وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِندَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ
Those who have faith in Allah and His apostles—it is they who are the truthful and witnesses with their Lord; they shall have their reward and their light. But as for those who are faithless and deny Our signs, they shall be the inmates of hell.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 57:19
[Pooya/Ali Commentary 57:19] Those who believe in Allah should also believe in the Holy Prophet. The belief in the Holy Prophet is essential. By accepting the prophetship of the Holy Prophet the faith in the unity of Allah is established. To demonstrate and manifest belief in the Holy Prophet the believer must submit himself unconditionally to the Holy Prophet and obey his commands, because it is Allah (Najm 2 to 5) who speaks, commands and acts through him. The devotion of the believers to the Holy Prophet should be total in every walk of life and at all events. Any doubt, deviation or desertion reflects hypocrisy. So when a believer believes in Allah and the Holy Prophet and demonstrates his belief with unconditional surrender to their will and command he becomes siddiq (truthful) and shahid (witness). For the perfect example of the truthful refer to the commentary of Bara-at: 119. The authentic books concur in reporting that this verse (Bara-at: 119) refers to the Ahl ul Bayt. See Hafiz Abu Nu-aym; Muwaffaq ibn Ahmed; and Ibn Hajar in his Sawa-iq al Muriqah, chapter 11, page 90. For the witness refer to the commentary of Rad: 43 and Hud: 17. There are other truthfuls and witnesses in the sense referred to in this verse according to the degree of their submission to Allah and His prophet, but the highest and perfect degree of truthfulness and testification is found in the Ahl ul Bayt. According to Luqman: 13 polytheism is the greatest injustice. Refer to the commentary of Baqarah: 124 to know that there was none among the companions of the Holy Prophet who had not worshipped a ghayrallah; and after becoming Muslim they can be described as pardoned idolaters. Even after embracing Islam most of them used to abandon and desert the Holy Prophet at the slightest hint of defeat or destruction (see commentary of Bara-at: 25 to 27) or had doubts in his prophethood (see commentary of Fat-h: 1). Those who proved the truth, by suppressing their mortal egotism in order to let their individuality merge into the eternal, universal and absolute supreme being so as to reflect His authority, wisdom and mercy, are in fact the witnesses referred to in this verse. Their life pattern became the proof of the divine attributes. They gave their lives, property and children in the cause of Allah which