مُّهۡطِعِينَ إِلَى ٱلدَّاعِۖ يَقُولُ ٱلۡكَٰفِرُونَ هَٰذَا يَوۡمٌ عَسِرٞ
scrambling toward the summoner. The faithless will say, ‘This is a hard day!’
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 54:1-22
1. The temple of Mecca was considered the object of great adoration by pagans. It was their pantheon, holding 360 gods. Sabians sent the offerings to fire-worshippers. Jews showed their respect. It had become a migration of the Prophet, as barbarous invasion of Goths had broken the Roman empire. Many of the great centres of learning, namely, Rome, Milan, Alexandria were partially destroyed and thus culture had declined during the dark ages (450 – 1000 A.D.) Besides idolatry, several religions were found in Arabia. Jews driven from Assyria, Romans, Greeks, welcomed the children of Ismail, found deep respect for God of Abraham, principally at Mecca and Yathrab. By means of souvenirs skilfully evoked, Judaism had made converts and had principally spread throughout Hijaz, in the neighbourhood of Khaibar and Yathrab. Powerful tribes of Khizran and Najhrites had been naturalized. Magianism was practiced by Himrites and on the coast of Persian Gulf, some disciples of Brahmanism in the midst of inhabitants of Oman. 2. Although some are doubtful in the miracle of splitting asunder of the moon, as it was not largely witnessed: 1. Owing to geographical difference of longitude. 2. People may be sleeping. 3. Not being broadcast. 4. People were in the habit of looking at heaven at all times whether cloudy or otherwise. 5. It was a question of little time. 6. Besides, such miracles have occurred in the past, vide Joshua, 14:12 – 13. Then spoke... in the sight of Israel, sun, stand, there still upon Gibeon, and then the moon in the valley of Ajalax, and the sun stood still, and the moon stayed until the people had avenged themselves upon their enemies. Is not this written in the book of Joshua?
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 54:4-8
سوره قمر/ آیه 4- 8
٤۔وَ لَقَدْ جاء َہُمْ مِنَ الْأَنْباء ِ ما فیہِ مُزْدَجَر۔ ٥۔ حِکْمَة بالِغَة فَما تُغْنِ النُّذُرُ۔ ٦۔فَتَوَلَّ عَنْہُمْ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ ِلی شَیْء ٍ نُکُرٍ۔ ٧۔خُشَّعاً أَبْصارُہُمْ یَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْداثِ کَأَنَّہُمْ جَراد مُنْتَشِر۔ ٨۔ مُہْطِعینَ ِلَی الدَّاعِ یَقُولُ الْکافِرُونَ ہذا یَوْم عَسِر۔ ترجمہ ٤۔ بُرائیوں سے عبرت حاصل کرنے کے لیے کافی خبر یں ان تک پہنچی ہیں ۔ ٥۔ یہ آیتیں خُدا کی حکمتِ بالغہ ہیں لیکن ڈرانے والی چیزیں (ہٹ دھرم لوگوں کے لیے ) مفید نہیں ہیں ۔ ٦۔ اس بناپر ان سے مُنہ پھیر لے اوراس دن کویاد کرجب خُدا کی طرف بُلانے والا لوگوں کو اعمال کے حساب کے لیے بلائے گا ۔ ٧۔ وُہ قبروں سے نکلیں گے اس صُورت میں کہ ان کی آنکھیں وحشت کی وجہ سے جُھکی ہوئی ہوں گی اور وہ منتشر ٹڈی دل کی طرح بلا مقصد ہرطرف دوڑ رہے ہوں گے ۔ ٨۔ درآنحالیکہ )(وحشت واضطراب کے زیراثر) اس بلانے والے کی طرف سراُٹھا کردیکھیں گے اورکافر کہیں گے کہ آج سخت اور درد ناک دن ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 54:4-8
وہ دن کہ جب سب قبروں سے باہر نکلیں گے
اس بحث کے بعد کہ جوگزشتہ آیتوں میں کفّار کی ایک ایسی جماعت کے بارے میں کہ جس نے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کی تھی اور کسی بھی معجز ے کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیاتھا،یہ آیتیں آئیں ۔اِن میں اس قسم کے افراد کے بارے میں مزید تفصیل ہے اور یہ کہ قیامت میں دردناک عذاب کی وجہ سے ان کاکیا حال ہوگا ۔ پروردگار ِ عالم پہلے ارشاد فرماتاہے کہ اس طرح نہیں ہے کہ یہ لوگ بے خبرہوں بلکہ وہ خبریں کہ جو ان کے لیے بُرائیوں سے اورقبیح چیزوں سے دامن بچانے کاموجب بن سکتی ہیں،کافی مقدار میں ان کے پاس آ ئی ہیں(ّوَ لَقَدْ جاء َہُمْ مِنَ الْأَنْباء ِ ما فیہِ مُزْدَجَر) ۔خداکی طرف بلانے والوں کی تبلیغ میں کوئی کمی نہیں تھی بلکہ یہ ان کا بے غیر ت پن ہے : یہ نہ توسُننے والے کان رکھتے ہیں اور نہ اِن میں حق طلبی کی روح ہے ۔ان میں حد تک تقویٰ بھی موجود نہیں کہ جو انہیں آیاتِ الہٰی میں تحقیق وتدبر کی دعوت دے ۔ انبائ (خبریں) سے مراد گزشتہ اُمّتوں اورقوموں کی خبریں ہیں جومختلف النوع سزاؤں اورعذاب سے ہلاک ہوئیں ۔اس میںقیامت کی خبریں ہیں اور ظالموں اورکافروں کی ان سزاؤں کے بارے میں بیان ہے جس کاذکر وضاحت سے قرآن میں موجودہے ۔ اس کے بعد مزید ارشادفرماتاہے کہ یہ آ یتیں حکمتِ بالغہئِ الہٰی ہیں اوراپنے اندرگہرائی رکھنے والی نصیحتیں ہیںلیکن یہ ڈرانے والی چیز یں ان ہٹ دھرم افراد کے لیے مفید نہیں ہیں(حِکْمَة بالِغَة فَما تُغْنِ النُّذُر)(١)(٢) ۔ خلاصہ یہ ہے کہ فاعل کی فاعلیت میں کوئی نقص نہیں ہے جونقص ہے وہ قابل کی قابلیت میں ہے ورنہ گزشتہ انبیاء کے پاس ان کی اُمتوں کے بارے میں جوخبریں آئی ہیں اوروہ خبریں جوقیامت کے بارے میں ان تک پہنچی ہیں،ان میں سے ہرایک حکمت ِ بالغہ ہے اوراتنی پُر تاثیر ہے کہ ان کے دل ودماغ مٰں جاگزیںہوسکتی ہے بشرطیکہ ان میں تھوڑی سی رُوحانی توجہ موجودہو ۔ بعد والی آ یت میں فرماتاہے اب جبکہ یہ حق سے بیگانہ افراد قبول کرنے کی طرف قطعاً آمادہ نہیں ہیں توتُوانکو انکی حالت پرچھوڑ دے اوران سے منہ پھیر لے اور آمادگی رکھنے والے دلوں کی تلاش کر(فَتَوَلَّ عَنْہُمْ) ۔ اوراس دن کویادکرکہ جس دن خداکی طرف بلانے والے ایک وحشت ناک امر کی جانب لوگوں کوبُلا رہے ، ہوں گے یعنی حساب کتاب اورنامہ اعمال کی جانچ پڑتال کی جانب( یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ لی شَیْء ٍ نُکُر)(٣) ۔ اس بناء پر ( یَوْمَ یَدْعُ الدَّاع)ایک مستقل جملہ ہے کہ جو(فَتَوَلَّ عَنْہُمْ)کے جملے سے الگ ہے اگرچہ بعض مفسرین نے اسے گزشتہ جملہ کاآخری حصہ سمجھاہے ،ان کے خیال میں مراد یہ ہے کہ جب قیامت میں خدا کی طرف بلانے والے بلائیں گے اوروہ لوگ تیرادامنِ شفاعت تھامیں گے توتُوان سے منہ پھیر لیجو ،لیکن یہ تفسیر بعید ازعقل ہے ۔ خداکی طرف یہ بلانے والا یا خُود خداہے یا اس کے فرشتے یااسرافیل کہ جو صورپھونک کرلوگوں کوقیامت میں بُلائے گا،یایہ سب ہیں ۔مفسّرین نے مختلف احتمالات تجویز کیے ہیں ۔سُوورہ اسرا کی آ یت ٥٢ جس میں خدا فرماتاہے کہ: یَوْمَ یَدْعُوکُمْ فَتَسْتَجیبُونَ بِحَمْدِہ یاد کرو اس دن کوجب خدا تمہیں تمہاری قبروں سے بلائے گا اورتم بھی اس کی پُکار پرلبیک کہوگے اِ س حالت میں کہ اس کی حمدوثنا کررہے ہوگے اس کوپیش نظر رکھتے ہو ئے پہلے معنی زیادہ مناسب نظر آتے ہیں اگرچہ بعدوالی آ یتیں ان معنی کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہیں اوراس سے مراد فرشتے ، حساب کتاب اورجزاوسزا کے مامور ین ہوں( شیء نکر) نہ پہچانے ہوئے سے مُراد یا توخدا کی طرف سے باریک بینی کے ساتھ حساب کتاب ہے جوقیامت سے پہلے تک ان کے لیے غیر معروف تھایا اجنبی قسم کے عذاب ہیں کہ جنہیں وہ کبھی تسلیم نہیں کرتے تھے ، یایہ سب امور ہیں کیونکہ قیامت کے تمام معیارِ انسانوں کے لیے اجنبی اورغیر مانوس ہوں گے ۔ بعد والی آ یت میں اس سلسلہ میں مزید وضاحت کرتے ہوئے پروردگار عالم فرماتاہے: وہ قبروں سے نکلیں گے اس حالت میں کہ ان کی آنکھیں وحشت کی شدّت کے باعث جُھکی ہوئی ہوں گی اور وہ بلامقصد ٹڈی دل کے مانند اِدھر اُدھر دوڑ رہے ہوں گے(خُشَّعاً أَبْصارُہُمْ یَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْداثِ کَأَنَّہُمْ جَراد مُنْتَشِر) ۔ آنکھوںسے خشوع کی نسبت اس وجہ سے دی ہے کہ منظر اس قدر ہو لناک ہوگا کہ آنکھیں اُسے دیکھنے کی تاب نہ رکھتیں ہوں گی ۔لہذانکاہیں نیچی ہوں گی اور پراگندہ ٹڈی دل کی تشبیہ اس مشابہت کی وجہ سے ہے کہ دوسرے پرندوں کے برعکس کہ جواُڑتے وقت اپنے اندر ایک طرح کا نظم اورترتیب رکھتے ہیں ،ٹڈی دل اپنے اندرکسی قسم کی ترتیب نہیں رکھتا،ٹڈیاں درہم وبرہم رہتی ہیں اوربغیرکسی مقصد چل پڑتی ہیں ۔علاوہ ازیں وہ اس دن ٹڈی دَل کی طرح کمزور اورناتواں ہوں گے ۔جی ہاں !یہ دل کے اندھے اور بے خبر لوگ اس طرح وحشت زدہ ہوں گے کہ بدمست افراد کی طرح ہرطرف رُخ کریں گے اورایک دوسرے سے ٹکرائیں گے گویاوہ اپنے وجودسے بے خبرہوں گے جیساکہ سورہ حج کی آ یت ٢ میں ہمیں ملتا ہے (وَ تَرَی النَّاسَ سُکاری وَ ما ہُمْ بِسُکاری) ۔ اس دن تُو لوگوں کومَست دیکھے گاحالانکہ وہ مَست نہیں ہوں گے حقیقت میں یہ تشبیہ اس مفہوم کولیے ہوئے ہو جو سورقارعہ کی آ یت٤ میں آ یاہے :یَوْمَ یَکُونُ النَّاسُ کَالْفَراشِ الْمَبْثُوث۔ یاد کراس دن کوکہ جب لوگ پراگندہ بھنگو ں کے مانند ہوں گے اس کے بعد مزید فر ماتاہے جس وقت یہ لوگ اس پُکار کے بعد قبروں سے نکلیں گے توشِدّتِ وحشت کی وجہ سے پُکارنے والے فرشتوں کی طرف گرد میں اٹھا کردیکھ رہے ہوں گے (مُہْطِعینَ ِلَی الدَّاع)مُہْطِعینَ کامادہ ھطاع ہے اس کے معنی گردن اُٹھا کردیکھنے کے ہیں،بعض مفسرین نے اس معنی کسی چیز کی طر ف تیزی سے دوڑ نے یانگاہِ خیرہ سے دیکھنے کے لیے ہیں ،مذکورہ معانی میں سے اس تفسیر میں ہرایک کااحتمال ہے ،اگرچہ پہلے معنی زیادہ مناسب نظر آتے ہیں، کیونکہ جب انسان کسی وحشت ناک صدا کوسُنتاہے توفوراً گردن اُونچی کرکے اس طرف دیکھتا ہے جہاں سے آواز آرہی ہوتی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تمام امورآ یت میں اکھٹے موجود ہوں ۔یعنی وہ خداکی طرف بلانے والے کی آواز سُننے کے بعد گردنیں اُٹھا کرخیرہ نگاہی کیساتھ اس کی طرف دیکھ رہے ہوں گے ،اورپھر تیزی کے ساتھ اس کی طرف دوڑ پڑیں گے اور بارگاہِ خدا وندی میں حاضر ہوںگے ، یہ وہ دن ہے کہ اس دن برہاہونے والے سخت حوادث کی وحشت ان کے وجود کوگھیر لے گی اس لیے اس آ یت کے آخر میں ہے کافر کہں گے کہ آج سخت اور درد ناک دن ہے (ِ یَقُولُ الْکافِرُونَ ہذا یَوْم عَسِر)وہ دن واقعی سخت ہوگا کیونکہ خداان معنوں کی تصدیق کرتاہے اور سورئہ فرقان کی آ یت ٢٦ میں فرماتاہے ۔ وَ کانَ یَوْماً عَلَی الْکافِرینَ عَسیرا وہ کافروں کے لیے سخت دن ہے اس تعبیر سے محسوس ہوتاہے کہ وہ دن مومنین کے لیے سخت نہیں ہوگا ۔ ١۔ "" حکمة بالغة"" "" مبتدائے محذوف کی خبرہے اورتقدیر کلام میں ھذہ حکمة بالغة ہے ۔ ٢۔"" نذر"" جمع ہے نذیر کی یعنی ڈرانے والی چیز یں عام اس سے کہ وہ آ یات ِ الہٰی ہوں یا گزشتہ انبیاء اور اُمّتوں کی خبریں کہ جن کی صدا لوگوں کے کانوں تک پہنچی ہے ۔بعض نے یہ احتمال بھی تسلیم کیاہے کہ "" نذر"" مصدرہے انزار کے معنوں میں، لیکن پہلے معنی زیادہ مناسب ہیں،ضمناً "" ما"" "" ماتفن النذر"" میں نافیہ ہے نہ کہ استفہامیہ۔ ٣۔ ""نکر"" مغرو ہے ۔اس کامادہ "" نکارہ"" ہے جس کے معنی ایسی چیز کے ہیں کہ جوغیرمعروف اوروحشت ناک ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 54:4-8
قیامت کا دن کیوں بہت سخت ہے ؟
وہ دن سخت کیونہ ہو جب کہ خوف ودہشت کے تمام عوامل مجرموں کااحاطہ کیے ہوئے ہوں گے ۔ جب نامۂ اعمال ان کے ہاتھوں میں دیے جائیں گے توان کی فریاد بلندہوگی ۔ یا وَیْلَتَنا ما لِہذَا الْکِتابِ لا یُغادِرُ صَغیرَةً وَ لا کَبیرَةً ِلاَّ أَحْصاہا وائے ہو ہم پر یہ کیسا نامۂ اعمال ہے کہ چھوٹا یابڑا کوئی کام ایسانہیں جواس میں مندرج نہ ہو (کھف۔ ٤٩) ۔ پھر یہ کہ کوئی اچھایابُرا،چھوٹایا بڑاکام جواُنہوں نے کیاہوگا ، اس سب کاحساب انتہائی باریک بینی کے ساتھ کیاگیاہوگا ۔ ِنْ تَکُ مِثْقالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَکُنْ فی صَخْرَةٍ أَوْ فِی السَّماواتِ أَوْ فِی الْأَرْضِ یَأْتِ بِہَا اللَّہُ ِنَّ اللَّہَ لَطیف خَبیر اگر خردل کے دانہ کے برابر اچھا یابُراعمل کسِی پتھرکے اندر یا آسمانوں کے کسی گوشہ میں یاذہن کے اندر چھُپا ہوگا توخُدااس کوحساب کے لیے حاضر کرے گاکیونکہ خداباریک بیں اور آگاہ ہے (لقمان ۔١٦) ۔ تیسری بات یہ ہے کہ وہاں کسی قسم کی تلافی کاامکان نہیں ہوگا اورکوئی عُذر بھی نہیں سُناجا ئے گا نیز واپسی کی راہ میں مسذود ہوگی جیساکہ قرآن مذکورہے: وَ اتَّقُوا یَوْماً لا تَجْزی نَفْس عَنْ نَفْسٍ شَیْئاً وَ لا یُقْبَلُ مِنْہا شَفاعَة وَ لا یُؤْخَذُ مِنْہا عَدْل وَ لا ہُمْ یُنْصَرُونَ اس دن سے ڈرو کہ جس میں کوئی شخص سزا و جزا میں دوسرے کی جگہ نہیں لے گا نہ اس کے بار ے میں شفاعت قبول ہوگی اورنہ تاوا ن یابدل ہی قابلِ قبول ہوگا اورنہ کوئی شخص اس کی مدد کے لیے کھڑا ہوسکے گا (بقرہ ۔٤٨) ۔ پھر ہم یہ بھی پڑ ھتے ہیں: وَ لَوْ تَری ِذْ وُقِفُوا عَلَی النَّارِ فَقالُوا یا لَیْتَنا نُرَدُّ وَ لا نُکَذِّبَ بِآیاتِ رَبِّنا وَ نَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنینَ اگر توان کی حالت دیکھے جس وقت وہ جہنم کی آگ کے سامنے کھڑے ہوں گے اورکہہ رہے ہوں گے کہ اے کاش ہم دنیا کی طرف دوبارہ پلٹ جاتے اوراپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کرتے اورمومنین میں سے ہوتے ( لیکن یہ باتیں ان سے قبول نہیں کی جائے گی (انعام۔ ٢٧) ۔ جوتھا اَمر یہ ہے کہ خداکا عذاب اس قدر شدید ہے کہ مائیں اپنی اولاد کوبُھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے اورلوگ مبہوت اورمُست نظر آئیں گے حالانکہ وہ مَست نہیں ہوں گے لیکن خداکا عذاب شدید ہے ۔ یَوْمَ تَرَوْنَہا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ کُلُّ ذاتِ حَمْلٍ حَمْلَہا وَ تَرَی النَّاسَ سُکاری وَ ما ہُمْ بِسُکاری وَ لکِنَّ عَذابَ اللَّہِ شَدید (حج ۔ ٢) ۔ اس بناء پر گنہگار اضطراب ووحشت میں اس قدر گرفتارہوں گے کہ وہ پسند کریں گے کہ جوکچھ اس جہان میں ان کے پاس ہے اسے دے دیں اور عذابِ الہٰی سے نجات حاصل کریں ۔ یوم المجرم لویفتدی من عذاب یومئذٍ ببنیہ وصاحبتہ واخیہ وفصیلتہ التی تؤ یہ ومن فی الارض جمیعا ثم ینجیہ کلّا انھا لظی ۔ مُجرم خواہشمند ہوگا کہ اس دن کے عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنا بیٹا ،بیوی اور رشتہ دارجومشکلات میں اس کے مددگار تھے حتّٰی کہ تمام لوگ جورُوئے زمین پرہیں فدا کردے لیکن کوئی چیزکچھ فائدہ نہ دے گی ۔جہنم کی بھڑ کتی ہوئی آگ اس کے انتظار میں ہے (معارج۔١١ تا١٥) ۔ کیاان چیزوں کے ہوتے ہوئے اوردوسری ان دل ہلادینے والی باتوں کی موجودگی میں کہ جوقرآن میں مذکور ہیں ،یہ ممکن ہے کہ وہ دن سخت درد ناک اور تکلیف دہ نہ ہو (خداہم سب کواس دن اپنے لُطف وکرم کی پناہ میں رکھے ) ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 54:8
[Pooya/Ali Commentary 54:8] (see commentary for verse 4)