وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ
The throes of death bring the truth: ‘This is what you used to shun!’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 50:19
[Pooya/Ali Commentary 50:19] The stupor of death may mean agony or loss of consciousness immediately before the onset of death. Consciousness is the first function which the dying man loses.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 50:19-22
سوره «ق»/ آیه 19- 22
١٩۔وَ جاء َتْ سَکْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذلِکَ ما کُنْتَ مِنْہُ تَحیدُ ۔ ٢٠۔وَ نُفِخَ فِی الصُّورِ ذلِکَ یَوْمُ الْوَعیدِ ۔ ٢١۔وَ جاء َتْ کُلُّ نَفْس مَعَہا سائِق وَ شَہید ۔ ٢٢۔ لَقَدْ کُنْتَ فی غَفْلَةٍ مِنْ ہذا فَکَشَفْنا عَنْکَ غِطاء َکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدید ۔ ترجمہ ١٩۔اورانجام کارسکرات موت حق کے ساتھ پہنچ جائے گی ،( اورانسان سے کہا جائے گا)یہ وہی چیزہے کہ جس سے تو بھاگا کرتاتھا ۔ ٢٠۔اورصُور پھونکاجائے گا، وہی دن تووحشت ناک وعدہ کے پوراہونے کادن ہے ۔ ٢١۔اور ہرانسان محشر میںوارد ہوگا، جب کہ ایک ہانکنے والا اورایک گواہ اس کے ساتھ ساتھ ہوگا ۔ ٢٢۔(اس کوخطا ہوگا)تواس منظر (اورعظیم داد گاہ )سے غافل تھا، اورہم نے تیر ی آنکھ سے پردہ ہٹا دیاہے ،اورآج تیری نظر بہت تیز ہوگئی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 50:19-22
١۔موت کی حقیقت
عام طورپر لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ موت ایک عدمی امر ہے اوروہ فنا کے معنی میں ہے،لیکن یہ نتیجہ ہرگز اس معنی کے ساتھ موافق نہیں ہے جوقرآن مجید میںبیان ہواہے، اور جس کی طرف دلائل عقلی رہنمائی کرتے ہیں ۔ موت قرآن کی نظر سے ایک امر وجود دہے ، ایک جہان سے دوسرے جہان کی طرف ایک انتقال اور عبور ہے اسی لیے قرآن کی بہت سی آ یات میں موت کو توفیسے تعبیر کیاگیاہے، جوواپس لینے اور فر شتوں کے ذ ریعہ رُوح کوبدن سے حاصل کرنے کے معنی میں ہے۔ اوپروالی آ یات وَ جاء َتْ سَکْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ موت کے شدائد حق کے ساتھ انسان کے پاس آ تے ہیں کی تعبیر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہے ( 1) بعض آیات میں موت کوصراحت کے ساتھ خدا کی مخلوق شمارکیاہے (الَّذی خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیاةَ )(ملک۔٢)۔ اسلامی روایات میں موت کی حقیقت کے بارے میں مختلف تعبیریں آئی ہیں ۔ ایک حدیث میں منقول ہواہے کہ علی ابن الحسین امام سجّاد علیہ السلام سے لوگوں نے سوال کیا ماالموت ؟ موت کیاہے ؟ آپ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: للمؤ من کنزع ثیاب وسخة قملة ، وفک قیود ، و اغلال ثقیلة ، والا ستبدال بافخر الثیاب، واطیبھا ر وائح، واوطی المراکب وانس المنازل ۔ وللکافر کخلع ثیاب فاخرة،والنقل عن منازل انیسة ، و الا ستبد ال باوسخ الثیاب واخشنھاواو حش المنازل، واعظم العذاب!: مومن کے لیے توایساہے جیسے میلاکچیلا جوؤں سے پر لباس اتار پھینکنا،اوربھاری طوق وزنجیر کھولنا، اوراس کوبہترین لباس ، بہترین خوشبوؤں کے عطروں اور سُبک رفتار سوار یوں اور بہتر ین منزلوں سے بدل لینا، اور کافر کے لیے ایسا ہے جیسے کہ فاخرہ لباس کواتار نا اورمانوس منازل سے منتقل ہوکرمیلے کچیلے اور سخت ترین لباس کوتبدیل کرنا، اور،اور وحشت ناک ترین منازل اور بزرگ ترین عذاب میں منتقل ہوجانا۔ امام محمد بن علی علیہ السلام سے بھی یہی سوال ہواتھا توآپ علیہ السلام نے فرمایا: ھوالنوم الّذ ی یأ تیکم کل لیلة الاانہ طویل مدتہ ، لا ینتبہ منہ الایوم القیامة ۔ موت وہی نیندہے جو ہررات تمہیں آ تی ہے ،مگر یہ کہ اس کی مُدّت طولانی ہے اورانسان اس سے قیامت کے دن تک بیدار نہیں ہوتا(۲) ۔ ہم نے برزخ سے مربوط مباحث میں بیان کیاہے،کہ برزخ میں اشخاص کی حالت مختلف ہے ،بعض جیسے سوئے ہوئے ہیں، اور بعض (شہدائے راہ خدا اور قوی الایمان مومنین کی مانند ) طرح طرح کی نعمتوںمیں غرق ہوں گے ، جابر اور اشقیاء کی جماعت عذاب میں گرفتار ہوگی ۔ امام حسین بن علی سید الشہداء علیہ السلام نے بھی کربلامیں عاشور کے دن اور جنگ کے شدت اختیار کرنے کے وقت موت کے بارے میں ایک لطیف تعبیر اپنے اصحاب سے بیان فر مائی تھی : صبر ً ا بنی الکرام! فماالموت الا قنطرة تعبر بکم عن البؤ س والضواء الی الجنان الواسعة ، والنعیم الدّ ائمة ، فایکم یکرہ ان ینتقل من سجن الیٰ قصر ، وما ھو لاعدائکم الاکمن ینتقل من قصر الیٰ سجن وعذاب، ان ابی حدثنی عن رسُول اللہ (ص) ان الدُنیا سجن المؤ من وجنة الکا فر، والمو ت جسرھٰؤ لاء ِالی جنانھم، و جسرھٰؤ لاء الی جحیمھم: صبر کرو!اے کریم اور بزر گوار لوگوں کے بیٹو!موت توصرف ایک پل ہے، جوتمہیں تکلیفوں اور ناراحتیوں اوررنج والم سے بہشت کے وسیع باگات اور جاودانی نعمتوں کی طرف منتقل کردیتی ہے ، تم میں سے کون ایساہے ،جوزندان سے قصر میں منتقل ہونے سے تکلیف میں ہو، لیکن تمہارے دشمنوں کی مثال اس شخص کی مانند ہے جسے قصر سے زندان اور عذاب کی طرف منتقل کریں ، میرے باپ نے رسُول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل فر مایا کہ دنیامومن کے لیے زندان ہے اور کافر کے لیے بہشت اور موت اُن کے لیے تو جنت کے باغات کے لیے ایک پل ہے اوراِن کے لیے جہنم کاپُل ہے (۳) ۔ ایک اورحدیث میں منقول ہواہے کہ : امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام ایک ایسے شخص کے پا س گئے جوسکرات موت میں مبتلا تھا، اور کسی شخص کوجواب نہیں دیتاتھا، لوگوں نے عرض کیا ، اے فرزندِ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہمارا دل چاہتاہے کہ آپ موت کی حقیقت کی ہمارے لیے تشریح فرمایئے اور ہمیں بتایئے کہ ہمارا بیمار اب کس حالت میں ہے؟ آ پ علیہ السلام نے فر مایا: موت تصفیہ کاایک ذ ریعہ ہے جومومنین کوگناہ سے پاک کرتی ہے، اور اس جہاں کی آخری تکلیف اور نا راحتی ہے اوران کے گناہوں کاآخری کفارہ ہے ، جب کہ فروں کوان کی نعمتوں سے جداکرتی ہے، اوروہ آخری لذت ہے جوانہیں پہنچتی ہے اوران کے اچھے کام کا جوکبھی کبھارانجام دیاکرتے تھے ، آخری اجر ہے ، باقی رہاتمہارا یہ شخص جوحا لت احتضار میں ہے، تووہ کلی طورپرگناہوں سے پاک ہوچکاہے، اورمعاصی سے خارج ہوچکاہے، اورخالص ہوگیاہے، جس طرح سے کہ میلا کچیلا لباس دھونے سے پاک صاف ہوجاتاہے اوراس نے ابھی سے یہ شائستگی اور لیاقت پیداکرلی ہے کہ وہ ہمیشہ کے گھر میں اہم ہل بیت کی معاشرت میں رہے ( ۴) ۔ 