was not possible without a sure conviction in the omnipotent, omnipresent and omniscient existence of the supreme being. They were the living example of the following verse: "Verily my worship, my sacrifice, my life and my death are for Allah, the Lord of the worlds (Anam: 163) They are the thoroughly purified Ahl ul Bayt of the Holy Prophet (Ahzab: 33) whom the Holy Prophet presented to the world as his "selves, children and women" (Ali Imran: 61). They are the ideal guides for mankind in all ages. Aqa Mahdi Puya says: Ayyashi narrates that once a disciple of Imam Jafar bin Muhammad as Sadiq requested him to pray to Allah to bless him with martyrdom. The Imam said: "Every true believer is a martyr." Then he recited this verse. He further observed: "Whoever recognises the true vicegerents of Allah and sincerely expects that ultimately they shall take charge of the kingdom of Allah, is like him who fought with the Holy Prophet and gave his life in the cause of Allah in the presence of the Holy Prophet."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:19-20
سوره حدید/ آیه 19- 20
١٩۔وَ الَّذینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَ رُسُلِہِ أُولئِکَ ہُمُ الصِّدِّیقُونَ وَ الشُّہَداء ُ عِنْدَ رَبِّہِمْ لَہُمْ أَجْرُہُمْ وَ نُورُہُمْ وَ الَّذینَ کَفَرُوا وَ کَذَّبُوا بِآیاتِنا أُولئِکَ أَصْحابُ الْجَحیمِ۔ ٢٠۔ اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَیاةُ الدُّنْیا لَعِب وَ لَہْو وَ زینَة وَ تَفاخُر بَیْنَکُمْ وَ تَکاثُر فِی الْأَمْوالِ وَ الْأَوْلادِ کَمَثَلِ غَیْثٍ أَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَباتُہُ ثُمَّ یَہیجُ فَتَراہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُونُ حُطاماً وَ فِی الْآخِرَةِ عَذاب شَدید وَ مَغْفِرَة مِنَ اللَّہِ وَ رِضْوان وَ مَا الْحَیاةُ الدُّنْیا ِلاَّ مَتاعُ الْغُرُور۔ ترجمہ ١٩۔وہ لوگ جوخدا اوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے وہ صدیقین وشہدا ہیں ۔ اپنے پروردگار کے پاس ،ان کے (اعمال )کااَجر اوران کانور ( ایمان ) ان کے لیے ہے اور جولوگ کافر ہوگئے اورانہوں نے ہماری آ یات کی تکذیب کی وہ اصحاب ِجحیم ہیں۔ ٢٠۔جان لو کہ زندگی دُنیا صِرف کھیل کُود ،سرگرمی، تجمل پرستی اورتمہارے درمیان تفاخرہے اور مال واولاد میں اضافہ کاطلب کرنااس بارش کی طرح جس کاحاصل کسانوں کوتعجب میں ڈال دیتاہے ،پھروہ ( کھیتی ) خشک ہوجاتی ہے اس طرح کہ تو اسے زرد دیکھتاہے ۔پھر وہ خشک بھوسہ کی شکل میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔آخرت میں یاعذاب ِ شدید ہے یامغفرت ورضائے الہٰی ،بہرحال زندگئی دنیا متاعِ غرور کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:19-20
دُنیا متاعِ غرور کے علاوہ اورکوئی چیزنہیں
