يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
O Children of Adam! Put on your adornment on every occasion of prayer, and eat and drink, but do not waste; indeed, He does not like the wasteful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:31
[Pooya/Ali Commentary 7:31] Zinat refers to adornment or clean, graceful and dignified style of living. When one solemnly applies one's mind to being in the presence of Allah one must honour the most honourable Lord by presenting oneself in the best of his available adornments. According to Imam Hasan bin Ali: "Allah is absolute beauty, therefore He loves beauty." Along with physical manner of presentation, zinat also implies purity and refinement of character, spiritual excellence and full attention to Allah. "But waste not by excess" refers to luxury and extravagance which Allah does not like.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:31-32
اسلام کی نظر میں زیب و زینت کی حیثیت
ہر طرح کی زینتوں سے استفادہ کے بارے میں اسلام نے جیسا کہ اس کا رویہ دوسری چیزوں میں ہے راہ اعتدال کو اختیار کیا ہے ۔ نہ تو بعض لوگوں کی طرح یہ کہا ہے کہ زینت کرنا اور اپنے کو آراستہ کرنا چاہے وہ حدّ اعتدال میں ہو، زہد و پاسائی کے خلاف ہے اور نہ ہی ان لوگوں کی تائید کی ہے جو جذبہٴ تجمل پرستی کی و جہ سے طرح طرح کی زینتوں میں غرق ہیں اور اس غیر معقول امر کے لئے ہر ناشائستہ عمل بجالاتے ہیں ۔ اگر ہم انسان کے جسم و روح کی عمارت پر نظر کریں اور اس کے بعد ان تعلیمات کو دیکھیں جو ہمیں دی گئی ہیں تو معلوم ہوگا کہ یہ تمام تعلیمات ہماری روح و جسم سے ہم آہنگ ہیں ۔ اس امر کی توضیح اس طرح ہے کہ علمائے علم نفس کی یہ تحقیق ہے کہ ہر انسان کی روح میں چار احساس پائے جاتے ہیں: حسِ زیبائی، حسِ نیکی، حسِ دانائی اورحسِ مذہبی ۔ ان کا خیال یہ ہے کہ تمام ادبی محاسن، شعر و سخن میں حُسن کی مدح، لطیف و حسین صنعتیں یہ سب اسی حسِ زیبائی کے نتیجے میں نمودار ہوئی ہیں ۔ لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک صحیح قانون اس فطری احساس کا گلا گھونٹ دے اور اس کے جو نتائج بَد برآمد ہوں انھیں نظر انداز کردے ۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں فطرت کے حُسن و جمال، خوبصورت و مناسب لباس ، طرح طرح کی خوشبوئیں اور اسی طرح کے دیگر جمالیات سے لطف اندوز ہونا نہ صرف جائز و مباح قرار دیا گیا ہے بلکہ ان امور کی ترغیب بھی دی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں کثیر روایات کتب معتبرہ میں وارد ہوئی ہیں ۔ چند ایک ہم بطور نمونہ ذکر کرتے ہیں: امام حسن علیہ السلام کے حالات میں ہے کہ آپ جس وقت نماز کے لئے سجادہ پر کھڑے ہوتے تھے اپنا بہترین لباس زیبِ تن فرماتے تھے ۔ جب حضرت سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا: ”ان اللّٰہ جمیل یحب الجمال فاتجمل لربی و ہو یقول خذوا زینتکم عند کل مسجد“۔ خدا جمیل ہے جمال کو پسند کرتا ہے ۔ اسی لئے میں حسین لباس اپنے پروردگار سے راز و نیاز کرنے کے لئے پہنتا ہوں اور خود اس نے یہ حکم دیا ہے کہ مسجد جاتے وقت اپنی زینت اختیار کرو ۔