وَمَن يَتَوَلَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فَإِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡغَٰلِبُونَ
Whoever takes for his guardians Allah, His Apostle and the faithful [should know that] the confederates of Allah are indeed the victorious.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 5:51-56
Re 51: It may noted, a friend should be one whose 1) understanding, 2) virtue, 3) confidence, 4) opinion, 5)appreciation (between right and wrong), 6) justice, and (7) sincerity can be vouched, because Jews and Christians believe in Ezra and Jesus as sons of God. They have neither understanding nor any way reliable. How can they be made friends? God and they (Jews and Christians) are God’s enemies. Re 55: It may be noted, a group of Jews entering the fold of Islam, in whom were included Abdus Salam and Ibne Surya. They asked the Prophet giving reference to Joshua son of Nun nominated as Moses’ successor who was going to be his (Prophet) successor. The Prophet took them to the mosque, whence a beggar (an angel in his habit) came out, whom the Prophet asked, if he was given any charity. he replied, pointing out to Ali, the ring was offered by him, upon which this couplet was revealed.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:56
تفسیر
یہ آیت گذشتہ آیت کے مضمون کی تکمیل کرتی ہے اور اسی کے ہدف کی تاکید و تعقیب کرتی ہے او رمسلمانوں کو بتاتی ہے کہ جنھوں نے خدا، اس کے رسول اور ان صاحبان ِ ایمان کی ولایت، سر پرستی او ررہبری کو قبول کرلیا ہے کہ جنکی طرف گذشتہ آیت میں اشارہ کیا جا چکا ہے وہ کامیاب ہوں گے کیونکہ وہ حزبِ خدا میں داخل ہو جائیں گے اور حزب ِ خداکامیاب و کامران ہے (وَمَنْ یَتَوَلَّ اللهَ وَرَسُولَہُ وَالَّذِینَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ ہُمْ الْغَالِبُونَ) ۔ اس آیت میں” ولایت “کے اس معنی پر ایک اور قرینہ موجود ہے جس کا ذکر گذشتہ آیت کے ذیل میں کیا گیا ہے یعنی ” ولایت “ بمعنی ” سر پرستی ، تصرف اور رہبری “ کیونکہ ” حزبب اللہ “ اور اس کا غلبہ حکومتِ اسلامی سے مربوط ہے نہ کہ ایک عام او رمعمول کی دوستی سے اور یہ خود اس بات پر دلیل ہے کہ آیت میں ” ولایت“ سر پرستی ، حکومت نیز اسلام اور مسلمانوں کی باھ دوڑ ہاتھ میں لینے کے معنی میں ہے کیونکہ ” حزب اللہ “ کے مفہوم میں ایک طرح کی تشکیل ، وابستگی اور مشترک اہداف و مقاصد کی تکمیل کے لئے ایک اجتماع کا تصور پوشیدہ ہے ۔ توجہ رہے کہ ” الذین اٰمنوا “ سے اس آیت میں تمام صاحب ِ ایمان مرادنہیں ہیں بلکہ اس سے مراد وہی شخص ہے جس کی طرف معین اوصاف کے ساتھ گذشتہ آیت میں اشارہ ہو چکا ہے ۔ یہاں ایک سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیا آیت میں حزب اللہ کی کامیابی سے مراد صرف معنوی کامیابی ہے یا س میں ہر طرح کی معنوی و مادی کامیابی شامل ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ آیت کا اطلاق حز ب اللہ کی عام محاذوں پرمطلق کامیابی کی دلیل ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی جمیعت حزب اللہ میں شامل ہویعنی ایمان ِ محکم ، تقویٰ ، عمل صالح، اتحاد ، کامل باہمی اعتماد ، آگاہی اور علم رکھتا ہواور کافی تیاری کئے ہوئے ہو توبلا تردید وہ تمام معاملات میں کامیاب ہو گا ۔ آج اگر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو ایسی کامیابی میسر نہیں ہے تو اس کا سبب واضح ہے کیونکہ حز اللہ کی مذکورہ شرائط میں سے زیادہ تر آج مسلمانوں میں نہیں پائی جاتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جو توانائیں اور صلاحتیں دشمن کو شکست دینے کے لئے استعمال ہو نا چاہییں ، زیادہ تر ایک دوسرے کو کمزور کرنے پر صرف ہورہی ہیں ۔ سورہ مجادلہ آیہ۲ میں بھی حزب اللہ کی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں جس کی تعبیر انشاء اللہ متعلقہ مقام پر آئے گی ۔ ۵۷۔ یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَتَّخِذُوا الَّذِینَ اتَّخَذُوا دِینَکُمْ ہُزُوًا وَلَعِبًا مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اٴَوْلِیَاءَ وَاتَّقُوا اللهَ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ۔ ۵۸۔ وَإِذَا نَادَیْتُمْ إِلَی الصَّلاَةِ اتَّخَذُوہَا ہُزُوًا وَلَعِبًا ذَلِکَ بِاٴَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَیَعْقِلُونَ۔ ترجمہ ۵۷۔اے ایمان والو! اہل کتاب اور مشرکین میں سے ان لوگوں کو اپنی دوست اور سہارا نہ سمجھو جو تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل کود سمجھتے ہیں اور اگرایمان دار ہو تو خدا سے ڈرو۔ ۵۸۔ جب ( تم اذان کہتے ہواو رلوگوں کو ) نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں او راسے کھیل تماشہ سمجھتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسا گروہ ہیں جو عقل و ادراک نہیں رکھتے ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:56
[Pooya/Ali Commentary 5:56] Whoever takes Allah, His messenger and "those who believe" (particularised in the preceding verse) as his master, joins Allah's party-only Allah's party will be successful in the end. This verse is in continuation of the preceding verse.