هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا قُلِ انتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ
Do they not consider that the angels may come to them, or your Lord may come, or some of your Lord’s signs may come? The day when some of your Lord’s signs do come, faith shall not benefit any soul that had not believed beforehand and had not earned some goodness in its faith. Say, ‘Wait! We too are waiting!’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:158
[Pooya/Ali Commentary 6:158] Aqa Mahdi Puya says: Through the Jews and the Christians the pagans had heard about the coming of the angels, and the Lord and His signs in the times of their prophets. So they pretended that if these types of events would take place they also would believe in the Holy Prophet's preaching. Through this verse Allah has made clear to them that nothing of this sort would happen, but certainly the angel of death will come and the day of final judgement will come when belief in them will not do any good to the disbelievers, who had not believed in them before. Please refer to the commentary of al Baqarah : 255 to have a clear understanding of the words in the Quran or in the traditions which refer to the movement or visibility of Allah. His absolute unity and infinite existence renders null and void the conjectural idea of His corporeality. The believer is waiting for the fruits of true belief and righteousness - which, in a higher state of spiritual elevation, is nearness to Allah, a sure thing to happen.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:158
عمل صالح کے بغیر ایمان کا کوئی فائدہ نہیں
آیت مذکورہ بالا سے چند قابل توجہ نکات معلوم ہوتے ہیں، ان میں سے ایک نکتہ یہ ہے کہ یہ آیت ایسی راہ نجات کا پتہ دے رہی ہے جو ایمان کے زیر سایہ ہے، پھر ایمان بھی وہ ایمان جس کی روشنی میں بندہ اعمال نیک بجالائے۔ ممکن ہے کوئی پوچھے کہ کیا تنہا ایمان کافی نہیں ہے، چاہے وہ تمام سال اعمال خیر سے خالی ہو؟ اس سوال کے جواب میں ہم کہیں گے: ہم نے مانا کہ کچھ باایمان افراد ایسے بھی ہوسکتے ہیں جن سے لغزشیں ہوجائیں اور وہ گناہوں کےمرتکب بھی ہوجائیں پھر اس کے بعد گناہوں پر نادم وپشیمان بھی ہوں اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں لیکن ایسا با ابمان شخص جس نے اپنی عمر میں کافی مواقع کے باوجود کوئی نیک عمل نہ کیا ہو بلکہ اس کے برعکس وہ رہ طرح کے بُرے کاموں میں مشغول رہااور ہر قسم کی سیاہ کاری اس سے سرزد ہوئی ہو، بہت بعید معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص نجات یافتہ ہوجائے اور اس کا یہ عمل سے خالی ایمان اسے فائدہ پہنچائے کیونکہ اصولی طور پر یہ یقین نہیں آتا کہ کوئی شخص کسی نظریہ پر ایمان رکھتا ہو اس کے باوجود اپنی تمام عمر ایک میں مرتبہ بھی اس نظریہ کے قوانین پر عمل پیرا نہ ہوسکے بلکہ اس کے برعکس اس کے تمام قوانین کو ٹھکرادے، اس کا ایسا کرنا اس بات کی کھلی دلیل ہوگا کہ اسے سرے سے اس نظریے پر ایمان واطمینان نہ تھا، اس طرح سے معلوا ہوا کہ ایمان وہی ہے جو عمل کے ہم پہلو ہو چاہے وہ عمل نیک تھوڑآ ہی کیوں نہ ہو تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ اس کے دل میں ایمان کا وجود ہے۔ ۱۵۹ إِنَّ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَھُمْ وَکَانُوا شِیَعًا لَسْتَ مِنْھُمْ فِی شَیْءٍ إِنَّمَا اٴَمْرُھُمْ إِلَی اللهِ ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوا یَفْعَلُونَ- ۱۶۰ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَہُ عَشْرُ اٴَمْثَالِھَا وَمَنْ جَاءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَایُجْزیٰ إِلاَّ مِثْلَھَا وَھُمْ لَایُظْلَمُونَ- ترجمہ ۱۵۹۔ وہ لوگ جنھوں نے اپنے آئین کو پراگندہ کردیا اور وہ مختلف جہتوں (اور مختلف مذہبوں) میں بٹ گئے، تمھیں (اے رسول!) ان سے کوئی واسطہ نہیں، ان کا معاملہ خدا کے سپرد ہے، لہٰذا خدا ہی انھیں ان کے کرتوتوں سے آگاہ کرے گا ۔ ۱۶۰۔ جو شخص بھی نیک کام کرے گا اسے دس گُنا صلہ ملے گا، اور جو شخص کوئی بُرا کام کرے گا اسے اتنا ہی سزا ملے گی (جتنا بُرا کام کیا تھا) اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا ۔ تفسیر
