يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
O you who have faith! Do not take those who take your religion in derision and play, from among those who were given the Book before you, and the infidels, as friends, and be wary of Allah, should you be faithful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:57
[Pooya/Ali Commentary 5:57] See commentary of verse 51 of this surah.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 5:57-77
Ali was under Divine Commands declared by the Prophet to succeed latter, after him, on 18th Zilhay 10th Hijri, in the Valley of Khum (see Abu al-Kasim Khaskani in Shavahid ul Tanzil giving reference to Abi Umir. Hissermon – has been given under Appendix A).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:57-58
شان نزول
تفسیر مجمع البیان ، تفسیر ابو الفتوح رازی اور تفسیر فخر الدین رازی میں منقول ہے : رفاعہ اور سوید مشرکین میں سے تھے ۔ انھوں نے اظہار اسلام کیا او رپھر وہ منافقین کے ہم کاروں میں داخل ہو گئے ۔ بعض مسلمامن ان دونوں سے میل جول رکھتے تھے اور اظہار دوستی کرتے تھے اس پر مندرجہ بالاآیت نازل ہوئیں اور انھیں اس راہ و رسم کے خطرے سے آگاہ کیا گیا تاکہ وہ اس عمل سے پرہیز کریں ۔ یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس آیت میں ولایت بمعنی دوستی ہے نہ کہ ولایت بمعنی سر پرستی و تصرف جو کہ گذشتہ آیات میں تھی ، کیونکہ اس آی کی شانِ نزول ان آیات سے مختلف ہے ۔ لہٰذا انھیں ایک دوسرے کے لئے قرینہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ دوسری آیت جو پہلی کا ضمیمہ ہے ، اس کی شان ِ نزول یہ منقول ہے : یہودیوں کا ایک گروہ اور کچھ عیسائی جب موٴذن کی اذان کی آواز سنتے او رنماز کے لئے مسلمانوں کا قیام دیکھتے تو تمسخر او راستہزا شروع کردیتے ۔ لہٰذاقرآن مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے دوستی کرنے سے پرہیز کاحکم دیتا ہے ۔ تفسیر اس آیت میں خدا وند عالم دوبارہ مومنین کو حکم دے رہا ہے کہ منافقوں اور دشمنوں کی دوستی سے بچو ، البتہ ان کے جذبات و میلانات کو متحرک کرنے کے لئے یوں فرماتا ہے : اے ایمان والو! جو لوگ تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل کود سمجھتے ہیں وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین و منافقین میںسے ان میں سے کسی کو بھی دوست نہ بناوٴ( یَااٴَیُھَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَتَّخِذُوا الَّذِینَ اتَّخَذُوا دِینَکُمْ ھُزُوًا وَلَعِبًا مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اٴَوْلِیَاءَ ) ۔ آیت کے آخر میں (وَاتَّقُوا اللهَ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ) ۔فرماکر تاکید کی گئی ہے کہ تقویٰ او رایمان سے ایسے لوگوں کی دوستی مناسبت نہیں رکھتی ۔ توجہ رہے کہ ” ھزو“(بروزن ”قفل “) کا معنی ہے ” تمسخر آمیز باتیں یا حرکات جو کسی چیز کے بے وقعت ظاہر کرنے کے لئے کی جائیں ” جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے استہزاء ایسے مذاق کو کہتے ہیں جو کسی عدم موجود گی میں اور پس پشت کیا جائے اگر چہ کبھی کبھار کسی کے سامنے اس کا تمسخر اڑانے پربھی یہ لفظ بطور نادر بولا جاتا ہے ۔ ”لعب “ عام طور پر ایسے کاموں کوکہا جاتا ہے جن کے انجام دینے میں کوئی تصحیح غرض کار فرمانہ ہو یا جو بالکل بغیر ہدف اور مقصد کے انجام پائیں ، نہ بچوں کے کھیل کود کوبھی ” لعب “ اسی بنا پر کہتے ہیں ۔ گذشتہ آیت میں منافقین اور اہل کتاب کی ایک جماعت سے دوستی کرنے سے روکا گیا ہے کیونکہ وہ لوگ احکام اسلام کا مذاق اڑاتے تھے ۔ اب اگلی آیت میں شاہد کے طور پر ان کے ایک عمل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ : جب تم مسلمانوں کو نماز کی دعوت دیتے ہوتو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل کود سمجھتے ہیں ( وَإِذَا نَادَیْتُمْ إِلَی الصَّلاَةِ اتَّخَذُوہَا ہُزُوًا وَلَعِبًا )۱۔ اس کے بعد ان کے عمل کی علت بیان کی گئی ہے : ایسا اس لئے ہے کہ وہ ایک نادان گروہ ہے اور حقائق کا ادراک کرنے کی منزل سے دور ہے (ذَلِکَ بِاٴَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَیَعْقِلُونَ) ۔ ۱۔ مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ” اتخذوھا “ کی ضمیر نما زکی طرف لوٹتی ہے یا اذان کی طرف۔ جو شان نزول اس سلسلے میں ذکر کی گئی ہیں ان میں بھی یہ دونوں احتمالات موجود ہیں ، کیونکہ منافقین او رکفاراذان کی روح پروندا کا مذاق بھی اڑاتے تھے اور نماز کا بھی ۔ لیکن آیت کا ظہور زیادہ تر اس احتمال کی تائید کرتا ہے کہ یہ ضمیر ”صلوٰة “ کی طرف لوٹتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:57-58
اذان اسلام کا عظیم شعار ہے
ہر دور میں ملت کا کوئی ایسا شعار ہوتا ہے جو وہ اپنے لوگوں کے احساسات و جذبات کو ابھار کر انھیں ذمہ داریوں کی طرف دعوت دینے کے لئے استعمال کرتی ہے اور یہ بات دورحاضر میں زیادہ وسعت سے دکھائی دیتی ہے ۔ گذشتہ او رموجودہ زمانے میں عیسائی ناقوس کی ناموزوں آواز کے ذریعے اپنے پیروں کاروں کو کلیسا کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ لیکن اسلام میں اس دعوت کے لئے اذان کو اپنا لیا گیا ہے جو صدائے ناقوس سے کئی درجے موٴثر اور دلآویز ہے ۔ اس اسلامی شعار کی جاذبیت اور کشش اتنی زیادہ ہے کہ صاحب ”المنار“ کے بقول جب متعصب عیسائی بھی اسے سنتے ہیں تو سننے والوں پر اس کی گہری تاثیر کا اعتراف کرتے ہیں اس کے بعد موصوف نے نقل کیا ہے کہ مصر کے ایک شہر میں کچھ عیسائیوں کو لوگوں نے دیکھا ہے کہ وہ مسلمانوں کی اذان کے وقت اس سرودِ آسمانی کو سننے کےلئے جمع ہو تے ہیں ۔ اس سے بہتر شعار کون سا ہوگا ، جس کی ابتداء خدائے بزرگ و بر تر کے نام سے ہوتی ہے ، جو خالق ِ عالم وحدانیت اور اس کے پیغمبرکی رسالت کے اعلان کے ساتھ بلند ہوتا ہے او رکامیابی ، فلاح، نیک عمل اور یادِ خدا پر اختتام پذیر ہوتا ہے ۔ یہ شعار اللہ کے نام سے شروع ہوتا ہے اور اللہ ہی کے نام پر تمام ہو تا ہے ۔ اس میں موزوں جملے ، مختصر عبارات ، واضح محتویات اور اصلاح کنندہ اور آگہی عطا کرنے والا مضمون ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی روایات میں اذان کہنے کےلئے بہت تاکید کی گئی ہے اس سلسلے میں پیغمبر اکرم سے ایک مشہور حدیث منقول ہے ، جس میں آپ نے فرمایا : روز قیامت اذان کہنے والے دوسروں سے سر اور گردن کی مقدار کے برابر بلند تر ہو ں گے ۔ یہ بلندی در حقیقت وہی مقام ِ رہبری ہے اور دوسروں کو خدا کی طرف او رنماز جیسی عبادت کی طرف دعوت دینے کے سبب سے ہے۔ اسلامی شہروں میں وقت نماز جب اذان کے نغمے گلدستہ اذان سے گونجتے ہیں تو ان کی آواز سچے مسلمانوں کے لئے پیام آزادی اور استقلال و عظمت کی حیات بخش نسیم کی مانند ہوتی ہے ۔ یہ آواز بد خواہوں کے تن بدن میں رعشہ اور اضطراب ڈال دیتی ہے ۔ یہ صدا بقائے اسلام کی ایک رمز ہے انگلستان کے ایک مشہور شخص کا ایک اعتراف اس پر گواہ ہے ۔ وہ عیسائیوں کے ایک گروہ سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے ۔ جب تک محمد کانام گلدستہ ہائے اذان سے بلند ہورہا ہے ، خانہ کعبہ اپنی جگہ پر قائم ہے اور قرآن مسلمانوں کا رہنما اور پیشوا ہے ، اس وقت تک ممکن نہیں ہے کہ اسلامی سر زمینوں پر ہماری سیاست کی بنیادیں استوار ہو سکیں ۔ 1 لیکن بعض بے چارے اور بینوا مسلمانوں کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ انھوں نھے اس عظیم اسلامی شعار کو ترک کرکے اس کی جگہ فضول سے پروگرام رکھ دئیے ہیں جب کہ اسلامی شعار ان کے دین اور ثقافت کے قیام کی صدیوں پر حاوی تاریخ کی سند ہے۔ خدا ایسے افراد کی ہدایت کرے اور انھیں مسلمانوں کی صفوں میں پلٹا دے ۔ واضح ہے کہ جیسے اذان کا باطن اور ا س کے مفاہیم خوبصورت ہیں اسی طرح اسے ادا بھی اچھی آواز میں کرناچاہئیے اور اس کے باطنی حسن کو نامر غوب طریقے سے ظاہر کرکے پامال نہیں کردینا چاہئیے ۔ اذان وحی کے ذریعے پہنچی اہل سنت کے طرقسے منقول کئی ایک روایات میں اذان کی تشریع کے بارے میں عجیب و غریب باتیں منقول ہیں جو منطق اسلام سے مطابقت نہیں رکھتیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے :۔ پیغمبر خدا سے اصحاب نے درخواست کی کہ وقت ِ نماز بتانے کے لئے کوئی نشانی ہو نا چاہئیے ۔ اس پر آپ نے اپنے صحابہ سے مشورہ کیا ۔ ہر ایک نے کوئی نہ کوئی تجویز پیش کی ۔ کسی نے کہا مخصوص علم لہرانا چاہئیے ، کسی نے کہا آگ روشن کرنا چاہئیے اور کسی نے کہا ناقوس بجا نا چاہئیے ۔ لیکن رسول اللہ نے ان میں سے کوئی بات قبول نہ کی ۔ یہاں تک کہ عبد اللہ ابن زید اور عمر بن خطاب نے خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص انھیں حکم دے رہا ہے کہ نماز کو وقت بتانے کے لئے اذان کہیں اور اس نے ان دونوں کو اذان سکھائی اور رسول اللہ نے اسے قبول کرلیا ۔ 2 یہ جعلی روایت پیغمبر اکرم کی توہیں معلوم ہوتی ہے کہ جس کے مطابق آپ وحی پر انحصار کرنے کی بجائے کچھ افراد کے خوابوں کا سہارا لیتے تھے اور کچھ لوگوں کے خوابوں کی بنیاد پر اپنے دین کے احکام پیش کرتے تھے ۔ در حقیقت ایسا نہیں ہے بلکہ جیساکہ روایات ِ اہل بیت (علیه السلام) میں ہے کہ اذان پیغمبر اسلام کو وحی کے ذریعے تعلیم دی گئی تھی امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب جبرئیل اذان لے کر آئے تو پیغمبر خدا کا سر حضرت علی (علیه السلام) کی گود میں تھا اور جبرئیل نے آپ کو اذان و اقامت بتائیں ۔ جب رسول اللہ نے اپنا سر اٹھا یا تو حضرت علی (علیه السلام) سے پوچھا : کیا تم نے جبرئیل کی اذان کی آواز سنی ہے ۔ حضرت علی (علیه السلام) نے کہا : جی ہاں رسول اللہ نے پھر پوچھا : کیا اسے یاد کرلیا ہے ؟ حضرت علی (علیه السلام) نے کہا: جی ہاں پیغمبر خدا نے فرمایا : بلال ( جن کی آواز اچھی تھی ) کو بلاٴ اور اسے اذان و اقامت سکھادو۔ حضرت علی (علیه السلام) نے بلال کو بلا کر اسے اذان و اقامت سکھا دی ۔ (وسائل ، ج ۴ ص ۶۱۲) ۔ اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لئے کتاب ” النص و الاجہاد“ ص۱۲۸ کی طرف رجوع کریں ۔ ۵۹۔ قُلْ یَااٴَھْلَ الْکِتَابِ ھَلْ تَنقِمُونَ مِنَّا إِلاَّ اٴَنْ آمَنَّا بِاللهِ وَمَا اٴُنزِلَ إِلَیْنَا وَمَا اٴُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَاٴَنَّ اٴَکْثَرَکُمْ فَاسِقُونَ۔ ۶۰۔ قُلْ ہَلْ اٴُنَبِّئُکُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِکَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللهِ مَنْ لَعَنَہُ اللهُ وَغَضِبَ عَلَیْہِ وَجَعَلَ مِنْھُمْ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِیرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ اٴُوْلَئِکَ شَرٌّ مَکَانًا وَاٴَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِیلِ۔ ترجمہ ۵۹۔ کہہ دو: اے ایک کتاب ! کیا تم ہم پر اعتراض کرتے ہو( مگر ہم نے کیا کیا ہے ) سوائے اس کے کہ ہم خدا ئے یکتا پر ، جو کچھ اس نے ہم پر نازل کیا ہے اس پر اور جو کچھ اس سے پہلے نازل ہوچکا ہے اس پر ایمان لائے ہیں اور یہ اس بنا پر ہے کہ تم میں سے اکثر راہ ِ حق سے منحرف ہو گئے ہیں ( لہٰذا حق تمھیں اچھا نہیں لگتا ) ۔ ۶۰ ۔ کہہ دو : کیا میں تمھیں ایسے لوگوں کے بارے میں آگاہ کروں جن کا ٹھکا نا اور جز اس سے بد تر ہے وہ لوگ کہ جنھیں خدا نے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ان پر اپنا غضب نازل کیا ہے ( اور انھیں مسخ کردیا ہے )اور ان میں سے بندر اور خنزیر بنائے اور جنھوں نے بت پرستی کی ہے ان کا ٹھکانا برا ہے اور وہ راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں ۔ شان نزول عبد اللہ بن عباس سے منقول ہے : کچھ یہودی رسول اللہ کے پاس آئے اور در خواست کی کہ اپنے عقائد انھیں بتائیں ۔ رسول اللہ نے فرمایا : میں خدائے بزرگ و یگانہ پر ایمان رکھتا ہوں اور جو کچھ ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق، یعقوب ، موسیٰ، عیسیٰ اور دوسرے پیغمبران ِ خد اپر نازل ہوا ہے اسے حق سمجھتا ہوں اور ان میں تفریق نہیں کرتا ۔ وہ کہنے لگے : ہم عیسی کو نہیں مانتے اور اس کی نبوت کو قبول نہیں کرتے ۔ انھوں نے مزید کہا : ہم کسی دین کو تمہارے دین سے بد تر نہیں سمجھتے ۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور انھیں جواب دیا ۔ 1۔یہ الفاظ گلاوسٹون کے ہیں جو اپنے زمانے میں انگریزوں کا پہلے درجہ کا سیاستدان تھا ۔ 2-تفسیر قرطبی ۔