إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
Indeed those who split up their religion and became sects, you will not have anything to do with them. Their matter rests only with Allah; then He will inform them concerning what they used to do.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:159
[Pooya/Ali Commentary 6:159] According to Imam Muhammad bin Ali al Baqir this verse is in continuation of verse 154. Those who abandoned the path shown by the Holy Prophet through hadith al thaqalayn and his final announcement at Ghadir Khum, in fact sowed the seeds of discord and sectarianism in Islam, otherwise the directions given by the Holy Prophet, as commanded by Allah, were clear. "My Ahl ul Bayt are like the ark of Nuh. Whoso gets into it is saved, and whoso stays away is drowned and lost" said the Holy Prophet. The Holy Prophet also said: "Out of the seventy-one sects of the followers of Musa, only one was on the right path. The followers of Isa also divided their religion into seventy two sects, out of which only one was on the right path. Likewise there will be seventy three sects among my followers, out of which only one will be on the right path." The followers of true Islam hold fast to the Quran and the Imams of the Ahl ul Bayt as had been directed by the Holy Prophet.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:159-160
نفاق پھیلانے والوں سے علیحدگی کا حکم
نفاق پھیلانے والوں سے علیحدگی کا حکم جودس فرمان پچھلی آیتوں میں گذرے ہیں جن کے آخر میں یہ حکم تھا کہ خدا کی صراطِ مستقیم کی پیروی کرو اور ہر طرح کے نفاق اور اختلاف کا مقابلہ کرو، یہ آیت در اصل اسی مفہوم کی تفسیر وتوضیح کے ضمن میں ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہ وہ لوگ جنھوں نے اپنے آئین ومذہب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور وہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے (اے رسول!) تمھارا ان سے کسی معاملے میں کوئی ربط نہیں، نہ ان کا تم سے کسی چیز میں ربط ہے کیونکہ تمھارا آئین توحید اور تمھارا دین صراطِ مستقیم ہے اور راہِ راست ہمیشہ ایک ہی ہوتی ہے (إِنَّ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَھُمْ وَکَانُوا شِیَعًا لَسْتَ مِنْھُمْ فِی شَیْءٍ)(۱) اس کے بعد اس طرح کے تفرقہ انداز لوگوں کی تحدید ومذمّت کے لئے فرماتا ہے : ان کا کام خدا کے سپرد ہے، وہ انھیں کیفر کردار سے آگاہ کرے گا (إِنَّمَا اٴَمْرُھُمْ إِلَی اللهِ ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوا یَفْعَلُونَ) ۱۔ لغت میں لفظ ”شیع“کے معنی فرقوں،گروہوں، پیروں کے ہیں، بنابریں اس کا مفرد (شیعہ) کے معنی اس گروہ کے ہیں جو کسی خاص مسلک یا شخص کی پیروی کرے، یہ لفظ ”شیعہ“ کے لغوی معنی ہیں، لیکن اصطلاحی معنی میں اس کے خاص معنی او ان لوگوں کو شیعہ کہا جاتا ہے جو پیغمبر کے بعد مسلک امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے پیرو ہیں، لہٰذا اس کے لغوی اور اصطلاحی معنی میں اشتباہ نہیں ہونا چاہیے (موٴلف) مطلب یہ ہے کہ یہاں پر لفظ ”شیع“ اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے نہ کہ اصطلاحی معنی، لہٰذا کوئی صاحب عقل اس آیت کو مذہب شیعہ کے خلاف استعمال نہیں کرسکتا(مترجم)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:159-160