گزشتہ آ یات کی بحث جس میں مومنین اوربارگاہِ خدامیں ان کے اَجر سے متعلق گفتگوتھی اس کوجاری رکھتے ہوئے پروردگار ِ عالم زیربحث آیت میں مزید فرماتاہے: وہ لوگ جوخدااوراس کے رسولوں پر ایمان لائے وہ اپنے پروردگار کے ہاں صدیقین اور شہداء ہیں :(وَ الَّذینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَ رُسُلِہِ أُولئِکَ ہُمُ الصِّدِّیقُونَ وَ الشُّہَداء ُ عِنْدَ رَبِّہِمْ) اورصیغہ مبالغہ ہے اوراس شخص کے معنی میں ہے جوسر اپاصداقت ہو۔ وہ جس کاعلم اس کی گفتار کی تصدیق کرتاہو اور وہ سچائی کاکامل نمونہ ہو۔ شہدائ جمع ہے شہید کی ،اس کی مادّہ شہود ہے جس کے معنی ایساحضور ہیں جس کے ساتھ مشاہدہ وابستہ ہو ۔چاہے وہ ظاہری آنکھ سے ہو، چاہے دل کی آنکھ سے ،اور اگرگواہ پرشاہد وشہید کااطلاق ہوتاہے تووہ اس بناپر ہے کہ اس نے کسی منظر کامشاہدہ حاضر رہ کرکیاہے ۔اسی طرح جس طرح اس کااطلاق شہیدان راہ ِ خدا پر میدان ِ جہادمیں ان کے حاضر ہونے کی بناپر ہوتاہے کہ پیغمبر اورانبیاء اپنی اپنی اُمّتوں کے اعمال کے گواہ ہیں اورپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ان کے گواہ بھی ہیں اوراپنی اُمّت کے بھی اور مسلمان بھی لوگوں کے اعمال کے شاہد اورگواہ ہیں ( ١) ۔ اس بناپر شہداء کامقام (اعمال کے گواہ) ایک بلند مقام ہے جوایمان دار افراد کوحاصل ہے ۔بعض مفسّرین نے یہ احتمال تجویز کیاہے کہ یہاں شہداء انہی شہدائے راہ ِ خدا کے معنوں میں ہے ۔یعنی جومومن ہے وہ شہیدوں جیسااَجر رکھتاہے اوربمنزلہ شہداء ہے ۔اسی لیے ایک حدیث میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں آ یا اورعرض کیا :(ادع اللہ ان یرزقنی الشھادة) ۔خدا سے دُعاکیجئے کہ و ہ مجھے شہادت عطافرمائے ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: ان المؤ من شھید وقرأ ھٰذہ الا ٰیة مومن شہیدہے اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس آ یت ، (وَ الَّذینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَ رُسُلِہِ...) کی تلاوت فرمائی ( ٢) ۔ مذ کورہ دونوں معانی کااجتماع بھی ممکن ہے اس لیے کہ قرآن مجید میں شہید وشہداء کے الفاظ عام طورپر گواہوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں بہرحال خدامؤ منین کی دوصِفتیں بیان کرتاہے ۔پہلی صفت صدیق اوردوسری شہید ،اوریہ چیز بتاتی ہے کہ زیربحث آ یت میں مومنین سے مراد وہ افراد ہیں جن کوایمان کابلند ترین مقام حاصل ہے اورنہ ایک عام مؤ من اسی قسم کے اوصاف کاحامل نہیں ہوتا(٣) ۔ اس کے بعد مزیدفرماتاہے : ان کے لیے ان کے اعمال کااَجر ہے اوران کے ایمان کا نور (لَہُمْ أَجْرُہُمْ وَ نُورُہُمْ ) ۔ یہ تفصیل تعبیر ، عظیم اجر اوران کے حد سے زیادہ نور کی طرف اشارہ ہے ، آخر میںفرماتاہے : لیکن وہ لوگ جوکافرہوگئے اورانہوں نے ہماری آ یات کی تکذیب کی وہ اہل دوزخ ہیں (وَ الَّذینَ کَفَرُوا وَ کَذَّبُوا بِآیاتِنا أُولئِکَ أَصْحابُ الْجَحیمِ ) ۔تاکہ ان دونوںگروہوں کے تقابل سے ،پہلے گروہ کامقامِ بلند اور دوسرے گروہ کی پستی آشکار ہوجائے اور چونکہ پہلے گروہ میں ایمان کی بلند سطح مدِّنظر تھی لہٰذااِس گروہ کا بھی شدید کُفرپیشِ نظرہے اِسی لیے اس گروہکاذکر آ یات ِالہٰی کی تکذیب کے عنوان سے ہُواہے اور چونکہ دنیاکی محبت ہرگناہ کاسرچشمہ ہے (رأس کل خطیئة )اس لیے بعد والی آ یت میں دنیا کی کیفیّت حیات اور اس کے مختلف مرحلوں کی گو یانمایاں تصویر کشی ہوئی ہے اورہرمقام پر جوعوامل کارفرمائیں ہیں وہ پیش کیے گئے ہیں ۔ پروردگار ِ عالم فرماتاہے: جان لوکہ زندگی ِ دنیاصرف کھیل کُود ، جوش وخروش ، تجمل پرستی ،ایک دوسرے کے مقابلہ میں فخر کرنااورمال اوراولاد میں اضافہ کامطالعہ کرناہے (اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَیاةُ الدُّنْیا لَعِب وَ لَہْو وَ زینَة وَ تَفاخُر بَیْنَکُمْ وَ تَکاثُر فِی الْأَمْوالِ وَ الْأَوْلادِ ) ۔اس اعتبار سے غفلت ،جوش وخروش ،تجمل پرستی ،تفاخراورتکاثرانسانی زندگی کے پانچ مرحلوں کوتشکیل دیتاہے ۔پہلابچپن کادُور ہے جس میں زندگی بے خبری اورلہو ولعب میں محصور رہتی ہے ۔اس کے بعدلڑکپن کا دُور آتاہے ۔اس میں سرگرمی اورجوش وخورش کھیل کُود کی جگہ لے لیتے ہیں اوراس مرحلہ میں انسان ایسے مسائل میں الجھارہتاہے جواسے صرف اپنے ساتھ سرگرم رکھیں لیکن سنجیدہ مسائل سے دُور ۔تیسرا مرحلہ جوانی کاہے جس میں شور وغوغاہوتاہے اورتجمل پرستی ہوتی ہے ۔اس مرحلے سے گُزر ے توچوتھا مرحلہ آتاہے ۔اس مقام ومنصب کے حاصل کرنے اورفخر ومباہات کرنے کے جذبات انسان میں پیدا ہوجاتے ہیں ۔آخرکار وہ پانچویں مرحلہ میں داخل ہوجاتاہے جس میں افزائش مال واولاد کی فکر میں لگارہتاہے ۔پہلے مرحلے توزندگی اورعمر کے مطابق طے شدہ ہیں لیکن بعد کے مرحلے مختلف افرادمیں مکمل طورپر مختلف ہوتے ہیں ۔ انسان میں مال کی افزائش کاجذبہ آخر تک بر قرار رہتاہے ،اگرچہ بعض کانظر یہ یہ ہے کہ ان پانچ اصولوں میں سے ہرمرحلہ انسانی زندگی کے آٹھ سال پرمحیط ہوتاہے اورمجموعی طورپر چالیس سال تک جاپہنچتاہے ۔ جب انسان اس مرحلہ ہی میں ٹھہر جاتی ہیں اور یہ بڑھاپے تک کھیل کُود، سرگرمی اورمعرکہ آرائی کی فکر میں لگے رہتے ہیں ۔ یایہ ہوتاہے کہ ان کی شخصیّت تجمل پرستی میں بَٹ کررہ جاتی ہے اورانہیں مکان، سواری اورعُمدہ لباس کی فراہمی کے علاوہ کوئی فکرلاحق نہیں ہوتی ، یہ ادھیڑ عمر کے لوگ ہونے کے باوجودبچّے ہوتے ہیں اوربُوڑھے ہوکربھی بچّوں کے سے جذبات واحساسات رکھتے ہیں ،اس کے بعد پروردگار ِعالم انسان کی دُنیا وی زندگی اوراس کے آغازوانجام کی ایک مثال بیان کرکے پُوری کیفیّت کونگاہ انسانی کے سامنے مجسم کرکے پیش کرتاہے اور فرماتاہے : مثل ِبارش کے ہے جوآسمان سے زمین کی طر ف آتی ہے اور اس طرح زمین کوزندہ کرتی ہے کہ اس پرنمایاں ہونے والے سبزے زراعت کرنے والوں کوتعجب میں ڈال دیتے ہیں۔اس کے بعدوہ خشک ہوجاتے ہیں اورایسے ہوجاتے ہیں کہ توانہیں زرد رنگ کادیکھتا ہے ،پھرٹوٹ پُھوٹ کراورچھوٹے چھوٹے تنکے بن کرخشک کٹی ہوئی گھاس میں تبدیل ہوجاتے ہیں (کَمَثَلِ غَیْثٍ أَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَباتُہُ ثُمَّ یَہیجُ فَتَراہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُونُ حُطاماً)(٤) ۔ یہاں لفظِ کفّاربے ایمان افراد کے معنوں میں نہیںہے ،بلکہ زراعت کرنے والوں کے معنی میں ہے کیونکہ کفر کے اصلی معنی چھپانے کے ہیں اور چونکہ کسان بیج چھِڑک کراُسے زمین کے اندر چھُپادیتاہے اس لیے اُسے کافرکہتے ہیں اوراسی لیے کفر بعض اوقات قبر کے معنی میں بھی آ تاہے کیونکہ وہ مرنے والے کے جسم کوچھُپا دیتی ہے ۔کبھی رات کوبھی کافر کہاجاتاہے کیونکہ اس کی تاریکی ہرچیز کوچھُپا لیتی ہے ۔