ٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا لَعِبٞ وَلَهۡوٞ وَزِينَةٞ وَتَفَاخُرُۢ بَيۡنَكُمۡ وَتَكَاثُرٞ فِي ٱلۡأَمۡوَٰلِ وَٱلۡأَوۡلَٰدِۖ كَمَثَلِ غَيۡثٍ أَعۡجَبَ ٱلۡكُفَّارَ نَبَاتُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصۡفَرّٗا ثُمَّ يَكُونُ حُطَٰمٗاۖ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابٞ شَدِيدٞ وَمَغۡفِرَةٞ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٞۚ وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلۡغُرُورِ
Know that the life of this world is mere diversion and play, glamour and mutual vainglory among you and rivalry for wealth and children—like rain, whose growth impresses the farmer. Then it withers and you see it turn yellow, then it becomes chaff. Whereas in the Hereafter there is forgiveness from Allah and His approval and a severe punishment. The life of this world is nothing but the wares of delusion.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:19-20
سوره حدید/ آیه 19- 20
١٩۔وَ الَّذینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَ رُسُلِہِ أُولئِکَ ہُمُ الصِّدِّیقُونَ وَ الشُّہَداء ُ عِنْدَ رَبِّہِمْ لَہُمْ أَجْرُہُمْ وَ نُورُہُمْ وَ الَّذینَ کَفَرُوا وَ کَذَّبُوا بِآیاتِنا أُولئِکَ أَصْحابُ الْجَحیمِ۔ ٢٠۔ اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَیاةُ الدُّنْیا لَعِب وَ لَہْو وَ زینَة وَ تَفاخُر بَیْنَکُمْ وَ تَکاثُر فِی الْأَمْوالِ وَ الْأَوْلادِ کَمَثَلِ غَیْثٍ أَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَباتُہُ ثُمَّ یَہیجُ فَتَراہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُونُ حُطاماً وَ فِی الْآخِرَةِ عَذاب شَدید وَ مَغْفِرَة مِنَ اللَّہِ وَ رِضْوان وَ مَا الْحَیاةُ الدُّنْیا ِلاَّ مَتاعُ الْغُرُور۔ ترجمہ ١٩۔وہ لوگ جوخدا اوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے وہ صدیقین وشہدا ہیں ۔ اپنے پروردگار کے پاس ،ان کے (اعمال )کااَجر اوران کانور ( ایمان ) ان کے لیے ہے اور جولوگ کافر ہوگئے اورانہوں نے ہماری آ یات کی تکذیب کی وہ اصحاب ِجحیم ہیں۔ ٢٠۔جان لو کہ زندگی دُنیا صِرف کھیل کُود ،سرگرمی، تجمل پرستی اورتمہارے درمیان تفاخرہے اور مال واولاد میں اضافہ کاطلب کرنااس بارش کی طرح جس کاحاصل کسانوں کوتعجب میں ڈال دیتاہے ،پھروہ ( کھیتی ) خشک ہوجاتی ہے اس طرح کہ تو اسے زرد دیکھتاہے ۔پھر وہ خشک بھوسہ کی شکل میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔آخرت میں یاعذاب ِ شدید ہے یامغفرت ورضائے الہٰی ،بہرحال زندگئی دنیا متاعِ غرور کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:19-20
دُنیا متاعِ غرور کے علاوہ اورکوئی چیزنہیں