1۔اس بارے میں کہ "بالحق"میں"با" کے کیامعنی ہیں؟مفسرین نے مختلف احتمال دیئےہیں، بعض نے اس کو"باءتعدیہ" لیاہے اورحق کوموت کےمعنی میں ،جس سے اس جُملہ کامعنی یہ ہوگا۔سکرات موت اس مطلب کوجوایک حقیقت ہے۔ یعنی موت ۔ کوساتھ لاتے ہیں، اورکبھی اس کو" ملابست کے معنی میں" لیتے ہیں "سکرات موت حق کے ساتھ آپہچنے ہیں"۔ ١۔بحارالانوار ،جلد ٦،صفحہ ٥٥ (ظاہر اً امام محمد بن علی سے مراد نویں امام امام جواد (علیہ السلام ) ہیں ۔ ٢۔معانی الاخبار،صفحہ ٢٨٩ باب معنی الموت حدیث ٣۔ ٣۔ معانی الاخبار ،صفحہ ٢٨٩،باب معنی الموت ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 50:19-22
قیامت اور تیز بین آنکھیں
ان آ تات میں معاد سے مربوط مسائل میں سے کُچھ اور دوسرے مناظر کوپیش کیاگیاہے، موت کامنظر نفخ صورکامنظر اور محشرمیںحاضر ہونے کا منظر۔ پہلے فر ماتاہے،آخر کار سکرات موت حق کے ساتھ پہنچ جائے گی (وَ جاء َتْ سَکْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَق) ۔ سَکْرَةُ الْمَوْتِ مستی سے مشابہ ایک حالت ہے جو موت کے مقدمات کے ظاہر ہونے کے اثر میں حد سے زیادہ ہیجان وانقلاب کی صُورت میں انسان کوعارض ہوتی ہے،اور بعض اوقات اس کی عقل پر بھی غالب آ جاتی ہے ، اوراس کواضطراب اورایک شدید بے آرامی میں ڈبودیتی ہے ۔ ایساکیوں نہ ہو، درحالیکہ موت ایک اہم انتقالی مرحلہ ہے، جس میں انسان کو، اس جہاں سے جس میںاس نے سالہا سال تک رہنے کی عادت ڈالی تھی، اپنے تمام رشتوں اور تعلقات کوچھوڑ ناپڑے گا،اُسے اس عالم میں قدم رکھنا ہوگا، جواس لیے کاملاًنیااور اسرار آمیز ہے ،خاص طورپر یہ بات کہ انسان موت کے وقت ایک نیا ادراک اور نئی نگاہ پیدا کرلیتاہے،اس جہاں کی بے ثباتی کواپنی آنکھوں سے دیکھ لیتاہے،اور موت کے بعد کے حوادث کوبھی کم وبیش دیکھ رہاہوتا ہے،یہ وہ منزل ہے کہ ایک عظیم وحشت اس کو سرسے پاؤں تک گھیر لیتی ہے،اور مستی کے مشابہ ایک حالت اس کوعارضی ہوجاتی ہے، لیکن وہ مست نہیں ہوتا( ١)۔ یہاں تک کہ انبیاء اور مر دان خدابھی مت کے وقت کامل اطمینان اور آرام کی حالت میں ہوتے ہیں، اس انتقالی لمحہ کی شدتوں اور مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں، جیساکہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآ ولہ وسلم)کے حالات میں آ یاہے کہ اپنی عمر مبارک کے آخر ی لمحات میں اپناہاتھ ایک پانی کے برتن میں ڈ التے تھے،اوراپنے مُنہ پر پھیر تے تھے،لاالہ الّا اللہ کہتے تھے اور فرماتے تھے : انّ للمو ت سکرات : موت کے لیے سکرات ہے ( ٢) ۔ علی موت کے لمحہ اوراس کی سکرات کی ایک بہت ہی عمدہ تصویر کھینچتے ہیں، فرماتے ہیں ۔ اجتمعت علیھم سکرة الموت وحسرت الفوت،ففترت لھا اطر افھم و تغیرت لھا االوانھم، ثمّ ازدادالموت فیھم ولوجا فحیل بین احد ھم وبین منطقہ، وانّہ لبین اھلہ ینظر ببصرہ ویسمع باذ نہ ، علی صحة من عقلہ ،وبقاء من لیہ ، یکفرفیم افنی عمرہ ؟ و فیم اذھب دھرہ ؟ یتذ کرا موالاجمعھااغمض فی مطا لبھاواخذ ھامن مصر حاتھا،ومشتبھاتھا قد لز متہ تبعات جمعھا، واشرف علی فراقنھا، تبقی لمن وارئہ ینعمون فیھا و یتمتعون بھا!۔ سکرات موت ۔اپنے پاس کی ہر چیزکوکھود ینے کی حسرت کے ساتھ ، ان پراہجوم کرتی ہے ، ان کے بدن کے اعضاء سُست ہوجاتے ہیں ، ان کے چہروں کارنگ اڑجاتاہے ، آہستہ آہستہ موت ان میں نفوذکرنے لگتی ہے،ان کے اوران کی زبان کے درمیان جدائی ڈال دیتی ہے، حالانکہ وہ اپنے گھروالوں کے درمیان ہے اپنی آنکھ سے دیکھ رہاہوتا ہے اور اپنے کان سے سُن رہا ہوتا ہے ،اوراس کی عقل وہوش صبح وسالم ہوتے ہیں ،لیکن وہ بات نہیں کرسکتا ۔ اس حالت میں وہ سوچتاہے کہ اس نے اپنی عمر کس راستے میں فناکی ؟اوراپنا زمانہ کس راستے میں ختم کیا؟اس دولت و ثروت کی یاد اُسے ستاتی ہے، جس کے جمع کرنے میں اس نے چشم پوشی سے کام لیاتھا، اورحلال وحرام اور مشکوت ومشتبہ اکٹھا کرتا رہاتھا، اوراس کے جمع کرنے کے نتائج اور ذمہ دار ی اپنے کندھے پرلے گا، حالانکہ اُن سے جدائی اور فراق کاوقت آن پہنچاہے، اور وہ پسماندگان کے ہاتھوںمیں چلا جائے گا، وہ تواس سے متنعم ہوں گے اور فائدہ اٹھائیں گے ،لیکن اس کاحساب وکتاب اوراس کے لیے جوابدہی اس کے ذمہ ہوگی ( ٣) ۔ اوردُنیائےانسانیت کایہ عظیم معلم ایک دوسری جگہ خبر دار کرتے ہُوئے فرماتاہے۔ انکم لوقدعاینتم ماقد عاین من مات منکم لحز عتم ووھلتم وسمعتم واطعتم ولکن محجوب عنکم ماقد عاینوا وقریب ما یطرح الحجاب!(٤) ۔ اگروہی چیزجس کاتمہارے مردوں نے مشاہدہ کیاہے، تم بھی دیکھ لیتے ، تو گھبر اجاتے ، اور ڈر جاتے ، حق کی باتوں کوسنتے اوراطاعت کرتے ، لیکن انہوں نے جوکچھ دیکھاہے وہ تم سے مستور ہے اور عنقریب پردے ہٹ جائیں گے اور تم بھی اس کامشاہد ہ کروگے ۔ ( لیکن افسوس ...) اس کے بعد قرآن اس گفتگو کو جاری رکھتاہے :اس شخص کو جو سکرات موت کی حالت میںہے، کہاجائے گا،یہ وہی چیز ہے جسے تو پسند نہیں کرتاتھا اوراس سے بھاگتاتھا ( ذلِکَ ما کُنْتَ مِنْہُ تَحید)(٥) ۔ ہاں !موت ایک ایسی حقیقت ہے ، جس سے اکثر لوگ بھاگتے ہیں، کیونکہ وہ اس کو فنا سمجھتے ہیں نہ کہ عالم بقائ کاایک دریچہ یاان شدید رستوں اور تعلقات کی وجہ سے جووہ دُنیا اورمادی نعمتوں کے ساتھ رکھتے ہیں اوران سے دل نہیںہٹا سکتے یااپنے نامہ اعمال کے سیاہ ہونے کی وجہ سے ! جوکچھ بھی ہے، وہ اس سے بھاگتے ہیں،لیکن کیا فائدہ ، کیونکہ یہ ایک ایسی نوشت ہے جوسب کے انتظار میں ہے، اورایک اونٹ ہے جوہرگھر کے دروازے پربیٹھا ہے ،اورکسی میں اس سے زیادہ بھاگنے کی طاقت نہیں ہے ،آخر کار سب کے سب موت کے منہ میں چلے جائیں گے ،اوران سے کہا جائے گا، یہ وہی چیز ہے، جس سے تم بھاگتے تھے ؟! اس بات کاکہنے والا ممکن ہے خدا ہو یا فرشتے یاوجدان بیدار یاسب کے سب۔ اس حقیقت کوقرآن دوسری آ یات میں بھی دل نشیں کراتاہے، سورئہ نساء کی آیت ٧٨ میں فر ماتاہے أَیْنَما تَکُونُوا یُدْرِکْکُمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ کُنْتُمْ فی بُرُوجٍ مُشَیَّدَةٍ تم جہاں کہیں بھی ہوں گے موت تمہیں وہیں آئے گی چاہے تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ ہو ۔ بعض اوقات مغر ور انسان ان تمام عینی حقائق اور واقعتوں کوآنکھ سے دیکھنے کے باوجود خودخواہی اورحب دنیا کی وجہ سے بالکل ہی بھلا دیتاہے یہاں تک کہ وہ قسم کھانے لگتاہے کہ میںتوعمر جاودانی رکھتاہوں،جیساکہ قرآن کہتاہے: اولم تکو نواا قسمتم من قبل مالکم من زوال کیاتم ہی نہیں تھے ، جوپہلے یہ قسم کھایاکرتے تھے ، کہ تمہارے لیے ہرگز فنا و زوال نہیںہے ؟