چند اہم نکات
چند اہم نکات ۱۔ اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں؟ مفسرین میں سے کچھ افراد کا خیال ہے کہ یہ آیت یہود ونصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مختلف گروہوں میں بٹ گئے تھے اور ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آرا ہوگئے تھے ۔ بعض دوسرے مفسّرین کا خیال ہے کہ یہ اسی امّت محمّدی کے ان تفرقہ انداز کی طرف اشارہ کررہی ہے جنھوں نے مختلف تعصبّات اور جذبہٴ تفوق طلبی اور جاہ پسندی کی وجہ سے اس امت مسلمہ کے درمیان نفاق وافتراق کا بیج بویا ہے ۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس آیہٴ کریمہ میں عمومی طور سے ان تمام تفرقہ پسند افراد کا حکم بیان کیا گیا ہے جنھوں نے طرح طرح کی بدعتیں ایجاد کرکے بندگانِ خدا کے درمیان نفاق واختلاف پھیلایا ہے، چاہے وہ پچھلی امتوں میں گزرے ہوں یا ان کا تعلق اس امت سے ہو ۔ لہٰذا اگر ہمیں اہلبیت طاہرین علیہم السلام کی روایات میں اور اسی طرح اہل سنّت کی روایات میں بھی یہ ملتا ہے کہ اس آیت سے اس امت کے تفرقہ انداز اور بدعت پھیلانے والے لوگ مراد ہیں(1) تویہ بیان مصداق کے طور پر ہے (نہ کہ اس سے انحصار مراد ہے)کیونکہ اگر اس مصداق کو بیان نہ کیا جاتا تو بعض کو یہ خیال گزرتا کہ اس آیت سے صرف پچھلی امتیں مراد ہے، اس طرح وہ خود کو اس آیت کی مذمّت سے بَری قرار دے لیتے ۔ تفسیر علی بن ابراہیم قمی میں امام محمد باقر علیہ السلام سے اس آیت کے ذیل میں روایت ہے: ”فارقوا امیر المومنین علیہ السلام وصاروا احزاباً“ یعنی اس آیت میں ان لوگوں کی جانب اشارہ ہے جنھوں نے امیرالمومنین علیہ السلام کو چھوڑدیا اور وہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہیں(2) نیز وہ روایات بھی اس مطلب پر دلالت کرتی ہیں جن میں حضرت رسالتمآب صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے پیشنگوئی کے طور پر فرمایا ہے: ” میرے بعد یہ امّت مختلف گروہوں میں بٹ جائے گی“= تفرقہ اور نفاق کی برائی یہ آیت اس امر کی بڑی تاکید کے سات دُہرا رہی ہے کہ اسلام آئین وحدت ویگانگی ہے اور ہر طرح کے نفاق،تفرقہ اور انتشار سے بیزار ہے، اس بناپر بڑی تاکید کے ساتھ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے ارشاد الٰہی ہے کہ تمھارے کام کو تفرقہ انداز لوگوں سے کوئی مشابہت نہیں ہے، خدائے قہّار ومنتقم ان سے انتقام لے لے گا اور ان کے انجام بد کو ان کے سامنے لائے گا ۔ توحید نہ صرف ایک اصل اسلام ہے بلکہ اسلام کے تمام اصول و فروع اور اس کے تمام آئین و فرامین توحید کے محور پر گھومتے ہیں ۔ تمام تعلیمات اسلامی کے پیکر میں توحید روح کی حیثیت رکھتی ہے ۔ جسدِ اسلام میں توحید ہی کی روح پھونکی گئی ہے ۔ لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ آئین اسلام جس کے تمام اصولوں کو محدت و یگانگی نے جیات بخشی ہے آج وہی آئیں، تفرقہ اندازوں اور نفاق افگنوں کے ہاتھوں کچھ اس طرح گرفتار ہوا ہے کہ اس کے اصلی خداو خال گم ہو کر رہ گئے ہیں ۔ ہر روز ایک نغمہٴ شوم اس صدائے بوم کی طرح جو ویرانہ میں سنائی دے، کسی نہ کسی گوشہ سے بلند ہوتا ہے اور کوئی نہ کوئی شخص جسے ہیرو بننے کا شوق ہو یا کسی دماغی مرض میں گرفتار ہو یا کج رفتار ہو وہ کسی قانونِ اسلامی کے خلاف عَلَمِ مخالفت اونچا کرتا ہے جس کے گرو کچھ نادان افراد جمع ہوجاتے ہیں اور اس طرح ایک نئے اختلاف کا دروازہ کھل جاتا ہے عام مسلمانوں کی بے خبری اور آئیں اسلامی سے ان کا جہل اس طرح تفرقہ اندازی میں وہی کردار ادا کرتا ہے جو دشمن کی بیداری اور فن تفرقہ سے آگاہی ادا کرتی ہے ۔ یہ دونوں امور اس افتراق و اختلاف میں بہت موٴثر ہوتے ہیں ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ مسائل جو صدیوں سے مورد بحث چلے آرہے ہیں، بعض لوگ تفرقہ ڈالنے کے لئے نئے سرے سے معرض بحث میں لاکر جنجال برپا کرتے ہیں تاکہ عوام کے افکار کو اپنی طرف متوجہ کریں لیکن جیسا کہ آیت مذکورہ بالا کہہ رہی ہے اسلام ایسے لوگ سے اور اسلام سے بیگانہ ہیںاور آخر میں ان تفرقہ انداز افراد کی تمام کوشش رائیگاں جائیں گی ۔ (3) مذہب شیعہ پر موٴلف ”المنار“ کے ناروا حملے موٴلف تفسیر ”المنار“ جو ملّتِ شیعہ سے بری طرح بدظن ہیں اتنا ہی عقائد شیعہ اور تاریخ شیعہ سے با خبر بھی ہیں ۔ اس آیت کے ذیل میں دعوت اتحاد و اتفاق کی نقاب ڈال کر موصوف نے شیعوں پہ خامہ فرسائی کی ہے اور ان پر یہ اتہام لگایا ہے کہ یہ شیعہ ہیں کہ جنھوں نے اسلام میں تفرقہ ڈالا ہے، یہ اسلام کے مخالف ہیں اور مذہب کے نام پر خلاف اسلام اعمال میں مشغول ہیں!، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیہ مذکورہ میں جو لفظ ”شیعاً“ آیا ہے، اور جس کو مسئلہ ”تشیع یا شیعہ“ سے کوئی ربط نہیں ہے اسے اپنے پوچ دعوے کے اثبات میں عنوان قرار دیا ہے:۔ ان صاحب کی عبارتیں اور ان کے قلم سے نکلے ہوئے الفاظ خود ان کے اعتراض کا جواب ہیں اور وہ اس بات کے زبر دست شاہد ہیں کہ ان کو تاریخ و عقائد شیعہ کا کوئی علم نہیں ہے کیونکہ: <۱ موصوف نے پہلے تویہ دعویٰ کیا ہے کہ ملت ”شیعہ“اور ”عبداللہ بن سبا“ یہودی کے درمیان ربط خاص ہے، حالانکہ عبد اللہ بن سبا کا وجود ہی مشکوک ہے (4)اور بہ فرض وجود اس نے تاریخ شیعہ یا کتب شیعہ میں کوئی کردار ادا انھیں کیا ہے، پھر یہ ادعا کیا ہے کہ ”شیعہ“ اور فرقہ ”باطنیہ“ اور فرقہ ”ضالّہ“ کے درمیان ارتباط ہے حالانکہ یہ دونوں فرتے شیعوں کے سخت دشمن ہیں ۔ اگر کسی کو تاریخ شیعہ سے مختصر آگاہی ہو تو اسے بھی پتہ چل جائے گا کہ اس قسم کے دعوے و اہی خیالات سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے بلکہ یہ افترا و تہمت ہیں ۔ سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ موصوف نے شیعوں کو ”غُلات“ سے نسب دی ہے (غلات وہ فرقہ ہے جس نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں غلو کیا ہے اور وہ انھیں خدا سمجھتا ہے) حالانکہ فقہ شیعہ میں انھیں ایسے کافروں کی فہرست میں شمار کیا گیا ہے جن کا کفر مسلّم ہے ۔ اس کے باوجود موصوف لکھتے ہیں شیعہ اہل بیت علیہم السلام اور دوسری چیزوں کی پرستش کرتے ہیں ۔ یہ مسلمہ بات ہے کہ اگر موٴلف ”المنار “ قبل از تحقیق فیصلہ اور بے جا تعصبات سے اجتناب کرتے اور اس بات کی کوشش کرتے کہ شیعہ عقائد کو خود شیعوں سے دریافت کرتے یا ان کی کتابیں پڑھتے ، نہ کہ ان کے دشمنوں کی کتابوں کو اپنا مدرک علم و معلومات قرار دیتے ، تو ان کو بخوبی معلوم ہوجاتا کہ اس قسم کی باتیں ان سے منسوب کرنا نہ صرف کذب و بہتان ہے بلکہ مضحکہ خیر اور خندہ آور بھی ہے ۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ انھوں نے مذہب شیعہ کی پیدائش کو ایرانیوں کی طرف منسوب کیا ہے حالانکہ ایرانیوں کے شیعہ ہونے سے کئی صدیاں قبل”مذہب تشیع“ عراق حجاز اور مصر میں پھیل چکا تھا ۔ مدارک تاریخی اس حقیقت کے زندہ گواہ ہیں ۔(5) <۲ شیعوں کا ایک بڑاگناہ یہ ہے کہ انھوں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس قطعی فرمان پر عمل کیا ہے جو اہل سنت کے معتبر ترین مدرکوں میں بھی مذکورہ ہے اور وہ فرمان یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمھارے درمیان دوگران مایہ چیزیں اپنی یادگار کے طور پر چھوڑے جارہا ہوں، ان سے و ابستہ رہنا کبھی بھی گمراہ نہ ہوگے ، خدا کی کتاب اور میری عترت“ ۔(6) شیعوں کا قصور یہ ہے کہ انھوں نے مشکلات اسلامی میں اپنی پناہ گاہ ان ہستیوں کو بنایا ہے جو آئین اسلام سے سب سے زیادہ آگاہ تھیں ۔ اور وہ اہل بیت رسول علیہم السلام کی ذوات مقدسہ ہیں ۔ چنانچہ شیعوں نے انہی سے اپنے احکام دین اخذ کیے ہیں ۔ شیعوں کی خطا یہ بھی ہے وہ عقل و منطق کی پیروی کرتے ہوئے قرآن و سنت کے زیر سایہ ”اجتہاد“ کے دروازہ کو کھلا ہوا سمجھتے ہیں اس طرح سے انھوں نے فقہ اسلامی کو حرکت بخشی ہے چنانچہ وہ کتے ہیں: اس امر کی کیا دلیل ہے کہ قرآن و سنت کو سمجھنے کی قوت کو صرف ”چار افراد“ میں منحصر کردیا جائے اور ان کے علاوہ باقی تمام افراد کو ان کی پیروی کرنے پر مجبور کیا جائے؟ کیا قرآنی خطابات کا رُخ ہر زمانے کے ایماندار افراد کی طرف نہیں ہے؟ کیا اصحاب رسول قرآن اور سنت کو سمجھنے کے لئے کچھ معین اشخاص کی پیروی کرتے تھے؟ لہٰذا اس کی کیا ضرورت ہے کہ ہم اسلام کو ایک پرانی اور خشک چار دیواری جس کا نام ”مذاہب اربعہ ہے“ میں محصور کریں؟! شیعوں کا گناہ یہ بھی ہے کہ وہ کہتے ہیں: اصحاب پیغمبر کو دیگر افراد کی طرح ایمان و عمل کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے، ان میں سے جن کا عمل قرآن و سنت کے مطابق ہے وہ اچھے ہیں (اور ان سے محبت کی جائے) اور وہ اصحاب جنھوں نے پیغمبر کے دور میں یا آنحضرت کے وصال کے بعد کتاب و سنت کے خلاف عمل کیا ہے انھیں چھوڑ دینا چاہیے اور محض لفظ ”صحابی“ کو فتنہ پروروں کے لئے ایک ڈھال نہ بنایا جائے اور معاویہ جیسے افراد کو محترم نہ سمجھا جائے وہ معاویہ کہ جس نے تمام ضوابط اسلامی کو پیروں تلے روند دیا تھا اور اس نے اس امام وقت پر خروج کیا جسے تمام امت اسلامی کم از کم اس دور میں امام مانتی ہے، اور اس نے بہت سے بے گناہوں کا خون بہایا تھا، یہی حال کچھ ان اصحاب کا ہے جو دولت کی طمع میں معاویہ کے طرفدار اور اس بغاوت میں اس کے شریک کار رہے ۔ ہاں شیعہ اس طرح کے گناہوں کے مرتکب بھی ہیں اور معترف بھی لیکن ذرا بتلانا کہ شیعوں سے زیادہ مظلوم بھی کوئی ایسی قوم ہے جس کی تاریخ اور زندگی کے درخشاں و پر وقار پہلووں کو تاریک کرکے پیش کیا جائے؟ دروغ و بہتان کا ایک طو مار اس کے خلاف باندھ دیا جائے؟ یہاں تک کہ اسے اتنی اجازت بھی نہ ملے کہ وہ اپنی صفائی کے طور پر عام مسلمانوں میں اپنے عقائد کی تبلیغ کرسکے بلکہ یہ کہا جائے کہ اس کے عقائد کو اس کے دشمنوں سے اخذ کیا جائے نہ کہ خود اس سے! کیا وہ گروہ جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فرمان (حدیث ثقلین) پر عمل پیرا ہے (جبکہ دوسروں نے اس پر عمل نہیں کیا) تفرقہ انداز اور نفاق پر ور محسوب ہوگیا؟ کیا یہ مناسب ہے کہ یہ گروہ جس راہ پر جارہا ہے اس پر چلنے سے روک دیا جائے تاکہ اتحاد و اتفاق قائم ہوجائے یا ان لوگوں کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہیے جو منزل سے بھٹک گئے ہیں؟! <۳علوم اسلامی کی تاریخ بتلاتی ہے کہ علوم اسلامی میں بالعلوم شیعہ ہی پیش قدم تھے ۔ یہاں تک کہ شیعوں کو علوم اسلامی کا موجد اور مورث اعلیٰ سمجھا جاتا ہے ۔(7) علمائے شیعہ نے جو گر انقدر کتابیں علم تفسیر، تاریخ، حدیث، فقہ، اصول، رجال اور فلسفہ اسلامی میں لکھی ہیں یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے چھپایا جا سکے ۔ یہ کتابیں تمام عمومی کتاب خانوں میں موجود ہیں جن سے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں (ہاں اس سے اہل سنت کے بعض کتب خانے مستثنیٰ ہیں جہاں عام طور پر کتب شیعہ کا داخلہ ممنوع ہے، حالانکہ ہم نے صدیوں سے اپنے کتب خانوں میں کتب اہل سنت کے داخلے کی عام اجازت دے رکھی ہے!) اور یہ کتابیں ہمارے دعوے کی زندہ دلیل ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ تمام بیش قیمت کتابیں عظمتِ اسلامی اور تعلیمات اسلامی اور تعلیمات اسلام کو پھیلانے کے لئے لکھی ہیں کیا یہ سب اسلام کے دشمن تھے؟ کیا کوئی ایسا دشمن تمہاری نظر میں ہے جس نے اس قدر دوستی اور محبت کی ہو؟ آیا سوائے مخلص عاشق کے کوئی ایسا شخص ہے جس نے قرآن اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے اتنی اہم خدمات انجام دی ہوں؟ آخر کلام میں ہمیں صرف اتنا کہنا ہے کہ اگر واقعاً آپ یہ چاہتے ہیں کہ نفاق اور تفرقہ دور ہوجائے، تو آئیے بجائے تہمت تراشویوں کے ایک دوسرے کو پہچاننے کی کوشش کریں کیونکہ اس طرح نارواتہمتیں نہ صرف اتحاد اسلامی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی ہیں بلکہ وحدت اسلامی پر کاری ضرب لگاتی ہیں ۔ جزا بیشتر سزا کمتر ! اس کے بعد کی آیت میں اللہ کی رحمت اور اس کی وسیع جزا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس کے نیکو کار بندوں کو دی جائے گی اور پچھلی آیت میں جو تہدید کی گئی ہے اس کی تکمیل اس تشویق سے کی گئی ہے، فرماتا ہے: جس نے بھی کوئی نیک کام کیا اسے دس گناہ بدلہ ملے گا (مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَہُ عَشْرُ اٴَمْثَالِھَا) ۔ اور جس نے بھی بُرا کام کیا اس سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی (وَمَنْ جَاءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَایُجْزیٰ إِلاَّ مِثْلَھَا) ۔ مزید تاکید کے لئے اس جملے کا بھی اضافہ کیا ہے: ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا، وہ صرف اپنے عمل بد کے برابر سزا پائیں گے ( وَھُمْ لَایُظْلَمُونَ) یہاں پر یہ سوال ہوتا ہے کہ آیت مذکورہ بالا میں ”حسنة“ اور ”سیئة“ سے کیا مراد ہے؟ آیا اس سے مراد صرف ”توحید“ اور ”شرک“ ہے یا اس سے زیادہ وسیع معنی مراد ہیں ۔ اس مسئلے میں مفسرین کے مابین گفتگو ہے لیکن آیت کا ظاہر ہر قسم کے نیک عمل ، نیک فکر ، نیک عقیدہ یا بد فکر، بد عقیدہ کو اپنے دائرہ میں سموئے ہوئے ہے کیونکہ ”حسنة“ و ”سیئة“ کے معنی کو محدود کرنے پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ 1۔ تفسیر نور الثقلین، جلد اوّل، ص۶۸۳- 2۔ تفسیر علی بن ابراہیم قمی- 3۔ مزید توضیح کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ جلد ۳۔ 4۔ مصری عالم ”طٰہٰ حسین“ نے اپنی کتاب ”عبداللہ بن سبا“ میں اسی بات کو اپنی اس کتاب کا موضوع سخن بنایا ہے کہ یہ شخص کو انھوں نے اس میں یہ ثابت کیا ہے کہ یہ ایک فرضی شخصیت ہے جسے محض شیعوں کو بدنام کرنے کے لئے تراشا گیا ہے، ملاحظہ ہو کتاب ”عبد اللہ بن سیا“ مطبوعہ مصر (مترجم) ۔ 5۔ علامہ ابوحاتم سہل بن عثمان سجتانی بصری نحوی اوقات ۲۲۸،ء میں اپنی کتاب ”الزنتہ,, کی جلد سوم میں لفظ ”شیعہ“ کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں:۔ اسلام میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ، کی موجود گی میں سب سے پہلے جو نام ظاہر ہوا وہ نام ”شیعہ“ سے پہلے یہ چار صحابیوں کا لقب تھا: سلمان فارسی، ابوذر غفاری، مقداد بن اسود اور عمار یاسر، صفین کی جنگ ہونے تک صرف ان چاروں کو لقب ”شیعہ“ سے پکارا جاتا تھا، جب جنگ صفین برپا ہوئی تو اس نم ”شیعہ“ نے تمام دوستان علی بن ابی طالب میں شہرت حاصل کرلی تاسیس الشیعہ ۲۴۰ ء (مترجم) ۔ 6۔ ملاحظہ ہو: صحیح ترمندی ۳/۱۰۰ سنن بہیقی ۱/۱۳ سنن دارمی ۲/۴۳۱ کنزا العمل ۱/۱۵۴ و ۱۵۹ طبقات ابن سعد ۲/۲ و کتب دیگر اور صحیح مسلم ۲/ ۳۲۶ طبع لکھنو (مترجم) ۔ 7۔ اس امر کے مدارک سے آگاہ ہونے کے لئے ملاحضہ ہو کتاب ”تاسیس الشیعہ العلوم الاسلام“ اور کتاب ”اصل الشیعہ و اصول“ خوش قسمتی سے دونوں کتابوں کا فارسی ترجمہ ہوچکا ہے (دوسری کتاب کا اردو میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے ۔ مترجم) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:159-160
چند مزید نکات
چند مزید نکات ۱۔ ”جاء بہ“ سے مراد: گزشتہ جملے کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ کلمہ ”جاء بہ“ سے مراد یہ ہے کہ بندہ اپنے نیک یا بد عمل کو اپنے ہمراہ لائے گا، یعنی جب بندہ عدل الٰہی کی عدالت میں آئے گا تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ خالی ہاتھ اور تنہا آئے بلکہ اپنے عقیدہ اور نیک عمل لائے گا یا غلط عقیدہ اور عمل بد کے ساتھ آئے گا یہ ہر حالت میں اس کے ساتھ اس عقیدہ سے جدا نہ ہوں گے اور آخرت کی ابدی زندگی میں اس کے ساتھی اور ہمدم ہوں گے ۔ قرآن کریم کی دوسری آیات میں بھی یہ تعبیر اسی معنی میں نظر آتی ہے، چنانچہ سورہٴ ق کی آیت ۳۳ میں ہم پڑھتے ہیں: <مَنْ خَشِیَ الرَّحْمَانَ بِالْغَیْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِیبٍ ”بہشت ان لوگوں کے لئے ہے جو خدا کو ایمان بالغیب کے ذریعہ پہچانیں اور اس سے ڈریں اور توبہ کرنے والا دل جو احساس فرض سے بھرا ہوا ہوبروزِ محشر اپنے ساتھ لے کر آئیں “ ۲۔ جزا کے مختلف درجے : مذکورہ آیت میں ہم نے پڑھا کہ ”حسنہ“ کی جزا دس گُنا ہے حالانکہ قرآن کی بعض دوسری آیتوں میں صرف ”اضعافاً کثیرہ“ (بہت زیادہ بڑھ چڑھ کر) پر اکتفا کی گئی ہے (جیسے سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۴۵) نیز بعض دوسری آیتوں میں راہِ خدا میں مال خرچ کرنے کا بدلہ سات سو ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بیان کیا گیا ہے جیسے (آیت ۲۶۱ سورہٴ بقرہ) ایک آیت میں تو اجر وجزا کو الله تعالیٰ نے بے حساب فرمایا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: <اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُونَ اَجْرَہُم بِغَیرِ حِسَابٍ ”وہ لوگ جن کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آتی ان کو بے حساب اجر دیاجائے گا“(سورہٴ زمر/۱۰) یہ بات واضح ہے کہ ان تین آیتوں میں کسی طرح کا اختلاف نہیں ہے، واقعہ یہ ہے کہ نیکو کاروں کو کم ازکم جو اجر ملے گا وہ دس برابر ہوگا، پھر اس کے بعد اہمیتِ عمل ، درجہٴ اخلاص، اس عمل کے کرنے میں جو زحمتیں اٹھانا پڑی ہیں اور جو کوششیں اس نیک کام کے کرنے میں کی ہیں ان سب کا لحاظ کیا جائے گا اور اسی اعتبار سے اجر میں اضافہ ہوتا جائے گا یہاں تک کہ بندے کا یہ اجر اتنا بڑھ جائے گا کہ حساب کتاب کی سرحد سے گزر جائے گا اور سوائے خدا کے کسی کو یہ معلوم نہ ہوگا کہ وہ کتنا ہے ۔ مثلاً انفاق (راہ خدامیں خرچ کرنا)جس کی اسلام میں بہت اہمیت بیان کی گئی ہے، اس کا اجر عملِ خیر کے معمولی اجر (دس گُنا) سے بڑھ گیا اور ”اضعافاً کثیرہ“ یا ”سات سوگُنا“ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر قرار دیا گیا ہے اور ”استقامت“ (ثبات قدمی) کہ جو تمام کامیابیوں اور خوش بختیوں کی جڑ ہے اور کوئی عمل نیک اس کے بغیر پورا نہیں ہوسکے گا، اس کا اجر وثواب بے حساب مذکور ہوا ہے ۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ اگر بعض روایات میں نیک اعمال کے لئے اجر وثواب دس گنا سے زیادہ بیان کیا گیا ہے تو یہ مذکورہ آیت(مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَہُ عَشْرُ اٴَمْثَالِھَا)کے مخالف ہے ۔ اسی طرح سورہٴ قصص کی آیت ۸۴ میں جو ہم پڑھتے ہیں: <مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَہُ خَیْرٌ مِنْھَا ”جو عمل نیک کرے گا اسے اس سے بہتر صلہ ملے گا“ یہ آیت بھی مذکورہ بالا آیت سے اختلاف نہیں رکھتی کہ اس میں نسخ کا احتمال پیدا ہو، کیونکہ لفظ ”بہتر“ کے ایک وسیع معنی ہیں جو (دس گنا)پر صادق آتے ہیں ۔ ۳۔ ویسی ہی سزا کا مفہوم: ممکن ہے بعض افراد یہ خیال کریں کہ ماہ رمضان کے روزہ کو عمداً ترک کرنے کاکفارہ ساٹھ روزے قرار دیا گیا ہے اور اسی طرح کی دیگر سزائیں جو کئی گنا بڑھ چڑھ کر دنیا وآخرت میں مجرموں کو دی جائیںگی، یہ مذکورہ بالا آیت (وَمَنْ جَاءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَایُجْزیٰ إِلاَّ مِثْلَھَا)کے منافی ہے ۔ لیکن اگر ایک نکتے کی طرف توجہ کی جائے تو اس بات کا بھی جواب مل جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ: مذکورہ آیت (مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ ....)