لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
There will be no sin upon those who have faith and do righteous deeds in regard to what they have eaten [in the past] so long as they are Godwary and faithful and do righteous deeds, and are further Godwary and faithful, and are further Godwary and virtuous. And Allah loves the virtuous.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:93
[Pooya/Ali Commentary 5:93] Refer to the commentary of verses 87 and 88 of this surah. This verse refers to the case of those Muslims who were dead before wine and gambling were forbidden, provided they safeguarded themselves from evil, did good and believed. Believing in Allah, doing good and safeguarding oneself (against evil) with full awareness of Allah's laws. have been repeatedly stated to guide the believers that they must always strive to attain perfection in piety and should not be content at any stage, thinking that what they are doing is enough. Aqa Mahdi Puya says: The fear of the people about the fate of those who used to drink intoxicating drinks and gamble, and died before these evils were prohibited shows how decisive is the command of Allah regarding wine-drinking and gambling. It may also refer to verse 87 of this surah in which case it means lawful things.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:93
وہ تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لے آئیں اور عمل صالح بجالائیں
اس آیت میں اُن لوگوں کے بارے میں جواب دیتے ہوئے جو شراب ار قمار بازی کی حرمت کے نزول سے پہلے مرچکے تھے اُن لوگوں کے بارے میں کہ جن کے کانوں تک ابھی تک یہ حکم نہیں پہنچا تھا اور وہ دور دراز کے علاقوں میں زندگی بسر کررہے تھے فرمایا گیا ہے: وہ لوگ جو ایمان رکھتے تھے اور عمل صالح انجام دیتے تھے اور یہ حکم اُن تک نہیں پہنچا تھا، اگر اُنھوں نے شراب پی ہے یاقماربازی کی کمائی سے کھاتے رہے تو اُن پر کوئی گناہ نہیں ہے (لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوا )(۱) اس کے بعد اس حکم کو اس بات کے ساتھ مشروط کرتا ہے کہ وہ تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لے آئیں اور عمل صالح بجالائیں (إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ)۔ پھر اس امر کی تکرار کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: پھر تقویٰ اختیار کرو اور ایمان لے آؤ (ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا )۔ اس کے بعد تیسری مرتبہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ اسی حکم کی تکرار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: پھر تقویٰ اختیار کرو اور نیکی کرو (ثُمَّ اتَّقَوْا وَاٴَحْسَنُوا) آیت کے آخر میں فرمایا: خدا نیک لوگوں کو دوست رکھتا ہے (وَاللهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ )۔ ان تین جملوں کی تکرار کے سلسلے میں قدیم وجدید مفسّرین کےدرمیان زیادہ اختلاف ہے، بعض انھیں تاکید پر محمول کرتے ہیں، کیونکہ تقویٰ، ایمان اور عمل صالح کے موضوعات کی اہمیت کا تقاضا یہ ہے کہ انھیں پختگی کے ساتھ باربار بیان کیا جائے اور تاکید کی جائے ۔ لیکن بعض مفسّرین کا یہ نظریہ ہے کہ اِن تینوں جملوں میں سے ہر ایک میں علیحدہ اور جئاگانہ حقیقت بیان ہوئی ہے، انھوں نے ان کے اخلاف کے سلسلے میں کئی احتمال پیش کیے ہیں کہ جن میں بہت سے ایسے ہیں کہ جن کی کوئی دلیل اور شاہد نہیں ہے ۔ شاید اس سلسلے میں بہترین بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ ذکر ہونے والے ”تقویٰ“ سے مراد اندرونی تقویٰ اور باطنی احساسِ ذمہ داری ہے جو انسان کو دین کے بارے میں تحقیق وجستجو کرنے، پیغمبر کے معجزے میں غوروفکر کرنے اور حق کے بارے میں جستجو کرنے پر اُبھارتی ہے جس کا نتیجہ ایمان اور عمل صالح ہے، دوسرے لفظوں میں جب تک تقویٰ کا ایک مرحلہ وجود انسانی میں پیدا نہیں ہوتا اُس وقت تک اُسے تحقیق کی جستجو کی فکر لاحق نہیں ہوتی، اس بناپر پہلی مرتبہ اُوپر والی آیت میں تقویٰ کے بارے میں جو گفتگو ہوئی ہے وہ تقویٰ کے اسی مرحلہ کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ چیز آیت کے ابتدا کے اس حصّے کے منافی نہیں ہے: (لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ) کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آیت کی ابتدا میں ایمان ظاہری تسلیم کے معنی میں ہو لیکن جو ایمان تقویٰ کے بعد پیدا ہوتا ہے وہ حقیقی ایمان ہے ۔ دوسری دفعہ جو تقویٰ کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے وہ اُس تقویٰ کی طرف اشارہ ہے جو انسان کے اندر اور باطن میں نفوذ کرجائے کہ جس کا اثر زیادہ گہرا ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ ایمان متسقر وثابت ہے، کہ عمل صالح جس کا ایک حصّہ اور جز ہے، اسی لیے دوسرے مرحلے ایمان کے ذکر کے بعد عمل صالح کے ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ تیسری مرتبہ ”تقویٰ“ سے متعلق جو گفتگو ہے اس سے مراد وہ تقویٰ ہے جو اپنے بلند ترین مرحلے تک پہنچ جاتا ہے اس طور پر کہ اب اُسے حتمی فرائض کی انجام دہی کی دعوت کے علاوہ احسان یعنی نیک کاموں کی دعوت بھی دی گئی ہے، یہاں تک کہ اُن کاموں کے لیے بھی کہ جو داخل نہیں ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ تقویٰ کے بار ے میں تین مرتبہ کا یہ تذکرہ احساسِ ذمہ داری اور پرہیزگاری کے ایک ایک مرحلہ کی طرف اشارہ ہے، ”ابتدائی مرحلہ“، ”درمیانہ مرحلہ“ اور ”آخری مرحلہ“ اور ان میں سے ہر ایک خود آیت میں ایک قرینہ رکھتا ہے کہ جس کا سہارا لے کر مقصد معلوم کیا جاسکتا ہے، بخلاف ان احتمالات کے جو بعض مفسّرین نے ان تین قسم کے تقویٰ اور ایمان کے فرق کے بارے میں پیش کیے ہیں کہ جن کے لیے کوئی قرینہ اور شاہد موجود نہیں ہے ۔ ۹۴ یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لَیَبْلُوَنَّکُمْ اللهُ بِشَیْءٍ مِنْ الصَّیْدِ تَنَالُہُ اٴَیْدِیکُمْ وَرِمَاحُکُمْ لِیَعْلَمَ اللهُ مَنْ یَخَافُہُ بِالْغَیْبِ فَمَنْ اعْتَدَی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ اٴَلِیم ٌ۔ ۹۵یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَاٴَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَہُ مِنْکُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنْ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ ھَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَةِ اٴَوْ کَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاکِینَ اٴَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا لِیَذُوقَ وَبَالَ اٴَمْرِہِ عَفَا اللهُ عَمَّا سَلَفَ وَمَنْ عَادَ فَیَنتَقِمُ اللهُ مِنْہُ وَاللهُ عَزِیزٌ ذُو انتِقَامٍ ۔ ۹۶ اٴُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہُ مَتَاعًا لَکُمْ وَلِلسَّیَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِی إِلَیْہِ تُحْشَرُونَ ۔ ترجمہ ۹۴۔ اے ایمان والو! خدا تمھیں شکار کی اس مقدار کے ساتھ کہ (جو تمھارے قریب آجائیں اور) تمھارے ہاتھ اور نیزے اُن تک پہنچ جاتے ہیں، آزمائے گا، تاکہ معلوم ہوجائے کہ کون شخص غیب پر ایمان رکھتے ہوئے خدا سے ڈرتا ہے اور جو شخص اُس کے بعد تجاوز کرے تو اُس کے لئے دردناک عذاب ہوگا ۔ ۹۵۔ اے ایمان والو! حالت احرام میں شکار کو قتل نہ کرو اور جو شخص تم میں سے جان بوجھ کر اُسے قتل کرے گا تو اُسے چاہیے کہ اُس کا معادل کفارہ چو پاؤں میں سے دے ۔ ایسا کفارہ کہ جس کے معادل ہونے کی دو آدمی تصدیق کریں اور وہ قربانی کی شکل میں (حریم) کعبہ میں پہنچے یا (قربانی کے بجائے) مساکین و فقرا کو کھانا کھلائے یا اس کے معادل روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا کا مزہ چکھے جو کچھ گذشتہ زمانے میں ہوچکا ہے خدا نے وہ معاف کیا اور جو شخص تکرار کرے خدا اُس سے انتقام لے گا اور خدا توانا اور صاحبِ انتقام ہے ۔ ۹۶۔ دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمھارے لئے حلال ہے تاکہ تم اور مسافرین اس سے فائدہ اٹھائیں لیکن جب تک تم حالت احرام میں ہو تو صحرا کا شکار تم پر حرام ہے اور خدا (کی نافرمانی) سے کہ جس کی طرف تم محشور ہوں گے ڈ رتے رہو ۔ شانِ نزول جیسا کہ کتاب کافی اور بہت سی تفاسیر میں منقول ہے کہ جس وقت پیغمبر اسلام اور مسلمان حدیبیہ والے سال عمرہ کے لئے احرام باندھ کر چل پڑے تو اُنھیں راستے میں بہت سے وحشی جانوروں کا اس طرح سے سامنا ہوا کہ اُن کے لئے آسان تھا کہ ہاتھ یا نیزے سے اُنھیں شکار کرلیں ۔ یہ شکار اس قدر زیادہ تھے کہ بعض نے لکھا ہے کہ سواریوں کے دوش بدوش اور خیموں کے نزدیک آتے جاتے تھے تو اُوپر والی آیات میں سے پہلی آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو شکار کرنے سے ڈرایا اور انھیں اس خطرے سے آگاہ کیا کہ یہ امر ان کے لئے ایک طرح کا امتحان ہے ۔ ۱۔ یہ بات قابل توجہ رہے کہ ”طعام“ زیادہ تر کھانے کی چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے نہ پینے کی چیزوں کے لیے لیکن بعض اوقات پینے کی چیزوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً سورہٴ بقرہ کی آیت۲۴۹ میں ہے : <فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّی وَمَنْ لَمْ یَطْعَمْہُ فَإِنَّہُ مِنِّی