درحقیقت زیربحث آ یت سُورئہ فتح کی آ یت کے مانند ہے جس میں گیاہ ونبات کے متعلق زیادہ گفتگو کرتاہے توفرماتاہے:(یعجب الزرع) زراعت کرنے والوں کوتعجب میں ڈال دیتی ہے ( یعنی کفّار کی بجائے زراع کہاگیاہے)بعض مفسّرین نے یہاں اس احتمال کوبھی پیش کیاہے کہ یہاں کفّار سے مُراد وہی کفّار کے وجود کاانکار کرنے والے ہیں۔اس کے لیے انہوں نے چند توجیہات بھی پیش کی ہیں ۔لیکن یہ تفسیر زیادہ مناسب نظرنہیں ا تی کیونکہ اظہارِ تعجب میں کافر ومومن دونوں شریک ہیں حطام حطم کے مادّہ سے ہے ۔اس کے معنی توڑنے اورچھوٹا کرنے کے ہیں ،گھاس کے ان اجزکوحطام کہاجاتاہے جوتیز ہوا کی جُنبش سے بکھر جاتے ہیں جی ہاں وہ مرحلے جوانسان سّترسال یااس سے زیادہ عمر میں طے کرتاہے وہ گھاس اوردیگر نباتات پرچند مہینوں میں ظاہر ہوجاتے ہیں اورانسان ایک کھیت کے کنارے بیٹھ کرعمرکے گزرنے اوراس کے آغاز وانجام کو مختصر سی نظر سے دیکھ سکتاہے ۔اس کے بعد زندگی کے ماحصل کوپیش کرتے ہوئے فرماتاہے: لیکن آخرت کامعاملہ دوحالتوں سے خارج نہیں ہے یاعذاب شدید ہے یااس کی مغفرت ،رضا اورخوشنودی ( وَ فِی الْآخِرَةِ عَذاب شَدید وَ مَغْفِرَة مِنَ اللَّہِ وَ رِضْوان) ۔آخرکارآ یت کواس جملہ پرختم کرتاہے : اورزندگی دنیا سوائے متاعِ غرور اورفریب کے اورکوئی چیزنہیںہے ( وَ مَا الْحَیاةُ الدُّنْیا ِلاَّ مَتاعُ الْغُرُور) ۔ غرور اصل میں غر (بروزن حر)کے مادّہ سے ہے ۔ اس کے معنی ہیں کسی چیز کااثرِ ظاہری م۔اسی گھوڑے کی پیشانی پرظاہرہونے والے اثر کوغرہ کہتے ہیں ۔اس کے بعدغفلت کی حالت پر بھی اس کااطلاق ہواہے جہاں ظاہر میں انسان ہوشیار ہے لیکن حقیقت میں بے خبرہے ۔ یہ فریب کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے ۔ متاعہرقسم کے فائدہ اُٹھا نے کے وسائل معنی میں استعمال ہوتاہے ۔تواس بناپر دنیامتاع غرور ہے کے جملے کامفہوم یہ ہے کہ دُنیا فریب کاری کے لیے وسیلے کی مانند ہے ،اپنے آپ کوفریب دینے کے لیے بھی اور دوسروں کوفریب دینے کے لیے بھی ۔البتہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جودُنیا کواپنا انتہائی مقصود قرار دیتے ہیں اوراُسی میں دل لگالیتے ہیں اوراسی پرانحصار کرتے ہیں۔ ان کی آخری آرزو یہی ہوتی ہے کہ دنیاحاصل کرلیں ۔لیکن اگر اس دنیا کی نعمتیںبلند اقدار اور سعادت ِ جاودانی کے حصول کاذ ریعہ بن جائیں توپھروہ ہرگزدنیانہیں ہے ،بلکہ آخرت کی کھیتی ،عظیم مقاصد تک پہنچنے کاایک پل ہے ۔یہ بات ظاہر ہے کہ اگردنیا کی طرف ایک گزر گار یاآرام کرنے کی جگہ کی حیثیت سے نظر کی جائے تو اس کے دوپہلوسامنے آ تے ہیں جن میں سے ایک میں جھگڑااورفساد ہے ،حد سے تجاوز ہے ، ظلم ہے اور سرکشی وغفلت ہے ۔دوسرے پہلو میںبیداری کاوسیلہ ہے ،آگاہی ہے ،اِیثار وقربانی ہے،بھائی چارہ ہے اورمعاف کردیناہے ۔ ١۔تفسیر نمونہ کی جلد ٧ سورہ حج کی آیت ٨٨ کے ذیل میں اورجلد ٢ سورہ نساء کی آ یت ٤١ کے ذیل میں جوتحریر ہے اس کی طرف رجوع فرمائیں۔ ٢۔ تفسیرعیاشی مطابق نقل نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٤٤۔ ٣۔اُوپر والی تفسیر کے مطابق ( أُولئِکَ ہُمُ الصِّدِّیقُونَ وَ الشُّہَداء ُ عِنْدَ رَبِّہِمْ)میں کوئی چیزمقدر نہیں ہے اورمؤ منین کے اُس گروہ کو صدیقین و شہداء کے مصداق شمار کیاگیاہے ۔