يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
O you who have faith! When you stand up for prayer, wash your faces and your hands up to the elbows, and wipe a part of your heads and your feet, up to the ankles. If you are junub, purify yourselves. But if you are sick, or on a journey, or any of you has come from the toilet, or you have touched women, and you cannot find water, then make tayammum with clean ground and wipe a part of your faces and your hands with it. Allah does not desire to put you to hardship, but He desires to purify you, and to complete His blessing upon you so that you may give thanks.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:6
[Pooya/Ali Commentary 5:6] Wudu and tayammum, the two methods of cleansing for praying salat, have been prescribed in this verse. The emission of seed, whether in waking or in sleep, makes bathing (ghusl) obligatory. Wudu (ablution) is done with water. If water is not available, or there is a genuine danger to health if used, then tayammum (use of dust to cleanse) has been prescribed. For details refer to fiqh. It is written in Sahih Bukhari and other books of history that the second caliph disliked this divine ordinance so much that he was prepared not to pray at all rather than observe these commands. Aqa Mahdi Puya says: Those who wipe the whole head with a wet hand and wash the feet instead of wiping them with the wet hands do not take into consideration that which the ba in biru-usikum implies. In tayammum, again due to the possessive particle ba in biwujuhikum, only a portion of the face and the hands have to be wiped-the parts which have to be washed in wudu are wiped in tayammum, and the parts which are wiped in wudu are omitted in tayammum. The intention of Allah is to purify and complete His favour. This verse is legislative. It implies that whoever submits to Allah's command will get His blessings. The will of Allah as in Ahzab: 33 is creative which means "Be; and it becomes".
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:6
غُسل کا فلسفہ
بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ حالت جنب کے لیے اسلام غسل کا حکم کیوں دیتاہے جبکہ ایک خاص حصّہ آلودہ ہوتاہے۔ پیشاب کرنے اور مَنی خارج ہونے میں کیا فرق ہے؟ جب کہ ایک میں تو فقط اس جگہ کو دھونے کا حکم ہے اور دوسرے میں سارے بدن کو دھونے کا ۔ اس سوال کا ایک جواب اجمالی ہے اور دوسرا تفصیلی ۔ اجمالی جواب یہ ہے کہ اخراج منی پیشاب اور دیگر فضلات کی طرح کسی ایک حِصّے کا عمل نہیں ہے کیونکہ اس کا اثر سارے بدن پر ہوتاہے۔ بدن کے تمام فلیے اس کے اخراج کے بعد ایک خاص سُستی میں ڈوب جاتے ہیں جو کہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ کام سارے بدن کے اعضاء پر اثر انداز ہوتاہے اس کی وضاحت کچھ یوں ہے: سائنس دانوں اور ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں نباتی اعصاب کے دو سلسلے ہیں جو بدن کی تمام فعالیت کو کنٹرول کرتے ہیں ایک سمپاتھیک اور دوسرا پیرا سمپاتھیک سارے انسانی بدن میں اور اس کی مشینریوں میں یہ سلسلے پھیلے ہوئے ہیں۔ سمپاتھےک (sympathetic) اعصاب کی ذمہ داری ہے ”تیز کرنا“ اور بدن مختلف مشینریوں کو فعالیت پرا بھار نا اور پیرا سمپاتھیک(parasympathetic)کا کام ہے ان کی فعالیت کو سست کرنا ۔ در حقیقت ان میں ایک گاڑی کے لیے گیس یا پٹرول کی حیثیت رکھتاہے اور دوسرا بر یک کا کام کرتا ہے ان دو طرح کے نباتی اعصاب کی فعالیت کے اعتدال سے جسم کا کارخانہ معتدل طور پر کام کرتا رہتاہے۔ بعض اوقات انسانی بدن میں اس طرح کے حوادث نمودار ہوتے ہیں جو اس اعتدال کو درہم برہم کردیتے ہیں ۔ جنسی لذّت کا عروج پر پہنچنا(climax) بھی ایسے حوادث میں سے ہے جو عام طور پر منی کے اخراج کی صورت میں ظہور پذیر ہوتاہے اس موقع پر پیرا سمپاتھیک(parasympathetic) کا سلسلہ سمپاتھیک (sympathetic) اعصاب پر سبقت حاصل کرلیتاہے اور اعتدال منفی شکل میں بدل جاتاہے۔ یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ سمپاتھیک(sympathetic) اعصاب کو کام پر ا بھار نے اور بدن کے اعتدال کو واپس لانے کے لیے بدن سے پانی کا مَس کرنا بھی مؤثر ہے اور چونکہ جنسی لذت کا عروج (climax)تمام اعضائے بدن پر حسی طور پر اثر انداز ہوتاہے اور اعصاب کے ان دونوں سلسلوں کا اعتدال سارے بدن میں ٹوٹ جاتاہے لہٰذا حکم دیا گیاہے کہ جنسی ملاپ یا اخراج منی کے بعد سارے بدن کو پانی سے دھویا جائے تا کہ اس کا حیات بخش اثر پورے جسم میں اعصاب کے اعتدال کے بحالی کی صورت میں ظاہر ہو۔ امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے منقول ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ان الجنابةخارجة من کل جسد فلذٰلک وجب علیہ تطہیر جسدہ کلہ جنابت سارے بدن سے خارج ہوتی ہے لہٰذا پورے بدن کو دھویا جائے۔ (وسائل الشیعہ ج۱ ص۴۶۶) یہ روایت بھی گویا اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔ البتہ غسل کا بس یہی فائدہ نہیں بلکہ یہ غسل ایک طرح کی عبادت بھی ہے جس کے اخلاقی اثرات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا اسی لیے قصد قربت اور فرمانِ خدا کی اطاعت کی نیّت بغیر ایسا غسل صحیح نہیں ہے۔ در حقیقت جنسی ملاپ اور اخراج منی کے وقت روح بھی متاثر ہوتی ہے اور جسم بھی ۔ روح مادی شہوات کی طرف کھینچتی ہے اور جسم سستی کا شکار ہوتاہے۔ جسم کو چونکہ قصد قربت سے دھویا جاتاہے لہٰذا یہ ایک طرح سے غُسِل روح بھی ہے۔ اس طرح سے روح خدا اور معنویت کی طرف مائل ہوتی ہے اور جسم پاکیزگی، نشاط اور فعالیت کی طرف۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر، زندگی بھر غسلِ جنابت کا وجوب بدن کی نگہداشت اور صحت کی حفاظت کے لیے ایک لازمی اور ضروری اسلامی حکم ہے۔ کیونکہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنی نظافت اور سُترائی سے غافل رہتے ہیں لیکن یہ اسلامی حکم مختلف وقتی فاصلوں پر انھیں نہانے اور بدن کو پاک رکھنے پر ابھارتاہے۔ یہ امر گذشتہ زمانے کے لوگوں سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ خود ہمارے زمانے میں بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جو جسم کی نظافت اور صفائی سے مختلف وجوہ کی بناپر غافل رہتے ہیں (البتہ یہ حکم کُلی اور عمومی ہے یہاں تک کہ اس شخص کے لیے بھی ہے جس نے ابھی تازہ غسل کیاہے) مذکورہ بالا تینوں وجہ مجموعی طور پر واضح کرتی ہیں کہ نیند یا بیداری کی حالت میں اخراج منی اور جنسی ملاپ کی صورت میں اگرچہ منی خارج نہ ہو سارے بدن کو کیوں لازمی طور پر دھونا چاہیے۔ آیت کے آخر میں یہ بات واضح کرنے کے لیے کہ مذکورہ احکام میں کوئی سختی نہیں ہے بلکہ وہ سارے احکام مصلحتوں اور حکمتوں کی بناپر نافذ کیے گئے ہیں، فرمایا گیاہے: خدا نہیں چاہتا کہ تمھیں مشقت اور زحمت میں ڈال دے بلکہ وہ چاہتاہے کہ تمھیں پاک و پاکیزہ رکھے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردے تا کہ تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو(ما یُریدُ اللَّہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ حَرَجٍ وَ لکِنْ یُریدُ لِیُطَہِّرَکُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ) ۔ در اصل اس جملے میں اس حقیقت کی تاکید کی گئی ہے کہ تمام خدائی احکام اور اسلامی پروگرام لوگوں کی خاطر اور انہی کے فائدے میں ہیں اور ان سے کچھ اور مقصود نہیں، خدا چاہتاہے کہ ان احکام کے ذریعے لوگوں کو روحانی اور جسمانی طور پر پاکیزہ رکھے۔ ضمناً اس طرف بھی توجہ رہے کہ خدا نہیں چاہتا کہ تمھارے دوش پر کوئی طاقت فرسا اور مشکل ذمہ داری ڈال دے یہ بات اگرچہ غسل، وضو اور تیمم سے مربوط احکام کے ضمن میں آئی ہے لیکن یہ ایک عمومی قانونی بھی بیان کررہی ہے کہ احکام الٰہی کسی موقع پر بھی طاقت فرسا اور قُوّت سے بڑھ کر نہیں ہیں۔ اس لیے جب کوئی حکم یا ذمہ داری کسی کے لیے سخت مشکل اور ناقابل برداشت ہوجائے تو اس کے پیشِ نظر وہ اس سے ساقط ہو جاتی ہے۔ مثلاً اگر کسی بوڑھے مرد یا بوڑھی عورت کے لیے روزہ رکھنا باعثِ مشقت ہوجائے تو اسی آیت کی بناپر ان پر واجب نہیں رہتا ۔ یہ بات فراموش نہیں کی جانا چاہیے کہ بعض احکام ذاتی طور پر مشکل ہیں اور اہم مقاصد اور مصلحتوں کے پیش نظر ایسی مشکلات کو برداشت کرنا چاہیے۔ مثلاً دشمنانِ حق کے خلاف جہاد ۔ اس آیت سے فِقہ اسلام میں ایک بنیادی اصول ”قاعدہ لاحرج--“ حاصل کیا گیاہے اور فقہاء بہت سے مواقع پر احکام کے استنباط میں اس سے استناد کرتے ہیں۔ ۱۔ لمبائی میں چہرے کی حد بالوں کے اگنے کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی تک ہے اور چوڑائی میں وہ حِصِہ جو در میانی انگلی اور انگو ٹھے کے در میان آجائے۔ 