میں جس مساوات (برابری) کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد مساوات عددی نہیں ہے بہ این معنی کہ اگر ایک گناہ کیا ہے تو ایک تازیانہ مارا جائے گا دو گناہ کیا ہے تو دو تازیانے، بلکہ کیفیت عمل کا لحاظ کرنا چاہیے، ماہ رمضان کے ایک روزہ کو ترک کردینا جبکہ اس کی اتنی اہمیت بیان کی گئی ہے،اس کی سزا صرف ایک روز کا روزہ نہیں ہوگا، بلکہ چھوڑنے والا اتنے پے در پے روزے رکھے کہ وہ ماہ مبارک رمضان کے روزے کے برابر ہوجائے، یہی وجہ ہے کہ ہم بعض احادیث میں پڑھتے ہیں کہ ماہ رمضان میں گناہ کرنے کا عذاب بھی عام ایام سے زیادہ ہے، جس طرح کہ ثواب زیادہ ہے، یہاں تک کہ ماہ رمضان میں ثواب ختم قرآن، دوسرے ایام میں ختم کرنے سے ستر گناہ زیادہ ہے ۔ ۴۔نہایت لطف و کرم : ایک اور جالب نظر نکتہ یہ ہے کہ آیہ بالا خداوند کریم کے نہایت لطف و کرم کو بیان کررہی ہے جو اس نے اس بندہ ناچیز کے حال پر کیا ہے ۔ کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو کام کرنے کے تمام آلات و اوزار انسان کو دے دے، ہر طرح کی آگاہی و علم بھی اسے عطا کرے، معصوم رہبر بھی اس کی ہدایت کے لئے بھیجے، تاکہ انسان خدا داد قوت و طاقت سے اور اسی کے فرستادہ رہبروں کی رہنمائی سے کوئی نیک کام انجام دے، پھر اس کے بعد اس عمل کا دس گناہ بدلہ بھی عطا کرے لیکن اس سے جو لغزشین اور خطائیں ہوں ان پر سزا دے وہ برابر کی ہو، علاوہ براین اس کے لئے راہ توبہ اور عذر خواہی بھی ہمیشہ کے لئے کھلی ہوئی ہو، یعنی اگر تو بہ کرے تو پھر کوئی سزا نہ ملے ۔ حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ صادق مصدق (یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ عیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: ”ان اللّٰہ تعالی قال الحسنة عشرا و ازید و السیئة واحدة او اغفر فالویل لمن غلبت احادہ اعشارہ“۔ اللہ تعالے فرماتا ہے کہ نیک کاموں کا دس گنا بدلہ دوں گا یا اس سے زیادہ، اور بُرے کام کا ایک ہی بدلہ دوں گا، پس وائے ہو اس پر جس اکائیں اس کی دہائیوں پر غالب آجائیں (یعنی اس کے گناہ اطاعتوں سے سوا ہوجائیں) ۔ (1) ۱۶۱ قُلْ إِنَّنِی ھَدَانِی رَبِّی إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ دِینًا قِیَمًا مِلَّةَ إِبْرَاھِیمَ حَنِیفًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ- ۱۶۲ قُلْ إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَای وَمَمَاتِی لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ- ۱۶۳ لَاشَرِیکَ لَہُ وَبِذٰلِکَ اٴُمِرْتُ وَاٴَنَا اٴَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ- ترجمہ ۱۶۱۔(اے ہمارے نبی) کہہ دیجئے: میرے رب نے مجھے راہ راست کی ہدایت کی ہے (وہ راہ راست جو) ایک مضبوط اور ثابت رہنے والا آئیں ہے یہ اس ابراہیم کا آئیں ہے جس نے اپنے ماحول کے تمام خرافاتی آئینوں سے روگردانی کی تھی اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے ۔ ۱۶۲۔ کہہ دیجئے: میری نماز، میری تمام عبادتیں، میری زندگی، میری موت، یہ سب تمام جہانوں گے پالنے والے کے لئے ہے ۔ ۱۶۳۔ اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی طرف سے مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا مسلمان ہوں ۔ تفسیر 1۔ تفسیر ممجمع البیان جلد ۴ ص۳۹۰۔