(۱) ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک ریا کار زاہد جس کا نام عبادبن کثیر تھا راستے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کو ملا ۔ اس وقت امام(علیه السلام) نسبتاً خوبصورت لباس پہنے ہوئے تھے ۔ اس نے امام(علیه السلام) سے کہا: آپ(علیه السلام) کے بدن پر یہ عمدہ لباس کیوں ہے؟ کیا بہتر نہ تھا کہ اس سے کم قیمت لباس پہنتے! حضرت نے فرمایا: افسوس ہے تجھ پر اے عباد! کیا تونے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی :<من حرم زینتة اللّٰہ التی اخرج لعبادہ و الطیبات من الرزق : کس نے حرام کیا ہے ان زینتوں کو جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہیں، اور پاکیزہ وزیوں کو ۔(2) اس سلسلہ میں دیگر روایات بھی وارد ہوئی ہیں ۔ یہ تعبیر کہ خداجمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، یا یہ کہ خدا نے اچھی چیزوں کو پیدا کیا ہے، ان سب سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ہر طرح کے جمال سے استفادہ کرنا ممنوع ہوتا تو خدا ہرگز ان کو پیدا نہ کرتا ۔ اس جہاں میں ہر طرف حُسن فطرت کا پایا جانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ خالق حُسن، حُسن کو پسند کرتا ہے ۔ اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ ایسے امور میں عام طور سے لوگ راہ افراط اختیار کرتے ہیں اور مختلف بہانوں سے تجمل پرستی اختیار کرلیتے ہیں ۔ اسی وجہ سے جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا قرآن اس حکم اسلامی کو بیان کرنے کے بعد بلافاصلہ اسراف و زیادہ روی اور حد سے تجاوز کرنے سے مسلمانوں کو خبردار کرتا ہے ۔ قرآن میں بیس مقامات سے زیادہ مسئلہ اسراف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس کی مذمت کی گئی ہے (اسراف کے متعلق ہم آئندہ آنے والی آیات میں تفصیلاً کریں گے) ۔ بہر حال اسلام و قرآن کا رویہ اس معاملہ میں موزوں اور اعتدال پسند انہ ہے ۔ نہ تو جمود ہے، نہ ہی حسن پرستی کا ایسا میلان ہے جس کی وجہ سے روح انسانی ضائع ہوجائے، نہ ہی اسراف کرنے والوں اور تجمل پرستوں اور زیادہ کھانے والوں کے عمل کی تائید و تصدیق کی گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایات میں ملتا ہے کہ جب بعض آئمہ سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ لباس فاخر کیوں پہنتے ہیں جبکہ آپ کے جد حضرت علی علیہ السلام ایسا لباس نہیں پہنتے ہیں؟ تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا: اس زمانہ میں لوگ مالی سختی میں مبتلا تھے لہٰذا ایسا ہی ہونا چاہیٴے تھا لیکن ہمارے زمانہ میں لوگوں کی مالی حالت بہتر ہے لہٰذا اس زمانہ میں ان زینتوں سے (ایک معقول حد تک) استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ۱۔ وسائل جلد سوم ابواب احکام الملابس۔ 2۔ وسائل الشیعہ جلد ۳ ابواب احکام ملابس باب ۷ حدیث ۴۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:31-32
تندرستی کے بارے میں ایک اہم فرمان
