يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ذَلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
O you who have faith! When you converse privately with the Apostle, offer a charity before your private talk. That is better for you and purer. But if you cannot afford [to make the offering], then Allah is indeed all-forgiving, all-merciful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 58:12
[Pooya/Ali Commentary 58:12] In the presence of the Holy Prophet all instructions or consultations were open and free, but there were many men among his companions who could only be satisfied by a private interview in order to display their false dignity, or out of selfishness wanted to monopolise his time, or were not willing to disclose their secrets to their brethren. In order to discourage such weaknesses it was therefore decided that they should spend something in charity for the good of their poorer brothers before availing the facility of private consultation. The word sadqah makes it clear that neither the Holy Prophet nor the Ahl ul Bayt could be benefited as it is forbidden to them. Al Muttaqi in Kanz al Ummal and Mulla Ali Qari in Surah Mishqat narrate the slanders with which the hypocrites tried to defame the Holy Prophet. Mulla Muinuddin in the commentary of this verse has mentioned the names of some prominent companions in the list of hypocrites. Abdullah bin Umar said that his father, Umar bin Khattab, used to say that he coveted for the three distinctions which only Ali had: (i) his marriage with Fatimah; (ii) the standard of Islam given to him on the day of Khaybar; (iii) the sadqah given by him alone in compliance with this verse. Aqa Mahdi Puya says: Since none save Ali paid the sadgah this ordinance was abrogated by verse 13, because the divine plan to test and distinguish the true servants of Allah was fulfilled. It was only Ali who, like always, readily complied with Allah's command. All others drew back from carrying out this order due to niggardliness and fear of loss. It is clear from the subsequent verses that the tone of the abrogating verse is reproachful. Some partisan commentators try to change the past tense into present tense in verse 13 in order to save their heroes. The verse clearly reproaches the companions by saying: "You did not do it."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:12-13
ایک جاذبِ توجہ امتحان
