وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
Remember Allah’s blessing upon you and His covenant with which He has bound you when you said, ‘We hear and obey.’ And be wary of Allah. Indeed Allah knows best what is in the breasts.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:7
[Pooya/Ali Commentary 5:7] Aqa Mahdi Puya says: The covenant, mentioned in this verse, wherewith Allah has bound the faithful, and by virtue of which His favour has been bestowed on them, is that which has been referred to in verse 3 of this surah-the last covenant taken from the faithfuls at Ghadir Khum (please refer to the commentary of verse 3 of this surah pertaining to "today I have perfected for you your religion and have completed My favour upon you "). "When you said" refers to the reply they gave to the Holy Prophet when he told them "of whomsoever I am the master (mawla) Ali is his master (mawla)." Please refer to the commentary of verse 67 of this surah for authentic references from the books written by well-known Muslim (non-Shia) scholars; and to know the names of the historians, traditionists and commentators who have reported the proceedings of the historic event at Ghadir Khum. "And fear Allah; verily Allah knows that which is (hidden) in your breasts (hearts)" refers to the spirit of revolt, which at last manifested itself in Saqifa Bani Sa-idah after the departure of the Holy Prophet .
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:7
خدا سے باندھے گئے پیمان
گذشتہ آیت میں چند احکامِ اسلامی اور نعماتِ الٰہی کی تکمیل کا ذکر تھا ۔ اسی بحث کی مناسبت سے اس آیت میں مسلمانوں کو دوبارہ خدا کی لا متناہی نعمات کی اہمیّت کی طرف توجّہ دلائی گئی ہے ان نعمات میں سب سے اہم ایمان، اسلام اور ہدایت کی نعمت ہے، ارشاد فرمایا گیاہے: خدا کی نعمتوں کو یاد رکھو(وَ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اللَّہِ عَلَیْکُم)یہاں لفظ ”نعمت“ مفرد صورت میںہے لیکن یہ جنس کے معنی میں ہے اور جنس یہاں عمومیّت کا مفہوم رکھتی ہے لہٰذا اس سے مراد تمام تر نعمتیں ہیں۔ البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ خصوصیّت سے یہاں نعمتِ اسلام مراد ہو جس کی طرف گذشتہ آیت میں اشارہ کیا گیا ہے، جہاں فرمایا گیاہے: ولیتم نعمتہ علیکم…اور اس سے بڑھ کر کون سی نعمت ہوسکتی ہے۔ اسلام ہی کے زیر سایہ مسلمانوں کو تمام تر نعمتیں، افتخارات اور وسائل نصیب ہوئے۔ وہ لوگ جو پہلے بالکل منتشر ، جاہل، گمراہ، خوں خوار، فاسد اور مفسد تھے۔ اسلام نے انھیں اتحاد اور دانائی عطا کی اور وہ مادی و روحانی نعمتوں سے ملامال ہوگئے۔ اس کے بعد وہ عہد و پیمان جوانھوں نے خدا سے باندھا ہے اس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیاہے: اور میثاقِ الٰہی کو فراموش نہ کرو جبکہ اس وقت تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی ( وَ میثاقَہُ الَّذی واثَقَکُمْ بِہِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنا وَ اٴَطَعْنا) ۔ اس بارے میں کہ اس پیمان سے کون سا پیمان مراد ہے دو احتمالات پیش کیے گئے ہیں۔ پہلا وہ پیمان کہ جو مسلمانوں نے آغازِ اسلام میں حدبیہ کے موقع پر باندھا تھا یا حجة الوداع یا عقبہ میں باندھا تھا یا پھر وہ پیمان جو ہر مسلمان نے اسلام قبول کرتے ہی بالواسطہ طور پر خدا سے باندھا تھا ۔ دوسرا: وہ پیمان جو فطری طور پر ہر شخص اپنے خدا سے باندھ چکا ہے اسی کو بعض اوقات ”عالم ذر“ کہتے ہیں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ خدا نے انسان کو اس کی خِلقت کے وقت قابلِ نظر صلاحیتیں اور بے شمار نعمتیں عطاکیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے انسان کو اسرار آفرینش اور اس کے ذریعے پروردگار کی معرفت کی استعداد بخشتی ہے۔ اسی طرح اس نے عقل و شعور سے نوازا، جس کے ذریعے انسان پیغمبروں کو پہچانتاہے اور ان کے احکام پر عمل کرتاہے۔ یہ صلاحیتیں عطا فرما کر خدانے عملاً انسان سے یہ عہد لیا کہ وہ انھیں معطل اور باطل نہیں کر چھوڑے گا، بلکہ ان سے صحیح طور پر استفادہ کرے گا اور انسان بھی یہ صلاحیتیں حاصل کرکے بزبانِ حال پکار اٹہا کہ سمعنا و اطعنا… ہم نے سنا اور اطاعت کی ۔ یہ عہد و پیمان زیادہ وسیع ، زیادہ پائیدار اور زیادہ عمومی ہے جو خدا نے اپنے بندوں سے لیاہے یہ وہی پیمان ہے جس کی طرف حضرت علی(علیه السلام) نے نہج البلاغہ کے پہلے خطبے میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: لیستادوہم میثاق فطرتہ انبیاء اس لیے بھیجے گئے کہ وہ لوگوں کو پیمانِ فطرت پورا کرنے کی دعوت دیں۔ واضح ہے کہ یہ وسیع پیمان تمام دینی مسائل پر بھی محیط ہے۔۱ کوئی مانع نہیں کہ یہ آیت تمام تکوینی اور تشریعی عہد و پیمان (جو خدا نے بحکم فطرت لیے ہیں یا رسول اللہ نے مسلمانوں سے مختلف موقعوں پر لیے ہیں) کی طرف اشارہ ہو۔ یہاں سے واضح ہوگیا کہ وہ حدیث جس میں ہے کہ میثاق سے مراد وہ عہد و پیمان ہے جو رسول اللہ نے حجة الوداع میں ولایت علی(علیه السلام) کے سلسلے میں لیا تھا وہ ہمارے مذکورہ بیان سے پورسی مناسبت رکھتاہے کیونکہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ مختلف آیات کے ذیل میں آنیوالی احادیث کسی ایک روشن اور واضح مصداق کی طرف اشارہ کرتی ہیں نہ یہ کہ مفہوم آیات ان میں منحصر ہے۔ ضمناً توجہ رہے کہ ”میثاق“ اصل میں ”وثاقہ“ کے مادہ سے ہے جو طناب و غیرہ سے کسی چیز کو باندھنے کے معنی میں ہے بعد ازاں ہر اس کام کو کہاجانے لگا جو اطمینانِ خاطر کا سبب بنے۔ عہد و پیمان چونکہ ایک گرہ کی مانند ہے جو دو افراد یا دو گروہوں کے در میان بندھ جاتاہے اور ان کے اطمینان کا باعث بنتاہے اس لیے اسے میثاق کہتے ہیں۔ آیت کے آخر میں تاکید کے طور پر فرمایا گیاہے: پرہیزگاری اختیار کرو کہ خدا سینوں کے اندر کے اسرار سے آگاہ ہے (وَ اتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ عَلیمٌ بِذاتِ الصُّدُور) ۔۲ ”ذات الصدور “ مرکّب ہے۔ ”ذات“ عین اور حقیقت کے معنی میں ہے اور ”صدور“ ، ”صدر“ کی جمع ہے جس کا معنی ہے سینہ، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدا ان باریک ترین اسرار سے باخبر ہے جو انسان کی روح کی گہرائیوں میں چھپے ہوتے ہیں اور انھیں اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔ عواطف، احساسات اور نیتوں کو دل اور اندرونِ سینہ سے کیوں نسبت دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جلد اوّل صفحہ ۱۰۰ (اُردو ترجمہ ) میں تفصیل سے بحث کی جاچکی ہے۔ ۸۔ یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا کُونُوا قَوَّامینَ لِلَّہِ شُہَداء َ بِالْقِسْطِ وَ لا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلی اٴَلاَّ تَعْدِلُوا اعْدِلُوا ہُوَ اٴَقْرَبُ لِلتَّقْوی وَ اتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ خَبیرٌ بِما تَعْمَلُونَ ۔ ۹۔وَعَدَ اللَّہُ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ لَہُمْ مَغْفِرَةٌ وَ اٴَجْرٌ عَظیمٌ ۔ ۱۰۔وَ الَّذینَ کَفَرُوا وَ کَذَّبُوا بِآیاتِنا اٴُولئِکَ اٴَصْحابُ الْجَحیمِ ۔ ترجمہ ۸۔اے ایمان والو! ہمیشہ خُدا کے لیے قیام کرو اور عادلانہ گواہی دو اور کسی گر وہ کی دشمنی تمھیں ترکِ عدالت کی طرف نہ لے جائے۔ عدل کرو کہ وہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو کہ جو کچھ تم کرتے ہو خُدا اس سے آگاہ ہے۔ ۹۔ خدا نے ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں سے بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیاہے۔ ۱۰۔ اور جو لوگ کافر ہوگئے ہیں اور ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں وہ اہلِ جہنم ہیں۔ ۱- اس بارے میں مزید تشریح اور یہ کہ اسے ”عالم ذر“ کیوں کہتے ہیں انشاء اللہ اعراف ۱۷۲کے ذیل میں ملاحظہ کیجیے گا ۔ ۲ تفسیر برہان ج۱ صفحہ ۴۵۴