گزشتہ آ یات کی بحث جس میں مومنین اوربارگاہِ خدامیں ان کے اَجر سے متعلق گفتگوتھی اس کوجاری رکھتے ہوئے پروردگار ِ عالم زیربحث آیت میں مزید فرماتاہے: وہ لوگ جوخدااوراس کے رسولوں پر ایمان لائے وہ اپنے پروردگار کے ہاں صدیقین اور شہداء ہیں :(وَ الَّذینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَ رُسُلِہِ أُولئِکَ ہُمُ الصِّدِّیقُونَ وَ الشُّہَداء ُ عِنْدَ رَبِّہِمْ) اورصیغہ مبالغہ ہے اوراس شخص کے معنی میں ہے جوسر اپاصداقت ہو۔ وہ جس کاعلم اس کی گفتار کی تصدیق کرتاہو اور وہ سچائی کاکامل نمونہ ہو۔ شہدائ جمع ہے شہید کی ،اس کی مادّہ شہود ہے جس کے معنی ایساحضور ہیں جس کے ساتھ مشاہدہ وابستہ ہو ۔چاہے وہ ظاہری آنکھ سے ہو، چاہے دل کی آنکھ سے ،اور اگرگواہ پرشاہد وشہید کااطلاق ہوتاہے تووہ اس بناپر ہے کہ اس نے کسی منظر کامشاہدہ حاضر رہ کرکیاہے ۔اسی طرح جس طرح اس کااطلاق شہیدان راہ ِ خدا پر میدان ِ جہادمیں ان کے حاضر ہونے کی بناپر ہوتاہے کہ پیغمبر اورانبیاء اپنی اپنی اُمّتوں کے اعمال کے گواہ ہیں اورپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ان کے گواہ بھی ہیں اوراپنی اُمّت کے بھی اور مسلمان بھی لوگوں کے اعمال کے شاہد اورگواہ ہیں ( ١) ۔ اس بناپر شہداء کامقام (اعمال کے گواہ) ایک بلند مقام ہے جوایمان دار افراد کوحاصل ہے ۔بعض مفسّرین نے یہ احتمال تجویز کیاہے کہ یہاں شہداء انہی شہدائے راہ ِ خدا کے معنوں میں ہے ۔یعنی جومومن ہے وہ شہیدوں جیسااَجر رکھتاہے اوربمنزلہ شہداء ہے ۔اسی لیے ایک حدیث میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں آ یا اورعرض کیا :(ادع اللہ ان یرزقنی الشھادة) ۔خدا سے دُعاکیجئے کہ و ہ مجھے شہادت عطافرمائے ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: ان المؤ من شھید وقرأ ھٰذہ الا ٰیة مومن شہیدہے اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس آ یت ، (وَ الَّذینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَ رُسُلِہِ...) کی تلاوت فرمائی ( ٢) ۔ مذ کورہ دونوں معانی کااجتماع بھی ممکن ہے اس لیے کہ قرآن مجید میں شہید وشہداء کے الفاظ عام طورپر گواہوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں بہرحال خدامؤ منین کی دوصِفتیں بیان کرتاہے ۔پہلی صفت صدیق اوردوسری شہید ،اوریہ چیز بتاتی ہے کہ زیربحث آ یت میں مومنین سے مراد وہ افراد ہیں جن کوایمان کابلند ترین مقام حاصل ہے اورنہ ایک عام مؤ من اسی قسم کے اوصاف کاحامل نہیں ہوتا(٣) ۔ اس کے بعد مزیدفرماتاہے : ان کے لیے ان کے اعمال کااَجر ہے اوران کے ایمان کا نور (لَہُمْ أَجْرُہُمْ وَ نُورُہُمْ ) ۔ یہ تفصیل تعبیر ، عظیم اجر اوران کے حد سے زیادہ نور کی طرف اشارہ ہے ، آخر میںفرماتاہے : لیکن وہ لوگ جوکافرہوگئے اورانہوں نے ہماری آ یات کی تکذیب کی وہ اہل دوزخ ہیں (وَ الَّذینَ کَفَرُوا وَ کَذَّبُوا بِآیاتِنا أُولئِکَ أَصْحابُ الْجَحیمِ ) ۔