گزشتہ آ یات کے ایک حصّہ میں نجویٰ کے بارے میں گفتگو تھی ،زیربحث آیات اسی مفہوم کوجاری وساری رکھتی ہیں اور اس کی تکمیل کرتی ہیں پہلے فرماتاہے: اے ایمان لانے والو! تم جب چاہو کہ رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کرو تواس سے پہلے راہ ِ خدا میں مصدقہ دے دو (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِذا ناجَیْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْواکُمْ صَدَقَةً) ۔جیساکہ شان ِ نزول میں ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ حکم اس لیے تھا کہ لوگوں کاایک گروہ خصوصاً اغنیاء پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کرتے اوران کومصروف رکھتے ، یہ ایسا کام تھا جودوسروں کے لیے غم واندوہ کاباعث بنتا تھا اور نجویٰ کرنے والوں کے لیے سبب ِامتیاز ہوتاتھا۔علاوہ ازیں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے قیمتی وقت کے ضائع ہونے کاسبب بھی بنتا تھا تو مندرجہ بالا حکم نازل ہوا۔ یہ حکم ان کے لیے ایک آزمائش ،حاجت مندوں کے لیے مدد کاباعث اورمذ کورہ زحمتوںکے کم کرنے کاایک مؤ ثر ذریعہ تھا ۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے: یہ تمہارے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے ( ذلِکَ خَیْر لَکُمْ وَ أَطْہَر) ۔صدقہ کااغنیاء کے لیے خیر ہونااس وجہ سے ہے کہ یہ موجب ِثواب تھا اور حاجت مندوں کے واسطے اس لیے کہ ان کی مدد کاذ ریعہ تھا باقی رہااطہر ہونا تو وہ اس وجہ سے تھاکہ وہ اغنیاء کے دلوں سے مال کی محبت کودھوتاتھا اور حاجت مندوں کے دلوں سے کینے اورپریشانی کودُور کرتاتھا ،نجویٰ جب مُفت نہ ہوسکتا اور صدقہ کی ادائیگی کے ساتھ مشروط ہوتا توخُودبخود کم ہوجاتا ،جیساکہ کم ہو الہٰذا یہ چیزمسلمانوں کے فکری اوراجتماعی ماحول کے لیے ایک قسم کی پاکیزہ گی بن گئی ،لیکن اگرنجویٰ سے پہلے صدقہ کاوجوب عمومیت رکھتا توپھر فقراء اہم مسائل یااپنی ضرور تیں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی بارگاہ میں پیش کرنے سے قا صررہ جاتے لہٰذا آ یت کے ذیل میں صدقہ کاحکم اس گروہ سے واپس لیتے ہوئے فرماتاہے: اور اگراستطاعت نہ رکھتے ہوں توخداغفورالرحیم ہے (ُ فَانْ لَمْ تَجِدُوا فانَّ اللَّہَ غَفُور رَحیم)اس طرح جولوگ مالی اعتبار سے مضبُوط تھے ان کے لیے نجویٰ سے پہلے صدقہ دینا واجب تھا اور جن کی مالی حالت اچھی نہ تھی وہ صدقہ کے بغیر نجویٰ کرسکتے تھے ،قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا حکم نے ایک عجیب تاثیر پیدا کی اورایک عُمدہ آزمائش پیش کی ،ایک شخص کے علاوہ سب نے صدقہ دینے اور نجویٰ کرنے سے پہلوتہی کی اور وہ ایک شخص حضرت علی علیہ السلام تھے یہ وہ مقام تھاکہ جہاں جس چیز کے علاوہ سب نے صدقہ دینے اور نجویٰ کرنے سے پہلو تہی کی اور وہ ایک شخص حضرت علی علیہ السلام تھے ، یہ وہ مقام تھاکہ جہاں جس چیز کی وضاحت اوراس کے نمایاں ہونے کی ضرورت تھی وہ واضح ہوگئی اور جوکچھ مسلمانوں کواس حکم سے سمجھنا چاہیئے تھا اور درس لیناچاہیئے تھا اس کوانہوں نے سمجھا اور درس لیا،لہٰذا بعد والی آ یت نازل ہوئی اوراس حکم کومنسُوخ کردیا اور یہ حکم پیش کیا: کیاتم ڈرگئے کہ فقیر ہوجاؤ گے جس کی وجہ سے نجویٰ سے پہلے صدقہ دینے سے تم نے احتراز کیا۔(أَ أَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْواکُمْ صَدَقات)معلوم ہوتا ہے کہ مال کی محبت تمہارے دل میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کرنے کے لگاؤسے زیادہ پرکشش اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان سرگوشیوں میں عام طورپر زندگی کے مسائل موضوعِ گفتگو نہیں ہوئے تھے ور نہ کیامانع تھاجولوگ نجویٰ کرنے سے پہلے صدقہ دے دیتے اور پھر نجویٰ کرتے خصوصاً جب کہ صدقہ کے لیے کوئی مقدار بھی مقرر نہیں تھی اور وہ تھوڑی سی رقم سے اس مشکل کوحل کرسکتے تھے پھر مزید فرماتاہے ۔ اَب جب کہ تم نے یہ کام نہیں کیااور خُودتم اپنی کوتاہی کوبھانپ چکے ہو اور خدانے بھی تمہیں معاف کردیاہے اور تمہاری توبہ قبول کرلی ہے ،تو نماز قائم کرو، زکوٰة ادا کر و اورخدااور اس کے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی اطاعت کرو اورجان لوکہ جوکچھ تم انجام دیتے ہو خدااس سے باخبر ہے ۔ (ٍ فَاذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَ تابَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ فَأَقیمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّکاةَ وَ أَطیعُوا اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ اللَّہُ خَبیر بِما تَعْمَلُون) ۔توبہ کی تعبیر بتاتی ہے کہ وہ گزشتہ نجووںمیں گناہ کے مرتکب ہوتے تھے ، خواہ ریاکا ری کی بناپر یاپیغمبر کوتکلیف پہنچا نے کی وجہ سے ،یافقیر مؤ منین کواذیّت دے کر، اگرچہ اس آ یت میں صراحت کے ساتھ گفتگو نجویٰ کے جوازمیں نہیں ہوئی لیکن اس آ یت کی تعبیر یہ بتاتی ہے کہ پہلا حکم اُٹھا لیاگیا۔جہاں تک نماز قائم کرنے ،زکوٰة اداکرنے اورخدا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی اطاعت کرنے کا معاملہ ہے تووہ ان امور کی اہمیّت کی بناپر ہے ۔نیزاس طرف اشارہ ہے کہ اگر اس کے بعد گوشی کرو تووہ ان عظیم مقاصد کے حصول کے لیے ہو اورخدا ورسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی اطاعت کی راہ میں ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:12-13
شانِ نزول
مرحوم طبرسی مجمع البیان میں اوردیگر مفسّرین کی ایک جماعت نے ان آ یات کی شان ِ نزول کے بارے میں یہ تحریر کیاہے کہ اغنیا کا ایک گروہ محفل پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں آ کر آپ سے نجویٰ کیاکرتاتھا( یہ کام علاوہ اس کے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیمتی وقت کے بے جاصرف کاسبب بنتا، غریبوں کی پریشانی اورامیر لوگوں کے ایک قسم کے امتیاز کاباعث بھی بنتا ) اس موقع کے لیے پروردگار ِ عالم نے مندرجہ بالاآ یات نازل کیں اورانہیں حکم دیا کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کرنے سے پہلے حاجت مندوں کوصدقہ دیاکرو ۔ اغنیاء نے جب یہ دیکھا تو نجویٰ سے احتراز برتنے لگے اِس پردوسری آ یت نازل ہوئی ،(انہیں ملامت کی اورپہلے حکم کو منسُوخ کیا)اور سب کونجویٰ کرنے کی اجازت دے دی ، لیکن نجویٰ ،صرف وہی جواطاعت پر وردگار کے سلسلہ میں ہو(١) ۔ بعض مفسرین نے رتصریحکی ہے کہ نجویٰ کرنے والے گروہ کامقصد یہ تھا کہ وہ اس طرح دوسروں کے مقابلہ میں برتری حاصل کریں ۔پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اپنی بزرگانہ حیثیت کے پیش ِ نظر باوجود اس کے کہ وہ اس بات سے ناخوش تھے ،ان لوگوں کواس سرگوشی سے منع نہیں فرمایا۔یہاں تک کہ قرآن نے ان لوگوں کو اس کام سے منع کیا(٢) ١۔ مجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٥٢اور بہت سی تفاسیر درذیل آ یات زیربحث۔ ٢۔رُوح المعانی ،جلد ٢٨ ،صفحہ ٢٧۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:12-13
٢۔ نجویٰ سے پہلے صدقہ کی تشریع اور پھر نسخ کافلسفہ
یغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کرنے سے پہلے وجوبِ صدقہ کی تشریع کیوں ہوئی اورپھر تھوڑی سی مدّت کے بعد وہ کیوں منسُوخ ہوگیا؟اس سوال کاجواب مندرجہ بالا آیت اوراس کی شان ِ نزول میں موجود قرائن سے اچھی طرح معلوم ہو سکتاہے ،مقصد ان بلند بانگ دعویٰ کرنے والوں کی آزمائش تھا ۔جو اس طریقہ سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے ایک خاص لگاؤ کااظہار کرتے تھے ،چنانچہ معلوم ہوگیا کہ یہ لگاؤ اورمحبت کااظہار صرف میں تھا جب تک نجویٰ مفت تھا لیکن جس وقت تھوڑا سامال خرچ کرناپڑگیاتومحبت کے اظہار کاجذبہ بھی سرد پڑگیا ۔ اس بات سے قطع نظراس حکم نے مسلمانوں پرہمیشہ اثر کیاہے اوران پرواضح کردیا کہ جب تک ضرورت نہ ہو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے عظیم اسلامی رہبروں کاگراں بہاوقت نجویٰ اور سرگوشی میں ضائع نہیں کرنا چاہیئے اوردوسرے لوگوں کی تکلیف کاباعث نہیں بننا چاہیئے ۔درحقیقت یہ آئندہ کی سرگوشیوں کو قابو میں لانے کا ایک عمل تھا ۔ اس بناپرمذکورہ حکم ابتداء میں ایک عارضی ووقتی پہلورکھتاتھا لیکن جب اس کامقصد پُورا ہوگیا تو وہ منسُوخ ہوگیاکیونکہ اس کو بر قرار رکھنابھی مشکل پیدا کردیتا ۔بعض اوقات ضروری مسائل پیش آ تے ہیں جن میں ضروری ہوتاہے کہ خصوصیات کے ساتھ انہیں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں پیش کیاجائے ،چنانچہ اگرصدقہ کاحکم باقی رہ جاتا تواکثر اوقات ان ضرورتوں کے تقاضے پُورے نہ ہوتے ، اوراس طرح اسلامی معاشرہ کو نقصان پہنچتا ۔ مواردِ نسخ میںکلّی طورپر حکم ہمیشہ پہلے ہی سے محدُود اور وقتی پہلورکھتاتھا ۔ اگرچہ لوگ بعض اوقات اس معنی سے آگاہ نہ ہوتے اور اسے حکم سمجھ لیتے جوہمیشہ کے لیے ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:12-13
١۔ آیہ نجویٰ وصدقہ پرعمل کرنے والا تنہا شخص
اکثر شیعہ اوراہل سُنّت مفسّرین نے لکھاہے کہ اکیلاوہ شخص جس نے اس آ یت پرعمل کیاوہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام تھے جیساکہ طبرسی ایک روایت میں خود آنجناب سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: (ایة من کتاب اللہ لم یعمل بھا احدقبلی ولا یعمل بھااحد بعدی کان لی دینار فصرفتہ بعشرة دراھم فکنت اذاجئت الی النبی تصد قت بدرھم) ۔ قرآن میں ایک ایسی آ یت ہے جس پر نہ مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیاہے اور نہ کوئی میرے بعد عمل کرے گا۔میرے پاس ایک دینار تھا ۔ میں نے اُسیدس درہموں میں تبدیل کرلیا،جس وقت میںچاہتا کہ رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کروں توایک درہم صدقہ میں دے دیتا(١) ۔ فخررازی نے بھی اس حدیث کوکہ وہ اکیلاشخص ، جس نے مندرجہ بالا آ یت پر عمل کیا، حضرت علی علیہ السلام تھے ،محدّثین کی جماعت کے ذ ریعہ ابن ِ عباس سے نقل کیاہے (٢) ۔ فخررازی نے بھی اس حدیث کو کہ وہ اکیلا شخص ، جس نے مندرجہ بالا آ یت پر عمل کیا، حضرت علی علیہ السلام تھے ، محدثین کی جماعت کے ذریعہ ابن عباس (رضی اللہ عنہ)سے نقل کیاہے(٣) ۔ دُرالمنثور میں بھی متعدد روایات مندرجہ بالا آ یت کے ذیل میں اسی معنی میں آ ئی ہیں (٤ ) ۔ تفسیر رُوح البیان میں عبداللہ ابن عمر بن خطاب سے منقول ہے : (کان لعلی ثلاث لوکانت لی واحدة منھن کانت احبّ من حمر النعم تزو یجہ فاطمہ واعطائہ الرایة یوم خیبر واٰیة النجویٰ) ۔ حضرت علی علیہ السلام کی تین ایسی فضیلتیں ہیں کہ اگر ا ن میںسے ایک بھی مجھے حاصل ہوجاتی توسُرخ بالوں والے اُونٹوں سے بہتر تھی (یہ تعبیر عربوں میں گراں بہامال کی طرف اشارہ کے لیے استعمال ہوتی ہے اوراسے ضرب المثل کے طورپر کسی چیز کے بہت ہی نفیس ہونے کے بیان کے وقت اِستعمال کرتے ہیں)پہلی فضیلت یہ کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاحضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کی شادی سے ان سے کرنا،دوسرے خیبر کے دن علم ان کوعطا کرنااورتیسری آیة نجویٰ(٥) ۔ ١۔طبرسی ،جلد ٢٨ ،صفحہ ١٥۔ ٢۔تفسیر البیان فی تفسیر القرآن،جلد ١،صفحہ ٣٧٥ سید قطب نے بھی یہی روایت فی ظلال القرآن ،جلد ٨،صفحہ ٢١ پرنقل کی ہے ۔ ٣۔تفسیر فخررازی ،جلد ٢٩ صفحہ ٢٧١۔ ٤۔درالمنثور ،جلد ٦ ،صفحہ ١٨٥ ۔٥۔تفسیررُوح البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٤٠٦(اس حدیث کوطبرسی نے مجمع البیان میں، زمخشری نے کشاف میں اور قرطبی نے تفسیر جامع میں زیربحث آ یات کے ذیل میں نقل کیاہے ۔ حضرت علی علیہ السلام کے لیے اس عظیم فضیلت کا ثابت ہونا اکثر کتب تفسیر وحدیث میں آ یاہے اور اس طرح مشہور معروف ہے کہ مزید تشریح کی ضرورت نہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:12-13
سوره مجادله/ آیه 12- 13
١٢۔یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِذا ناجَیْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْواکُمْ صَدَقَةً ذلِکَ خَیْر لَکُمْ وَ أَطْہَرُ فَِنْ لَمْ تَجِدُوا فَِنَّ اللَّہَ غَفُور رَحیم۔ ١٣۔ أَ أَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْواکُمْ صَدَقاتٍ فَِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَ تابَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ فَأَقیمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّکاةَ وَ أَطیعُوا اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ اللَّہُ خَبیر بِما تَعْمَلُون۔ ترجمہ ١٢۔ اے ایمان لانے والوں جس وقت تم چاہو کہ رسُول ِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نجویٰ کرو تواس سے پہلے (راہ خدامیں) صدقہ دے دو ۔ یہ تمہارے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ بات ہے اوراگر استطاعت نہ رکھتے ہو تو خدا غفور ورحیم ہے ۔ ١٣۔کیاڈرگئے ہو کہ فقیر ہوجاؤگے جوتم نے سرگوشی سے پہلے صدقہ دینے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ اب جب کہ یہ کام تم نے نہیں کیا اورخدانے تمہاری توبہ کوقبول کرلیاہے ، تو نماز قائم کرو ،زکوٰة دو اورخُدا اوراس کے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو ۔ (جان لو) کہ خدااس کام سے جسے تم انجام دیتے ہو باخبرہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:12-13
٣۔ کیایہ فضیلت تھی ؟
