وَلِلَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
For those who defy their Lord is the punishment of hell, and it is an evil destination.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 67:6
[Pooya/Ali Commentary 67:6] The disbelievers will burn in hell for ever. See commentary of Hud: 106 to 108; Ya Sin : 30. The prophets of Allah and their divinely commissioned successors (particularly the Imams of the Ahl ul Bayt) were not only rejected and belied but also were persecuted and martyred. Man has been given faculties to distinguish good from evil, and he is further helped by the teachings of the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt, but when he fails to follow the light of guidance his destination is degradation and blazing fire. When the disbelievers, hypocrites and deviators wilt pass through the ordeal of judgement to enter the fire of punishment they will freely confess their evil behaviour unto the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt, but the time for repentance and amendment will have long been passed. The respite had come to its final end as soon as death seized them and the chance for remedy had been lost.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 67:6-11
اگرہم سننے والا کان اور بید ار فکررکھتے تودوزخ میں نہ ہوتے
گذ شتہ آیات میں خدا کی عظمت وقدرت کی نشانیوں اورعالمِ آفرینش میں ان کے دلائل کے بارے میں گفتگوتھی، لہٰذا قرآن زیربحث آیات میں ایسے لوگوں کے بارے میں گفتگو کررہاہے جنہوں نے ان دلائل کی پروانہیں کی ،انہوں نے کفروشر کی راہ اختیار کر لی اور شیاطین کی طرح عذابِ الہٰی خرید بیٹھے ۔ پہلے فر ماتا ہے : ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اپنے پروردگار کاکفر کیاعذابِ جہنم ہے اوروہ بری جگہ ہے (وَ لِلَّذینَ کَفَرُوا بِرَبِّہِمْ عَذابُ جَہَنَّمَ وَ بِئْسَ الْمَصیر) ۔ اس کے بعد اس وحشتناک عذاب کے ایک گوشہ کی تشریح کرتے ہُوئے مزید کہتا ہے : جس وقت کفّار اس میں ڈالے جائیں گے تووہ اس میں سے ایک وحشتناک صداسُنیں گے اوروہ ہمیشہ جوش مارنے کی حالت میں رہتی ہے (اذا أُلْقُوا فیہا سَمِعُوا لَہا شَہیقاً وَ ہِیَ تَفُورُ) ۔ ہاں !جس وقت انہیں انتہائی ذلّت وحقارت کے ساتھ اس میں پھینکاجائے گا توجہنم کی وحشتناک اور طولانی صدا بلند ہوگی جوان کے تمام وجُود کووحشت میں غرق کردے گی ۔ شھیقاصل میں قبیح او ربُری آواز کے معنی میں ہے جیساکہ گدھے کی آواز ہے بعض اہل لغت نے یہ بھی کہاہے کہ یہ شھوق کے مادے سے طو لانی ہونے کے معنی میں لیاگیاہے ،(اسی لیے اُونچے اور بلند پہاڑ کوجبل شاہق کہتے ہیں ) اس بناء پر شحیق طولانی نالہ وفریاد کے معنی میں ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ زفیرتواس آواز کوکہتے ہیں جوگلے میںپیچ کھاتی رہے ،اور شھیق وہ آ واز ہے جوسینہ میں آ مدورفت کرتی ہے ،بہرحال یہ وحشت انگیز اور بے چین کردینے والی آ وازوں کی طرف اشارہ ہے ۔ اس کے بعد دُوزخ کے غیظ وغضب کی شدّت کومجسم کرنے کے لیے مزیدکہتا ہے : قریب ہے کہ وہ شدتِ غضب سے پارہ پارہ ہوجائے (تَکادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ ) (١) ۔ ٹھیک اس عظیم برتن کی طرح جسے حد سے زیادہ تیز حرارت والی آگ کے اوپر رکھا ہوا ہو اوروہ اس طرح جوش مارتاہو اورنیچے ہورہا ہوکہ ہرلمحہ اس کے ٹکڑ ے ہوجانے کاخوف لگارہتا ہو، یااس غصہ میں بھرے ہُوئے انسان کی طرح جوچیخ چلّا رہا ہو اوراس طرح کی آ وازین نکال رہا ہوجیسے ابھی پھٹ پڑے گا ۔ ہاں !خدائی غضب کے اس مرکز ،جہنّم کامنظر ایساہی ہے ۔ پھر وہی بات جاری ہے جس وقت کافروں کاکوئی گر وہ اس میں پھینکا جائے گاتودوزخ کے نگہبان تعجب اورسر زنش کے طور پراس سے سوال کریں گے کیاتمہاراکوئی رہبر وراہنما نہیں تھا؟ کیاخدا کی طرف سے کوئی ڈ رانے والا تمہارے پاس نہیں آ یا تھا؟ پھرتم اس بدبختی میں کیوں آن پڑے ہو ؟ (کُلَّما أُلْقِیَ فیہا فَوْج سَأَلَہُمْ خَزَنَتُہا أَ لَمْ یَأْتِکُمْ نَذیر ) ۔ انہیں اس بات کایقین ہی نہیں آ ئے گاکہ کوئی انسان جانتے بُو جھتے اور آسمانی رہبر کے ہوتے ہُوئے اِس قسم کی سرنوشت میں گرفتار ہوجائے .اوراپنے لیے اس قسم کی جگہ کاانتخاب کرے ۔ لیکن وہ جواب میں کہیں گے : ہاں ڈ رانے والا توہمارے پاس آیاتھا مگرہم نے اس کی تکذیب کی اورکہا کہ خُدا نے ہر گز کوئی چیز نازل نہیں کی ، اورخدا نے کسِی پروحی نہیں بھیجی ہے تاکہ ہم اپنی خواہش نفس کو جاری رکھیں .یہاں تک کہ ہم نے ان سے کہا کہ تم عظیم گمراہی میں مبتلا ہو (قالُوا بَلی قَدْ جاء َنا نَذیر فَکَذَّبْنا وَ قُلْنا ما نَزَّلَ اللَّہُ مِنْ شَیْء ٍ ِنْ أَنْتُمْ ِلاَّ فی ضَلالٍ کَبیر) ۔ نہ صرف یہ کہ ہم نے ان کی تصدیق نہیں کی اوران کے حیات بخش پیغام پرکان نہیںدھرا ،بلکہ ان کی مخالفت کے لیے کھڑ ے ہوگئے ،ان روحانی طبیبوں کوگمراہ کہہ کر اپنے سے دور کردیا ۔ اِس کے بعد اپنی بدبختی اور گمراہی کی اصل دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہیں گے : اگر ہم سننے والے کان رکھتے اوراپنی عقل کوکام میں لاتے توہر گز دوزخیوں میں سے نہ ہوتے (وَ قالُوا لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ ما کُنَّا فی أَصْحابِ السَّعیرِ ) ۔ ہاں !اس موقع پراپنے گناہ کااعتراف کرلیں گے دُور ہوں دوزخی خداکی رحمت سے (فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِہِمْ فَسُحْقاً لِأَصْحابِ السَّعیرِ ) ۔ ان آیات میں دوزخیوں کی وحشت ناک سرنوشت کے بیان کے ضمن میں ان کی بدبختی کی اصل علّت کی نشان دہی کرتے ہُوئے کہتا ہے : ایک طرف تو خدا نے سننے والے کان اورعقل وہوش عطاکیا اور دوسری طرف واضح دلائل کے ساتھ اپنے پیغمبر بھیجے ، اگریہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں توانسان کی سعادت کی تکمیل ہوجاتی ہے ۔ لیکن اگرانسان کان تو رکھتا ہے ،مگران سے سنتا نہیں ، آنکھیں رکھتا ہے ، مگران سے دیکھتا نہیں، اور عقل رکھتا ہے مگر اس سے سوچتا نہیں ، تواب اگرخُدا کے تمام کے تمام پیغمبر اور آسمانی کتابیں اس کے پاس آجائیں تواس پرکچھ اثر نہیں ہوگا ۔ ایک روایت میں آیاہے کہ ایک گروہ نے پیغمبراکر م(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں ایک مسلمان کی مدح وثنا کی تورسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا : کیف عقل الرجل ؟ اس کی عقل کیسی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہم توعبادت اور طر ح طرح کے نیک کاموں میں اس کی جدّ وجہد کی بات کررہے ہیں اورآپ اس کی عقل کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تب آپ نے فرمایا: ان الاحمق یصیب بحمقہ اعظم من فجورالفا جر، وانما یرتفع العباد غداً فی الدرجات ،وینا لون الزلقی من ربھم علی قدر عقولھم ! احمق کی حماقت سے جومصیبت آ تی ہے وہ فاجروں کے فجور اور بد کاروں کے گناہ سے بدتر ہوتی ہے . کل قیامت کے دن خدا بندوں کوان کی عقل و خرد کے مُطابق درجات عطا فرمائے گا اوروہ اسی بُنیاد پرقربِ خدا وندی حاصِل کریں گے ۔ سحق(بروزن قفل) اصل میں پیسنے اورنرم کرنے کے معنی میں ہے اور پُرانے لباس کوبھی کہا جاتا ہے .لیکن یہاں رحمت ِ خُدا سے دوری کے معنی میں ہے تواس بناء پر فسحقاً لاصحاب السعیر کامفہُوم یہ ہے کہ دوزخی رحمت ِ خُدا سے دُور رہیں ، کیونکہ خداکی نفرین تحقّق ِ خارجی سے توام ہوتی ہے . تویہ جُملہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ گروہ کلّی طورپر رحمت ِخُدا سے دُور ہوگا۔ ١۔تمیز متلاشی اور پراگندہ ہونے کے معنی میں ہے اوراصل میں تتمیز تھا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 67:6-11
عقل وخرد کی اونچی قدر وقیمت
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ قرآن ِ مجید عقل وخِرد کی حد سے زیادہ قدر وقیمت کی طرف اشارہ کررہاہے . نیز دوزخیوں کابنیاد ی گناہ اوران کی بدبختی کااصلی عامل اس خُدائی قوّت سے کام نہ لینے کو شمارکرتا ہے .بلکہ جوشخص قرآن سے آشنائی رکھتا ہے .وہ جانتا ہے کہ اُس نے مختلف مناسبتوں سے اس موضوع کی اہمیّت کوآشکار کیاہے اس نے ان لوگوں کی دوزخ با فیوں کے برخلاف ،جومذہب کو ماغوں کے مست اور سُست کرنے کاذ ریعہ اورعقل وخِرد کی پروانہ کرنے والا شمارکرتے ہیں ،اِسلام خُدا شناسی اور سعادت ونجات کی اساس وبُنیاد عقل وخرد پررکھتا ہے ، بلکہ جگہ جگہ اس کارُوئے سخن اولو الالباب(صاحبان ِ عقل ) اور او لوالا بصار(صاحبانِ بصیرت ) غور وفکِرکرنے والے عقلاء کی طرف ہے ۔ اسلامی منابع میں اس سلسلہ میں اس قدر روایات وارد ہُوئی ہیں جوحساب وشمار سے با ہر ہیں ، قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ مشہور کتاب کافی جومنابع حدیث میں سب سے زیادہ قابلِاعتبار ہے وہ مختلف کتابوں پرمشتمل ہے اوراس کی پہلی کتاب کانام کتابِ عقل وجہل ہے . جوشخص ان روایات کوملاحظہ کرے جواس ضمن میں اس کتاب میں نقل ہُوئی ہیں ،وہ اس سلسلہ میں اسلام کی نظر کی گہرائی کوپالے گا.ہم یہاں صرف دو روایات کے ذکر پرقناعت کریں گے۔ (اسی کتاب میں ) امر المومنین امام علیہ السلام سے روایت آ ئی ہے کہ جبرئیل آدم علیہ السلام پرنازل ہُوئے اوران سے کہا مجھے حکم ہُوا ہے کہ میں آپ کوان تین نعمتوں میں سے کسِی ایک کواپنانے کااختیار دوں ، آپ ان میں سے کسِی ایک کاانتخاب کرلیں اورباقی دو کو چھوڑ دیں ۔ آدم نے کہا: وہ کون سی نعمتیں ہیں ؟ جبرئیل نے جواب دیا: عقل ، حیا اور دین ۔ آدم نے کہا: میں نے عقل کا انتخاب کیاہے جبرئیل نے حیا اور دین سے کہا: اسے چھوڑ دو ،اور اپناکام کرو ۔ انہوں نے کہا: ہم مامور ہیں کہ ہرجگہ عقل کے ساتھ رہے اوراس سے جُدا نہ ہوں ۔ جبرئیل نے کہا: اب جبکہ یہ بات ہے کہ تو پھر اپنی مامُو ریّت پرعمل کرو اور اس کے بعد وہ آسمان کی طرف صعُود کرگئے ( 1) ۔ یہ ایک ایسی لطیف ترین تعبیر ہے جوعقل وخرد اور حیاء ودین سے اس کی نسبت کے بارے میں کی جاسکتی ہے .کیونکہ اگرعقل ،دین سے جُدا ہوجائے تووہ ذراسی بات میں برباد ہوجائے گایا انحراف کاشکار ہوجائے گا . با قی رہی حیاء کہ جوانسان کو بُرائیاں اور گناہوں کے ارتکاب سے روکتی ہے تووہ بھی معرفت اورعقل وخِرد کانتیجہ ہوتی ہے ۔ یہ چیز اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ آدم علیہ السلام عقل کے ایک قابلِ ملاحظہ حصّہ کے مالک تھے جنہوں نے ان تین چیزوں کے درمیان اختیار کے موقع پر عقل کے بالا ترمرحلہ کوانتخاب کیااوراس کے سائے میں دین کوبھی ساتھ رکھّا اور حیاء کوبھی ۔ ایک اور حدیث امام صادق علیہ السلام سے آیاہے : من کان عاقلاً کان لہ دین ، ومن لہ دین دخل الجنّة۔ جوعقلمند ہوگا وہ دیندار بھی ہوگا ،اورجو دیندار ہوگا وہ جنّت میں داخل ہوگا۔ (اسی بناء پر جنّت عقلمند وں کی جگہ ہے ( 2) ۔ البتّہ عقل یہاں سچی معرفت کے معنی میں ہے نہ کہ شیاطین کی وہ شیطنت جودنیا کے جابر اورظالم سیاستمداروںمیں نظر آ تی ہے کہ جوامام صادق علیہ السلام کے قول کے مطابق : عقل کے مشابہ ہے لیکن وہ عقل نہیں ہے ( 3) ۔ 1۔ اصول کافی بمابق نقل نورالثقلین ،جلد٥،صفحہ ٣٨٢۔ 2۔ اصول کافی بمابق نقل نورالثقلین ،جلد٥،صفحہ ٣٨٢۔ 3۔ اصول کافی بمابق نقل نورالثقلین ،جلد٥،صفحہ ٣٨٢۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 67:6-11
سوره ملک/ آیه 6- 11
٦۔وَ لِلَّذینَ کَفَرُوا بِرَبِّہِمْ عَذابُ جَہَنَّمَ وَ بِئْسَ الْمَصیرُ ۔ ٧۔ ِذا أُلْقُوا فیہا سَمِعُوا لَہا شَہیقاً وَ ہِیَ تَفُورُ ۔ ٨۔ تَکادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ کُلَّما أُلْقِیَ فیہا فَوْج سَأَلَہُمْ خَزَنَتُہا أَ لَمْ یَأْتِکُمْ نَذیر ۔ ٩۔قالُوا بَلی قَدْ جاء َنا نَذیر فَکَذَّبْنا وَ قُلْنا ما نَزَّلَ اللَّہُ مِنْ شَیْء ٍ ِنْ أَنْتُمْ ِلاَّ فی ضَلالٍ کَبیرٍ ۔ ١٠۔وَ قالُوا لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ ما کُنَّا فی أَصْحابِ السَّعیرِ ۔ ١١۔ فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِہِمْ فَسُحْقاً لِأَصْحابِ السَّعیرِ۔ ترجمہ ٦۔اوران لوگوں کے لیے جنہوں نے اپنے پروردگار کاکفرکیا ،جہنم کاعذاب ہے اوروہ بُری جگہ ہے ۔ ٧۔جسوقت وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس میں سے ایک وحشتناک آواز سنیں گے اوروہ ہمیشہ جوش ماررہی ہوگی ۔ ٨۔قریب ہے کہ وہ شدّتِ غضب سے پارہ پارہ ہوجائے ، جِس وقت اس میں کوئی گروہ ڈالا جاتا ہے ، تودوزخ کے نگران (فرشتے ) ان سے سوال کرتے ہیں کیا تمہارے پاس خداکی طرف سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیاتھا ۔ ٩۔وہ کہیں گے ، ہاں !انذار کرنے والا توہمار ے پاس آیاتھا مگر ہم نے اُسے جھٹلا یااور یہ کہا خُدا ین بالکل کوئی چیز نازل نہیں کی ہے اور تم ایک بہت بڑی گمراہی میں ہو ۔ ١٠۔ اور ( یہ بھی کہیں گے کہ اگر (ان کی بات )سنتے یاسمجھتے تب تو( آج ) دوزخیوں میں نہ ہوتے ۔ ١١۔اِس موقع پروہ اپنے گناہ کا اعتراف کرلیں گے ،دودزخی خدا کی رحمت سے دُور رہیں ۔