(حجر۔ ٤٤) ۔ لیکن چاہے وہ قسم کھائے یانہ کھائے ، وہ یقین کرلے یانہ کرے ، موت ایک ایسی حقیقت ہے جوہرشخص کودامن گیر ہوگی اوراس سے راہِ فرار نہیں ہے ۔ اس کے بعد نفخِ صُور کے مسئلہ کوبیان کرتے ہُوئے فرماتاہے،:صور پھو نکاجائے گا، اوروہ دن وحشتناک و عدوں کے پوراہونے کادن ہے (وَ نُفِخَ فِی الصُّورِ ذلِکَ یَوْمُ الْوَعیدِ) ۔ نفخ صور سے مراد وہی دوسرانفخ ہے ، کیونکہ جیساکہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں، دومربتہ صور پھونکاجائے گا، پہلانفخہ جسے نفخۂ فزع یاصعق کہتے ہیں وہ نفخہ ہے جواس عالم کے اختتام پر صُورت پذیر ہوگا ، اور تمام انسان اس کے سننے سے مر جائیں گے اورعالم دُنیاکانظام درہم برہم ہوجائے گا، اوردوسرا نفخہ جو قیام و جمع وحضور کانفخہ ہے،وہ نفخہ ہے جوقیامت کے آغاز میں انجام پائے گا، جس سے تمام انسان زندہ ہو جائیں گے اوراپنی قبروںسے نکل کرحساب و کتاب کے لیے عد ل الہٰی کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے ۔ نفخ اصل میں پھونکنے کے معنی میں ہے ، اور نفخہ ایک بار پھونکنے کے معنی میں ہے، اور صور شیپور(بگل )کے معنی میں ہے ، جس کے ذ ریعہ عام طورپر فوجیوں کوجمع ہونے ، یاحاضر ہونے ، یا آرام کرنے یاسونے کے لیے احکام دیتے ہیں، اورصور اسرافیل کے بارے میںاس کا استعمال ایک قسم کاکنایہ اور تشبیہ ہے ،جس کی تفصیل جلد ١١ (سورئہ زمر کی آ یہ ٦٨)کے ذیل میں آئی ہے ۔ بہرحال آیت کے ذیل میں (ذالک یوم الوعید)آج عذاب کے وعدہ کادن ہےکے جملہ کی طرف توجہ کرتے ہُوئے واضح ہوجاتاہے کہ نفخہ ٔصور سے مراد یہاں وہی دوسرانفخہ اورقیامت ہے ۔ بعد والی آیت میں محشر میں ورود کے وقت انسانوں کی کیفیت کو اس طرح بیان کرتاہے: اس دن ہرانسان، (خواہ نیک ہویا بد)عرصہ محشرمیں اس حال میں وار ہواکہ اس کے ساتھ ایک توہنکانے والا ہوگا اورایک گواہ ہوگا(وَ جاء َتْ کُلُّ نَفْسٍ مَعَہا سائِق وَ شَہید) ۔ سائق اُسے داد گاہ عدل الہٰی کی طرف ہانک کرلے جائے گا، اور شھید اس کے اعمال پرگواہی دے گا ۔ ٹھیک اس جہان کی عدالتوں کی طرح کہ حکومت کامامور شخص متہم کے ساتھ ہوتاہے، اوراس کے اعمال کاشاہد گواہی دیتاہے ۔ بعض نے یہ احتمال دیاہے کہ سائق وہ شخص ہے جونیکو کاروں کوہنکاکرجنت کی طرف لے جائے گا، اور بد کاروں کوجہنم کی طرف ،لیکن لفظ شہید ( شاہد گواہ )کی طرف توجہ کرتے ہوئے پہلامعنی یعنی عدل الہٰی کی داد گاہ و عدالت کی طرف ہنکانا زیادہ مناسب ہے ۔ اس بارے میں کہ ہنکانے والا اور شاہد فرشتوں میں سے ہے یاان کے علاوہ کوئی اور ؟طرح طرح کی تفسیر یں کی گئی ہیں ۔ بعض نے تو یہ کہاہے کہ سائق نیکیاں لکھنے والا فرشتہ ہے ، اور شہید سیئات ( برائیاں)لکھنے والافرشتہ ہے،اس طرح سے دہ ایسے فرشتے ہیںجن کی طرف گزشتہ آ یات میں اشارہ ہواہے ۔ ایک روایت سے اس طرح معلوم ہوتاہے کہ سائق موت کافرشتہ ہے اور شہید پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہیں، لیکن یہ روایت آ یات کے لب ولہجہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے ضعیف نظر آ تی ہے ۔ بعض نے یہ بھی کہاہے کہ سائق وہ فرشتہ ہے، جوہرانسان کوہنکاتاہے اور شہید انسان کاعمل ہے ۔ اور یہ بھی کہاگیاہے کہ سائق اور تو فرشہ ہے اور شہید انسان کے بدن کے اعضاء ہیں، یااس کا وہ نامۂ اعمال ہے جواس کی گردن میں لٹکایاجائے گا ۔ یہ احتمال بھی دیاگیاہے، کہ سائق اور شہیدایک ہی فرشتہ ہے اوران دونوں کاایک دوسرے پر عطف ان دو صفات کی مغائرت کی وجہ سے ہے ،یعنی اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہے جواس کوداد گاہ عدل الہٰی کی طرف ہنکاتا بھی ہے اوراس کے اعمال پرگواہ بھی ہے ۔ لیکن ان میں سے اکثر تفاسیر ظاہر آیت کے خلاف ہیں اور آیت کاظاہر .جیساکہ اکثر مفسرین نے بھی یہی سمجھاہے یہ ہے کہ دوفرشتے ہرانسان کے ساتھ آئیں گے ، ایک اس کوچلا ئے گا اوردوسرا اس کے اعمال کی گواہی دیگا ۔ یہ بات کہے بغیرواضح ہے،کہ بعض فرشتوں کی گواہی ،قیامت کے ، دوران ہیں دوسرے گواہوں کے موجود ہونے کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتی ،مثلاًایسے گواہ جیسے انبیاء اعضائے بدن، نامۂ اعمال ، وہ زمان ومکان جن میں گناہ انجام پایا ہے ۔ بہرحال پہلا فرشتہ حقیقت میں فرار سے مانع ہے ، اور دوسرا فرشتہ ، انکار سے مان ہے.اوراس طرح سے ہرانسان اس دن اپنے اعمال میں گرفتارہوگا، اوران کی جزا وسزا سے گریز کی کوئی راہ نہ ہوگی ۔ یہاں مجرموں کو یا تمام انسانوں کوخطاب ہوگا کہ تواس عظیم داد گاہ سے غافل تھا، اوراب ہم نے تیری آنکھ سے پردہ ہٹادیاہے، آج تیری آنکھ اور نظر تیز ہو گئی ہے(لَقَدْ کُنْتَ فی غَفْلَةٍ مِنْ ہذا فَکَشَفْنا عَنْکَ غِطاء َکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدید)۔ ہاں!مادی دُنیا کے پردے :امیدیں، آرزوئیں، دُنیا کے ساتھ عشق اور لگاؤ،بیوی اوراولاد ،مال ومقام ، سرکش ہوہوس،بغض وحسد ،تعصب ،جہالت اورہٹ دھرمی تجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ آج کے دن کے لیے اسی زمانہ سے دیکھتا ، جبکہ معاد و قیامت کی نشانیاںواضح تھیں، اوراس کے دلائل روشن وآشکار ! آج غفلت کا گرد وغبار بیٹھ گیاہے ، جہالت تعصّب اورہٹ دھرمی کے پردے ہٹ گئے ہیں ، خواہشات ،امیدوںاورآرزؤوں کے پردے چاک ہو گئے ہیں، یہاں تک کہ جوپردئہ غیب میں مستور تھا وہ سب ظاہر ہوگیاہے، چونکہ آج کادن یوم البروز ہے اور یوم الشہود اور یوم تبلی السرائر ہے ۔ اسی بناء پر آج تیری نظر تیز ہوگئی ہے، اور توحقائق کواچھی طرح سے درک کرسکتاہے ۔ ہاں!حقیقت کاچہرہ پوشیدہ نہیں ہے، اور جمال یار پرپردہ نہیں ہے ،لیکن راستہ کے غبار کوبٹھانا چاہیئے تاکہ اس کادیدار کیاجاسکے ۔ جمال یار نداردحجاب وپر دہ ولے غباررہ بنشان تانظر توانی کرو لیکن طبعیت کے کنویں میںڈوب جانا، اورانواع واقسام کے حجابوں میں گرفتار ہوناانسان کواجازت نہیں دیتے کہ وہ حقائق کواچھی طرح سے دیکھ سکے، لیکن وہ دن جس میں تمام تعلقات اوررشتے ختم ہوجائیں گے توانسان طبعی طورپرایک نیک ادراک اور نئی نگاہ پیدا کرلے گا، اوراصولی طورپر قیامت کادن حقائق کے ظہور اور آشکار ہونے کادن ہے ۔ یہاں تک کہ اس جہان میں بھی ان لوگوں کے لیے جوان حجابوں کواپنی آنکھوں کے سامنے سے ہٹا سکتے ہیں، اوراپنے آپ کوشہوات کی قید کے پنجہ سے رہائی دلاسکتے ہیں ، ایسا ادراک ونظر پیدا ہوجاتاہے،جس سے دنیا والے محروم ہیں ۔ اس نکتہ کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ حدید اصل میں لوہے کے معنی میں ہے اورتیز چاقو یاتیز تلوارکے معنی میں بھی ہے ، اس کے بعد اس کا تیز بینی اور تیز فہمی پراطلاق ہونے لگا ،جیساکہ برندہ (کاٹنے والی ) تلوار اور چھُری کی صفت ہے ،لیکن فارسی زبان میں زبانِ گویااور نطقِ فصیح پربھی برندہ کااطلاق ہوتاہے،اور یہاں سے واضح ہوجاتاہے کہ بصر سے مراد یہاں ظاہری آنکھ نہیں ہے ، بلکہ وہی عقل اور دل کی آنکھ ہے ۔ علی علیہ السلام روئے زمین میں خدا کی حجتوں کے بارے میں اس طرح فرماتے ہیں: ھجم بھم العلم علی حقیقةالبصرة ، و با شر و اروح الیقین، و استلا نوامااستعورہ المتر فون،وانسو ابمااستو حش منہ الجاھلون،وصحبو االد نیا با بدان ارواحھامعلقة بالمحل لاعلیٰ ، اولٰئک خلفاء اللہ فی ارضہ والد عاة الیٰ دینہ: علم ودانش نے حقیقت بصیرت کے ساتھ ان کارُخ کیاہے اور روح یقین کوانہوں نے لمس کیاہے،جس چیز کودنیا پر ست مشکل شمارکرتے ہیں، وہ ان کے لیے آسان ہے، اور جس چیز سے جاہل لوگ وحشت رکھتے ہیں اس سے اُن کواُنس ہے، وہ اس دنیامیں ایسے بدنوں کے ساتھ زندگی گزار تے ہیں، جن کے ارواح عالم بالا سے پیو ستہ ہیں، وہ زمین میں خدا کے خلفاء ہیں اور خدا کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں (٦) ۔ ١۔"" سکر"" (بورزن "" مکر"")اصل میں پانی کی راہ کومسدُودکرنے کے معنی میں ہے اور سکر(بروزن فکر)مسدودمقام ومحل کے معنی میں آ یاہے ، اور چونکہ مستی کی حالت میں گو یا انسان اوراس کی عقل کے درمیان ایک سد پیدا ہوجاتی ہے،لہٰذااس کو""سکر"" (بروزن شکر)کہاجاتاہے ۔ ٢۔"" روح البیان "" جلد ٩ ،صفحہ ١١٨۔ ٣۔"" نہج البلاغہ "" خطبہ ١٩۔ ٤۔ "" نہج البلاغہ "" خطبہ ٢٠۔ ٥۔"" تحید "" حید بروزن صید کے مادہ سے ۔ ٦۔نہج البلاغہ ""کلمات قصار"" کلمۂ ١٤٧۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 50:19-22
٣۔ موت حق ہے
نہ صرف زیربحث آیت میں سکرات موت کا حق کے ساتھ تعارف ہواہے ، بلکہ دوسری متعدد آ یات میں موت کو حق کہاگیاہے، سُورئہ حجر کی آ یہ ٩٩ میں آ یاہے :(وَ اعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّی یَأْتِیَکَ الْیَقینُ ) پروردگار کی عبادت کر یہاں تک کہ یقین (موت ) تیرے پاس آ جائے ،(سورۂ مدثر کی آ یة ٤٧ میں بھی اس کے مشابہ تعبیر نظر آ تی ہے ) ۔ یہ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ انسان ہرچیز کاتوانکار کرسکتاہے،لیکن اس واقعیت کاانکار نہیں کرسکتا، کہ انجام کار موت ہم سب کے گھر وں کا دروزاہ کھٹکھٹا ئے گی اور سب کواپنے ساتھ لے جائے گی ۔ موت کی حقانیت کی طرف توجہ ، تمام انسانوں کے لیے تنبیہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اوربہتر طریقہ پرغور وفکر اورسوچ بچار کریں ، اوراس راستہ سے کہ جوان کے آگے ہے باخبر ہوں اوراپنے آپ کو اس کے لیے تیار کریں ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں آ یاہے : ایک شخص عمر کے پاس آ یا اور کہا:میں فتنہ کودوست رکھتاہوں،اور حق سے بیزار ہوں ،اوراس چیز کی گواہی دیتاہوں، جسے کبھی نہیں دیکھا ، عمرنے اس کو قید کردیا، یہ بات حضرت علی علیہ السلام کے کانوں تک پہنچی آپ نے فرمایا:اے عمر !اس شخص کو قید کرناظلم ہے ، اور توایک ستم کامرتکب ہواہے ،اس نے کہا کیوں؟