰ قُلُوبِ الْکَافِرِینَ ۔ ۱۰۲ وَمَا وَجَدْنَا لِاٴَکْثَرِھِمْ مِنْ عَھْدٍ وَإِنْ وَجَدْنَا اٴَکْثَرَھُمْ لَفَاسِقِینَ ۔ ترجمہ ۱۰۱۔یہ وہ آبادیاں ہیں جن کے واقعات ہم تم سے بیان کرتے ہیں وہ ( اس قدر ہٹ دھرم تھے کہ ) جب ان کے پاس رسول بیانت لے کر آئے تو وہ چونکہ سابقا( حق کی )تکذیب کر چکے تھے اس لئے ( ان پر) ایمان نہ لائے، اللہ اسی طرح کافروں کے دلوں پر مہر لگاتا ہے ۔ ۱۰۲۔ہم نے ان میں سے اکثر کو اپنے عہد پر باقی نہ پایا، اور ہم نے ان میں سے اکثر کو فاسق پایا ۔ ۱۔ عصمت کے یہی معنی ہیں کہ ان سے کوئی غلطی ایسی نہیں ہوسکتی جو موجب دخول جہنم ہو، البتہ ان سے ترک اولیٰ ہوسکتا ہے اسی کے لحاظ سے وہ ڈرتے رہتے تھے، اب رہے اہل بیت طاہرین صلوات اللہ علیہم اجمعین تو اُن سے ترک اولیٰ بھی محال ہے، ان کا توبہ استغفار ترقی درجات اور تعلیم کے لئے تھا جیسا کہ مولف محترم کئے مقامات پر وضاحت کرچکے ہیں (مترجم) ۔ 2۔کلمات قصارجملہ ۳۷۷۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:96-100
ایمان سے بے بہرہ قومیں کیوں خوش حال ہیں؟
جو کچھ ہم نے سطور بالا میں بیان کیا ہے اس سے ایک ایسے سوال کا جواب خودبخود مل جائے گا جو عام طور پر لوگوں کی زبان پر آتا رہتا ہے، وہ سوال یہ ہے کہ اگر واقعاً ایمان اور تقویٰ نزول برکات الٰہی کا سبب ہے اور بے ایمانی اور گناہ سے برکتیں سلب ہوجاتی ہیں تو اس کی کیا وجہ ہے کہ اکثر ہم اس کے برعکس مشاہدہ کرتے ہیں، یعنی بے ایمان قومیں ناز ونعمت سے غرق ہوتی ہےں جب کہ اہل ایمان پریشان حال نظرآتے ہیں؟! ۔ اس سوال کا جواب دو نکتوں پر غور کرنے سے مل جائے گا: ۱۔ یہ تصور کرنا کہ بے ایمان قومیں اور گنہگار لوگ نعمت میں غرق ہیں ایک بڑا اشتباہ ہے اس اشتباہ کا سبب یہ ہے کہ ثروت اور مال ودولت کو خوش قسمتی کا سرچشمہ سمجھ لیا گیا ہے ، عام طور سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو قوم صنعت وثروت کے لحاظ سے ترقی یافتہ ہو وہ ایک خوش قسمت قوم ہے حالانکہ اسی قوم کے اندرونی حالات کے اندر جھانک کر دیکھا جائے تو اس میں ایسے دردہائے جانکاہ ملیں گے جو اس قوم کو روحانی طورپر درہم برہم کئے ہوئے ہوںگے، ان دردوں اور دکھوں کو دیکھنے کے بعد ہم کو ماننا پڑے گا کہ اسی قوم کے اندر ایسے بھی لاکھوں افراد ہیں جو روئے زمین کے تمام انسانوں سے زیادہ بدبخت ہیں، ساتھ ہی یہ بھی ملحوظ رہے کہ یہ جتنی بھی اضافی ترقی نصیب ہوتی وہ بھی کوشش ، جستجو، نظم اور استقلال جیسے اصولوں کو اپنانے کی وجہ سے ہے جو انبیاء ے الٰہی کی تعلیمات میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انھیں ایام جب کہ یہ تفسیر لکھی جارہی ہے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ شہر ” نیویارک“ جو دنیا ئے مادی کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر ہے، یہ حادثہ رونما ہوا کہ ایک مرتبہ ناگہانی طور پر وہاں بجلی چلی گئی جیسا کہ عام طور سے بہت سے شہروں میں ہوتا رہتا ہے، لیکن نیویارک میں عجیب ہنگامہ برپا ہوگیا یعنی بہت سے لوگوں نے دکانوں پر یلغار کردی اور جو جس کے ہاتھ میں آیا لے کر چلا گیابہت سی دکانے غارت ہوگئیں یہاں تک کہ پولیس نے تین ہزار غارتگروں کو گرفتار کیا ۔ یہ بات مسلم ہے کہ ان غارتگروں کی تعداد اس سے بھی زیادہ تھی کیوں کہ تین ہزار تو وہ تھے کہ جو بھاگ نہ سکے اور موقع پر پکڑے گئے، نیز یہ بات مسلم ہے کہ یہ لوگ جو پکڑے گئے تھے کوئی پیشہ ور چور ،ڈاکو نہ تھے نہ وہ پہلے سے چوری کے لئے آمادہ تھے کیوں کہ یہ ایک ناگہانی حادثہ تھا ۔ بنا بر یں یہ نتیجہ نکلا کہ صرف ایک دفعہ بجلی کے چلے جانے سے ایک ثروتمند اور ترقی یاٖٖفتہ شہر کے ہزاروں انسان ذراسی دیر میں انسانی جامہ اتار کر ”ڈاکو اورغارتگر“ بن گئے، یہ نہ صرف ایک قوم وملت کے اخلاق کی پستی کی دلیل ہے بلکہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ان کی اجتماعی زندگی بے امنی کی زندگی ہے ۔ ایک دوسری خبر جواس روز کے اخبارات میں تھی وہ ایک مشہور ومعروف شخص جو اس روز ایک بلند وبالا آسمان خراش ہوٹل میں سکونت پذیر تھا، بیان کرتا ہے کہ بجلی جانے کے بعد میرے ہوٹل کی صورت حال بھی بہت خطرناک ہوگئی تھی ۔کوئی شخص اپنے کمرے سے باہر نکل کر راستے میں آنے کی جراٴت نہیں کرسکتا تھا کہ کہیں غارتگروں کے ہاتھ نہ لگ جائے ۔ہوٹل کے منتظمین نئے آنے والے مسافروں کو دس دس یا زیادہ کی تعداد میں مسلح پولیس کے افراد کے ساتھ ان کے کمروں میں بھیجتے تھے ۔ شخص مذکور اپنے بیان میں اس بات کا اضافہ کرتا ہے کہ جب تک مجھے بھوک نہیں ستاتی تھی میں اپنے کمرے سے باہر آنے کی جراٴت نہیں کرسکتا تھا ۔ اس کے برخلاف مشرق کے پسماندہ شہروں میں بجلی عام طور سے فیل ہوتے رہتی ہے لیکن وہاں اس قسم کی مشکلات رونما نہیں ہوتیں، اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان ملکوں نے ثروت کے لحاظ سے ترقی تو کرلی ہے مگر امن امان ذرہ برابر بھی وہاں موجود نہیں ہے، اس کے علاوہ چشم دید گواہوں کابیان ہے کہ آدمی کا جان سے ماردینا لوگوں کے لئے پانی پی لینے کی طرح آسان ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ اگر کسی کو ساری دنیا دے دی جائے لیکن اس سے یہ کہا جائے کہ ان حالات میں تمھیں زندگی بسر کرنا ہوگی تو وہ تمام انسانوں میں بدبخت ترین فرد ہوگا، پھر یہ کہ بے امنی ان کی مشکلات میں سے ایک مشکل ہے، اس کے علاوہ اور بھی ایسی ہی نہ معلوم کتنی مشکلات ہیں جن میں وہ گرتار ہیں، لہٰذا ان حقائق کو دیکھتے ہوئے صرف ثروت کی زیادتی کو خوش قسمتی کا نشان نہیں سمجھنا چاہئے ۔ ۲۔اب یہ جو کہا جاتا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان دار اور پرہیزگار ہیں وہ کیوں اقتصادی وعلمی طور پر عقب افتادہ اور پسماندہ ہیں؟ اس کے جواب میں ہم پوچھیں گے کہ ان کے ایمان وپرہیزگاری سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اگر مراد یہ ہے کہ وہ لوگ اسلام کے دعوےدار ہیں اور ان کو یہ دعویٰ ہے کہ وہ انبیائے الٰہی کی سیرت پر چلتے ہیں، تو اہم اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں کہ اسے لوگ پسماندہ وعقب افتادہ ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایمان اور پرہیزگاری کی اصل ماہیت اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ یہ دونوں چیزیں انسان کے اعمال اور اس کی زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کرجائیں اور یہ ایک ایسی صفت ہے جو زبانی کلامی دعوے سے حاصل نہیں ہوتی ۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے اسلامی ملکوں اور آبادیوں میں اسلامی تعلیمات اور پیغمبرون کے ارشادات کلی طور سے متروک یا نیم متروک ہوکر رہ گئے ہین اور آج کا اسلامی معاشرے کا چہرہ اتنا مسخ ہوگیاہے کہ ایک اسلامی چہرہ نہیں کہا جاسکتا ۔ اسلام تو پاکدامنی، نیکی، امانتداری اور مسلسل کوشش کی طرف دعوت دیتا ہے لیکن وہ امانتداری اور جدوجہد کہاں ہے؟ اسلام علم ودانش، آگاہی اور بیداری کی طرف دعوت دیتا ہے لیکن وہ علم ودانش کہاں ہے؟ اسلام اتحاد، اتفاق، یک جہتی اور فداکاری کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے، کیا واقعی آج کے مسلمانوں میں یہ صفات پائی جاتی ہیں اور اس کے باوجود وہ پسماندہ ہیں؟ لہٰذا ہم کو یہ ماننا پڑے گا کہ حقیقی اسلام کوئی اور چیز ہے اور ہم کچھ اور ہیں ۔ بعد کی آیات میں اس حکم کی عمومیت پر مزید تاکید کے لئے اور یہ بیان کرنے کے لئے کہ مذکورہ بالاقانون گذشتہ اقوام کے ساتھ مخصوص نہ تھا بلکہ یہ آج اور کل کے انسانوں کے لئے بھی ہے قرآن فرماتا ہے: وہ مجرم افراد جو روئے زمین کے مختلف خطوں میں آباد ہیں اپنے آپ کو خدا کی سزا سے محفوظ سمجھتے ہیں، ان کو اس کا ڈر نہیں ہے کہ عذاب الٰہی (بجلی، زلزلہ یا ایسی کوئی آفت)رات کے وقت انھیں اس وقت آلے جب کہ وہ خواب نوشین کے مزے لے رہے ہوں ( اٴَفَاٴَمِنَ اٴَھْلُ الْقُریٰ اٴَنْ یَاٴْتِیَھُمْ بَاٴْسُنَا بَیَاتًا وَھُمْ نَائِمُونَ ) ۔ ”یا یہ کہ دن کے وقت اس وقت ان کا دامن پکڑ لے جب وہ کھیل تماشے میں مصروف ہوں“(اٴَوَاٴَمِنَ اٴَھْلُ الْقُریٰ اٴَنْ یَاٴْتِیَھُمْ بَاٴْسُنَا ضُحًی وَھُمْ یَلْعَبُونَ ) ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ روز وشب، خواب وبیداری اور خوشی وناخوشی ہر حالت میں اللہ کے قبضہٴ قدر ت میں ہیں، جب بھی وہ چاہے اپنے ایک معمولی فرمان سے ان کے کاشانہٴ ہستی کو درہم برہم کرسکتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ اس عذاب کے لئے کوئی مقدمہ فراہم کرے یا کسی مدت کے گزرنے کا انتظار کرے، ہاں بس ایک لحظہ کے اندر وہ جو چاہے اس انسان کے سر پر نازل کرسکتا ہے ۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ انسان اس ترقی یافتہ دور میں جب کہ سانئس اور ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کرلی ہے اور باجود یہ کہ اس سے دنیائے طبیعت کی بڑی بڑی قوتوں کو اپنا تابع فرمان بنا لیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ آج بھی اس حوادث کے مقابلے میں اتنا ہی ضعیف اور بے دست وپا ہے جتنا ہزار سال پہلے کا انسان تھا، یعنی خدائی آفتوں جیسے زلزلہ اور بجلی اور اسی طرح کی دوسری آفتوں ک سامنے اس حالت میں بھی فرق نہیں آیا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان اپنی قدرت وتوانائی کے باوجود بہت کمزور اور ناتواں ہے، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمیشہ ہر انسان کو مدنظر رکھنا چاہئے ۔ اس کے بعد کی آیت میں دوبارہ ایک دوسرے انداز میں اسی حقیقت کا اظہار مزید تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: کیا یہ جرم افراد خدا کی (انتقامی) تدابیر سے مطمئن ہیں؟ حالانکہ سوائے زیاں کاروں کے کوئی بھی اس کی (انتقامی) تدبیر سے اپنے کو محفوظ نہیں سمجھتا- (اٴَفَاٴَمِنُوا مَکْرَ اللهِ فَلَایَاٴْمَنُ مَکْرَ اللهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ) ۔ جیسا کہ ہم سورہٴ آل عمران کی آیت ۵۴ کے ذیل میں بیان کر آئے ہیںکہ لفظ ”مکر“ کا جو مفہوم ہمارے آج کی روز مرہ کی زبان میں لیا جاتا ہے، عربی میں اس کا مفہوم اس سے بالکل مختلف ہے فارسی میں مکر کے یہ معنی ہیںکہ کوئی شخص کسی کے خلاف شیطانی اور زیاں بخش اسکیمیں تیار کرے لیکن عربی زبان مین ”مکر“ کے اصلی معنی یہ ہیں کہ کسی کو اس کے مقصد سے باز رکھنے کے لئے ہر قسم کی تدبیر سے کام لیا جائے چاہے وہ حق ہو یا باطل نیز اس لفظ ”مکر“میں ایک قسم کا تدریجی نفوذ بھی پوشیدہ ہے ۔ بنابر یں ”مکر الٰہی“ سے مراد یہ ہے کہ خدا گنہگار بندوں کو یقینی اور ناقابل شکست تدبیروں کے ذریعے خوش حالی اور عیش وآرام کی زندگی سے روک دے ، اس سے انہی سزاؤں اور ناگہانی بلاؤں کی طرف اشارہ مقصود ہے جو انسان کو ہر طرح سے بے چارہ کر دیتی ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:96-100
چند اہم نکات
۱۔ آسمان اور زمین کی برکتوں سے کیا مراد ہے؟:اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان بحث ہے، بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد نباتات کا کا روئیدہ ہونا ہے، بعض کا خیال ہے کہ اس سے مراد اجابت دعا اور حل مشکلات ہے، یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ برکات آسمانی سے مراد برکات معنوی اور برکات ارضی سے مراد برکات مادی ہوں، لیکن اگر گذشتہ آیات پر نظر کی جائے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے کیوں کہ: گذشتہ آیات جن میں سرکشوں اور مجروموں کو شدید سزاؤں کا ذکر کیا گیاہے ان میں کبھی آسمان سے سیلان نازل ہونے اور زمین سے چشموں کے ابلنے کاذکر ہے (جیسے طوفان نوح(علیه السلام) ) اور کبھی آسمانی بجلی گرنے اور کبھی صیحہ آسمانی، کبھی زمین کے ہولناک زلزلوں کا بیان ہے، زیر نظر آیت میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ یہ سب سزائیں ان لوگوں کے اعمال بد کا ر عمل تھیں، ورنہ اگر انسان پاک اور با ایمان ہو تو آسمان سے عذاب کے بجائے اللہ کی برکتوں کی بارش ہو، یہ خود انسان ہے جو برکتوں کو بلاؤں کی شکل میں بدلے جانے کا باعث ہوتا ۔ ۲۔ ”برکات “ کا مفہوم:”برکات“ جمع ہے ”برکت“ کی اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ اس کلمہ میں ”ثبات“ اور ”استقرار“ کا مفہوم مضمر ہوتا ہے، جو نعمت دیر تک برقرار رہنے والی ہو اس کو برکت کہتے ہیں، اس کے مقابلہ میں وہ بے برکت چیزیں ہوتی ہیں جو زود گزر اور جلدی فنا ہوجانے والی ہوتی ہیں ۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ایمان وتقویٰ نہ صرف نزول برکات الٰہی کا سبب ہوتے ہیں بلکہ ان کی وجہ سے ہی جو نعمتیں انسان کے پاس ہوےی ہیں ان کو وہ برمحل صرف کرتا ہے، مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیںہیں کہ آج کل کتنی زیادہ انسانی طاقت اور اقتصادی وسائل ہیں، مگر یہ سب اسلحہ سازی کے مقابلوں اور طرح طرح کے نابود کرنے کے ہولناک آلات کی تیاری میں صرف ہورہے ہیں، یہ وہ قدرت کے عطیے ہیں جن سے ہر طرح کی برکت ختم ہوگئی ہے، یہ جلد ہی فنا ہوجائیں گے، ان سے نہ صرف یہ کہ کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ ان کی وجہ سے ہر طرف ویرانی وبربادی پیدا ہوگی لیکن اگر انسانی معاشرہ میں ایمان بخدا اور تقویٰ شامل ہوجائے تو یہ قدرت کے عطیے ایک دوسری طرح سے ان کے درمیان صرف ہوں جس کے نتیجہ میں ان کے آثار وبرکات دیر تک باقی رہیں اور اس طرح وہ برکات کا مصداق بن جائیں ۔ ۳۔ اس آیت میں ”اخذ“ سے مراد:آیہ مذکورہ بالا میںلفظ” اخذ“ پکڑنے نے کے معنی میں استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم ہے”سزا دینا“ یہ اس وجہ سے ہے کہ بالعموم جس کو بھی سزا دینا منظور ہوتا ہے اس کو پہلے پکڑاجاتا ہے، پھر اس کو باندھ دیتے ہیں تاکہ وہ بھاگ نہ سکے بعد ازاں اس کو سزا دیتے ہیں ۔ ۴۔ خدا کا فیض اور عقاب کسی سے مخصوص نہیں:اگرچہ زیر بحث آیہ شریفہ کے مد نظر قومیں اور ان کے اعمال بد ہیں لیکن یہ بات مسلم ہے کہ اس کا مفہوم وسیع، عام اور دائمی ہے جو کسی ایک قوم و ملت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور یہ ایک سنت الٰہی ہے کہ بے ایمان وکثیف وفاسد افراد اسی دنیا میں اپنے کیفر کردار میں گرفتار ہوجاتے ہیں، کبھی تو آسمان وزمین کی بلائیں ان پر برستی ہیں اور کبھی جنگ عظیم یا علاقائی جنگ کی آگ انھیں اپنی لپیٹ میں لے کر ان کے اقتصادی اور جانی سرمائے کو خاک سیاہ کردیتی ہے اور کبھی جسمانی اور دماغی طور پر وہ ان دیکھے خطروں سے ایسے متاثر اور خوفزدہ ہوتے ہیں کہ ان کا سرمایہ سکون وقرار چھن جاتا ہے مختصر یہ کہ قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ”جیسی کرنی ویسی بھرنی“ کا قانون کارفرما ہے ورنہ نہ تو خدا کا فیض کسی خاص فرد کے ساتھ مخصوص ہے اور نہ اس کا عقاب، جو جیسا کرے گا ویسا پائے گا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:96-100
زندگی ۔ ایمان اور تقویٰ کے زیر سایہ
پچھلی آیات میں کچھ قوموں کی مختصر سرگزشت بیان کی گئی ہے، جیسے حضرت نوح (علیه السلام)، حضرت لوط (علیه السلام)، حضرت ہود (علیه السلام)، حضرت صالح (علیه السلام)، حضرت شعیب (علیه السلام) کی قومیں، اگرچہ یہ آیتیں بجائے خود ان کی عبرت انگیز نتائج کے بیان کرنے کے لئے کافی ووافی ہیں، لیکن زیر بحث آیات میں مزید وضاحت کے ساتھ ان واقعات کے نتائج کو بیان کیا گیا ہے، اشارہ ہوتا ہے: یہ لوگ جو ان آبادیوں اور دیگر شہروں میں زندگی بسر کرتے ہیں اگر طغیان وسرکشی، تکذیب آیات الٰہی اور ظلم وفساد کی بجائے ایمان لے آئیں اور اس کے سائے میں تقویٰ وپرہیزگاری اختیار کریں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ نہ صرف عذاب الٰہی سے بچ جائیں گے بلکہ ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے بھی کھول دیں گے (وَلَوْ اٴَنَّ اٴَھْلَ الْقُریٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔ لیکن افسوس! انھوں نے صراط مستقیم، جو سعادت وخوش بختی اور رفاہیت وسلامتی کی راہ تھی، کو چھوڑ دیا اور ”خدا کے پیغمبروں کی تکذیب کی اور ان کے اصلاحی منصوبوں کو اپنے پیروں تلے روند ڈالاتو ہم نے بھی انھیں ان کے اعمال بد کے جرم میں سزا دی“(وَلَکِنْ کَذَّبُوا فَاٴَخَذْنَاھُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُون) ۔