وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ
He is Allah in the heavens and on the earth: He knows your secret and your overt [matters], and He knows what you earn.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:3
[Pooya/Ali Commentary 6:3] It is folly to suppose that Allah only reigns in the heavens (see page 11). He also reigns on the earth. He knows all our secret thoughts and motives, and the real worth of all that is behind what we care to show. It is by our deeds that He judges us; for our deeds, whether good or evil, we shall get due recompense in due time. Allah is one, the (only) creator, the Lord-cherisher of the worlds. Hidden and disclosed are the terms related to man. Allah knows everything. His knowledge encompasses the whole universe (see commentary of al Baqarah : 255).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:3
تو یہاں اجل سے مراد وہی حتمی موت ہے ۔
اس بنا پر یہ آیت اس موقع سے مربوط ہے جب انسان اپنی آخری عمر کو پہنچ گیا ہو لیکن وہ موتیں جو قبل ازوقت واقع ہوجائےں ان پر اس آیت کا اطلاق نہیں ہوسکتا ۔ اور ہر صورت میں اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہئے کہ دونوں اجلیں خدا ہی کی طرف سے معین ہوتی ہیں، ایک مطلق طور پر اور دوسری مشروط اور معلق طریقہ سے، بالکل اسی طرح جیسے کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ چراغ بیس گھنٹوں کے بعد بلاشرط خاموش ہوجائے گا، اور یہ بھی ہم کہہ دیتے ہیں کہ اگر آندھی چل پڑی تو دوہی گھنٹوں کے بعد بجھ جائے گا، یہ بات انسان ، قوموں اور ملتوں کے بارے میں بھی اسی طرح ہے، ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص یا فلاں قوم،فلاں مقدار عمر کے کے بعد قطعی ویقینی طور پر ختم ہوجائی گی اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر وہ ظلم وستم ،نفاق واختلاف اور سہل انگاری وسستی اختیار کریں گے تو اس مدت کے ایک تہائی حصہ میں ہی ختم ہوجائے گی، دونوں اجلیں خدا کی طرف سے ہیں ایک مطلق ہے اور دوسری مشروط۔ امام صادق علیہ السلام سے اوپر والی آیت کے ذیل میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ”ھمااجلان ،اجل محتوم واجل موقوف“ یہ دو قسم کی اجلوں کی طرف اشارہ ہے، اجل حتمی اور اجل مشروط۔ دوسری احادیث میں جو اس بارے میں وارد ہوئی ہیں اس بات کی تصریح ہوگئی ہے کہ اجل غیر حتمی(مشروط) آگے پیچھے ہوسکتی ہے لیکن اجل حتمی قابل تغیر نہیں ہے(1) ۔ ۳ وَھُوَ اللّٰہُ فِی السَّمَاوَاتِ وَفِی الْاٴَرْضِ یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَجَھْرَکُمْ وَیَعْلَمُ مَا تَکْسِبُونَ ترجمہ ۳۔ اور آسمانوں اور زمینوں میں خدا تو وہی ہے جو تمہاری پوشیدہ باتوں کا بھی جانتا ہے اور آشکار بھی اور جو کچھ تم( انجام دیتے ہو اور )کسب کرتے ہو اس سے بھی باخبر ہے ۔ 1۔نورالثقلین،جلد۱،صفحہ۵۰۴۔