يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا قِيلَ انشُزُوا فَانشُزُوا يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
O you who have faith! When you are told, ‘Make room,’ in sittings, then do make room; Allah will make room for you. And when you are told, ‘Rise up!’ Do rise up. Allah will raise in rank those of you who have faith and those who have been given knowledge, and Allah is well aware of what you do.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 58:11
[Pooya/Ali Commentary 58:11] For "those who have been granted knowledge" see commentary of Ali Imran: 7 and 18; Nisa: 162 and Ankabut: 49. The Holy Prophet said: A scholar is superior to a martyr. The superiority of a scholar over other men is like my superiority over all the human beings. Imam Jafar bin Muhammad as Sadiq said: The ink a scholar uses to write is superior to the blood a martyr sheds. As has been proved in the commentary of the abovenoted verses, the Holy Prophet, Ali, Fatimah and the eleven holy Imams, in their progeny, are the fountainheads of knowledge and wisdom (see commentary of Baqarah: 124). It is a historic fact that none of them ever received any tutoring from any mortal. It is Allah who thoroughly purified them, taught them and granted wisdom to them from His infinite wisdom. The Holy Prophet said: "I am the city of knowledge and Ali is its gate." Umar bin Khattab used to say after receiving guidance from Ali to solve intricate issues: "Had Ali been not there, Umar would have perished." Aqa Mahdi Puya says: Allah exalts some over others on account of merit. It is neither an arbitrary action nor it is due to worldly possessions or position. In Hujurat: 13 it is said that all human beings are equal in birth, came into existence from a male and female, so those who have more integrity (taqwa) -and according to this verse have belief and knowledge which are the inseparable essentials of taqwa-are exalted by Allah. See Nisa: 95 and Anam: 116. In the light of Ankabut: 49, Muhammad: 16 and this verse those who have been given knowledge are exalted to the highest degree. All other created beings are inferior to them.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:11
مجالس میں پہلے آنے ولوں کااحترام
اس حکم کے بعد جوگزشتہ آ یات میں مجالس میں سرگوشی ترک کرنے اوراسے مخصوص مواقع تک محدُود کرنے کے سلسلہ میں آ یاتھا اس آ یت میں ایک اورمجلسی آدب کوبیان کرتے ہوئے فر ماتاہے: اے ایمان لانے والو!جس وقت تم نے کہا جائے کہ مجلس کووسعت دو اورانئے آنے لواں کوجگہ دوتواس کی اطاعت کرو(یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِذا قیلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوا فِی الْمَجالِسِ فَافْسَحُوا) (١) ۔ ١۔ تفسحوا اور فافسحواکی دو تعبیروں کافرق جن میں سے ایک باب تفعل سے ہے اوردُوسری باب ثلاثی مجرد سے ہے شاید اس وجہ سے ہوکہ پہلی ایک قسم کے تکلّف کی حامل ہے اور دوسری اس سے خالی ہے یعنی جب کہنے والا زحمت کرتے ہوئے کہے کہ نوداروکوجگہ دوتووہ زحمت کااحساس کئے بغیر جگہ دیں(غورکیجئے) ۔ اگرایسا کروگے توخدا تمہاری جگہ کو جنّت میں وسعت بخشے گا اوراس جہان میں بھی تمہارے دل وجان اوررزق میں وسعت دے گا ، ( یَفْسَحِ اللَّہُ لَکُم) ۔ تفسحوافسح(بروزن قفل)کے مادّہ سے ہے اوروسیع مکان کے معنی میں ہے ۔ اس بناپر تفسہ وسعت دینے کے معنی میں ہے اوراسے آدابِ مجلس میں شامل سمجھنا چاہیئے ۔ جس وقت کوئی نیاشخص مجلس میں وارد ہوتوحاضرین قریب قریب ہوجائیں اوراس کوجگہ دے دیں تاکہ وہ پریشان اورنادم نہ ہو ۔ یہ موضوع محبت اور دوستی کے رشتوں کومحکم کرنے کے وسائل میں سے ہے کہ قرآن مجید ، جوعظیم آسمانی کتاب ہے اورمسلمانوںکے بنیادی قانون ن کی حیثیت رکھتاہے،اس نے اخلاقی مسائل اورمسلمانوںکی اجتماعی زندگی کی بہت سی جزئیات کوبھی نظر انداز نہیں کیا۔ اس نے اہم اور بُنیادی قوانین کے ذیل میں بھی ان جزئیات کی طرف اشارہ کیاہے تاکہ مسلمان یہ تصوّر نہ کریں کہ ان کے لیے صرف کُلّی اصولوں کاپابند ہوناہی کافی ہے (یفسح اللہ لکم) خدا تمہیں وسعت بخشے گا کے جملے کی مفسّرین کی ایک جماعت نے یہ تفسیر کی ہے کہ جنّت کی مجالس کوسعت دی جائے گی ۔یہ وہ اَجر ہے جوخدا ان افراد کودے گا جواس جہان میں آداب ِمجلس کوپیش نظر رکھتے ہیں ۔چونکہ آ یت مطلق ہے اوراس میں کوئی قید وشرط نہیں ہے لہٰذا اس کامفہوم وسیع اورخدا کی طرف سے ہرقسم کی وسعت بخشنے پرحاوی ہے اوروہ وسعت جنت میں ہو یادنیامیں ، رُوح وفکر میں ہو یاعمر اورزندگی میں ،مال متال میں ہو یا رزق میں ، یہ سب کااحاطہ کیے ہوئے ہے ،فضل ِ خدا سے یہ بعید نہیں ہے کہ اس قسم کے چھوٹے سے کام کے صلہ میں وہ اس طرح کاعظیم اَجر عطاکردے ۔ کیونکہ اَجر کی مقدار اس کے گرم پر منحصر ہے نہ کہ ہمارے اعمال پر اور چونکہ کبھی مجلس کی یہ کیفیّت ہوتی ہے کہ کچھ افراد کے اُٹھے بغیر دوسروں کے لیے جگہ نہیں بنتی ، یااگر ہوتوان کی ضرورت کے مطابق نہیں ہوئی لہٰذا آیت کوجاری رکھتے ہوئے مزید فرماتاہے: جس وقت تم سے کہاجائے کہ اُٹھ کھڑے ہو، تو اُٹھ کھڑے ہو( وَ ِاذا قیلَ انْشُزُوا فَانْشُزُوا) (٢) ۔ ٢۔ انشزوا نشز(بروزن نصر)کے مادّہ سے ہے جس کے معنی بلند زمین کے ہیں ۔ اس لیے یہ لفظ اُٹھنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے ناشزہ اس عورت کوکہتے ہیں جواپنے آپ کواس عورت سے بہتر سمجھتی ہوجواپنے شوہر کی اطاعت کرے ۔ یہ الفاظ کبھی زندہ کرنے کے معنی میں بھی آ تاہے کیونکہ یہ چیز کسی کے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہونے کا سبب بنتی ہے ۔ نہ تو بہانے بناؤاورنہ جس وقت اُٹھواس وقت پریشان ہو ۔کیونکہ بعض اوقات نووارد افراد بیٹھنے کے تم سے زیادہ حقدار ہوتے ہیں، زیادہ تھکن کی وجہ سے یاضعیفی کی وجہ سے یاخاص احترام کی بناپر یا اورکسی ایسے ہی سبب کی بناء پر حاضرین کوچاہیئے کہ وہ ایثار سے کام لیں اوراس اسلامی اَدب پرعمل پیراہوں جیساکہ ہم نے شان ِ نزول میں پڑھاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ایک جماعت کو ،جوآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے قریب بیٹھی ہوئی تھی حکم دیا کہ اپنی جگہ ان نو واردوں کودے دوجومجاہدین بدر میں سے ہیں اور علم وفضل کے لحاظ سے دوسروں پر برتری رکھتے ہیں ۔بعض مفسّرین نے اس بناپر کہ انشزوا(اُٹھ کھڑے ہو)یہاں مطلق ہے اس کی زیادہ وسیع معانی پرمبنی تفسیر کی ہے جس میں مجلس سے اُٹھنابھی شامل ہے ۔ اوریہ جہاد کے لیے اُٹھ کھڑے ہونے اور نماز اور دوسرے امورِ خیر کے لیے مستعد ہونے کے معانی پر بھی حاوی ہے ۔لیکن اس سے پہلے جُملے کی طرف توجہ سے ،جس میں فی المجالس کی قید ہے، یہ ظاہر ہوتاہے کہ یہ جملہ بھی اسی شرط کا پابند ہے جس کی تکرار سے ،قرینہ کے موجود ہونے کی بناپر ، پرہیزکیاگیاہے ۔ اس کے بعداس حکم کے اَجر کوبیان کرتے ہوئے مزید فرماتاہے ۔ اگر ایساکرو گے توخداان لوگوںکوجوتم میں سے ایمان لائے ہیں اورعلم سے بہرہ ور ہیں، عظیم درجات بخشے گا (ْ یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَ الَّذینَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجاتٍ ) (٣) ۔ ٣۔ مندرجہ بالا آ یت میں یرفع اس صیغہ امر کی وجہ سے ہے جواس سے پہلے اورحقیقت میں مفہوم شرط رکھتاہے اوریرفع اس کی جزا کے طورپر ہے ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان قوانین کی اطاعت ایمان وعلم کی دلیل ہے ،نیزاس طرف اشارہ ہے کہ اگر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے بعض افراد کو حکم دیاہے کہ اپنی جگہ سے کھڑ ے ہوجاؤ اور نودارو افراد کوجگہ دے دو تو یہ ایک ایسامقدّم مقصود ہے جس کاحکم خداکی طرف سے ہے اور یہ ایمان وعلم میں سبقت کرنے والوں کے احترام کی بناپر ہے ۔ درجات کی تعبیر (نکرہ کی شکل میںاور صیغہ ٔ جمع کے ساتھ )عظیم اوربلند مراتب کی طرف اشارہ ہے جوخدااس قسم کے افراد کوعطاکرتاہے جوعلم وایمان دونوں کے حامل ہوں ۔حقیقت میں وہ لوگ جو نودارو افراد کواپنے پاس جگہ دیتے ہیں ایک درجہ پر فائز ہوتے ہیں اور جوایثار سے کام لیں اوراپنی جگہ ان کودے دیں اورو ہ علم ومعرفت سے بھی بہرہ ور ہوں ،تو ان کے لیے بہت سے درجات ہیں ،اورچونکہ ایک گروہ ان آداب کوخلوصِ دل سے بروئے کار لاتاہے لہٰذا آیت کے آخر میں مزید فرماتاہے : خدااس سے جسے تم انجام دیتے ہوآگاہ ہے (وَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ خَبیر) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:11
سوره مجادله/ آیه 11
١١۔یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِذا قیلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوا فِی الْمَجالِسِ فَافْسَحُوا یَفْسَحِ اللَّہُ لَکُمْ وَ ِذا قیلَ انْشُزُوا فَانْشُزُوا یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَ الَّذینَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجاتٍ وَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ خَبیر۔ ترجمہ ١١۔ اے ایمان لانے والو!جس وقت تم سے کہاجائے کہ مجلس کووُسعت بخشو (نئے آنے والوں کوجگہ دو) تو اسے وسعت بخشو ۔ خداتمہارے لیے (جنّت کو)وسعت دے گا۔ جب کہاجائے کہ کھڑے ہوجاؤ تو کھڑے ہوجاؤ ۔ اگرایسا کروگے تو خداان لوگوں کوجوایمان لائے ہیں اور علم سے بہرہ ور ہیں عظیم درجات بخشے گا ۔ اوراللہ جانتاہے جوتم کرتے ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:11
چند نکات
اگرچہ یہ آ یت ایک خاص موقف کو لے کرنازل ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود اس کا ایک عام مفہوم بھی ہے ۔ یہ بتاتی ہے کہ جوچیزیں اِنسان کے رُتبہ کوخدا کی بارگاہ میں بلند کرتی ہیں وہ دو ہیں، ایک ایمان اور دُوسرے علم ، ہمیں معلوم ہے کہ شہید کااسلام میں بلند ترین مقام ہے لیکن اس کے باوجود ایک حدیث پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے : (فضل العالم علی الشھید درجة وفضل الشھید علی العابد درجة ...وفضل العالم علیٰ سائر النّاس کفضلی علیٰ اداناھم) ۔ عالم شہید سے ایک درجہ بلند ہے اور شہید عابد سے ایک درجہ بلند ہے اورعالم کی فضیلت باقی لوگوں پران میں سے پست ترین کے مقابلے میں میری فضیلت ہے جیسی ہے (٤) ۔ ٤۔ مجمع البیان جلد ٩ ،صفحہ ٢٥٣۔ ایک اورحدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے : (من جائتہ منیتہ وھو یطلب العلم فبیّنہ وبین الانبیاء درجة ) جس کوطالب علمی کے زمانہ میں موت آ جائے اس کے اورانبیاء کے درمیان صرف ایک درجہ کا فاصلہ ہے (٥) ۔ ٥۔ مجمع البیان جلد ٩ ،صفحہ ٢٥٣۔ ہمیں معلوم ہے کہ چاندنی راتوں میں خصوصاً مہینے کی چودھویں رات کوجب چاند بالکل مکّمل ہوتاہے ستارے چاند کے نور میں مدھم ہوجاتے ہیں اورلُطف کی بات یہ ہے کہ عالم وعابد کے موازنہ میں ایک اورحدیث میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ :(فضل العالم علی لعابد کفضل القمر لیلة البدر علی سائر الکواکب) عالم کی عابد پر فضیلت و برتری چوھویں رات کے باقی تمام ستاروں پربرتری کے مانند ہے (٦) ۔ ٦۔جوامع الجامع ،مطابق نقل نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٦٤ ۔ قرطبی جلد ٩ صفحہ ٧٤٧٥۔ قابل ِ توجہ یہ بات ہے کہ عابد عبادت انجام دیتاہے جومقصدِ خلقت ِ انسانی ہے لیکن رُوح عبادت معرفت ِ الہٰی ہے ۔لہٰذا عالم ِ عابد پرحد سے زیادہ برتری رکھتاہے ۔چونکہ مندرجہ بالا روایات میں عالم کی عابد کے مقابلہ میں فضیلت وبرتری کے بارے میں آ یاہے اس سے مُراد ان دونوں کے درمیان ایک عظیم فاصلہ ہے اس لیے ایک دوسری حدیث میں ان دونوں کے فرق کے سلسلہ میں ایک درجہ کی بجائے سود رجہ کافرق بیان ہواہے جس میں ہردرجہ کافاصلہ دوسرے درجہ سے تیز رفتار گھوڑ ے کے ستّر سال تک دَوڑ نے کی مقدار کے برابر ہے (٧) ۔ ٧۔جوامع الجامع ،مطابق نقل نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٦٤ ۔ قرطبی جلد ٩ صفحہ ٧٤٧٥۔ یہ بھی واضح ہے کہ قیامت میں شفاعت ہرشخص کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ مقربان بارگاہ ِ خداکا مقام ہے لیکن ہمیں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ایک حدیظ ملتی ہے ۔ (یشفع یوم القیامة ثلاثة الانبیاء ثم العلماء ثم الشھدائ) (٨) ۔ قیامت میں تین گروہ شفاعت کریں گے انبیاء ان کے بعد علما اور پھر شہدائ۔ ٨۔رُوح المعانی ،جلد ٢٨ ،صفحہ ٢٦ ،قرطبی جلد ٩ ،صفحہ ٦٤٧٠۔ حقیقت میں راہِ خُدا پرچلنا،خوشنودی خُدا کاحاصل کرنا اوراس کے قرب کی توفیق کاحصول دوعوامل کامر ہون ِ منت ہے ایک تو ایمان وعمل ، دوسرے آگاہی وتقویٰ جس میں سے کوئی بھی دُوسرے کے بغیر ہدایت و کامیابی حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں ہے ۔ ٢۔ آدابِ مجلس قرآنِ کریم میں بار ہا اہم مسائل کے ساتھ ساتھ مجالس کے اسلامی آداب کی طرف اشارے ہوئے ہیں ۔ مثال کے طورپر سلام کرنے کے آداب ،دعوتِ طعام کے آداب ،پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ساتھ گفتگو کرنے کے آدابِ ،نو واردو کومجلس میں جگہ دینے کے آداب ،علی الخصوص فضیلت کے حامل افراد اورایمان کی طرف سبقت کرنے والے افراد کومجلس میں جگہ دینے کے آداب(٩) ۔ ٩۔یہ احکام ترتیب کے ساتھ درج ذیل آ یات میں آ ئے ہیں ۔سلام کرنے کے آداب سورئہ نساء آ یت ٨٦ ۔دعوت ِ طعام کے آداب سُورہ احزاب ٥٣ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گفتگو کرین کے آداب حجرات آ یت ٢ اورمجلس میں جگہ دینے کے آداب زیربحث آیت ہیں ۔ اِس بات سے بخوبی معلوم ہوتاہے کہ قرآن ہرموضوع کے لیے اس کے مقام کے اعتبار سے اس کی اہمیّت کاقائل ہے ۔ اسلام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ انسانی معاشرت کے آداب کچھ افراد کی بے اعتنائی کہ وجہ سے پامال کردیئے جائیں ۔ کتب احادیث میں سینکڑوں روایات پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور آئمہ معصومین سے دوسروں کے ساتھ معاشرت کے آداب کے بارے میںوارد ہوئی ہیں اورمرحوم شیخ حرعاملی نے انہیں کتاب وسائل کی جلد آٹھ بات ١٦٦ میں جمع کردیاہے اورجو جزئیات ان روایات میں ہیں وہ بتاتی ہیںکہ اسلام اس سلسلہ میں کِس حد تک باریک بین اور سخت گیرہے ۔ ان روایات میں بیٹھنے ، بات کرنے ،مسکرانے ،مذاق کرنے ،کھانا کھلانے ،خط لکھنے حتّی کہ دوستوں کی طرف نگاہ کرنے کے بارے میں بھی ہدایت مل جاتی ہیں اور جواحکام ہرموضوع پردیے گئے ہیں ان کا نقل کرناہمیں تفسیر ی بحث کے دائرہ سے خارج کردے گا ۔ہم حضرت علی علیہ السلام کی ایک حدیث پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ۔ (لیجتمع فی قلبک الا فتقار الی الناس والا ستفناء عنھم یکون افتقارک الیھم فی لین کلامک وحسن سیرتک ویکون استغنائک عنھم نزاھة عرضک وبقاء عزک) ۔ تیرے دل میں لوگوں کے لیے نیاز مندی وحاجت مندی اور بے نیازی وبے احتیاجی دونوںموجود ہونے چاہئیں ۔تیری نیاز مندی وحاجت مندی گفتگو کی نرمی اورحُسنِ سلوک کے ذ ریعہ ظاہرہو اور تیری بے نیازی وبے احتیاجی حِفظِ آبرو اورعزّتِ نفس کے ذریعہ جلوہ گر ہو(١٠) ۔ ١٠۔ وسائل الشیعہ ،جلد٨ ،صفحہ ٤٠١۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:11
شانِ نزول
طبرسی نے مجمع البیان میں اورآلوسی نے رُو ح المعانی میں اور دوسرے مفسرّین کی ایک جماعت نے تحریر کیاہے کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ایک جمعہ کوصفہ (بڑا سا چبوترہ جومسجد نبوی کے قریب تھا)پرتشریف فرماتھے اورایک گروہ آپ کی خدمت میںحاضر تھا اور جگہ تنگ تھی ۔پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ عادت تھی کہ آپ مجاہدین بدر کازیادہ احترام کرتے تھے ۔خواہ وہ مہاجر ہوں یاانصاراسی دوران بدریوں کا ایک گروہ آیا اس وقت دوسرے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے چاروں طرف بیٹھے ہوئے تھے اور جگہ خالی نہ تھی ،وہ جب پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آ ئے توانہوں نے سلام کیا۔پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے جواب ِ سلام دیامگر وہ لوگ کھرے رہے اورمنتظر رہے کہ حاضرین انہیں جگہ دیں ۔لیکن کوئی شخص اپنی جگہ سے نہ اُٹھا ۔ یہ بات پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوناگوار گزری ،اپنے چاروں طرف بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کچھ کی طرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رُخ کیااور فرمایافلاں فلاں شخص کھڑ اہوجائے ،اس طرح چندافراد کوآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اُٹھا یاتاکہ آنے والے بیٹھ سکیں( یہ ایک قسم کا ایمان اورجہاد میں سبقت کرنے والوں کے بارے میں ادب اوراحترام کادرس تھا) لیکن یہ بات ان چند افراد کوناگوار گز ری جواپنی جگہ سے اُٹھے تھے خفگی کے آثاران کے چہرون سے نمایاں تھے ،منافقین جوہرموقع سے فائدہ اُٹھا تے تھے وہ کہنے لگے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اصاف سے کام نہیں لیاوہ لوگ جوعاشقانہ انداز میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے گرد بیٹھے ہوئے تھے انہیں ان لوگوں کی خاطر جومجلس میں بعد میں وارد ہوئے تھے اُٹھادایااس موقع پر مندرجہ بالاآ یت نازل ہوئی (اورمجلسوں میں بیٹھنے کے آداب کے کچھ حصّہ کی ان کے لیے شرح کی (١) ١۔رُوح المعانی ،جلد ١٨،صفحہ ٢٥ ومجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٥٣۔دُوسرے مفسرین رازی ،قرطبی ، سیوطی ،اورفی ظلال نے بھی یہی مفہوم زیربحث آ یت کے ذیل میں مختصر سے فرق کے ساتھ نقل کیاہے ۔