قُلْ يَاأَهْلَ الْكِتَابِ هَلْ تَنقِمُونَ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلُ وَأَنَّ أَكْثَرَكُمْ فَاسِقُونَ
Say, ‘O People of the Book! Are you vindictive toward us for any reason except that we have faith in Allah and in what has been sent down to us, and in what was sent down before, and that most of you are transgressors?’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:59
[Pooya/Ali Commentary 5:59] The Muslims believed in Allah and the book sent down to the Holy Prophet and also in the books sent down to earlier prophets, but the Jews and the Christians, rejecting all the books, always found fault with that which the Muslims believed. Dhalika in verse 60 refers to the statement made in verse 59, comparing those mentioned in verse 59 with those mentioned in verse 60, who are worse than them. Verse 61, wherein the hypocrites have been referred to, should be read alongwith these verses. The words apes and swines may refer to their character which will make them appear as such in the life of the hereafter. See commentary of al Baqarah: 65 and 256 for apes (qiradata) and false gods (taghut). Please note that cursing the wicked is a godly act.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:59-60
یسائی او ریہودی علماء انھیں گناہ آمیز باتوں او رمال ِ حرام
پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ اہل کتاب سے پوچھئیے اور کہئیے کہ ہم سے کون سا کام سرزد ہواہے کہ ہم تم میں عیب نکالتے ہو اور ہم پرتنقید کرتے ہو، سوائے اس کے کہ ہم خدائے یگانہ پر ایمان لائے ہیں اور جو ہم پر اور گذشتہ انبیاء پر نازل ہوا ہے اس کے سامنے ہم سر تسلیم خم کرتے ہیں ۔(قُلْ یَااٴَھْلَ الْکِتَابِ ھَلْ تَنقِمُونَ مِنَّا إِلاَّ اٴَنْ آمَنَّا بِاللهِ وَمَا اٴُنزِلَ إِلَیْنَا وَمَا اٴُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ) ۔۱ یہ آیت یہودیوں کی بے محل ضد، ہٹ دھرمی اور تعصبات کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ وہ لوگ اپنے اور اپنے تحریف شدہ دین کے خلاف کسی کی کچھ وقعت کے قائل نہیں تھے اور ا سی شدید تعصب کی بنا پر حق ان کی نظر میں باطل اور باطل ان کی نگاہ میں حق بن چکا ہے ۔ آیت کے آخر میں ایک جملہ جو در حقیقت پہلے جملے کی علت اور سبب ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے : اگر تم توحید ِ خالص او رتمام آسمانی کتب کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر ہم اعتراض کرتے ہوتو اس کی وجہ یہ ہے کہ تم میں سے اکثر فسق اور گناہ سے آلودہ ہو چکے ہیں اور اگر کچھ لوگ پاکیزگی اور حق کا راستہ اپناتے ہیں تو یہ تمہاری نظر میں عیب ہے ( وَاٴَنَّ اٴَکْثَرَکُمْ فَاسِقُونَ) ۔ فسق و گناہ سے آلودہ انسانوں کی کثرت سے تشکیل پانے والے آلودہ ماحول میں اصولی طور پر حق و باطل کا معیار اس قدر دگر گون ہ وجاتا ہے کہ اس میں پاکیزہ عقیدہ اور صالح کو برا سمجھا جانے لگتا ہے اور اسے ہدفِ تنقید بنا یا جا تا ہے اور غلط عقائد و اعمال کو اچھا سمجھا جا تا ہے او رانہیں بنظر تحسین دیکھا جاتا ہے ۔ یہ مسخ شدہ فکر کی خاصیت ہے ۔ جب کوئی گناہ میں ڈوب جاتا ہے اور اس کا عادی ہو جاتا ہے تو اس کی یہی حالت ہو جاتی ہے ۔ توجہ رہے کہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ آیت تمام اہل کتاب پر تنقید نہیں کررہی بلکہ صالح او رنیک اقلیت کا حساب لفظ” اکثر“ استعمال کرکے الگ کردیا گیا ہے ۔ دوسری آیت میں اہل کتاب کے تحریف شدہ عقائد ، غلط اعمال اور جو سزائیں انہیں دامن گیر ہوئیں ان کا موازنہ سچے مومنین اور مسلمین کی حالت و کیفیت سے کیاگیا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ ان دونوں گروہوں میں سے کو ن سا تنقید اور سر زنش کا مستحق ہے ۔ یہ در اصل متعصب او رہٹ دھرم افراد کو متوجہ کرنے کے لئے ایک منطقی جواب ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ! اے پیغمبر ! ان سے کہہ دو کیا خدا ئے یکتا اور آسمانی کتب پر ایمان لانا باعث ِ سر زنش اور وجہ ِ اعتراض ہے یا پھر خو د ان کے برے اعمال جن کے سبب وہ خدائی سزا وٴں میں گرفتار ہو ئے ہیں ۔