يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ
O you who have faith! Allah will surely test you with some of the game within the reach of your hands and spears, so that Allah may know those who fear Him in secret. So whoever transgresses after that, there is a painful punishment for him.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:94
[Pooya/Ali Commentary 5:94] Please refer to the commentary of al Baqarah: 196 and 197. Killing of even the smallest living being has been prohibited while performing hajj in the sacred house of Allah, the holy Ka-bah (refer to the commentary of al Baqarah; 125). "Allah shall surely try you" shows the utmost importance of the command, yet Yazid not only desecrated the holy Ka-bah but planned to kill Imam Husayn, the grandson of the Holy Prophet, in it. Having come to know his wicked scheme in advance Imam Husayn, in order to save the sanctity of the holy sanctuary, substituted hajj with umrah and left Makka. Allah is very strict in enforcing His commands and in punishing those who violate what He has sanctified. So man must hasten to ask His forgiveness, turn to Him in repentance, and make amends by following His guidance.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 5:94-100
Self-sufficient
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:94-96
حالت احرام میں شکار کرنے کے احکام
یہ آیات عمرہ اور حج کے احکام میں سے ایک حکم یعنی حالت احرام میں صحرائی اور دریائی جانوروں کے شکار کا مسئلہ بیان کرتی ہیں، پہلے تو اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جس کا ”حدیبیہ“ والے سال مسلمانوں کو سامنا کرنا پڑا تھا ارشاد ہوتا ہے: ”اے ایمان والو! خدا تمھیں شکار میں سے ایک چیز کے ساتھ آزمائے گا، ایسے شکار جو تمھارے اس قدر نزدیک ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ تم نیزہ اور ہاتھ کے ساتھ انھیں شکار کرسکتے ہو (یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لَیَبْلُوَنَّکُمْ اللهُ بِشَیْءٍ مِنْ الصَّیْدِ تَنَالُہُ اٴَیْدِیکُمْ وَرِمَاحُکُمْ ) ۔ آیت کی تعبیر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا یہ چاہتا ہے کہ پیش بینی کے طور پر لوگوں کو ایک ایسے واقعہ سے جو انھیں پیش آنے والا تھا آگاہ کرے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس تمام شکار کا وہاں کے لوگوں کے ہاتھوں کی پہنچ میں آجانا ایک ایسا امر تھا جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور یہ مسلمانوں کے لئے ایک قسم کی آزمائش تھی خصوصاً یہ دیکھتے ہوئے جانوروں کے گوشت سے غذا مہیا کرنے کی اُنھیں ضرورت بھی تھی۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ یہ جانور وسوسہ انگیزی کی صورت میں خیموں کے اطراف میں اور ان کے گرداگرد آتے جاتے تھے، اس قسم کی میسّر غذا سے محروم رہنا، وہ بھی اس زمانے اور وقت میں ایسے لوگوں کے لئے ایک بہت بڑی آزمائش تھی ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس جملہ سے مراد کہ ”تمھارے ہاتھ سے شکار کے قابل ہوں گے“ یہ ہے کہ وہ انھیں جال وغیرہ سے پکڑ سکتے تھے لیکن آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ حقیقتاً ان کے لئے یہ ممکن تھا کہ وہ خود ہاتھ سے انھیں پکڑسکتے تھے ۔ اس کے بعد تاکید کے طور پر فرمایا ہے: یہ ماجرا اس لئے ہوا تھا کہ وہ لوگ جو ایمان بالغیب کی بناپر خدا سے ڈرتے ہیں دوسرے لوگوں سے ممتاز ہوجائیں (لیعلم اللّٰہ من یخافہ بالغیب) ۔ جیسا کہ ہم جلد اوّل میں سورئہ بقرہ کی آیت ۱۴۳ کے ذیل میں کہہ چکے ہیں کہ ”لنعلم“تاکہ ہم جان لیں یا”لیعلم“ ”تاکہ خدا جان لے“وغیرہ جیسی تعبیرات سے مراد یہ نہیں ہے کہ خدا کسی چیز کو جانتا نہیں اس لئے وہ چاہتا ہے کہ آزمائش اور امتحان وغیرہ کے ذریعہ سے جان لے ۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم چاہتے کہ اپنی واقعیتِ علمی کو عملی جامہ اور متحققِ خارجی کا لباس پہنائیں کیونکہ باطنی نیتیں اور لوگوں کی آمادگیاں، تکامل وار تقا، اور جزا و سزا کے لئے اکیلی ہی کافی نہیں ہیں بلکہ انھیں خارجی افعال کی شکل میں ظہور پذیر ہونا چاہیے تاکہ وہ ان آثار کے حامل ہوسکیں (مزید وضاحت کے لئے مذکورہ آیت کی تفسیر کی طرف رجوع کیجئے) ۔ آیت کے آخر میں اُن اشخاص کو کہ جو اس خدائی حکم کی مخالفت کرتے ہیں درناک عذاب کی تہدید کی گئی ہے (فَمَنْ اعْتَدیٰ بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ) اگر چہ آیت کا آخری جملہ اجمالی طور پر حالت احرام میں شکار کی حرمت پر دلالت کرتا ہے لیکن بعد والی آیت میں مزید صراحت اور قطعیت کے ساتھ اور بطور عموم حالت احرام میں شکار کے حرام ہونے کا حکم صادر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے: ”اے ایمان لانے والو! حالت احرام میں شکار نہ کرو“ (یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَاٴَنْتُمْ حُرُمٌ) ۔ کیا شکار کی حرمت (جو بعد والی آیت کے قرینہ کے ساتھ صحرائی شکار ہے) صحرا کی تمام اقسامِ شکار پر محیط ہے چاہے وہ حلال گوشت ہوں یا حرام گوشت یا حلال گوشت شکار سے مخصوص ہے ۔ مفسّرین اور فقہا کے درمیان اس سلسلے میں کوئی ایک نظریہ نہیں ہے ۔ تا ہم فقہا و مفسّرین امامیہ میں مشہور یہ ہے کہ حکم عام ہے اور جو روایات اہلِ بیت علیہم السلام کے طریق سے وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہیں بعض فقہائے اہل سنت مثلاً ابوحنیفہ ہمارے ساتھ اس سلسلے میں متفق ہیں مگر دوسرے بعض مثلاً شافعی اسے حلال گوشت جانوروں کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں بہرحال یہ حکم گھریلو جانوروں کے بارے میں نہیں ہے کیونکہ گھریلو جانوروں کو صیدو شکار نہیں کہا جاتا ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ہماری روایات میں نہ صرف یہ کہ حالت احرام میں شکار کرنا حرام ہے بلکہ اس میں مددکرنا، اشارہ کرنا اور شکار کی نشاندہی کرنا بھی حالت احرام میں حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ یہ تصور کریں کہ صید وشکار کا مفہوم حرام گوشت جانوروں پر محیط نہیں ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ کیونکہ جانوروں کا شکار مختلف مقاصد کے لئے انجام پاتا ہے ۔ بعض اوقات مقصود اُن کے گوشت سے فائدہ اٹھاناہوتا ہے، بعض اوقات ان کی کھال سے نفع حاصل کر نے لئے ہو تا ہے اور بعض اوقات ان کی مزاحمت کو دور کرنے لئے ہوتاہے ۔وہ مشہور شعر جو حضرت علی علیہ اسلام سے منقول ہے وہ بھی عمومیت کا مشاہدہ بن سکتا ہے، آپ فرماتے ہیں: صید العلوک ارانب و ثعالب و اذا رکبت فصیدی الا بطال بادشاہوں کے شکار خرگوش اور لومڑیاں ہیں لیکن میرا شکار، جب میں میدان جنگ میں وارد ہوتا ہوں تو شجاع اور بہادر ہوتے ہیں ۔ (مزید وضاحت کے لئے فقہی کتب کی طرف رجوع کیا جائے) ۔ اس کے بعد حالت احرام میں شکار کرنے کے کفارہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: جو شخص جان بوجھ کر شکار کو قتل کردے تو اُسے چاہیے کہ چوپاؤں میں سے اُن جیسے جانور کفارہ میں دے یعنی انھیں قربانی کرکے ان کا گوشت فقراء ومساکین کو دے (وَمَنْ قَتَلَہُ مِنْکُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنْ النَّعَمِ ) یہاں مثل سے مراد کیا ہے؟ کیا شکل وصورت اور مقدار میں ایک جیسا ہونا، اس معنی میں کہ مثلاً اگر کوئی شخص کسی بڑے وحشی جانور مثلاً شتر مرغ کو شکار کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ اس کا کفارہ اونٹ کی صورت میں دے؟ یا اگر ہرن کا شکار کرتا ہے تو کفارہ کے لئے بھیڑ بکری کی قربانی دے جو تقریباً جیسی ہے؟ یا یہ کہ مثل سے مراد قیمت میں ایک جیسا ہونا ہے؟ فقہا اور مفسّرین میں پہلا معنی ہی مشہور ہے اور آیت کا ظاہری مفہوم بھی اسی کے مطابق ہے، کیونکہ حلال گوشت اور حرام گوشت کے حکمِ عمومی کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھیں تو بہت سے جانور ایسے ہیں جن کی قیمت ثابت ومشخص نہیں ہے کہ جس کے ذریعہ اُن جیسے گھریلو جانوروں کا انتخاب کیا جاسکے اور اس کا مثل شکل وصورت اور مقدار کے مطابق ہی مل سکے ورنہ دوسری صورت میں تو اس کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں کہ کسی طرح سے اس شکار کی قیمت معیّن کی جائے اور اُس کا مثل قیمت کے لحاظ سے حلال گوشت گھریلو جانوروں میں سے انتخاب کریں، ممکن ہے کہ بعض اوقات مثل کے معاملے میں کوئی شک وتردید ہوجائے لہٰذا قرآن نے حکم دیا ہے کہ یہ کام دو باخبر اور عادل افراد کے زیرِنظر انجام پذیر ہو(یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ) ۔ اس سلسلے میں کہ یہ قربانی کہاں ذبح ہو، حکم دیتا ہے کہ وہ قربانی اور ”ھدی“ کی صورت میں کعبہ کا ہدیہ بنایا جائے اور سرزمین کعبہ میں پہنچے (ھَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَةِ ) ۔ ضمنی طور توجہ رہے کہ ہمارے فقہا کے درمیان مشہور ہے کہ احرام عمرہ کی حالت میں شکار کا کفارہ مکہ میں ذبح ہونا چاہیے اور احرام عمرہ کی حالت میں منیٰ اور قربان گاہ میں اور یہ بات اُوپر والی آیت کے منافی نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ آیت، احرام عمرہ کی حالت میں نازل ہوئی ہے، اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ ضروری نہیں ہے حتماً کفارہ قربانی کی صورت میں ہو بلکہ دو اور چیزوں میں سے بھی ہر ایک اُس کی جانشین ہوسکتی ہے، پہلا یہ کہ اُ س کے برابر رقم مساکین کو کھانا کھلانے میں صرف کی جائے (اٴَوْ کَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاکِینَ )یا اُس کے مساوی روزے رکھے (اٴَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا ) ۔ اگرچہ آیت میں اُن مساکین کی تعداد جنھیں کھانا کھلایا ہے بیان نہیں ہوئی اور نہ ہی روزوںکے دنوں کی تعداد بتائی گئی ہے لیکن ایک طرف سے ان دونوں کا ایک دوسرے سے ساتھ ہونا اور دوسری طرف یہ صراحت کہ روزوں کے درمیان موازنہ ضروری ہے، نشاندہی کرتا ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ جتنے مسکینوں کو وہ کھانا کھلانا چاہے کھلادے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ قربانی کی قیمت کے برابر ہونا چاہیے، باقی رہا یہ کہ روزہ اور مسکین کو کھانا کھلانے کے درمیان تعادل وبرابری کس طرح قائم ہو تو بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک ”مد“ طعام کے مقابلہ میں ایک روزہ رکھے ۔ یہ حقیقت میں اس بناپر ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں جو اشخاص روزہ پر قدرت نہیں رکھتے تو وہ ہر دن کے بدلے میں ایک یا دو مد کھانا مساکین کوکھلائیں (اس امر کے بارے میں مزید وضاحت فقہی کتب میں ملاحظہ فرمائیں) ۔ اس بارے میں کہ وہ شخص جو حالت احرام میں شکار کا مرتکب ہوا ہے کیاوہ ان تین چیزوں میں سے جس کو چاہے کرلے یا اُسے ترتیب کو پیش نظر رکھنا چاہیے ۔ پہلے تو اُسے قربانی کرنا چاہیے اور اگر ایسا نہیں کرسکتا تو مساکین کو کھانا کھلائے اور اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو پھر روزہ رکھے ۔ اس سلسلہ میں مفسّرین اور فقہا کے درمیان اختلاف ہے لیکن آیت کا ظاہر اختیار کا معنی دیتا ہے ۔ یہ کفارے تو اس بناپر ہیں کہ وہ اپنے غلط کام کی سزا اور انجام دیکھ لےں (لِیَذُوقَ وَبَالَ اٴَمْرِہِ)(۱) ۔ اور اس بناپر کہ عموماً کوئی حکم بھی گذشتہ امور کو شامل نہیں ہوتا صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ خدا نے اُن غلط کاریوںکو جو اس سلسلے میں گذشتہ زمانے میں تم نے انجام دی ہیں معاف کردیتا ہے(عَفَا اللهُ عَمَّا سَلَف) ۔ اور جو شخص ان بار بار کے اظہار کے خطر اور کفارہ کے حکم کی پروا نہ کرے اور پھر بھی حالت احرام میں شکار کا مرتکب ہو تو خدا ایسے شخص سے انتقام لے گا اور خدا توانا وصاحب قدرت ہے اور برمحل انتقام لیتا ہے (وَمَنْ عَادَ فَیَنتَقِمُ اللهُ مِنْہُ وَاللهُ عَزِیزٌ ذُو انتِقَامٍ) ۔ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا شکارکا کفارہ دوبارہ شکار کرنے سے دوگناہ ہوتا ہے یا نہیں ؟تو آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ تکرار کی صورت میں صرف انتقال الٰہی کی تہدید اور دھمکی ہی دی گئی ہے اور اگر کفارہ کا تکرار بھی ہوتا تو صرف انتقال الٰہی کے ذکر پر اکتفانہ کی جاتی اور تکرار کفارہ کی تصریح بھی ہوتی ۔ ان روایات میں جواہل بیت علیہم السلام کے طریق سے ہم تک پہنچی ہیں یہی بات بیان کی گئی ہے ۔ بعد والی آیت میں دریائی شکار کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے:(حالت احرام میں) دریائی شکار اور اسے کھانا تمھارے لئے حلال ہے (اٴُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہُ) ۔ اس بارے میں کہ طعام اور کھانے سے کیا مراد ہے؟مفسّرین نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس سے مراد وہ مچھلیاں ہیں جو شکار کیے بغیر مرجاتی ہیں اور پانی کے اُوپر رہ جاتی ہیں، جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ بات ٹھیک نہیں ہے کیونکہ مردہ مچھلی کا کھانا حرام ہے، اگرچہ اہلِ سنت کی بعض روایات میں ان کے حلال ہونے کی صراحت موجود ہے ۔ آیت کے ظاہری مفہوم سے جو بات زیادہ معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ طعام سے مراد وہی خوراک ہے کہ جو شکار شدہ مچھلیوں سے تیار کی جاتی ہے کیونکہ آیت دو امور کو جائز قرار دے رہی ہے پہلے شکار کرنا اور دوسرے شکار شدہ کھانا کھانا ۔ ضمناً اس تعبیر سے اس معروف فتویٰ کے لئے بھی اجمالی طور پر استفادہ ہوتا ہے جو ہمارے فقہا کے درمیان موجود ہے اور جو برّی (وصحرائی) جانوروں کے بارے میں ہے اور وہ یہ کہ نہ صرف انھیں شکار کرنے کا اقدام حرام ہے بلکہ شکار شدہ جانور کا گوشت کھانا بھی جائز نہیں ہے ۔ اس کے بعد اس حکم کے فلسفہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ اس بناپر ہے کہ تم اور مسافر اس سے فائدہ اٹھاسکیں (مَتَاعًا لَکُمْ وَلِلسَّیَّارَةِ) ۔ یعنی اس غرض سے کہ تم حالت احرام میں کھانے کے لئے زحمت ومشقت میں نہ پڑو اور ایک قسم کے شکار سے فائدہ اٹھا سکو یہ اجازت تمھیں دریائی شکار کے بارے میں دی جاتی ہے ۔ اور چونکہ عموماً اگر مسافر یہ چاہیں کہ شکار شدہ مچھلی اپنے ساتھ لے جائیں تو اس میں نمک ملاکر اُسے ”ماہی شور“ کی صورت میں تیار کرلیتے ہیں ۔ بعض مفسّرین نے مندرجہ بالا جملے کی اس طرح کی تفسیر کی ہے کہ مقیم افراد تازہ مچھلی سے اور مسافر نمک لگی مچھلی سے استفادہ کریں ۔ ہم نے درج بالا آیت میں یہ پڑھا ہے کہ دریائی شکار تمھارے لئے حلال ہے ۔ یہاں اشتباہ نہیں ہونا چاہیے ، اس کا مفہوم دریائی شکاروں کے بارے میں ایک عمومی حکم نہیں ہے، جیسا کہ بعض نے خیال کرلیا ہے ۔ آیت یہاں پر دریائی شکاروں کا اصل حکم بیان کرنا نہیں چاہتی، بلکہ آیت کا مقصد وہدف یہ ہے کہ وہ احرام باندھے ہوئے شخص کو اس بات کی اجازت دے کہ دریا کے دو شکار جو احرام سے پہلے حلال تھے احرام کی حالت میں بھی وہ اُس سے استفادہ رکرسکتا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں آیت یہاں اصل تشریعِ قانون بیان نہیں کررہی بلکہ اِس کی نظر اُن قانونی خصوصیات کی طرف ہے جو پہلے سے تشریع ہوچکا ہے ۔ اصطلاح میں یہ بیان حکمِ عمومی کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ آیت صرف محرم کے احکام بیان کررہی ہے ۔ مگر دوسری مرتبہ تاکید کے طور پر حکم سابق کی طرف لوٹتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جب تک تم حالت احرام میں ہو صحرائی اور وحشی جانوروں کا شکار تم پر حرام ہے(وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا) ۔ آیت کے آخر میں اُن تمام احکام کی تاکید کے لئے جو ذکر ہوچکے ہیں فرماتا ہے: اس خدا سے ڈرو جس کی بارگاہ میں تمھیں قیامت کے دن محشور ہونا ہے (وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِی إِلَیْہِ تُحْشَرُون) ۔ ۱۔وبال جیسا کہ راغب اصفہانی نے مفردات میں لکھا ہے: اصل میں ”وبل“ اور ”وابل“ سے سخت بارش کے معنی میں ہے ۔ اس کے مشکل، شاق اور سخت کام پر بھی بولا جانے لگا اور چونکہ سزا وعذاب میں بھی شدت اور سختی ہوتی ہے اسے وبال کہتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:94-96
حالتِ احرام میں شکار کی حرمت کا فلسفہ
ہمیں معلوم ہے کہ حج و عمرہ ان عبادات میں سے ہے جو انسان کو عالم مادہ سے جدا کرکے ایک ایسے ماحول میں جو روعانیت و معنویت سے معمور ہیں مستغرق کردیتی ہیں ۔ مادّی زندگی کے مقررات، جنگ و جدال، جھگڑے فساد، جنسی ہوس رانیاں اور مادی لذات حج و عمرہ کے مراسم میں کلی طور پر چھوڑنا پڑتی ہیں اور انسان ایک قسم کی شرعی الٰہی ریاضت میں مشغول ہوجاتاہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ حالت احرام میں حرمت شکار بھی اسی مقصد کے ماتحت ہے ۔ علاوہ ازیں اگر خانہٴ خدا کے زائر کے لئے شکار کرنا ایک مشروع اور جائز کام ہوتا تو اس آمدورفت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ جو ہر سال اس مقدس سرزمین میں ہوتی ہے، اس علاقہ کے بہت سے جانوروں کی نسل کہ جو خشکی اور پانی کی کمی کی وجہ سے پہلے ہی کم ہے، ختم ہوجاتی لہٰذا یہ حکم اس علاقے کے جانوروں کی نسل کی بقا کے لئے ایک قسم کی حفاظت و ضمانت ہے ۔ خصوصاً اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ حالت احرام کے علاوہ بھی حرم میں شکار اور اسی طرح اس کے درختوں اور گھاس پھونس کا اکھاڑنا ممنوع ہے، اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ حکم زندگی کے ماحول کی حفاظت اور اس علاقے کے سبزہ زاروں اور جانوروں کو فنا و نابودی سے بچانے کے مسئلہ سے نزدیکی ربط رکھتا ہے ۔ یہ حکم اس قدر دقیق تشریع ہوا ہے کہ نہ صرف جانوروں کا شکار کرنا بلکہ اس سلسلہ میں مدد کرنا، یہاں تک کہ شکاریوںکو شکار کی نشاندہی کرنا اور انھیں شکار کرنے کی رائے دینا بھی حرام قرار دیا گیا ہے ۔ جیسا کہ اہلِ بیت(علیه السلام) کے طریق سے وارد شدہ روایات میں ہے کہ امام صادق (علیه السلام) نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: ”لا تستحلن شیئاً من الصید واٴنت حرام ولا وانت حلال فی الحرم ولاتدلن علیہ محلا ولامحرما فیصطادہ ولاتشر الیہ فیستحل من اجلک فان فیہ فداء لمن تعمدہ“ ”ہرگز شکار میں سے کسی چیز کو حالت احرام میں حلال شمار نہ کرنا اور اسی طرح حرم کا شکار غیر حالت احرام میں بھی حلال نہیں ۔ محرم و غیر محرم کو شکار کی نشاندہی بھی نہ کرنا کہ وہ شکار کرلے، یہاں تک کہ اس کی طرف اشارہ بھی نہ کرنا (اور اُسے کوئی حکم نہ دینا) کہ وہ تیری وجہ سے شکار کو حلال سمجھے کیونکہ یہ کام اس شخص کا شمار ہوگا جس نے شکار کا حکم دیا ہے یا اشارہ کیا ہے اور کفارہ بھی اس پر واجب ہوگا“۔ (1) ۹۷ جَعَلَ اللهُ الْکَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیَامًا لِلنَّاسِ وَالشَّھْرَ الْحَرَامَ وَالْھَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذٰلِکَ لِتَعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ وَاٴَنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ - ۹۸ اعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعِقَابِ وَاٴَنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ - ۹۹ مَا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ- ترجمہ ۹۷۔ خدانے کعبہ، بیت الحرام کو لوگوں کے کام کے لئے سامان مہیا کرنے کا ایک وسیلہ قرار دیا ہے اور اس طرح حرمت والا مہینہ اور بے نشان قربانیان اور نشاندار قربانیاں، اس قسم کے (حساب شدہ اور دقیق) احکام اس لئے ہیں کہ تمھیں معلوم ہوکہ خدا جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے، جانتا ہے ۔ ۹۸۔ جان لو کہ خدا شدید سزا دینے والا ہے (اور اس کے باوجود) وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے ۔ ۹۹۔ پیغمبر کی ذمہ داری ابلاغِ رسالت (اور احکام الٰہی پہنچانے) کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے (اور وہ تمھارے اعمال کا جواب دہ نہیں ہے) اور خدا جانتا ہے کہ تم کن چیزوں کو آشکار اور کن چیزوں کو مخفی رکھتے ہو ۔ 1۔ وسائل الشیعہ جلد ۵ صفحہ ۷۵ -
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:94-96
خدا نے بیت الحرام کو لوگوں کے امر کے قیام کا ذریعہ قرار دیا
گذشتہ آیات میں حالتِ احرام میں شکار کی حرمت کے بارے میں بحث تھی ۔ اس آیت میں ”مکہ“ کی اہمیت اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی اصلاح و ترتیب میں اس کے اثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پہلے فرماتا ہے: خدا نے بیت الحرام کو لوگوں کے امر کے قیام کا ذریعہ قرار دیا (جَعَلَ اللهُ الْکَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیَامًا لِلنَّاس) ۔ یہ مقدس گھر لوگوں کے اتحاد کی علامت، دلوں کے مجتمع ہونے کا ایک وسیلہ اور مختلف رشتوں اور گرہوں کے استحکام کے لئے ایک عظیم مرکز ہے ۔ اس مقدس گھر اور اس کی مرکزیت و معنویت کے سائے میں کہ جو گہری تاریخی بنیادوں پر استوار ہے، وہ اپنی بہت سی بے سامانیوں کا سامان (اور بہت سی خرابیوں اور کمزوریوں کی اصلاح) کرسکتے ہیں اور اپنی سعادت کا محل اس کی بنیادوں پر کھڑا کرسکتے ہیں ۔ اس لئے سورہٴ آلِ عمران میں خانہ کعبہ کو وہ پہلا گھر بتایا گیا ہے جو لوگوں کے فائدے کے لئے بنایا گیا ہے ۔ (۱) حقیقت یہ ہے کہ ”قِیَاماً لِلنَّاسِ“ کے معنی کی وسعت کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمان اس گھر کی پناہ میں اور حج کے اسلامی حکم کے سائے میں اپنے تمام معاملات کی اصلاح کرسکتے ہیں ۔ چونکہ ضروری تھا کہ یہ مراسم جنگ، کشمکش اور نزاع سے ہٹ کر امن و امان کے ماحول میں صورت پذیر ہوں، حرام مہینوں (وہ مہینے کہ جن میں جنگ مطلقاً حرام ہے) کے اثر کی طرف اس موضوع میں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے (وَالشَّہْرُ الْحَرَامَ) ۔ (۲) علاوہ ازیں اس نظر سے کہ بے نشان قربانیوں (صدی) اور نشاندار قربانیوں (قلائد) کا وجود، کہ جو مراسم حج و عمرہ میں مشغول ہونے کے دونوں میں لوگوں کو غذا مہیا کرتا ہے اور ان کی سوچ کو اس جہت سے آسودہ خاطر کرتا ہے، اس پروگرام کی تکمیل میں مخصوص اثر رکھتا ہے ۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے (وَالْہَدْیَ وَ الْقَلَائِدَ) ۔۔ اور چونکہ یہ تمام پروگرام، قوانین اور مقرر شدہ احکامِ شکار، اور اسی طرح حرم مکہ و ماہ حرام وغیرہ ایک قانون ساز کی وسعتِ علم اور تدبیر کی گہرائی کا پتہ دیتے ہیں لہٰذا آیت کے آخر میں اس طرح کہتا ہے کہ: خدانے یہ منظم پروگرام اس لئے مقرر کیے ہیں تاکہ تمھیں معلوم ہوجائے کہ اس کا علم اس قدر وسیع ہے کہ جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے اور تمام چیزوں سے خصوصاً اپنے بندوں کی روحانی اور جسمانی ضروریات سے باخبر ہے (ذٰلِکَ لِتَعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ وَاٴَنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ ) ۔ ہم جو کچھ سطور بالا میں کہہ آئے ہیں اسے مد نظر رکھتے ہوئے آیت کی ابتدا ور انتہا کا با ہمی تعلق واضع ہو جاتا ہے ۔کیونکہ ان گہرے تشریع احکام کو وہی ذات منظم کرسکتی ہے جو قوامین تکوینی کی گہرائی سے آگاہ اورباخبر ہو ۔ جب تک کوئی زمین اور آسمان کے تمام جزئیات اور روح وجسم کے تخلیقی رموز سے آگاہ نہ ہو، وہ ایسے احکام کی پیش بینی نہیں کرسکتا ۔ کیونکہ وہی قانون درست اور اصلاح کنندہ ہوسکتا ہے جو قانونِ خلقت و فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو ۔ پھر بعد والی آیت میں گذشتہ احکام کی تاکید، لوگوں کو ان کے انجام دینے کی تشویق اور مخالفین اور نافرمانوں کی تہدید کے طور پر فرماتا ہے: جان لو کہ خدا شدید العقاب (ہونے کے ساتھ) غفور رحیم بھی ہے (اعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعِقَابِ وَاٴَنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ) ۔ نیز یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ مندرجہ بالا آیت میں ”شدید العقاب“کو ”غفور رحیم“ پر مقدم رکھا گیا ہے، تو شاید یہ امن بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدائی سزاکو اس کی پوری شدت کے باوجود توبہ کہ پانی سے دھویا جاسکتا ہے اور خداکی مغفرت و رحمت شامل حال ہوسکتی ہے ۔ پھر مزید تاکید کے لئے فرماتا ہے: اپنے اعمال کے جواب دہ خود تمہی ہو، اور پیغمبر کی ذمہ داری تبلیغِ رسالت اور احکام خدا تم تک پہنچانے کے سوا کچھ نہیں(مَا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ ) ۔ اس کے باوجود خدا تمھاری نیتوں سے اور تمھارے سب آشکار وپنہاں اعمال سے باخبر آگاہ ہے(وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُون) ۔ ۱۔سورہٴ آل عمران، آیت۹۶- ۲۔حرام مہینوں کے بارے میں جلد دوم میں سورہٴ بقرہ کی آیت۱۹۴ کے ذیل میں بحث ہوچکی ہے-