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:158
بے جا اور محال توقعات
پچھلی آیتوں میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے مشرکین پر اتمام حجّت کردیا ہے اور آسمانی کتاب یعنی قرآن کو سب کی ہدایت کے لئے بھیج دیا ہے تاکہ لوگوں کو اپنی مخالفت کی توجیہہ کے لئے کسی بہانہ کا موقع نہ ملے۔ یہ آیت کہتی ہے : لیکن یہ ضدی لوگ اپنے طریقہٴ کار میں اس قدر سخت ہیں کہ یہ واضح دستور العمل (قرآن) بھی ان پر اثر انداز نہیں ہوتا، گویا انھیں اپنی نابودی یا آخری موقع کے کھودینے یا محال باتوں کا انتظار ہے۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: انھیں سوائے اس کے اور کسی چیز کا انتظار نہیں ہے کہ موت کے فرشتے انھیں لینے آجائیں (ھَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ اٴَنْ تَاٴْتِیَھُمَ الْمَلَائِکَةُ)۔ یا یہ کہ تیرا پروردگار ان کے پاس آجائے تاکہ یہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ایمان لے آئیں (اٴَوْ یَاٴْتِیَ رَبُّکَ)۔ در حقیقت یہ لوگ امرِ محال کی توقع کررہے ہیں نہ یہ کہ خدا کا آنا یا اس کا دیکھنا ایک ممکن امر ہے، اس کی مثال بالکل یوں ہے کہ ہٹ دھرم قاتل جسے اس کے جرم کے ثبوت کے لئے کافی دلیلیں پیش کی جائیں لیکن پھر بھی وہ قائل نہ ہو تو اس سے ہم کہیں کہ اگر یہ تمام ثبوت بھی قبول کرنے پر تیار نہیں ہو تو شاید اس بات کا انتظار ہےں کہ اب خود مقتول زندہ ہوکر عدالت میں آئے اور یہ گواہی دے کہ تم نے اسے قتل کیا ہے۔ اس کے بعد فرماتا ہے: یا تمھیں اس بات کا انتظار ہے کہ بعض وہ نشانیاں آجائیں جو روز قیامت سے کچھ پہلے ظاہر ہوںگی اور ان کے ظاہر ہونے کے بعد توبہ کے دروازے بند ہوجائیں گے اور اس دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا (اٴَوْ یَاٴْتِیَ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ)۔ یہاں رپر کلمہٴ ”آیات ربّک“ اگرچہ کلی طور سے اور سربستہ استعمال ہوا ہے لیکن بعد کے جملوں کے قرینہ سے جن کی تفسیر آگے آئے گی، ان آیات کو ”آیات روز محشر“ کے مفہوم میں لیا جاسکتا ہے جیسے وحشتناک زلزلے، سورج، چاند ستاروں کا بے نور ہو جانا اوراسی طرح کی دوسی نشانیاں جو روز قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی ہیں۔ یا اس سے مراد ان کے وہ نامعقول مطالبے ہیں جو پیغمبر اسلام صلی الله علیہ !آلہ وسلم سے کیا کرتے تھے، منجملہ ان کا ایک مطالبہ یہ تھا کہ ان کے سروں پر آسمانی پتھر برسیں یا یہ کہ عربستان کا خشک ریگستان بہتے ہوئے چشموں اور ہرے بھرے نخلستان سے بھر جائے۔ اسی کے ذیل میں یہ اضافہ فرمایا ہے کہ: جس روز بھی یہ نشانیاں ظاہر ہوں گی اس روز بے ایمانوں کا ایمان لانا اور ان لوگوں کا ایمان جنھوں نے کوئی نیک کام نہ کیا ہوگا قابل قبول نہ ہوگا اور توبہ کے دروازے بھی ان کے لئے بند کردیے جائیں گے کیونکہ توبہ اور ایمان لانا اُن حالات میں اجباری اور اضطراری کیفیت کا حامل ہوگا جو اختیاری توبہ اور ایمان کے ہم پایہ نہیں ہے (یَوْمَ یَاٴْتِی بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَایَنفَعُ نَفْسًا إِیمَانُھَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اٴَوْ کَسَبَتْ فِی إِیمَانِھَا خَیْرًا)۔ ہم نے جوکچھ بیان کیا اس سے معلوم ہوا کہ جملہ ”اٴَوْ کَسَبَتْ فِی إِیمَانِھَا خَیْرًا“ کے معنی یہ ہیں کہ اس روز نہ صرف ایمان فائدہ بخش نہ ہوگا بلکہ ایسے لوگ بھی جو ایمان لائے ہیں مگر انھوں نے کوئی نیک کام نہیں کیا ہے، اس روز کوئی نیک کام کرنا بھی انھیں فائدہ نہیں پہنچائے گا کیونکہ اس وقت حالات ہی ایسے ہوں گے کہ ہر شخص بے اختیارانہ طور پر یہ چاہے گا کہ بُرے کاموں کو چھوڑدے اور نیک اعمال بجالائے۔ آیت کے آخر میں تہدید آمیز لہجہ میں ان ضدی افراد سے فرماتا ہے:۔ اچھا اب جبکہ تمھیں اس قسم کا انتظار ہے تو یہی انتظار کئے جاؤ، ہم بھی (تمھارے دردناک انجام کے) انتظار میں رہیں گے (قُلْ انتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ)۔