آپ نے فرمایا، کیونکہ وہ اپنے مال اوراولاد کودوست رکھتاہے ،جنہیں خدانے قرآن کی ایک آیت میں فتنہ سے تعبیر کیاہے : ِنَّما أَمْوالُکُمْ وَ أَوْلادُکُمْ فِتْنَة (١) وہ موت سے بیزا رہے اورقرآن میں اسے حق سے تعبیر کیاگیاہے وَ جاء َتْ سَکْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَق (٢) وہ خدا کی یکتائی کی شہادت دیتاہے جس کواس نے کبھی نہیں دیکھا، اس مقام پر عمر نے کہا: لو لا علی لھلک عمر : اگرعلی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا( ٣) ۔ ١۔سورہ ،تغابن ، ١٥۔ ٢۔ سورہ، ق، ١٩۔ ٣۔ تفسیررُوح البیان ، جلد ٩،صفحہ ١١٨۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 50:19-22
٢۔ سکرات موت
اوپر والی آیت میں سکرات موت کے بارے میں گفتگو تھی ، اورہم بیان کرچکے ہیں کہ سکرات سکرة کی جمع ہے ،اوروہ اس حالت میں کے معنی میں ہے ،وشدّت حادثہ کے زیر اثر مستی کے مشابہ انسان کوعارضی ہوتی ہے ، اوراس کوسخت مضطرب کردیتی ہے لیکن وہ مستی نہیں ہوتی ۔ یہ ٹھیک ہے کہ موت مومنین کے لیے ایک وسیع تر اورمواہب الہٰیہ سے پُر جہان کی طرف انتقال کاآغاز ہے . لیکن اس کے باوجود انتقال کی یہ حالت کسی بھی انسان کے لیے آسان نہیں ہے،کیونکہ رُوح سالہا سال سے اس بدن کے ساتھ خو گررہی ہے اوراس کے ساتھ تعلق رکھاہے ۔ اسی لیے جب امام صادق علیہ السلام سے یہ سوال کرتے ہیں کہ جب رُوح بدن سے خارج ہوتی ہے توانسان تکلیف کیوں محسوس کرتاہے ، توآپ علیہ السلام نے فر مایا: لانہ نمی علیھاالبدن اس بناء پر کہ بدن کی نشو ونما اسی کے ساتھ ہوئی ہے (١) ۔ یہ ٹھیک اس طرح ہے کہ ایک فاسد دانت کو منہ سے نکال دیں تو یقینااس کے بعد سکون و آرام ہوتاہے.لیکن جدائی کالمحہ درد ناک ہوتاہے ۔ بعض اسلامی روایات میں آ یاہے کہ تین د ن انسان کے لیے وحشتناک ہوتے ہیں: ایک وہ دن جس میں وہ پیدا ہوا اوراس ناآشناعالم کودیکھتاہے، اورایک وہ جس دن میں وہ مر تاہے اور موت کے بعد والے عالم کا مشاہدہ کرتاہے، اورایک وہ دن جس میں وہ عرصہ محشر میںوارد ہوگا ، اورایسے احکام دیکھے گا جودُنیا میں نہیں تھے ،اسی لیے خدا وند عالم یحیٰ بن زکر یاکے بارے میں فرماتاہے : وَ سَلام عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا اورعیسیٰ بن مریم علیہم السلام کی زبانی بھی اس کے مشابہ گفتگو کونقل کرتاہے، اوران دو پیغمبروں کوان تین دنوں میں اپنی عنایت کامشمول قرار دیتاہے ( ٢) ۔ لیکن یہ مسلم ہے کہ جو لوگ اس دُنیا کے ساتھ خاص علاقہ رکھتے ہیں ، اس سے ان کاانتقال بہت ہی زیادہ سخت ہے ،اوراس سے دل کوتوڑ ناجس کے ساتھ ان کو لگاؤ ہے زیادہ مشکل ہے، علاوہ ازیں جولوگ زیادہ گناہوں کے مرتکب ہُوئے ہیں، سکرات موت اُن کے لیے زیادہ شدید اور زیادہ درد ناک ہے ۔ ١۔"" بحار "" جلد ٦،صفحہ ١٥٨۔ ٢۔وہی مدرک (کچھ تلخیص کے ساتھ ) یحیٰ(علیہ السلام )کے بارے میں سُورۂ مریم کی آ یہ ١٥ میں آ یا :"" وَ سَلام عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا "" اورحضرت مسیح کے بارے میں اسی سُورہ کی آیت ٣٣ میں آ یاہے ،"" وَ السَّلامُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُ وَ یَوْمَ أَمُوتُ وَ یَوْمَ أُبْعَثُ حَیًّا "" مجھ پر سلام ہوجس دن پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ ہو کردوبارہ اُٹھا یاجاؤں گا۔