لیکن مفسّرین کانظر یہ یہ ہے کہ بمنزل صدیقین وشہداء ہیں نہ کہ خُود وہی ہیں یعنی ان کااَجر توانہیں ملے گا لیکن تمام اعزازاتوافتخارات نہیں ملیں گے اوروہ کہتے ہیں کہ آ یت کی تقدیر ِ عبارت اس طرح ہے(اولٰئک مثل اجرالصدیقین والشھدائ)تفسیر رُوح المعانی اورالمیزان( درذیل آ یات زیربحث ) اور""طبعاً لھم ""اور""اجرھم""کی ضمیر وں کامرجع بھی مختلف ہوگالیکن یہ تفسیر ظاہر آ یات کے ساتھ سازگار نہیں ہے ۔ ٤۔"" یھیج "" کامادّہ "" ھیجان"" ہے یہ لغت میں د ومعانی کے لیے آ یاہے ایک گھاس کاخشک ہوجانا دوسرے حرکت میں آنا ،ہوسکتاہے کہ یہ دونوں معانی ایک ہی اصل کی طرف لوٹتے ہوں کیونکہ جب گھاس خشک ہو جائے تووہ حرکت اورپراگندگی کے لیے آمادہ ہو جاتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:19-20
چند اهم نکات
١۔قرآن مجید میں عظیم پیغمبروں اوران جیسے افراد کی ایک جماعت کی تعریف صدق کے عنوان کے تحت کی گئی ہے ،منجملہ دیگر افراد کے ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ( انہ کان صدیقاً نبیّاً )(سورہ مریم آ یت ۔٤١)خداکے عظیم پیغمبر حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں بھی یہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں( مریم ۔ ٥٦)حضرت مریم علیہا السلام مادرِ جنابِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میںبھی ہم پڑھتے ہیں :( وامہ صدیقة )(مائدہ۔ ٧٥) ۔ قرآن کی بعض آ یتوں میں صدیقین کاذکر پیغمبروں کے ہمراہ ہواہے جیساکہ سُورئہ نساء کی آ یت ٦٩ میں ہم دیکھتے ہیں :(وَ مَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَ الرَّسُولَ فَأُولئِکَ مَعَ الَّذینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَ الصِّدِّیقینَ وَ الشُّہَداء ِ وَ الصَّالِحینَ وَ حَسُنَ أُولئِکَ رَفیقا)جوشخص خداو پیغمبر کی اطاعت کرے وہ (قیامت میں )ایسے لوگوں کاہم نشین ہوگاجن پرخدانے اپنی نعمت کوتمام کیا ہے ،پیغمبروں ، صدیقین ، شہداء اورصالحین میں سے اوروہ اچھے رفقاء ہیں ،جیساکہ ہم نے کہاہے کہ یہ لفظ مبالغہ کاصیغہ ہے اس کامادّہ صدق ہے اوریہ اس شخص کے لیے بولاجاتاہے جس کے وجودکا صدق وراستی نے احاطہ کرلیاہو اور صداقت اس کی پُوری زندگی پرحاوی ہو ۔ یہ چیزمقام ِصدق کی اہمیّت کوبتاتی ہے ۔ باقی رہے شہداء توجیساکہ ہم نے کہا ہے کبھی تواعمال کے گواہ کے معنوں میں اورکبھی شہیدانِ راہِ خُدا کے معنوں میں اورزیربحث آ یت میں ان دونوں معانی کااجتماع بھی ممکن ہے ۔البتہ شہیداسلامی فرہنگ اورتمدّن کے اعتبار سے صرف انہی افراد میں محدُود نہیں ہے جومیدانِ جہاد میںقتل ہوجائیں اگرچہ وہ اس کے واضح ترین مصداق ہیں ۔حتی کہ وہ تمام افراد جو عقیدۂ حق رکھتے ہیں ،راہ ِ حق میں قدم اُٹھاتے ہیں اوراسی راہ میںدنیاسے چلے جاتے ہیں ،روایات ِ اسلامی کے مطابق سب زمرہ شہداء میں آ تے ہیں ۔ ایک حدیث میں امام محمدباقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ : ) العارف منکم ھٰذاالا مرالمنتظرلہالمحتسب فیہ الخیر کمن جاھدواللہ مع قائم اٰل محمد ۖ بسیفہ ثم قال بل واللہ کمن جاھد مع رسول اللہ بسیفة ،ثم قال الثالثة : بل واللہ کمن استشھد مع رسول اللہ قول اللہ عزّوجل والّذین اٰمنو اباللہ ورسلہ اولٰئک ھم الصدیقون والشھداء عندربّھم ... ثم قال صرتم واللہ صادقین شھداء عندربّکم ) جوشخص تم میں سے مسئلہ دلایت سے آشنا ہواورظہور ِ مہدی علیہ السلام کے انتظار میں زندگی گزارے اور اپنے آپ کوان کی عادل حکومت کے لیے آمادہ رکھے اس شخص کی مانند ہے جومہدی آل ِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں اپنے ہتھیار وں سے جنگ کرے ۔