وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ آيَةٍ مِّنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ
There did not come to them any sign from among the signs of their Lord, but that they used to disregard it.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:4
[Pooya/Ali Commentary 6:4] Ayat (signs) means revelations, communications and the messengers of Allah and the divinely appointed successors of the Holy Prophet (the holy Imams among his Ahl ul Bayt), who put forward conclusive arguments to establish the truth of Allah's message, but the rejectors of faith turned away from it, and, at last, they learned the reality of what they used to mock at. The shortsighted and arrogant pagans (who supposed that they were firmly established on this earth, secure in their privileges) were reminded of much greater nations in the past, who failed in their duty and were wiped out. If a book, written on paper, was sent to the Holy Prophet the pagans would have said (in sheer pugnacity) that it was obvious magic, and they were not helped at all in attaining faith, because their hearts were diseased. A similar demand was made by the Jews (see Nisa : 153).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:4-5
مشرکین کی تکبر ،لاپرواہی اور ہٹ دھرمی کی طرف اشارہ کرتے
ہم بیان کرچکے ہیں کہ سورہ انعام میں زیادہ تر روئے سخن مشرکین کی طرف ہے اور قرآن مجید ان کی بیداری اور آگاہی کے لئے طرح طرح کے وسائل وذرائع سے کام لیتا ہے، یہ آیت اور بہت سی دوسری آیات جو اس کے بعد آئیں گی اسی موضوع سے متعلق ہے ۔ اس آیت میں حق اور خدائی نشانیوں کے مقابلہ میں مشرکین کی تکبر ،لاپرواہی اور ہٹ دھرمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: وہ اےسے ہٹ دھرم اور لاپرواہ ہے کہ وہ پروردگار کی نشانیوں میں سے جس نشانی کو بھی دیکھتے ہیں فورا اس سے منہ پھیر لیتے ہیں( وَمَا تَاٴْتِیہِمْ مِنْ آیَةٍ مِنْ آیَاتِ رَبِّھِمْ إِلاَّ کَانُوا عَنْھَا مُعْرِضِینَ ) (۱) یعنی ہدایت اور راہ یابی کی سب سے پہلی شرط ہی جو کہ تحقیق وجستجو ہے ان میں موجود نہیں ہے، نہ صرف یہ کہ حق کو حاصل کرنے کا جوش وولولہ اور عشق ان میں موجود نہیں ہے، کہ وہ ان پیاسوں کی طرح جو پانی کے پیچھے دوڑتے ہیں، حق کی تلاش میں ہوں، بلکہ اگر صاف وشفاف پانی کا چشمہ بھی ان کے گھر کے سامنے جوش مارنے لگے ، تو وہ اس کی کی طرف سے منہ پھیر لیں اور بالکل اس کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھے، خواہ یہ آیات ان کے پروردگار کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو ”ربہم“اور ان کی تربیت وتکامل کے لئے ہی کیوں نہ نازل ہوئی ہو ۔ یہ صورت زمانہ جاہلیت اور مشرکین عرب میں ہی منحصر نہیں، اب بھی ہم ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ جو صرف ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گئے ہیں لیکن وہ خدا اورمذہب کے بارے میں تحقیق وجستجو کرنے کی ایک لمحہ کے لئے بھی زحمت اٹھا نے کے لئے تیار نہیں ہیں، یہ تو معمولی بات اگر اتفاق سے کوئی کتاب یا رتحریر اس سلسلے کی ان کے ہاتھ میں آجائے تو اس کی طرف نگاہ تک نہیں کرتے، اور اگر کوئی شخص اس کے بارے میں ان سے گفتگو کرے تو وہ سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے یہ ہٹ دھرم جاہل اور بے خبر لوگ ہیں جو ممکن ہے بعض اوقات عالم کے لباس میں ملبوس ہیں ۔ اس کے بعد ان کے اس عمل کے نتیجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے:اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب حق ان کے پاس آیا تو انھوں نے اس کی تکذیب کی حالانکہ اگر وہ پرور دگار کی آیات اور نشانیوں میں غور وفکر کرتے تو حق کو اچھی طرح دیکھ لیتے اور پہچان لیتے اور اس کو یاد کرلیتے ( فَقَدْ کَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَائَھُمْ )اور اس تکذیب اور جھٹلانے کا نتیجہ وہ بہت جلدی پالیں گے اوراس کی خبر کے جس کا انھوں نے مذاق اڑاتھا ان تک پہنچ جائے گی (فَسَوْفَ یَاٴْتِیھِمْ اٴَنْبَاءُ مَا کَانُوا بِہِ یَسْتَہْزِئُون) ۔ اوپر والی آیات میں درحقیقت کفر کے تین مراحل کی طرف اشارہ ہوا ہے جس میں مرحلہ با مرحلہ شدت پیدا ہوتی جاتی ہے ۔ پہلا مرحلہ اعراض وروگردانی کا ہے، اس کے بعد تکذیب اور جھٹلانے کا مرحلہ ہے اور بعد میں حقائق اور آیات خدا کے استھزاء تمسخر اور مذاق اڑا نے کا مرحلہ ہے ۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسان کفر کی راہ میں کسی ایک مرحلہ پر رکتا نہیں ہے، بلکہ جس قدر وہ آگے بڑھتا جاتا ہے اسی قدر اس کی شدت انکار، عداوت، حق سے دشمنی اور خدا سے بےگانگی میں زیادتی ہوتی جاتی ہے ۔ آیت کے آخر میں جو تھدید کی گئی اس سے منظور یہ ہے کہ آئندہ چل کر یا جلدی یا بدیر بے ایمانی کا برا انجام دنیا وہ آخرت میں ان کا دامن پکڑے گا ۔ بعد کی آیات بھی اس تفسیر کی گواہ اور شاہد ہیں ۔ ۶ اٴَلَمْ یَرَوْا کَمْ اٴَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِھِمْ مِنْ قَرْنٍ مَکَّنَّاھُمْ فِی الْاٴَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّنْ لَکُمْ وَاٴَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَیْھِمْ مِدْرَارًا وَجَعَلْنَا الْاٴَنْھَارَ تَجْرِی مِنْ تَحْتِھِمْ فَاٴَھْلَکْنَاھُمْ بِذُنُوبِھِمْ وَاٴَنشَاٴْنَا مِنْ بَعْدِھِمْ قَرْنًا آخَرِینَ- ترجمہ ۶۔کیا انھوں نے دیکھا نہیں ہے کہ ہم نے کتنی گذشتہ اقوام کو ہلاک کیا ہے وہ قومیں کہ (جو تم سے کیں زیادہ طاقتور تھیں اور )جنھیں ہم نے ایسی توانائیاں عطا کی تھیں جو تمھیں ہیں دی ہیں ، ہم نے ان کی طرف پے در پے بارشیں بھیجیں اور ان کی (آبادیوں) کے نیچے نہریں جاری تھیں(لیکن جب انھوں نے سرکشی اور طغیانی کی تو ) ہم نے ان کے گنا ہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا ، اور ان کے بعد ہم دوسری قوم کو وجود میں لے آئے ۔ ۱۔یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ لفظ”آیة “ نکرہ سیاق نفی ہے، لہٰذا عمومیت کا فائدہ دے گایعنی وہ کسی بھی آیت اور کسی بھی نشانی کے مقابلے میں نہیں ٹھہرتے اور اس کامطالعہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:4-5
تمام چیزوں کا خالق وہی ہے