س میں شک نہیں کہ حضرت علی علیہ السلام اصحابِ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں دولت مندوں کے زمرہ میں داخل نہیں ہے،آپ علیہ السلام کی زندگی سادہ اورزاہدانہ تھی ۔ اس کے باوجود اس حکم ِ الہٰی کے احترام میں اس مختصر سی مدّت میں آپ علیہ السلام نے چند مرتبہ صدقہ دیااور ضروری مسائل نجویٰ کے ذریعہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سامنے رکھے ،اور جیسا کہ ہم نے کہاہے یہ مسئلہ مفسّرین اور ارباب ِ حدیث کے درمیان طے شدہ اورمسلّم ہے لیکن بعض لوگ اس حقیقت کوقبول کرنے کے باوجود اس پراصرار کرتے ہیں کہ اس کے افضل ، ہونے کاانکار کریں ۔وہ منجملہ دیگر باتوں کے یہ کہتے ہیں کہ اگر بزرگانِ صحابہ نے یہ اقدام نہیں کیاتواس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی ،یاان کے پاس کافی وقت نہیں تھا یاوہ خیال کرتے تھے کہ کہیں ایسانہ ہو کہ فقراء کی تکلیف وپریشانی اوراغنیاء کی وحشت کاسبب نے اس بناپر حضرت علی کرم اللہ وجہ، کے لیے یہ اقدام کسِی فضیلت اور دوسروں سے سلب ِ فضیلت کاسبب نہیں ہے ) (١) ۔ لیکن انہوں نے دوسری آ یت کے متن پرغور نہیں کیاجس میں خداسر زنش کے عنوان سے فر ماتاہے :(أَ أَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْواکُمْ صَدَقات) کیاتم فقر وفاقہ سے ڈر گئے ہواور تم بُخل کیاہے جونجویٰ کے لیے صدقہ نہیں دیا ۔یہاں تک کہ آ یت کے ذیل میں توبہ کاذکر آ تاہے جوواضح طورپر ان معانی پردلالت کرتاہے کہ صدقہ دے کرپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کااقدام کرناایک پسندیدہ کام تھاور نہ تو بہ اور سرزنش کی ضرورت نہ ہوتی ۔ اس میں شک نہیں کہ اصحابِ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں سے جانے پہنچانے افراد کی ایک جماعت اس واقعہ سے پہلے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کرتی تھی (کیونکہ عام اور دُور افتادہ افراد یہ اقدام بتہ کم کرتے تھے )لیکن انہی مشہور صحابہ نے صدقہ کے حکم کے بعد نجویٰ کرناچھوڑ دیا ۔وہ تنہا شخص جس نے اس کااحترام کیااوراسے عملی جامہ پہنایاوہ حضرت علی کرم اللہ وجہ ،تھے ۔ اس میں کون سی قباحت ہوگی کہ ہم واضح آ یات اور روایات کے پیش نظر جوجاس سلسلہ میںمختلف اسلامی کتب میں مندرج ہیں انہیں قبول کرلیں اور کمزور وبے بنیاد واحتمالات کی بناء پر ایک حقیقت کونظر انداز نہ کریں اور عبداللہ ابن ِ عمر کے ہمنوابن جائیں ،جواس فضیلت کوحضرت فاطمہ علیہاالسلام کے ساتھ تزویج اور فتح خیبر کے دن کی عمل داری سے مربوط اورحمر النعم ر(سُرخ رنگ کے اُونٹ ) سے افضل وبرتر سمجھتے ہیں ۔ 1۔ تفسیرفخررازی، "" رُوح البیان "" آیات زیربحث کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:12-13
٤۔ مدّت حکم اورمقدارِ صدقہ
مندرجہ بالا حکم یعنی رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کرنے سے پہلے صدقہ کا وجوب کتنی مدّت پرحاوی ہوکر منسُوخ ہوا،اس سلسلہ میں مختلف قول نقل ہوئے ہیں ۔بعض اس کوصرف ایک گھنٹے اوربعض ایک رات تک محدُود سمجھتے ہیں اوربعض اس مدّت کو دس روزپرمبنی قرار دیتے ہیں ۔صحیح تیسراقول ہی ہے کیونکہ ایک گھنٹہ یاایک رات اس قسم کے امتحانی حکم کے لیے ہرگز کافی نہیں ہے ،اس لیے کہ وہ عُذر پیش کرسکتے تھے کہ اس مختصر سی مدّت میں نجویٰ کے لیے کوئی سبب پیش نہیں آ یالیکن دس دن کی مدّت حقائق کوواضح کرسکتی ہے اوراس حکم سے تخلف کرنے والوں کے لیے ملامت وسرزنش کے اسباب فراہم کرسکتی ہے ۔جہاں تک صدقہ کی مقدار کاتعلق ہے توآ یت میں اس کومعیّن نہیںکیاگیااور اسلامی روایات کے مطالعہ سے بھی کوئی مقدار دستیاب ہوتی ، حضرت علی کرم اللہ وجہ کے عمل سے معلوم ہوتاہے کہ اس اقدام کے لیے ایک درہم بھی کفایت کرتاتھا۔