تاکہ ان دونوںگروہوں کے تقابل سے ،پہلے گروہ کامقامِ بلند اور دوسرے گروہ کی پستی آشکار ہوجائے اور چونکہ پہلے گروہ میں ایمان کی بلند سطح مدِّنظر تھی لہٰذااِس گروہ کا بھی شدید کُفرپیشِ نظرہے اِسی لیے اس گروہکاذکر آ یات ِالہٰی کی تکذیب کے عنوان سے ہُواہے اور چونکہ دنیاکی محبت ہرگناہ کاسرچشمہ ہے (رأس کل خطیئة )اس لیے بعد والی آ یت میں دنیا کی کیفیّت حیات اور اس کے مختلف مرحلوں کی گو یانمایاں تصویر کشی ہوئی ہے اورہرمقام پر جوعوامل کارفرمائیں ہیں وہ پیش کیے گئے ہیں ۔ پروردگار ِ عالم فرماتاہے: جان لوکہ زندگی ِ دنیاصرف کھیل کُود ، جوش وخروش ، تجمل پرستی ،ایک دوسرے کے مقابلہ میں فخر کرنااورمال اوراولاد میں اضافہ کامطالعہ کرناہے (اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَیاةُ الدُّنْیا لَعِب وَ لَہْو وَ زینَة وَ تَفاخُر بَیْنَکُمْ وَ تَکاثُر فِی الْأَمْوالِ وَ الْأَوْلادِ ) ۔اس اعتبار سے غفلت ،جوش وخروش ،تجمل پرستی ،تفاخراورتکاثرانسانی زندگی کے پانچ مرحلوں کوتشکیل دیتاہے ۔پہلابچپن کادُور ہے جس میں زندگی بے خبری اورلہو ولعب میں محصور رہتی ہے ۔اس کے بعدلڑکپن کا دُور آتاہے ۔اس میں سرگرمی اورجوش وخورش کھیل کُود کی جگہ لے لیتے ہیں اوراس مرحلہ میں انسان ایسے مسائل میں الجھارہتاہے جواسے صرف اپنے ساتھ سرگرم رکھیں لیکن سنجیدہ مسائل سے دُور ۔تیسرا مرحلہ جوانی کاہے جس میں شور وغوغاہوتاہے اورتجمل پرستی ہوتی ہے ۔اس مرحلے سے گُزر ے توچوتھا مرحلہ آتاہے ۔اس مقام ومنصب کے حاصل کرنے اورفخر ومباہات کرنے کے جذبات انسان میں پیدا ہوجاتے ہیں ۔آخرکار وہ پانچویں مرحلہ میں داخل ہوجاتاہے جس میں افزائش مال واولاد کی فکر میں لگارہتاہے ۔پہلے مرحلے توزندگی اورعمر کے مطابق طے شدہ ہیں لیکن بعد کے مرحلے مختلف افرادمیں مکمل طورپر مختلف ہوتے ہیں ۔ انسان میں مال کی افزائش کاجذبہ آخر تک بر قرار رہتاہے ،اگرچہ بعض کانظر یہ یہ ہے کہ ان پانچ اصولوں میں سے ہرمرحلہ انسانی زندگی کے آٹھ سال پرمحیط ہوتاہے اورمجموعی طورپر چالیس سال تک جاپہنچتاہے ۔ جب انسان اس مرحلہ ہی میں ٹھہر جاتی ہیں اور یہ بڑھاپے تک کھیل کُود، سرگرمی اورمعرکہ آرائی کی فکر میں لگے رہتے ہیں ۔ یایہ ہوتاہے کہ ان کی شخصیّت تجمل پرستی میں بَٹ کررہ جاتی ہے اورانہیں مکان، سواری اورعُمدہ لباس کی فراہمی کے علاوہ کوئی فکرلاحق نہیں ہوتی ، یہ ادھیڑ عمر کے لوگ ہونے کے باوجودبچّے ہوتے ہیں اوربُوڑھے ہوکربھی بچّوں کے سے جذبات واحساسات رکھتے ہیں ،اس کے بعد پروردگار ِعالم انسان کی دُنیا وی زندگی اوراس کے آغازوانجام کی ایک مثال بیان کرکے پُوری کیفیّت کونگاہ انسانی کے سامنے مجسم کرکے پیش کرتاہے اور فرماتاہے : مثل ِبارش کے ہے جوآسمان سے زمین کی طر ف آتی ہے اور اس طرح زمین کوزندہ کرتی ہے کہ اس پرنمایاں ہونے والے سبزے زراعت کرنے والوں کوتعجب میں ڈال دیتے ہیں۔اس کے بعدوہ خشک ہوجاتے ہیں اورایسے ہوجاتے ہیں کہ توانہیں زرد رنگ کادیکھتا ہے ،پھرٹوٹ پُھوٹ کراورچھوٹے چھوٹے تنکے بن کرخشک کٹی ہوئی گھاس میں تبدیل ہوجاتے ہیں (کَمَثَلِ غَیْثٍ أَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَباتُہُ ثُمَّ یَہیجُ فَتَراہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُونُ حُطاماً)(٤) ۔ یہاں لفظِ کفّاربے ایمان افراد کے معنوں میں نہیںہے ،بلکہ زراعت کرنے والوں کے معنی میں ہے کیونکہ کفر کے اصلی معنی چھپانے کے ہیں اور چونکہ کسان بیج چھِڑک کراُسے زمین کے اندر چھُپادیتاہے اس لیے اُسے کافرکہتے ہیں اوراسی لیے کفر بعض اوقات قبر کے معنی میں بھی آ تاہے کیونکہ وہ مرنے والے کے جسم کوچھُپا دیتی ہے ۔کبھی رات کوبھی کافر کہاجاتاہے کیونکہ اس کی تاریکی ہرچیز کوچھُپا لیتی ہے ۔درحقیقت زیربحث آ یت سُورئہ فتح کی آ یت کے مانند ہے جس میں گیاہ ونبات کے متعلق زیادہ گفتگو کرتاہے توفرماتاہے:(یعجب الزرع) زراعت کرنے والوں کوتعجب میں ڈال دیتی ہے ( یعنی کفّار کی بجائے زراع کہاگیاہے)بعض مفسّرین نے یہاں اس احتمال کوبھی پیش کیاہے کہ یہاں کفّار سے مُراد وہی کفّار کے وجود کاانکار کرنے والے ہیں۔اس کے لیے انہوں نے چند توجیہات بھی پیش کی ہیں ۔لیکن یہ تفسیر زیادہ مناسب نظرنہیں ا تی کیونکہ اظہارِ تعجب میں کافر ومومن دونوں شریک ہیں حطام حطم کے مادّہ سے ہے ۔اس کے معنی توڑنے اورچھوٹا کرنے کے ہیں ،گھاس کے ان اجزکوحطام کہاجاتاہے جوتیز ہوا کی جُنبش سے بکھر جاتے ہیں جی ہاں وہ مرحلے جوانسان سّترسال یااس سے زیادہ عمر میں طے کرتاہے وہ گھاس اوردیگر نباتات پرچند مہینوں میں ظاہر ہوجاتے ہیں اورانسان ایک کھیت کے کنارے بیٹھ کرعمرکے گزرنے اوراس کے آغاز وانجام کو مختصر سی نظر سے دیکھ سکتاہے ۔اس کے بعد زندگی کے ماحصل کوپیش کرتے ہوئے فرماتاہے: لیکن آخرت کامعاملہ دوحالتوں سے خارج نہیں ہے یاعذاب شدید ہے یااس کی مغفرت ،رضا اورخوشنودی ( وَ فِی الْآخِرَةِ عَذاب شَدید وَ مَغْفِرَة مِنَ اللَّہِ وَ رِضْوان) ۔آخرکارآ یت کواس جملہ پرختم کرتاہے : اورزندگی دنیا سوائے متاعِ غرور اورفریب کے اورکوئی چیزنہیںہے ( وَ مَا الْحَیاةُ الدُّنْیا ِلاَّ مَتاعُ الْغُرُور) ۔ غرور اصل میں غر (بروزن حر)کے مادّہ سے ہے ۔ اس کے معنی ہیں کسی چیز کااثرِ ظاہری م۔اسی گھوڑے کی پیشانی پرظاہرہونے والے اثر کوغرہ کہتے ہیں ۔اس کے بعدغفلت کی حالت پر بھی اس کااطلاق ہواہے جہاں ظاہر میں انسان ہوشیار ہے لیکن حقیقت میں بے خبرہے ۔ یہ فریب کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے ۔ متاعہرقسم کے فائدہ اُٹھا نے کے وسائل معنی میں استعمال ہوتاہے ۔تواس بناپر دنیامتاع غرور ہے کے جملے کامفہوم یہ ہے کہ دُنیا فریب کاری کے لیے وسیلے کی مانند ہے ،اپنے آپ کوفریب دینے کے لیے بھی اور دوسروں کوفریب دینے کے لیے بھی ۔البتہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جودُنیا کواپنا انتہائی مقصود قرار دیتے ہیں اوراُسی میں دل لگالیتے ہیں اوراسی پرانحصار کرتے ہیں۔ ان کی آخری آرزو یہی ہوتی ہے کہ دنیاحاصل کرلیں ۔لیکن اگر اس دنیا کی نعمتیںبلند اقدار اور سعادت ِ جاودانی کے حصول کاذ ریعہ بن جائیں توپھروہ ہرگزدنیانہیں ہے ،بلکہ آخرت کی کھیتی ،عظیم مقاصد تک پہنچنے کاایک پل ہے ۔