اس کے بعد آپ نے فرمایابلکہ ، خداکی قسم ، اس شخص کے مانند ہے جس نے رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی معیّت میں اپنے ہتھیاروں سے جہادکیاپھر آپ نے تیسری مرتبہ فرمایا بلکہ خدا کی قسم اس شخص کے مانند ہے جورسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ساتھ رہ کرآپ کے خیمے میں شہید ہواہو ۔پھر فرمایا تمہارے بارے میں قرآن میں آ یت نازل ہوئی ہے راوی نے کہا:آپ پر قُربان جاؤں ،کون سی آیت ؟ فرمایا:خُدا کایہ کلام جس میں فرماتاہے وہ جوخدا اوراس کے بھیجے ہوئے افراد پرایمان لائے ہیں؟وہ اپنے پروردگار کے ہاں صدیقین اورشہداء ہیں ، پھر آپ نے فرمایا:تواس طرح سے تم خدا کی قسم اپنے پروردگار کے ہاں صدیقین بھی ہواور شہداء بھی (۱) ۔ اِس گفتگو کوہم حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی ایک گفتگو پر ختم کرتے ہیں جس وقت آپ علیہ السلام کے اصحاب کاایک گروہ جہاد کے وقت کے انتظار میں اور راہِ خدا میں شہادت پانے کے شوق میں بے تاب تھا توآپ علیہ السلام نے یہ جُملہ فرمایا: (ولا تستعجلوا بمالم یعجلہ اللہ لکم فانہ من مات منکم علی فراشہ وھوعلی معرفة حق ربّہ وحق ورسولہ واھل بیتہ مات شھیداً) ۔ اس چیز میں جس میں خداعجلت روانہیں رکھتا جلدی مت کروکیونکہ تم میں سے جوشخص اپنے بستر پرمرجائے لیکن حقِ پروردگار ،حقِ پیغمبراورحقِ اہل ِ بیت کی معرفت رکھتاہو ،وہ شہید مراہے ( ۲) ۔ دُنیاوی زِندگی ان اسباب وعلل کامجمُوعہ ہے قرآن کی مختلف آیتوں میں کبھی تودنیاوی زندگی کولہو ولعب کہاگیاہے مثلاً :(و ما الحیاة الدنیا الّا لعب ولھو) دنیاوی زندگی لہو ولعب کے علاوہ کچھ نہیں ہے ( انعام ۔ ٣٢)اورکبھی لہوولعب،زینت ،تفاخر اورتکاثر کے الفاظ آئے ہیں مثلاً (زیربحث آ یات ) اورکبھی اے متاعِ غرور سے تعبیر کیاگیاہے مثلاً (آل ِ عمران ۔ ١٨٥) (اورآ یات زیربحث ) اورکبھی متاع قلیل (نساء ،٧٧) اورکبھی عارضی وظاہری اور جلدگزرجانے والے اَمر سے تعبیر کیاہے (نساء ۔ ٩٤) ان تعبیروں سے اورقرآن کی دوسری تعبیروں کے مجموعہ سے اسلام کامادی زندگی اوراس سے متعلقہ نعمتوں کے بارے میںجونظر یہ ہے وہ بالکل واضح ہوجاتاہے ، اسلام اس زندگی کوبالکل بے قدروقیمت قرار دیتاہے اوراس کی طرف میلان وتوجہ کواس سے وابستگی کوبے مقصد امور( لعب)اورخواہ مخواہ مصروف رکھنے والے مقاصد (لہو)اورتجمل پرستی (زینة) اورحُبّ مقام ومنصب اورریاست اور دوسروں پر برتری کی ہواہش (تفاخر)اورحِرص وا ز اورافزوں طلبی ( تکاثر) شمارکرتاہے ۔ اور دُنیا سے عشق کرنے کوانواع واقسام کے مظالم اورگناہوں کاسرچشمہ قرار دیتاہے لیکن اگر یہ نعمتیں اپنی جہت کوبدل لیں اورمقاصد ِ الہٰی تک پہنچنے کازینہ بن جائیں توایساسرمایہ بن جائیں گی جنہیں خدا مؤ منین سے خرید تاہے اوربہشت ِ جاوداں اور سعادت ِ ابدی انہیں بخشتاہے ۔ انَّ اللَّہَ اشْتَری مِنَ الْمُؤْمِنینَ أَنْفُسَہُمْ وَ أَمْوالَہُمْ بِأَنَّ لَہُمُ الْجَنَّة (توبہ ۔ ١١١) ۔ ۱۔تفسیر مجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٣٧۔ ۲۔نہج البلاغة ،خطبہ ١٩٠۔