انہیں کہہ دو : کیا میں تمھیں ان لوگوں کے بارے میں آگاہ کروں جن جن کا معاملہ بار گاہ الٰہی میں اس سے بد تر ہے ( قُلْ ہَلْ اٴُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِکَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللهِ) ۔2 اس میں شک نہیں کہ خدا تعالیٰ اور آسمانی کتاب پر ایمان لانا کوئی بری بات نہیں ہے ۔ یہ جو زیر نظر آیت میں اس کا موازنہ اہل کتاب کے اعمال و افکار سے کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ” ان میں سے بد تر کون ہے “ در حقیقت ایک کنایہ ہے ، جیسے اگر کوئی ناپاک شخص کسی پاکیزہ انسا ن پر تنقید کرے تو وہ جواب میں کہتا ہے کہ پاکدامن بد تر ہیں یا گناہ سے آلودہ لوگ۔ اس کے بعد اس مطلب کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ لوگ جو اپنے اعمال کی وجہ سے پر وردگار کی آفت اور غضب کا شکار ہو ئے ہیں انہیں بندر اور خنزیر کی شکل میں مسخ کردیا گیا ہے اور وہ کہ جنہوں نے طاغوت اور بت کی پرستش کی ہے یقینا ایسے لوگوں کی دنیا میں حیثیت و مقام اور آخرت میں ٹھکانا بد تر ہوگا اور وہ راہ راست اور جادہٴ مستقیم سے بہت گمراہ ہیں ( مَنْ لَعَنَہُ اللهُ وَغَضِبَ عَلَیْہِ وَجَعَلَ مِنْھُمْ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِیرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ اٴُوْلَئِکَ شَرٌّ مَکَانًا وَاٴَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِیل ) ۔3 مسخ اور بعض انسانوں کے چہروں کے متغیر ہونے کے بارے میں او ریہ مسخ سے مراد جسمانی چہرے کا تغیر ہے یا فکری و اخلاقی چہرے کی تبدیلی ، اس سلسلے میں انشاء سورہٴ اعراف آیہ ۱۶۳ کے ذیل میں تفصیلی گفتگو کی جائے گی ۔ ۶۱۔ وَإِذَا جَائُوکُمْ قَالُوا آمَنَّا وَقَدْ دَخَلُوا بِالْکُفْرِ وَھُمْ قَدْ خَرَجُوا بِہِ وَاللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا کَانُوا یَکْتُمُونَ ۔ ۶۲۔ وَتَرَی کَثِیرًا مِنْہُمْ یُسَارِعُونَ فِی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاٴَکْلِھِمْ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ۔ ۶۳۔ لَوْلاَیَنْھَاہُمْ الرَّبَّانِیُّونَ وَالْاٴَحْبَارُ عَنْ قَوْلِھِمْ الْإِثْمَ وَاٴَکْلِھِمْ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا کَانُوا یَصْنَعُونَ ۔ ترجمہ ۶۱۔ اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ( ( لیکن ) وہ کفر کے ساتھ داخل ہو تے ہیں اور کفر کے ساتھ ہی نکل جاتے ہیں اور جو کچھ وہ چھپائے ہوئے ہیں خدا اس سے آگاہ ہے ۔ ۶۲۔ تم ان میں سے بہت سوں کو دیکھو گے کہ وہ گناہ ، تجاوز اور مال ِ حرام کھانے میں ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں جو کام وہ انجام دیتے ہیں کس قدر بر اہے ۔ ۶۳۔ عیسائی او ریہودی علماء انھیں گناہ آمیز باتوں او رمال ِ حرام کھانے سے کیوں منع نہیں کرتے۔ کس قدر برا ہے وہ عمل جو وہ انجام دیتے ہیں ۔ ۱۔”تنقموت“ مادہ ” نقمت“ سے ہے یہ در اصل کسی چیز کا انکار کرنے کے معنی میں ہے چاہے وہ انکار زبان سے ہو یا عمل سے اور سز ادینے کے ذریعے سے ہو۔ 2۔ ”مثوبة “اور ”ثواب “ در اصل پہلی حالت کی طرف رجوع کرنے اور پلٹنے کے معنی میں ہے یہ لفظ ہر طرح کی جزا اور سر زنش کے لئے بھی بولا جاتا ہے لیکن زیادہ تر اچھی چیز کے لئے استعمال ہوتاہے بعض اوقات سزا کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے ۔ مندرجہ بالا آیت میں یہ لفظ انجام یا جزا و سزا کے معنی میں ہے ۔ 3۔ ”سواء “ لغت میں مساوات ، اعتدال اور برابری کے معنی میں ہے اور یہ جو آیت ِ بالا میں جادہ ٴ مستقیم کو سواء السبیل کہا گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہر طرف سے برابر ، مساوی او رہموار ہے ۔ اور معتدل ، منظم اور انحراف سے خالی روش اور طریقے کو سیدھا راستہ کہا جاتا ہے ۔ ضمناً توجہ رہے کہ ” عبد الطاغوت“ کا عطف ” من لعنہ اللہ “ اور ” عبد“ فعل ماضی ہے اور عبد کی جمع نہیں ہے جیسا کہ بعض نے احتمال ظاہر کیا ہے ۔ اور اہل کتاب کی طرف طاغوت کی پرستش کی نسبت یہودیوں کی گوسالہ پرستی کی طرف اشارہ ہے یا منحرف اور کجرو پیشوا وٴں کے سامنے بے چون و چرا سر تسلیم خم کرنے کی طرف اشارہ ہے ۔