یہ بات ظاہر ہے کہ اگردنیا کی طرف ایک گزر گار یاآرام کرنے کی جگہ کی حیثیت سے نظر کی جائے تو اس کے دوپہلوسامنے آ تے ہیں جن میں سے ایک میں جھگڑااورفساد ہے ،حد سے تجاوز ہے ، ظلم ہے اور سرکشی وغفلت ہے ۔دوسرے پہلو میںبیداری کاوسیلہ ہے ،آگاہی ہے ،اِیثار وقربانی ہے،بھائی چارہ ہے اورمعاف کردیناہے ۔ ١۔تفسیر نمونہ کی جلد ٧ سورہ حج کی آیت ٨٨ کے ذیل میں اورجلد ٢ سورہ نساء کی آ یت ٤١ کے ذیل میں جوتحریر ہے اس کی طرف رجوع فرمائیں۔ ٢۔ تفسیرعیاشی مطابق نقل نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٤٤۔ ٣۔اُوپر والی تفسیر کے مطابق ( أُولئِکَ ہُمُ الصِّدِّیقُونَ وَ الشُّہَداء ُ عِنْدَ رَبِّہِمْ)میں کوئی چیزمقدر نہیں ہے اورمؤ منین کے اُس گروہ کو صدیقین و شہداء کے مصداق شمار کیاگیاہے ۔لیکن مفسّرین کانظر یہ یہ ہے کہ بمنزل صدیقین وشہداء ہیں نہ کہ خُود وہی ہیں یعنی ان کااَجر توانہیں ملے گا لیکن تمام اعزازاتوافتخارات نہیں ملیں گے اوروہ کہتے ہیں کہ آ یت کی تقدیر ِ عبارت اس طرح ہے(اولٰئک مثل اجرالصدیقین والشھدائ)تفسیر رُوح المعانی اورالمیزان( درذیل آ یات زیربحث ) اور""طبعاً لھم ""اور""اجرھم""کی ضمیر وں کامرجع بھی مختلف ہوگالیکن یہ تفسیر ظاہر آ یات کے ساتھ سازگار نہیں ہے ۔ ٤۔"" یھیج "" کامادّہ "" ھیجان"" ہے یہ لغت میں د ومعانی کے لیے آ یاہے ایک گھاس کاخشک ہوجانا دوسرے حرکت میں آنا ،ہوسکتاہے کہ یہ دونوں معانی ایک ہی اصل کی طرف لوٹتے ہوں کیونکہ جب گھاس خشک ہو جائے تووہ حرکت اورپراگندگی کے لیے آمادہ ہو جاتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 57:19-20
چند اهم نکات
١۔قرآن مجید میں عظیم پیغمبروں اوران جیسے افراد کی ایک جماعت کی تعریف صدق کے عنوان کے تحت کی گئی ہے ،منجملہ دیگر افراد کے ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ( انہ کان صدیقاً نبیّاً )(سورہ مریم آ یت ۔٤١)خداکے عظیم پیغمبر حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں بھی یہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں( مریم ۔ ٥٦)حضرت مریم علیہا السلام مادرِ جنابِ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میںبھی ہم پڑھتے ہیں :( وامہ صدیقة )(مائدہ۔ ٧٥) ۔ قرآن کی بعض آ یتوں میں صدیقین کاذکر پیغمبروں کے ہمراہ ہواہے جیساکہ سُورئہ نساء کی آ یت ٦٩ میں ہم دیکھتے ہیں :(وَ مَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَ الرَّسُولَ فَأُولئِکَ مَعَ الَّذینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَ الصِّدِّیقینَ وَ الشُّہَداء ِ وَ الصَّالِحینَ وَ حَسُنَ أُولئِکَ رَفیقا)جوشخص خداو پیغمبر کی اطاعت کرے وہ (قیامت میں )ایسے لوگوں کاہم نشین ہوگاجن پرخدانے اپنی نعمت کوتمام کیا ہے ،پیغمبروں ، صدیقین ، شہداء اورصالحین میں سے اوروہ اچھے رفقاء ہیں ،جیساکہ ہم نے کہاہے کہ یہ لفظ مبالغہ کاصیغہ ہے اس کامادّہ صدق ہے اوریہ اس شخص کے لیے بولاجاتاہے جس کے وجودکا صدق وراستی نے احاطہ کرلیاہو اور صداقت اس کی پُوری زندگی پرحاوی ہو ۔ یہ چیزمقام ِصدق کی اہمیّت کوبتاتی ہے ۔ باقی رہے شہداء توجیساکہ ہم نے کہا ہے کبھی تواعمال کے گواہ کے معنوں میں اورکبھی شہیدانِ راہِ خُدا کے معنوں میں اورزیربحث آ یت میں ان دونوں معانی کااجتماع بھی ممکن ہے ۔البتہ شہیداسلامی فرہنگ اورتمدّن کے اعتبار سے صرف انہی افراد میں محدُود نہیں ہے جومیدانِ جہاد میںقتل ہوجائیں اگرچہ وہ اس کے واضح ترین مصداق ہیں ۔حتی کہ وہ تمام افراد جو عقیدۂ حق رکھتے ہیں ،راہ ِ حق میں قدم اُٹھاتے ہیں اوراسی راہ میںدنیاسے چلے جاتے ہیں ،روایات ِ اسلامی کے مطابق سب زمرہ شہداء میں آ تے ہیں ۔ ایک حدیث میں امام محمدباقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ : ) العارف منکم ھٰذاالا مرالمنتظرلہالمحتسب فیہ الخیر کمن جاھدواللہ مع قائم اٰل محمد ۖ بسیفہ ثم قال بل واللہ کمن جاھد مع رسول اللہ بسیفة ،ثم قال الثالثة : بل واللہ کمن استشھد مع رسول اللہ قول اللہ عزّوجل والّذین اٰمنو اباللہ ورسلہ اولٰئک ھم الصدیقون والشھداء عندربّھم ... ثم قال صرتم واللہ صادقین شھداء عندربّکم ) جوشخص تم میں سے مسئلہ دلایت سے آشنا ہواورظہور ِ مہدی علیہ السلام کے انتظار میں زندگی گزارے اور اپنے آپ کوان کی عادل حکومت کے لیے آمادہ رکھے اس شخص کی مانند ہے جومہدی آل ِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت میں اپنے ہتھیار وں سے جنگ کرے ۔اس کے بعد آپ نے فرمایابلکہ ، خداکی قسم ، اس شخص کے مانند ہے جس نے رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی معیّت میں اپنے ہتھیاروں سے جہادکیاپھر آپ نے تیسری مرتبہ فرمایا بلکہ خدا کی قسم اس شخص کے مانند ہے جورسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ساتھ رہ کرآپ کے خیمے میں شہید ہواہو ۔پھر فرمایا تمہارے بارے میں قرآن میں آ یت نازل ہوئی ہے راوی نے کہا:آپ پر قُربان جاؤں ،کون سی آیت ؟ فرمایا:خُدا کایہ کلام جس میں فرماتاہے وہ جوخدا اوراس کے بھیجے ہوئے افراد پرایمان لائے ہیں؟وہ اپنے پروردگار کے ہاں صدیقین اورشہداء ہیں ، پھر آپ نے فرمایا:تواس طرح سے تم خدا کی قسم اپنے پروردگار کے ہاں صدیقین بھی ہواور شہداء بھی (۱) ۔ اِس گفتگو کوہم حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی ایک گفتگو پر ختم کرتے ہیں جس وقت آپ علیہ السلام کے اصحاب کاایک گروہ جہاد کے وقت کے انتظار میں اور راہِ خدا میں شہادت پانے کے شوق میں بے تاب تھا توآپ علیہ السلام نے یہ جُملہ فرمایا: (ولا تستعجلوا بمالم یعجلہ اللہ لکم فانہ من مات منکم علی فراشہ وھوعلی معرفة حق ربّہ وحق ورسولہ واھل بیتہ مات شھیداً) ۔ اس چیز میں جس میں خداعجلت روانہیں رکھتا جلدی مت کروکیونکہ تم میں سے جوشخص اپنے بستر پرمرجائے لیکن حقِ پروردگار ،حقِ پیغمبراورحقِ اہل ِ بیت کی معرفت رکھتاہو ،وہ شہید مراہے ( ۲) ۔ دُنیاوی زِندگی ان اسباب وعلل کامجمُوعہ ہے قرآن کی مختلف آیتوں میں کبھی تودنیاوی زندگی کولہو ولعب کہاگیاہے مثلاً :(و ما الحیاة الدنیا الّا لعب ولھو) دنیاوی زندگی لہو ولعب کے علاوہ کچھ نہیں ہے ( انعام ۔ ٣٢)اورکبھی لہوولعب،زینت ،تفاخر اورتکاثر کے الفاظ آئے ہیں مثلاً (زیربحث آ یات ) اورکبھی اے متاعِ غرور سے تعبیر کیاگیاہے مثلاً (آل ِ عمران ۔ ١٨٥) (اورآ یات زیربحث ) اورکبھی متاع قلیل (نساء ،٧٧) اورکبھی عارضی وظاہری اور جلدگزرجانے والے اَمر سے تعبیر کیاہے (نساء ۔ ٩٤) ان تعبیروں سے اورقرآن کی دوسری تعبیروں کے مجموعہ سے اسلام کامادی زندگی اوراس سے متعلقہ نعمتوں کے بارے میںجونظر یہ ہے وہ بالکل واضح ہوجاتاہے ، اسلام اس زندگی کوبالکل بے قدروقیمت قرار دیتاہے اوراس کی طرف میلان وتوجہ کواس سے وابستگی کوبے مقصد امور( لعب)اورخواہ مخواہ مصروف رکھنے والے مقاصد (لہو)اورتجمل پرستی (زینة) اورحُبّ مقام ومنصب اورریاست اور دوسروں پر برتری کی ہواہش (تفاخر)اورحِرص وا ز اورافزوں طلبی ( تکاثر) شمارکرتاہے ۔ اور دُنیا سے عشق کرنے کوانواع واقسام کے مظالم اورگناہوں کاسرچشمہ قرار دیتاہے لیکن اگر یہ نعمتیں اپنی جہت کوبدل لیں اورمقاصد ِ الہٰی تک پہنچنے کازینہ بن جائیں توایساسرمایہ بن جائیں گی جنہیں خدا مؤ منین سے خرید تاہے اوربہشت ِ جاوداں اور سعادت ِ ابدی انہیں بخشتاہے ۔ انَّ اللَّہَ اشْتَری مِنَ الْمُؤْمِنینَ أَنْفُسَہُمْ وَ أَمْوالَہُمْ بِأَنَّ لَہُمُ الْجَنَّة (توبہ ۔ ١١١) ۔ ۱۔تفسیر مجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٣٧۔ ۲۔نہج البلاغة ،خطبہ ١٩٠۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 57:20
[Pooya/Ali Commentary 57:20] Refer to the commentary of Anam: 32; Ankabut: 64 and Muhammad: 36. In this life people not only play and amuse themselves and each other, but they show off, boast, and pile up riches, manpower and influence, in rivalry with each other. In childhood man is enamoured of sport and play, in adult age he is seized with feelings of self display, and in old age he is dominated by pride at wealth and offspring. Allah's mercy, pleasure and pardon are free and open to all, like His rain. Those who love the pleasures of this world are delighted with the green of the growth, which soon withers, becomes dry and crumbles to pieces, like the worldly pleasures, pomps, boastings and possessions. The good men take the real spiritual harvest and store it for the hereafter. Once the Holy Prophet drew the attention of his companions to the swollen, rotten and stinking dead body of a goat lying on the ground, and asked them if any of them would buy it for a penny. All refused. Then he said: "The value of the worldly possessions is lower than this corpse." Imam Ali said: "The world is a corpse. Whoever