2-سیبویہ عربی لغت کا مشہول ماہر اور علم نحو کا عالم تھا وہ کہتاہے کہ جہاں کہیں لفظ ”الی“ کا مابعد اور ماقبل ایک جنس سے ہوں تو ما بعد قبل کے حکم میں ہوتاہے اور اگر وہ جنسوں سے ہوں تو پھر خارج ہوتاہے( مثلاً اگر کہا جائے کہ دن کی آخری گھڑی تک روزہ رکھو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آخری گھڑی میں بھی روزہ رکھو اور اگر کہاجائے کہ ابتدائے رات تک روزہ رکھو تو اس کا معنی یہ ہے کہ ابتدائے رات حکم میں داخل نہیں ہے) ۔ (المنارج۶ ص۲۲۳) 3اس میں شک نہیں کہ ”وجوہکم “اور”ارجلکم“ میں بہت فاصلہ ہے لہٰذا اس پر عطف کرنا بہت بعید نظر آتاہے۔ علاوہ ازیں بہت سے قاریوں نے ’ارجلکم“ کو امام کی زیر کے ساتھ پُرھاہے۔ ۷۔ وَ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ وَ میثاقَہُ الَّذی واثَقَکُمْ بِہِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنا وَ اٴَطَعْنا وَ اتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ عَلیمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ۔ ترجمہ ۷۔ اپنے اور پر خدا کی نعمت کو یاد کرو اور اس عہد و پیمان کو (بھی یاد کرو) جو اس نے تم سے لیا ہے۔ اس وقت جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور خدا (کی نافرمانی) سے ڈرو، کیونکہ خدا سینوں کے اندر کے حالات سے آگاہ ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:6
جسم اور رُوح کی پاکیزگی
گذشتہ آیات میں جسمانی پاکیزگی اور مادی نعمات کے بارے میں بحثیں تھیں۔ زیر نظر آیت میں روحانی پاکیزگی سے متعلق گفتگو ہے اس میں ان امور کا تذکرہ ہے جو روحانی طہارت کا باعث ہیں۔ اس میں وضو، غسل اور تیمم کے احکام ہیں اور روح کی صفائی کا باعث ہیں پہلے تو اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے احکامِ وضو بیان کیے گئے ہیں: اے ایمان والو! جب نماز کے لیے کھڑے ہوجاؤ،۱ ۱ آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول متعدد روایات میں ہے کہ قمتم (تم کھڑے ہو) سے مراد ہے نیند سے اٹھنا ۔ آیت کے مشتملات اور تمام حصوں پر غور کرنے سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہے کیونکہ بعد میں تیمم کا حکم بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے؛ اوجاء احد منکم من الغائط (یا کوئی تم میں سے قضائے حاجت سے لوٹے) ۔اگر آیت کا خطاب اصطلاحاً بے وضو افراد سے ہوتا تو اس جُملے کا عطف اور وہ بھی ”او“ کے ذریعے آیت کے ظاہری مفہوم سے مناسبت نہیں رکھتا تھا کیونکہ وہ بھی بے وضو کے عنوان میں داخل ہے لیکن اگر آےت کے آغاز میں خطاب نیند سے اٹھنے والے لوگوں سے ہے اور اصطلاح کے مطابق صرف نیند کا حدث بیان کیاگیاہے تو پھر اس جملے کا مفہوم بھی مکمل ہوگا (غور کیجیے گا) ۔ تو اپنے چہرے اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ اور سرکے ایک ایک حِصّے کا اور اسی طرح پاؤں کا مفصل (یا ابھری ہوئی جگہ تک) مسح کرو (یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوہَکُمْ وَ اٴَیْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرافِقِ وَ امْسَحُوا بِرُؤُسِکُمْ وَ اٴَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ ) ۔ آیت میں وضو میں دھونے کے لیے چہرے کی حُدود کا ذکر نہیں، لیکن روایات ِ اہلِ بیت(علیه السلام) میں رسول اللہ کے وضو کرنیکا طریقہ تفصیل سے بیان کیا گیاہے۔ در اصل یہ ”وجہ“ (چہرے) کے اس معنی کی وضاحت ہے جو عرف عام میں اس سے سمجھا جاتا ہے کیونکہ وجہ (چہرہ) وہی حِصّہ ہے جس کا انسان سے ملتے ہی”مواجہ“ (سامنا) ہوتاہے۔ ۲۔ ہاتھ کی حد جو وضو میں دھوئی جانی چاہیے کہنی تک بیان ہوئی ہے کیونکہ ”مرفق“ کی جمع ہے جس کا معنی ہے ”کہنی“۔ جب کہا جائے کہ ہاتھ دھولو تو ممکن ہے ذہن میں یہ آئے کہ انھیں کلائی تک دھونا ہے کیونکہ عام طور پر یہی مقدار دھوئی جاتی ہے اس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیاہے: کہنیوں تک دھوؤ (الی المرافق) اس سے واضح ہوجاتاہے کہ ”الٰی“ اس آیت میں فقط دھونے کی حد بیان کرنے کے لیے ہے نہ کہ کیفیت بیان کرنے کے لیے جیسا کہ بعض کو اس سے یہی گمان ہوا ہے ان کا خیال ہے کہ آیت کہتی ہے کہ ہاتھ کو انگلیوں کے سروں سے لے کر کہنی تک دھونا چاہیے (جیسا کہ اہل سنت کے ایک طبقے میں رائج ہے) ۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ بالکل اس طرح ہے کہ انسان کسی کا دیگر سے کہے کہ کمرے کی دیوار کو نیچے سے لے کر ایک میڑ اوپر تک رنگ کردو تو واضح ہے کہ مقصد یہ نہیں کہ دیوار کو نیچے سے اوپر کی طرف رنگ کرو بلکہ مراد یہ ہے کہ اتنی مقدار کو رنگ کرو اس سے زیادہ یا کم نہ ہو، اس لیے یہاں آیت میں بھی صرف ہاتھ کی وہ مقدار مقصود ہے جسے دھوناچاہیے۔ رہی ایسی کیفیت تو وہ سنتِ پیغمبر میں ہے جو ان کے اہل بیت(علیه السلام) کے وسیلے سے ہم تک پہنچی ہے اس کے مطابق کہنیوں سے لے کرانگلیوں کے سروں تک دھونا چاہیے۔ توجہ رہے کہ کہنی کو بھی وضو میں ساتھ دھونا چاہیے کیونکہ ایسے مواقع پر اصطلاح کے مطابق”غایت مغیا میں داخل ہے“ یعنی حد بھی حکم محدود میں شامل ہے۔2 2۔ کلمہٴ ”ب“ جو ”برء وسکم“میں ہے بعض روایات کے مطابق اور بعض اہلِ لغت کی تصریح کے مطابق تبعیض کے لیے ہے یعنی کچھ حِصّے کے مفہوم میں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ سرکے کچھ حِصّے کا مسح کرو جسے ہماری اصطلاح میں سرکے اگلے حِصّے سے محدود کیا گیا ہے اور اس کے لیے سرکے چوتھائی یا کچھ کم حِصّے پر ہاتھ سے مسح کیاجاتاہے اس لیے جو اہل سنت کے بعض گروہوں میں مروّج ہے کہ وہ پورے سرکا یہاں تک کہ کانوں کا بھی مسح کرتے ہیں وہ آیت کے مفہوم سے مناسبت نہیں رکھتا ۔ ۴۔ ”ارجلکم“”برء وسکم“کے ہم پہلو آیاہے یہ اس بات پر شاہد ہے کہ پاؤں کا بھی مسح کیاجائے نہ کہ اسے دھو یا جائے۔ ”ارجلکم“کی لام پر زبر اس وجہ سے ہے کہ اس کا عطف ”برء وسکم“کے ساتھ ہے نہ کہ یہ ”وجوہکم “ پر عطف ہے۔3 ۵۔ ”کعب“ نعت میں پاؤںکے اوپر کی ابھری ہوئی جگہ اور مفصل کے معنی میں آیاہے یعنی وہ مقام جہاں پاؤں کی بڈی سے پنڈلی کہ ہڈی مل جاتی ہے۔۳ ۳ قاموس میں ”کعب“ کے تین معنی مذکور ہیں۔ ۱۔ پشت پاکی ابھری ہوئی جگہ، ۲۔ مفصل اور ۳۔ ٹخنے جو پاؤں کے دو طرف ہیں لیکن صفت میں جو وضاحت کی گئی ہے اس میں یہ بات مسلّم ہے کہ اس سے ٹخنے مراد نہیں، لیکن اس بات میں فقہا میں اتفاق نہیں کہ آیا یہ پاؤں پر کی ابھری ہوئی جگہ ہے یا پاؤں اور پنڈلی کا جوڑ (مفصل) بہرحال احتیاط یہی ہے کہ جوڑتک ہی مسح کیاجائے۔ اس کے بعد غسل کے بارے میں حکم ہے ، فرمایا گیاہے: اگر مجنب ہو تو غسل کرو ( و ان کنتم جنباً فاطہروا)واضح ہے کہ ”فاطہروا“سے مراد پورے جسم کا دھونا ہے کیونکہ اگر کسی مخصوص حصِّے کا دھونا مطلوب ہوتا تو اس کا نام لیا جانا ضروری تھا اس لیے جب یہ فرماتاہے کہ اپنے آپ کو دھولو تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ سارے بدن کو دھولو۔ اس کی نظیر سُورةِ نساء آیة ۴۳ میں بھی موجود ہے، جہاں فرمایاگیاہے: حتی تغتسلوا جیسا کہ تفسیر نمونہ جلد ۲ میں سُورةِ نسآء آیة ۴۳ کے ضمن میں نشاندہی کی جاچکی ہے کہ لفظ ”جنب“ مصدر ہے جو اسم فاعل کے معنی میں آیاہے در اصل اس کا مطلب ہے”دور ہونے والا“ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجنب کو اس حالت میں نماز کی ادائیگی، مسجد میں توقف اور اس طرح کے دیگر کاموں سے دوری اختیار کرنا چاہیے۔ اور لفظ ”جنب“ مفرد، جمع، مذکر اور مونث سب کے لیے بولاجاتاہے”جار جنب“ کا اطلاق دور کے ہمسایوں پر بھی اسی مناسبت سے ہے۔ قرآن مندرجہ بالا آیت میں کہتاہے: نماز کے وقت مجنب ہوجاؤ تو غسل کرو، ممکن ہے اس سے یہ بھی اخذ کیاجاسکے کہ غسلِ جنابت، وضو کا بھی جانشین ہے۔ اس کے بعد تیمم کا حکم بیان کیاگیاہے: اگر نیندسے اُٹھے ہو اور نماز کا ارادہ رکھتے ہو اور بیمار یا مسافر ہو یا قضائے حاجت سے لوٹے ہو یا عورتوں سے جنبی ملاپ کرچکے ہو اور پانی تک تمھارے رسائی نہیں ہے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو (وَ إِنْ کُنْتُمْ مَرْضی اٴَوْ عَلی سَفَرٍ اٴَوْ جاء َ اٴَحَدٌ مِنْکُمْ مِنَ الْغائِطِ اٴَوْ لامَسْتُمُ النِّساء َ فَلَمْ تَجِدُوا ماء ً فَتَیَمَّمُوا صَعیداً طَیِّباً) ۔ یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ ”اٴَوْ جاء َ اٴَحَدٌ مِنْکُمْ مِنَ الْغائِطِ “ اور ”اٴَوْ لامَسْتُمُ النِّساء َ “کا عطف جیسا کہ اشارہ کیاجاچکا ہے آیت کی ابتداء یعنی ”إِذا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاةِ“پر ہے ۔ حقیقت میں آیت کی ابتداء میں نیند کے مسئلے کی طرف اشارہ ہے اور آیت کے ذیل میں دو مزید چیزوں کی طرف اشارہ ہواہے کہ جو وضو یا غسل کا سبب بنیتی ہیں اگر ان دونوں جملوں کا عطف ”علی سفر“پر کریں تو آیت میں کئی ایک اشکالات پیدا ہوں گے مثلاً قضائے حاجت سے لوٹنا ، بیماری اور مسافرت کے مقابل پر نہیں ہوسکتا لہٰذا ہم مجبور ہیں کہ ”اور“ کو ”واو“ کے معنی میں لیں (جیسا کہ بہت سے مفسرین نہ کہا ہے) اور یہ ظاہر کے بالکل خلاف ہے علاوہ ازیں یہ اشکال بھی ہے کہ وضو واجب کرنے والے امور میں سے صرف قضائے حاجت کا ذکر کرنا اس صورت میں بلا وجہ ہوگا، اگر اس طرح سے ہو جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں تو ان دونوں میں سے کوئی اعتراض لاحق نہ ہوگا(غور کیجیے گا) ۔ (بہت سے مفسرین کی طرح اگر چہ ہم بھی جلد ۳ میں نساء ۴۳ میں ”اور“ کو واو کے معنی میں ذکر کرچکے ہیں لیکن جو کچھ بیان کیاگیا ہے وہ زیادہ قرینِ نظر ہے) ۔ دوسری قابلِ توجہ یہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں مسئلہ جنابت کا دو مرتبہ ذکر آیاہے ممکن ہے یہ تاکید کے لیے ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ ”جنب“ جنابت اور نیند میں احتلام کے معنی میں ہو اور ”او لٰمستم النساء“ سے جنبی ملاپ والی جنابت سے کنایہ ہو نیز اگر ”قیام“ سے مراد ”نیند سے اٹھنا“ لیا جائے جیسا کہ روایات اہل بیت(علیه السلام) میں ہے اور محود آیت میں اس کا قرینہ موجود ہے تو یہ خود مسئلہ جنابت کے بارے میں کی گئی تفسیر پر شاہد ہوگا(غور کیجیے گا) ۔ اس کے بعد تیمم کا طریقہ بیان کیاگیاہے: اس کے ذریعے اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرو (فَامْسَحُوا بِوُجُوہِکُمْ وَ اٴَیْدیکُمْ مِنْہ) ۔ واضح ہے کہ یہاں یہ مراد نہیں کہ کچھ مٹی اٹھا لیں اور اسے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مل لیں بلکہ مراد یہ ہے کہ پاک مٹی پر ہاتھ مارنے کے بعد چہرے اور ہاتھوں کا مسح کریں، لیکن بعض فقہاء نے لفظ ”منہ“ کی وجہ سے کہاہے کہ چاہے تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو غبار ہاتھ پر لگا ہونا چاہیے۔۱ اب ”صَعیداً طَیِّباً“ کی تفسیر باقی رہ گئی ہے بہت سے علما ء ِ لغت نے ”صَعید“کے دو معانی ذکر کیے ہیں ایک مٹی اور دوسرا وہ چیزیں جنھوں نے کرةِارض کی سطح کو ڈھانپ رکھاہے چاہے وہ مٹی ہو، ریت ہو یا پتھر و غیرہ۔ یہی بات فقہاء مین اس اختلاف نظر کا باعث بن گئی ہے کہ تیمم کس چیز پر جائز ہے، کیا صرف مٹی پر تیمم جائز ہے یا پتھر اور سنگریزوں پر بھی ہوجاتاہے لیکن ”صَعید“کے اصل لغوی معنی کی طرف توجہ کرتے ہوئے یعنی ”صعود اور اوپر ہونا“ دوسرا مفہوم ہی زیادہ قرین ذہن ہے۔ ”طیب“ ایسی چیزوں کو کہا جاتاہے جو انسان کی طبیعت اور مزاج کے موافق ہوں، قرآن میں یہ لفظ بہت سی چیزوں کے ساتھ استعمال ہواہے، مثلاً : البلد الطیب، مساکن طیبة، ریح طیب، حیاة طیبة، و غیرہ۔ ہر پاکیزہ چیز کو بھی طیّب کہتے ہیں کیونکہ انسان کی طبیعت ذاتی طور پر ناپاک چیزوں سے نفرت کرتی ہے یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ تیمم کی مٹی پاک پاکیزہ ہونا چاہیے۔ ہادیانِ اسلام سے منقول روایات میں خصوصاً اس بات کا تذکرہ ہے، ایک روایت میں ہے: نہی امیر المؤمنین ان تیمم الرجل بتراب من اثر الطریق۔ یعنی ……حضرت امیر المؤمنین (علیه السلام) نے گندی مٹی سے جو سُرکوں پر پڑی ہوتی ہے، تیمم کرنے سے منع فرمایاہے۔