مذکورہ بالا آیت میں ” کُلُوا وَاشْربُوا وَلَا تُسرِفُوا “ ”اور کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو “یہ جملہ جو آیا ہے اگر چہ بادی النظر میں ایک سادہ جملہ معلوم ہوتا ہے، لیکن آج کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ حفظان صحت کے اہم اصولوں میں سے ایک زبردست اصول ہے ۔ کیونکہ آج کل کے اطباء تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ بہت سی بیماریوں کی جڑ وہ اضافی غذا ئیں ہیں جو بدن انسانی میں جذب نہ ہونے کی وجہ سے باقی رہ جاتی ہیں ۔ یہ غیر ضروری مادّے قلب کے لئے بھی بارسنگین بن جاتے ہیں اور دوسرے اعضاء پر بھی اپنا بُرا اثر چھوڑتے ہیں ۔ بہت سی بیماریوں اور گندگیوں سے جسم کو آلودہ کردیتے ہیں ۔ لہٰذا اس کے تدارک کے لئے پہلا قدم یہی ہے کہ یہ غیر ضروری مادّے (جوفی الحقیقت جسم کے کارخانہ میں کوڑا کرکٹ کی حیثیت رکھتے ہیں) جلا دیئے جائیں اور اس طرح جسم کے اندرونی حصّے کی صفائی عمل میں آجائے ۔ اس ضرر رساں مواد کے جمع ہونے کا اصلی سبب یہی کھانے میں زیادتی ہے جسے ”پُر خوری کہا جاتا ہے“اسے روکنے کے لئے سوائے خوراک میں میانہ روی کے اور کوئی طریقہ نہیں ہے ۔ خصوصاً ہمارے زمانہ میں جبکہ طرح طرح کی بیماریاں پھیل گئی ہیں جیسے ”ذیا بیطس“ ”چربی خون“و ”تصلب شرائیں“ (رگوں کا سخت ہوجانا) خرابی جگر، طرح طرح کے سکتے (فالج) اور اسی طرح کی دیگر بیماریاں بہت زیادہ ہوگئی ہیں ان سب کو اگر ہم دیکھیں تو ان کی تہ میں عدم نقل و حرکت کے ساتھ ”پُر خوری“ کاہاتھ نظر آئے گا جس کا علاج صرف یہی ہے کہ کافی حرکت کی جائے اور خوراک کے معاملہ میں اعتدال برتا جائے ۔ ہمارے ایک بزرگ مفسّر علامہ طبرسی رحمة اللہ علیہ نے اپنی تفسیر ”مجمع البیان“ میں ایک دلچسپ واقعہ نقل کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں: ہارون رشید کے دربار میں ایک عیسائی طبیب تھا جس کی بڑی شہرت تھی ایک روز اس طبیب نے ایک عالم سے یہ کہا کہ تمہاری آسمانی کتاب میں مجھے طب کا کوئی ذکر نہیں ملتا جبکہ مفید علم دوہی ہیں، علم ادیان اور علم ابدان۔ عالم نے اس کے جواب میں کہا کہ خداوند کریم نے تمام احکام طبّی کو آدھی آیت میں سمودیا ہے جہاں فرمایا ہے: ”کُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَاتُسْرِفُوا “:”کھاؤ پیو لیکن اسراف نہ کرو“ نیز ہمارے پیغمبر نے بھی طب کو اپنے اس ارشاد میں مختصر بیان کردیاا ہے: ” المعدة بیت الادوآء والحمیتہ راٴس کل دوآء واعط کل بدن ماعودة “ ” یعنی معدہ تمام بیماریوں کا گھر ہے اور پرہیز ہر دوا کی بنیاد ہے، اور بدن کو جو (مناسب)“ عادت ڈالی ہے اسے اس سے مت روکو ۔“ عیسائی طبیب نے جب یہ سنا تو کہا: ”ما ترک کتابکم ولا نبیکم لجا لینوس طبا“۔ یعنی تمھارے قرآن اور تمھارے پیغمبر نے جالینوس (مشہور طبیب) کے لئے کچھ نہیں چھوڑا ۔ جو لوگ اس حکم کو ایک معمولی حکم خیال کرتے ہیں بہتر ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اسے آزمائیں تاکہ اس کی اہمیت و گہرائی کا انھیں اندازہ ہوجائے اور اس قانون پر عمل کرنے کا معجز نما اثران کے سامنے ظاہر ہوجائے ۔ ۳۳ قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّی الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَاٴَنْ تُشْرِکُوا بِاللهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَانًا وَاٴَنْ تَقُولُوا عَلَی اللهِ مَا لَاتَعْلَمُونَ- ترجمہ ۳۳۔ کہہ دو کہ میرے پروردگار نے صرف بُرے کاموں کو، چاہے وہ آشکارا ہوں یا پنہاں، حرام کیا ہے، اور (اسی طرح) گناہو ناحق ستم کو (حرام کیا ہے) اور یہ کہ اس چیزکو خدا کا شریک ٹھہراؤ جس کی کوئی دلیل خدانے نازل نہیں کی، اور خدا کے متعلق وہ بات کہو جو نہیں جانتے (ان تمام باتوں کو اس نے حرام کیا ہے) ۔ تفسیر