seeks it is a dog." "O Ammar, grieve not if the pleasures of this world are kept away from you. Honey, the best and sweetest food, is the saliva of an insect, the bee. The nicest dress is made of silk which is the refuse of a small worm. The most refreshing scent, musk, is the blood of an animal, the deer. The best drink is water which is also used by animals to quench their thirst. The most passionate act is cohabiting in which urinative organs are used." The Holy Prophet said: "This world is a prison for the believers, and a garden for the disbelievers." "Treat this world as a land to cultivate harvest for the hereafter." Aqa Mahdi Puya says: This world is a test, and the life hereafter is its consequence-punishment or reward.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 57:20-25
1. Average age for sports is of a school going child where necessary exercise for body building is religiously permissible, without ruining character. 2. Then comes an age of married life wherein man is deceived by attending dances, cinemas, clubs etc. (both morally and religiously condemned). 3. Then come the age of decoration where time and money are spent in frailty (on vanity). 4. Then follows middle age for winning power and pelf (by involving in politics. 5. Then a desire to pass on the inheritance to perpetuate name and property. These can be compensated by training children on religious grounds, study of scientific subjects to keep the mind healthy, by pilgrimage and study of religious jurisprudence, and creation of trust (any excess of wealth) instead of leaving it in the hands of those about whose spending, as per Divine Commands, you are not confident. The world is a dream within a dream, and as we grow older, each state is an awakening, the youth awakes as they think from childhood, then full grown despises the pursuits of youth as visionary, and the old looks down upon humanity as feverish dreams. Death the last sleep! No, it is the last and final awakening (so far as deeds are concerned). Pleasure and pain may be physical, mental, and spiritual may be true or false having respective effect according to the purpose for which they are courted. Life of Divine Lights courting loss of honour, life, and property simply to win Divine will to maintain Islam are of the highest grade, brought into play, for the public to emulate. Similarly, mind and body both can be regulated to yield eternal fruits, after necessary requirements for the worldly life are achieved.