۲ توجہ رہے کہ قرآن و حدیث میں توتیمم اسی مخصوص اسلامی ذمّہ داری کے مفہوم میں آیاہے جس کی وضاحت کی جاچکی ہے لیکن لغت میں اس کا معنی ہے”قصد کرنا“ در حقیقت قرآن کہتاہے کہ جب تیمم کرنا چاہو تو زمین کے کسی پاک حِصّے کا قصد کرو یعنی تیمم کے لیے زمین میں سے مختلف حصوں میں سے ایسا حِصّہ منتخب کرو جو ”صعید“ کے مفہوم سے ہم آہنگ ہو جو ”صعود“ کے مادہ سے ہے زمین کے اوپر والا حصّہ جہاں بارش پڑتی ہو، سورج کی روشنی پڑتی ہو اور جس سے ہوائیں ٹکراتی ہوں ایسی مٹی جو ہاتھوں اور پاؤں سے روندی نہیں جاتی، ایسی مٹی سے استفادہ نہ صرف صحّت کے لیے مضر نہیں بلکہ جیسا کہ ہم تیسری جلد میں سورہٴ ِ نساء کی آیت ۴۳ کے ضمن میں بیان کرچکے ہیں، سائنس وانوں کی گواہی کے مطابق جراثیم کش اثرات کا بھی حامل ہے۔ 1- احکام تیمم اور اس اسلامی حکم کا فلسفہ، اور یہ کہ ایسا کرنا نہ صرف صحت کے منافی نہیں بلکہ صحّت مندی کا پہلو مندی کا پہلو رکھتا ہے، اسی طرح لفظ ”غائط“ کا مفہوم اور اس طرح کے دیگر مسائل کی تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ جلد ۳ سورہٴ نسآء کی آیت ۴۳ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ ۲ وسائل الشیعہ ج۲ صفحہ ۹۶۹۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:6
وضو اور تیمم کا فلسفہ
تیمم کے فلسفے کے بارے میں تو تیسری جلد میں کافی بحث ہوچکی ہے۔ باقی رہا وضو کا فلسفہ تو اس میں شک نہیں کہ وضو میں دو واضح فائدے ہیں: ایک فائدہ صحت کے حوالے سے ہے اور دوسرا فائدہ اخلاقی اور روحانی اعتبار سے ہے۔ صحت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ایک دن میں پانچ مرتبہ یا کم از کم تین مرتبہ چہرے اور ہاتھوں کے دھونا، بدن کی نظافت اور پاکیزگی میں اہم کردار ادا کرتاہے۔ سراور پاؤں کے مسح کی شرط کہ جس میں ضروری ہے کہ پانی ہالوں یا بدن کے چمڑے کو مَس کرے بھی اس چیز کا سبب بنتاہے کہ یہ اعضاء بھی پاک صاف رکھے جائیں اور جیسا کہ نسل کے فلسفہ میں ہم وواضح کریں گے، پانی کا بدن کے چمڑے کو مس کرنا سمپاتھیک (sympathetic)اور پیرا سمپاتھیک(parasympathetic)اعصاب معتدل رکھنے میں بہت مؤثر ہے۔ اخلاقی و روحانی حوالے سے دیکھا جائے تو چونکہ یہ کام قصد قربت سے اور خدا کے لیے کیا جاتاہے لہٰذا تربیتی اثرات کا حامل ہے خصوصاً جب کہ کنایةً اس کا مفہوم یہ ہے کہ میں سر سے لے کر پاؤں تک تیری اطاعت کے لیے حاضر ہوں۔ اس اخلاقی اور معنوی پہلو کی موید وہ روایت ہے جو امام علی بن موسٰی رضا علیہما السلام سے منقول ہے، آپ (علیه السلام) نے فرمایا: انما امر الوضوء و بدء بہ لان یکون العبد طاہراً اذا قام بین یدی الجبار، عند مناجاتہ ایاہ، مطیعاً لہ فیما امرہ، تقیًا من الادناس و النجاسة، مع ما فیہ من ذہاب الکسل، و طرد النعاس و تزکیة الفؤاد للقیام بین یدی الجبار۔ و ضو کا حکم اس لیے دیا گیا ہے اور عبادت کی ابتداء اس سے اس لیے کی گئی ہے تا کہ بندے جب بارگاہ الٰہی میں کھڑے ہوں اور مناجات کریں تو پاک و پاکیزہ ہوں، اس کے احکام پر کار بند رہیں اور آلودگیوں اور نجاستوں سے دور رہیں۔ اس کے علاوہ وضو کے سبب سے نیند اور سُستی کے اثرات انسان سے دور ہوجاتے ہیں نیز یہ اس لیے ہے تا کہ دل درگاہِ خداوندی میں کھڑے ہونے کے لیے روشنی اور پاکیزگی حاصل کرلے۔1 1- وسائل الشیعہ جلد ۱ صفحہ ۲