اس آیت میں توحید اور خدا وند تعالیٰ کی یگانگی کے سلسلہ میں گذشتہ بحث کی تکمیل کی گئی ہے اور ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو موجودات کی ہر نوع کے لئے علیحدہ علیحدہ خداؤں کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ بارش کا خدا، جنگ کا خدا ،صلح خدا ، آسمان کا خدا وغیرہ وغیرہ، کہتا ہے : وہی ہے وہ خدا کہ جس کی الوہیت تمام آسمانوں اور زمین پر حکومت کرتی ہے ۔ (وَھُوَ اللّٰہُ فِی السَّمَاوَاتِ وَفِی الْاٴَرْضِ)(1) یعنی اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ تمام چیزوں کا خالق وہی ہے تو ان سب کا مدبر ومدیر بھی وہی ہوگا ، کیوں کہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین بھی خالق اور آفریدگار اللہ ہی کو جانتے تھے لیکن تدبیر وتصرف بتوں کے ہاتھ سمجھتے تھے ۔ آیت انھیں جواب دیتی ہے کہ جو ذات خالق ہے تمام چیزوں میں تدبیر وتصرف بھی اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ خدا وند تعالیٰ ہرجگہ حاضر ہے، آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور کوئی جگہ اس سے خالی نہیں ہے یہ بات بھی نہیں کہ وہ جسم ہے یا اس کا کوئی مکان ہے بلکہ وہ تمام جگھوں پر احاطہ رکھتاہے ۔ یہ بات ضروری ہے کہ جو ہر جگہ حکومت کرتا ہوں اور ہر چیز کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہوں اور وہ ہر جگہ حاضر ہو، وہ تمام اور اسرار اور پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے لہٰذا بعد والے جملہ میں کہتا ہے کہ: اےسا خدا وہی ہے جو تمھارے پوشیدہ اور آشکار امور کو جانتا ہے اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو اس سے بھی باخبر ہے( یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَجَھْرَکُمْ وَیَعْلَمُ مَا تَکْسِبُون) ۔ ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ ”سر“ وجھر“ آیت میں انسانوںکے اعمال اور ان کی نیتوں پر بھی محیط ہے اس بنا پر”ما تکسبون“ (جو کچھ انجام دیتے ہو)کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ ”کسب“ عمل کے نیتوں اور روحانی حالت کے معنی میں اچھے اور برے اعمال کا حاصل ہے ، یعنی وہ تمہارے اعمال اور نیتوں سے بھی باخبر ہے اور ان کے اثرات سے بھی جو یہ اعمال تمہاری روح میں پیدا کرتے ہیں، بہر حال اس جملہ کا ذکر انسانوں کے اعمال کے سلسلہ میں تاکید کے لئے ہوا ہے ۔ ۴وَمَا تَاٴْتِیھِمْ مِنْ آیَةٍ مِنْ آیَاتِ رَبِّھِمْ إِلاَّ کَانُوا عَنْھَا مُعْرِضِینَ - ۵فَقَدْ کَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَائَھُمْ فَسَوْفَ یَاٴْتِیھِمْ اٴَنْبَاءُ مَا کَانُوا بِہِ یَسْتَھْزِئُون- ترجمہ ۴۔کوئی نشانی اور آیات خدا میں سے کوئی آیت ان تک نہیں پہنچی مگر یہ کہ وہ ان سے منھ پھیر لیتے ہیں ۔ ۵۔ انہوں نے حق کا انکار کردیا جب کہ وہ ان کی طرف آیا، لیکن جس بات کا وہ مزاق اڑایا کرتے تھے بہت جلد انھیں اس کی اطلاع مل جائے گی اور وہ اپنے اعمال کے نتائج سے آگاہ ہوجائیں گے ۔ 1۔ اس جملہ کی ترکیب کے سلسلہ مین مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن ظاہر یہ ہے کہ”ہو“ مبتدا ہے اور ”اللّٰہ“ خبر ہے اور فی السموات۔۔۔کا جار مجرور اس فعل سے متعلق ہے جو لفظ اللہ سے سمجھا جاتا ہے اور حقیقت میں جملہ کا معنی اس طرح ہے”ھوالمنفرد فی السموات بالالوھیة“۔